• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • قسطنطنیہ سے استنبول تک۔۔جہاں تہذیبیں سمندر اور براعظم آپس میں ملتے ہیں۔۔۔عامر عثمان عادل/سفر نامہ قسط1

قسطنطنیہ سے استنبول تک۔۔جہاں تہذیبیں سمندر اور براعظم آپس میں ملتے ہیں۔۔۔عامر عثمان عادل/سفر نامہ قسط1

SHOPPING
SHOPPING

نجی شعبے کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ صحت مند مقابلے کی فضا کارکردگی کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اچھا کرنے پر سراہے جانے کی خوشی دیدنی ہوتی ہے ،کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا جب یہ خوش کن خبر ملی کہ دی ایجوکیٹرز ہیڈ آفس نے اپنے ان نیٹ ورک ایسوسی ایٹس کو انعام کے طور بین الاقوامی سفر پر لے جانے کا اہتمام کیا ہے جو کارکردگی میں بے مثال ہیں۔
دی ایجوکیٹرز بیکن ہاؤس سکول سسٹم کا منصوبہ ہے جس کی داغ بیل 2002 میں مس فوزیہ قصوری نے رکھی جس کے قیام کا مقصد متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات کو جدید تعلیم سے یوں ہمکنار کیا جائے کہ اپنی نظریاتی حدود کی پاسداری بھی ہو اور زمانے کا ساتھ بھی دیا جا سکے ۔یہ منصوبہ ایسا کامیاب ہوا کہ آج پاکستان بھر کے 225 شہروں میں اسکے 800 سے زائد سکولوں میں  پونے دو لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔پاکستان بھر سے 40 سکولوں کے خوش قسمت مالکان کو کڑے انتخاب سے گزار کر ترکی کے تفریحی و مطالعاتی دورے کیلئے منتخب کیا گیا۔جونہی پتہ چلا کہ استنبول ہماری منزل ہے تو دل شاد ہو گیا۔۔۔۔
زمانہ طالب علمی میں کورس کی کتابوں میں تحریک خلافت کی نسبت سے ترکی کا تھوڑا بہت تعارف تھا پھر ترکوں کے باپ مصطفے کمال پاشا کی شخصیت سے آگہی ہوئی، جس نے جدید ترکی کی بنیاد رکھی
4 ہزار سالوں پر محیط تاریخ کی انمٹ داستانوں کا دیس ترکی منفرد جغرافیائی  اہمیت رکھتا ہے جس کا رقبہ کسی بھی یورپی ریاست سے زیادہ یعنی 297156 مربع میل اور کل آبادی آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے، اسکی سرحدیں شمال مشرق میں جارجیا آرمینیا اور مشرق میں آزر بائجان ایران سے ملتی ہیں اس کے جنوب مشرق میں عراق شام اور جنوب مغرب میں Mediterranean Sea, Agean Sea جبکہ اس کے شمال مغرب میں یونان اور بلغاریہ واقع ہیں۔

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ترک وسطی ایشیا میں 2000 قبل مسیح میں آباد ہوئے پھر ان میں سے کچھ یہاں سے نکل کر بہت سی ریاستیں اور سلطنتیں آباد کرنے کا باعث بنے جن کا دائرہ ایشیا اور یورپ تک پھیلا ہوا تھا ترک اناطولیہ میں   گیارہویں صدی میں آباد ہوئے ،اناطولیہ سلجوق سلطنت 1080 سے 1308 تک قائم رہی ترکی جو یونانیوں منگولوں اور رومیوں کے تسلط میں رہا ۔ 1071 میں بازنطینی فتح سے ایشیا والوں کے دروازے ترکی پر کھلے بازنطینی سلطنت کا خاتمہ عثمانیوں کے ہاتھوں ہوا، سلطنت عثمانیہ کا پرچم تین براعظموں پر 623 برس لہراتا رہا 1453 میں وجود میں آنے والی عظیم سلطنت عثمانیہ کا اختتام پہلی جنگ عظیم کے بعد ہوا جب انگریز نے اس کے حصے بخرے کر دیے ،ترک رہنما مصطفی کمال پاشا نے جدوجہد آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور 1923 میں ترک جمہوریہ کی بنیاد رکھی جس پر انہیں اتاترک ترکوں کا باپ کہا جاتا ہے۔

موجودہ ترکی کو طیب اردگان جیسا ولولہ انگیز رہنما میسر آ گیا جس کی کرشماتی قیادت میں ترکی نے ترقی کے مدارج اتنی تیزی سے طے کئے کہ دنیا حیران رہ گئی ترکی آج ابھرتی ہوئی  معیشت ہے۔
استنبول محض ایک شہر نہیں جادو نگری ہے جس کے دامن پر نجانے کتنے منفرد اعزاز گوہر نایاب بن کر چمکتے ہیں 16 صدیوں تک شاہی دارالخلافہ رہنا شاید ہی دنیا کے کسی اور شہر کا نصیب بنا ہو۔آج کا استنبول جس کی بنیاد کانسٹنٹائن اعظم نے 330 AD میں رکھی جس کے نام پر اسے قسطنطنیہ کہا جانے لگا۔قرون وسطی کے یورپ کا تب بھی بڑا شہر تھا اور آج بھی اس کا شمار ٹوکیو اور نیو یارک کے بعد دنیا کے تیسرے بڑے شہر کے طور پر ہوتا ہے آبنائے باسفورس جو بحیرہ مارمورا کو بحیرہ اسود سے ملاتا ہے تو استنبول کو دو براعظموں میں تقسیم بھی کرتا ہے۔

براعظم ایشیا اور براعظم یورپ  ،کہتے ہیں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن استنبول وہ شہر ہے جس کے درودیوار بولتے ہیں تو اسکی گلیوں میں پھرتے سیاحوں کو قدیم یونانی دیو مالائی  داستانوں کے کردار سرگوشیاں کرتے سنائی  دیتے ہیں، بلاد عالم میں شائد ہی کوئی  اور شہر ایسا ہو جس کا ماضی با کمال، حال بے مثال اور مستقبل لازوال ہو ،تین سلطنتوں کا دارالخلافہ قدیم اور جدید طرز تعمیر کے سینکڑوں شہکار اپنے  دامن میں لئے سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال کی کہانیاں سناتے محلات ،عظمت اسلام

عظمت اسلام کی گواہی دیتے مینار

اور شان الہی کا مظہر مساجد کے گنبد و مینار ہوں یا آبنائے باسفورس پر تعمیر کئے گئے پل اسکی انفرادیت کی گواہی دیتے ہیں دسمبر میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرتا ہے تو روئی  کے گالوں کی مانند برف توپ کاپی محل آیا صوفیہ اور بلیو مسجد کو ڈھانپ لیتی ہے اور استنبول کی سات پہاڑیاں برف پوش ہو جاتی ہیں موسم گرما کی حدت ستاتی ہے تو اسکے باسی جزیروں کا رخ کرتے ہیں بہار آتی ہے تو ہر جانب پھول ہی پھول نظر آتے ہیں ہر سال Tulip Festival ایک قابل دید نظارہ بنتا ہے۔

باسفورس کنارے آباد استنبول
مرکز سلطان احمد میں Tulip Festival

اس شہر بے مثال کی حشر سامانیوں سے ہالی وڈ بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا جس کا اندازہ Inferno مووی دیکھنے والوں کو ہو سکتا ہے۔
اور تو اور مارک ٹوئن ہیمنگوے اگاتھا کرسٹی جیسے شہرہ آفاق قلم کار بھی اس کے اسیر ہیں ترک قلمکار Pamerk کو اس شہر پر کئے جانے والے تخلیقی کام پر ہی نوبل انعام سے نوازا گیا فنون لطیفہ آرٹ کا دلدادہ یہ شہر ادب شناس بھی ہے اور ادیب نواز بھی  یہاں کے شہریوں کے پاس تصور جاناں میں کھوئے رہنے کیلئے فرصت کے رات دن بھی میسر ہیں اور گپ شپ کیلئے موضوعات بھی۔سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی کرنوں کی ٹھنڈک شہر کی عمارات کے گرد نور کا ہالہ کھینچ دیتی ہے ڈوبتے سورج کی روشنی میں نہائی  ،یہی عمارات یوں لگتی ہیں جیسے کسی دلہن کو سونے کا تاج پہنا دیا جائے  ۔

ڈوبتے سورج کی سنہری کرنوں میں ڈوبا استنبول

بازنطینی سلطنت کے دارالخلافہ قسطنطنیہ کو طویل محاصرے کے بعد سلطان محمد فاتح نے 1453 میں فتح کیا جدت اور قدامت ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جسے رواداری برداشت ایک دوسرے کی رائے کا احترام دیکھنا ہو وہ ایک چکر استنبول کا لگا آئے جہاں مسجدیں بھی آباد ہیں اور میخانے بھی فجر کے وقت مسجدوں کے میناروں سے بلند ہوتی صدائے حی علی الفلاح سن کر گلی کوچوں میں نماز کیلئے لپکنے والے نمازی بھی ملیں گے اور شب بھر کے ہنگامے کے بعد نائٹ کلبز سے نکلنے والے رند بھی۔۔کیوں نہ پھر نپولین کہنے پر مجبور ہو جائے کہ
If the earth were a single state then Istanbul would be Capital of it
اگر یہ زمین ہی واحد ریاست ہوتی تو استنبول ہی اس کا دارلخلافہ ہوتا۔۔

15 لاکھ کی آبادی والے اس شہر کو ایک صاف ستھرا اور سرسبز شہر بنانے کا سہرا موجودہ صدر رجب طیب اردگان کے سر ہے جو دو مرتبہ اس کے مئیر منتخب ہوئے اس شہر کو کرپشن آلودگی سے نجات دلانے اور اسکے باسیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب رہے اور ترقی کا یہ ماڈل ترک عوام کو اس قدر بھایا کہ انہیں ملک کے اگلے وزیر اعظم کی مسند پر فائز کر دیا 24 ستمبر کی دوپہر ہمارا قافلہ استنبول جانے کیلئے لاہور ہوائ اڈے پہنچا جہاں سے ہمیں عمان ائیر لائن کی پرواز سے مسقط جانا تھا ریجنل ہیڈ عثمان چیمہ سفری دستاویزات لئے بیرونی برآمدے میں کھڑے تھے کسٹمز انسداد منشیات اور بورڈنگ کے عملے کو خبر ہو چکی تھی کہ سکول والوں کا گروپ استنبول کیلئے عازم سفر ہے ،سو ان کا رویہ دوستانہ تھا امیگریشن کے مرحلے سے سرخرو ہونے کے بعد آخری تلاشی کے لئے واک تھرو گیٹ سے گزرا تو ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس کے چاک و چوبند جوان نے جامہ تلاشی کے دوران جیب سے کھڑ کھڑ کی آواز آنے پر کہا جیب میں کیا ہے میں نے چھوٹا سا لفافہ جس میں ہومیو پیتھی کی لال پیلی گولیاں تھیں اسے دکھا دیا پوچھا یہ کیا ہے ہم گویا ہوئے دوائی  ہے ۔۔اس نے زور دے کر پوچھا کس چیز کی دوائی ، جواب دیا سمجھ لیجئے یہ فرسٹ ایڈ کٹ ہے جس میں سر درد بخار جیسے امراض کی دوائیں ہیں، جواب سن کر صاحب مطمئن نہ ہوئے ۔قبل اس کے کہ ہم تماشہ بنتے اس کے ساتھ کھڑے اہلکار بولے جانے دو یہ ہومیو پیتھی کی دوائیں سلو پوائزن جیسی ہوتی ہیں۔

سہ پہر ساڑھے تین بجے عمان ائیر کے طیارے نے مسقط کیلئے اڑان بھری دائیں بائیں نظر دوڑائ ی تو بہت سے پاکستانی محنت کش دکھائی  دیے جو اپنے وطن میں چھٹی کاٹ کر مسقط واپس جا رہے تھے وقت گزاری کی خاطر ہم نے اپنی نشست کے سامنے آویزاں ایل سی ڈی آن کی کہ کوئی  فلم یا ڈرامہ دیکھ لیتے ہیں تصویر تو تھی لیکن آواز غائب سیٹ کور کو چھان مارا لیکن سمعی آلہ نہ ملا، غور کرنے پر پتہ چلا کہ آپ کو اس پرواز پر مطلوبہ سہولت میسر نہیں ہے ،نا چار ہم گونگی فلم دیکھنے پر مجبور ہو گئے یاد آیا شروع شروع میں ایسی ہی خاموش فلمیں بنا کرتی تھیں بائیں جانب بیٹھے ایک پاکستانی کو دیکھ کر رشک آیا جو اپنا ذاتی ہیڈ فون کانوں سے لگائے مگن تھا۔ جس کی قیادت  ایک تو فضائی  میزبانوں کا سوچتے ہی نجانے کیوں گمان ہوتا ہے  کہ جہاز پر سوار ہوتے ہی حسن کی ملکائیں اپسرائیں ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیں گی کسی زمانے میں شاید ایسا ہی ہوتا ہو گا لیکن اب تو ۔۔۔۔دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
ایک جیسے نین نقوش والی فضائی  میزبان نظر تو آئیں لیکن سمجھ سے باہر کہ یہ کس ملک سے ہیں انہیں دیکھتے ہی ایک صاحب بولے
اینہاں کڑیاں دا پتہ کرو
کیہڑے ملک دیاں کیہڑے شہر دیاں
لگدیاں تے فلپین دیاں

باقاعدہ سفر میں رہنے والے ایک صاحب نے اندر کی بات یوں بتائی  کہ پاکستان اور ایشین روٹس پر چلنے والی پروازوں میں ایسا ہی عملہ رکھا جاتا ہے،لیکن ان پروازوں میں بھی بزنس کلاس والے مسافروں کی خدمت پر مامور عملہ اتنا نک چڑھا بیزار اور باسی نہیں ہوتا،ایک بار پھر امیگریشن کے مراحل سے گزر کر بین الاقوامی روانگی کیلئے مخصوص لاونج میں داخل ہوئے ایک تو فلائٹس کی تبدیلی کیلئے طویل انتظار ٹرمینل کی تلاش سے بڑا کوئی  صبر آزما مرحلہ نہیں نجانے کیوں لگتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کیلئے جانے والے جہاز کو رن وے کے آخری کونے پر کھڑا کر دیا جاتا ہے اور اس تک رسا ئی  کیلئے میسر کاونٹر بھی ٹرمینل کا آخری کاونٹر ہوتا ہے۔

لاونج کے کونے کھدروں میں کچھ لوگ چارجنگ کیلئے مخصوص ہوائنٹس کے ساتھ چمٹے مسلسل پیغام بازی میں مصروف تھے چل چل کر آخری مرحلے میں ہم اس گیٹ پر دھرنا دے کے بیٹھ گئے جہاں سے بس جہاز پر سوار ہونا تھا۔چھوٹی سی انتظار گاہ کھچا کھچ بھر چکی تھی ہم نے بھی ایک خالی نشست کو غنیمت جانا اور اس پر دراز ہو گئے بہت سے چینی باشندے اسی پرواز سے استنبول جانے کیلئے تیار لاونج میں براجمان تھے دائیں بائیں سامنے نازک سی چینی لڑکیاں جیسے سچ مچ کانچ کی گڑیا بڑے خشوع و خضوع سے سر جھکائے  اپنے اپنے موبائل پہ مصروف انگلیوں کی جنبش اور وقفے وقفے سے لبوں پر پھیلتی مسکان اور گلنار ہوتے عارض دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ کیا چل رہا ہے۔

ایک جانب بڑھاپے کی دہلیز کو چھوتا ہوا ترکی جوڑا سفید بال باوقار چہرہ عمدہ تراش خراش کا لباس پہنے اپنے سمارٹ فون پر مصروف بابا جی اور پہلو میں ٹیبلٹ پر کوئی  کتاب پڑھتے ہوئے سمارٹ سی بے جی بائیں جانب ایک چینی جوان موبائل پر گیمز کھیلنے میں مصروف جبکہ اس کی پارٹنر سیلفی سیلفی کھیلتے ہوئے ادھر سے ادھر پھدک رہی رہی تھی مجال ہے جو چین سے ایک پل ٹکی ہو کہیں ادھر سے آتی اپنے ساجن کے گلے لگتی کھٹ سے سیلفی بناتی اور یہ جا وہ جا۔۔

سامنے نظر پڑی تو کیا دیکھا ایک حسینہ نے بیٹھے بیٹھے حشر خیز انگڑائ لی ایک ادائے دلبرانہ سے بالوں کو جھٹکا اور سر اپنے ساتھی کے کندھے پر رکھ دیا اور ہم رشک بھری نظروں سے اس جوان رعنا کو دیکھنے لگے گویا شاعر نے ایسے ہی کسی منظر کو دیکھ کر اسکی تصویر ہوں کھینچی تھی
راتیں اس کی ،نیند اس کی، دماغ اس کا
جس کے شانوں پر تری ذلفیں پریشاں ہو گئیں

لیکن شانوں میں بھی فرق ہوتا ہے کچھ ساری زندگی بھاری بھرکم ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ مخملیں زلفوں کی نزاکت سے جھکے جاتے ہیں۔۔۔
شانے بھی غنیمت ہوتے ہیں جس کو میسر آ جائیں اسکے وارے نیارے جھیل جیسی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں تو شانوں پر سر ٹکا کر ذرا دیر سستا لیا طبع نازک کو ٹھیس پہنچی تو شانے پر سر رکھ کر ٹسوے بہا لئے وہ بھی تو ہیں حرماں نصیب جنہیں یہ سہارا بھی میسر نہیں ہوتا۔۔
ہم جس سے لپٹ کے رو لیتے
آنچل ہی نہیں وہ ملا ایسا۔

عمان ائیر کے پائلٹ فضائی  میزبان بھی تیار کھڑے دروازہ کھلنے کے انتظار میں تھے ائیر پورٹ سیکیورٹی کے ایک نوجوان اہلکار کی دروازہ کھولنے کی کئی ناکام کوششوں کے نتیجے میں سائرن بجنے لگا بیچارا ابھی زیر تربیت تھا۔
جہاز پر سوار ہونے کا اشارہ ملتے ہی مسافر اپنی نشستوں کی جانب لپکے مسقط سے استنبول تک ساڑھے چھ گھنٹے کا سفر تھا کشادہ جہاز آرام دہ نشستیں اور منہ متھے لگنے والی فضائی  میزبان دیکھ کر سفر اچھا کٹنے کی امید بندھ گئی۔
لوگ دوران پرواز نجانے کیسے سو لیتے ہیں ہم سے تو نہیں سویا جاتا۔ وقت گزاری کیلئے ٹی وی سکرین آن کی اردو سیکشن میں بالی وڈ کی کلاسک اور ہٹ فلموں کے علاوہ محدودے چند پاکستانی فلمیں اور ڈرامے موجود تھے ایمیریٹس اور قطر ائیر لائن کی پروازوں میں پاکستان کے مقبول ڈراموں اور فلموں کی خاطر خواہ رینج دستیاب ہوتی ہے جس سے سفر اچھا کٹتا ہے۔
پاکستانی حکام کو چاہئے کہ وہ پاکستان سے آپریٹ کرنے والی تمام ائیر لائنز کو اردو ڈرامے فلمیں اور موسیقی کا ریکارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی تفریح طبع کا خیال رکھنے کا پابند بنائیں

جہاز منزل کی جانب رواں دواں تھا اس پاس سب ہی مسافر محو خواب تھے اسی اثنا میں سامان خوردونوش سے سجی ٹرالیوں کی آوازیں آنے لگیں فضائی  میزبان سوئے ہوئے مہمانوں کو جگا جگا کر پوچھنے لگے کہ آپ کھانے میں چکن پسند فرمائیں گے یا بیف ؟ مسلسل سفر کی تھکن نیند سے چور آنکھیں نہ پتہ یہ ڈنر ہے یا ناشتہ ،بس جیسے تیسے کر کے حلق سے اتارا عمان ائیر کا کھانا قابل قبول تھا۔
اچانک ایک ترکش خاتون اپنے ہاتھ میں دی ایجوکیٹرز کا کتبہ لہراتی اپنی جانب بڑھتی ہوئی دکھائی  دیں ،ہمیں اردو انگریزی ترکش زبانوں میں جی آیاں نوں کہنے کے بعد دائرے کی صورت نزدیک ہونے کو کہا انکے ساتھ ایک نوجوان بھی موجود تھا انکی زبانی پتہ چلا کہ یہ دونوں استنبول میں ہمارے میزبان اور گائیڈ ہوں گے۔
ہماری ایک ہمسفر مس شہروز جنہیں ہم سارے راستے ہیڈ آفس کی ٹیم کا حصہ سمجھتے رہے اب ان کی پھرتیاں بھاگ دوڑ دیکھ کر انکشاف ہوا کہ موصوفہ اوسسس نامی ٹریول کمپنی کی ڈائریکٹر ہیں ہمارے سفر کے تمام تر انتظامات ان کے ہی ذمہ ہیں۔

ائیر پورٹ سے ہوٹل لے جانے کیلئے لگژری بس تیار کھڑی تھی سامان رکھا اور بس روانہ ہو گئی گائیڈ نے اپنا تعارف یوں کرایا کہ میرا نام اسمعیل ہے امریکہ سے بزنس میں گریجوایشن کرنے کے بعد انگلینڈ سے سرٹیفائیڈ گائیڈ کا ڈپلومہ حاصل کیا، بس استنبول کی سڑکوں پر رواں دواں تھی اور گائیڈ ہمیں ترکی اور استنبول کی تاریخ سے آگاہ کر رہا تھا اتنے میں ہم ہوٹل کے دروازے ہر پہنچ گئے ہوٹل رمادا شہر کے معروف تقسیم اسکوائر میں واقع ہے۔مسلسل بیس گھنٹے کے سفر کے بعد اب ہمت جواب دے چکی تھی اور ہر ایک اسی کوشش میں تھا کہ کمرے کی چابی ملے اور بستر تک رسائی ۔

سنا تھا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن رمادا ہوٹل کی لابی میں بھی یہ عمل جاری تھا جنرل مینجر سیلز جناب ایاز علی خان اور ڈائریکٹر اوسسس مس شہروز جوڑے بنا بنا کے کمروں کی چابی عنایت کرتے جاتے ہم تجسس سے محو انتظار تھے کہ دیکھیں ہمارا جوڑا کس کے ساتھ بنتا ہے ہم کسی کے حصے میں آتے ہیں یا کوئی  ہمارے حصے  میں ۔۔۔اعلان ہوا عامر عثمان عادل کے ساتھ سردار عاقل عمر جائیں گے اگلے ہی لمحے اسے منسوخ کر کے قرعہ جناب آصف صاحب سوہاوہ کیمپس کے نام نکلا چابی تھامی اور کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔۔

کمرے کی لائٹ آن ہونے سے انکاری تھی اور باہر کو کھلنے والی کھڑکی بند ہونے سے بھاگم بھاگ نیچے لابی میں جا ایاز علی خان صاحب کو شکایت کی فرنٹ آفس پر موجود صاحب نے روم بوائے بھیجنے کا کہا ! کیمپس کے بریگیڈیئر سراج بھی دیر اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں ٹامک ٹائیاں مارنے کے بعد نا چار دوبارہ لابی میں گیا اور کاونٹر پر موجود صاحب سے کمرہ تبدیل کرنے کی درخواست کی کندھے اچکا کے بولے اب تو ہمارے پاس کوئی  کمرہ خالی نہیں بچا۔۔
میں ان صاحب کے سپاٹ چہرے پر پھیلی بے حسی کو دیکھتا ہی رہ گیا اور پھر ایک نظر رمادا ہوٹل کے بزنس کارڈ پر درج سلوگن کو دیکھا
Just enter and let
مایوس ہو کے کمرے میں پہنچا، لائٹ کے آگے ہاتھ جوڑے کہ تم ہی مان جاؤ اور وہ کسی اچھے بچے کی طرح مان بھی گئی ۔رات کا آخری پہر تھا اب تو ستارے بھی سو چکے تھے سو ہم نے بھی شب خوابی کا لباس پہنا اور بستر پر گر پڑے۔

صبح نو بجے آنکھ کھلی تو خود کو کچھ تازہ دم محسوس کیا ناشتے کی میز پر پہنچے کیا ناشتہ تھا بھئی اللہ کی کون سی نعمت تھی جو بوفے کی زینت نہ تھی، تازہ فواکہات و خشک میوہ جات دودھ دہی خالص پنیر مکھن شہد چیری بلیک بیری بلیو بیری سنگترے آڑو کے جام زیتون و انجیر آلو اور بینگن کی بجھیا آملیٹ اوون سے نکلی مہکتی تازہ کروسان ہر قسم کی بریڈ ترکش روائتی میٹھے  اور آخر میں کافی چائے کے ساتھ ترکش قہوہ جس شے کی جانب ہاتھ بڑھتا خالق و مالک کائنات کا پیغام سرگوشیاں کرتا سنائی  دیتا۔۔۔ فبائ الاء ربکما تکذبن
اور میں سوچتا کہ واقعی ہم رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائیں گے۔آہستہ آہستہ جس کی آنکھ کھلتی ناشتے کی میز پر رونق افروز ہو جاتا ساڑھے دس بجے ہوٹل کی لابی پر ایجوکیٹرز کے نیٹ ورک ایسوسی ایٹس کا راج تھا۔

اسماعیل اور فونڈا نامی گائیڈ پہلے سے موجود تھے وفد کے مرد شرکاء بس میں سوار ہو گئے جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر شاہد بٹ کی قیادت میں خواتین کا مختصر سا قافلہ الگ وین میں ہو لیا۔گائیڈز نے دن بھر کا شیڈول بتا دیا  ۔آج ہمارے اس سفر کا باقاعدہ آغاز میزبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب الانصاری کے روضے پر حاضری سے تھا اس کے بعد چئیر لفٹ کی سیر اور آخر میں تاریخی گرینڈ بازار کو دیکھنا تھا

ہوٹل سے نکلے تو موسم ابر آلود تھا ہمارے گائیڈ نے دوران سفر ترکی کی سیاست ثقافت معیشت پر سیر حاصل گفتگو کی استنبول کے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی۔
طیب اردگان کے متعلق ایک سوال پر اسماعیل نے بڑے محتاط انداز میں جواب دیا کہ ترکی کو ترقی کی راہ ہر گامزن کرنے اور عوام کا مقبول ترین رہنما ہونے کے باوجود مجھے اس کے ہر تعیش طرز زندگی اور عالی شان محل کی تعمیر سے اختلاف ہے بس استنبول کی سڑکوں پر رواں دواں تھی سڑک پر ٹریفک کا  ا ژدہام رفتار آہستہ لیکن مجال کیا ہے جو  ایک پل کیلئے بھی ٹریفک جام ہو جائے۔
مختصر سفر کے بعد بس سلطان احمد مرکز میں داخل ہوئی  گائیڈ نے بتلایا کہ ہم روضہ حضرت ابو ایوب ا انصاری رض پہنچ گئے ہیں۔
جونہی بس سے اترے تیز بارش نے ان لیا زائرین کی ایک بڑی تعداد حاضری کے لئے جمع تھی بیرونی دروازے پر کھڑا اہلکار سیاحوں کو تاکید کرتا کہ جوتے پلاسٹک کے لفافے میں لپیٹ کر داخل ہوں خواتین بڑے اہتمام کے ساتھ سر ڈھانپے مزار کے احاطے میں داخل ہوتیں روضہ مبارک کے سامنے مردوخواتین زائرین قران خوانی اور دعاوں میں مصروف تھے جب بھی کسی روحانی مقام پر خواتین کو ڈوب کر دعائیں مانگتے دیکھتا ہوں تو اس لمحے ان کے چہروں سے جھلکتے تفکرات صاف چغلی کھاتے دکھائی   دیتے ہیں کہ انکی دعاؤں کا منبع و مقصود کیا ہوتا ہے اولاد کی اصلاح بیٹیوں کیلئے اچھے بر کی تمنا خاوند کا راہ راست پر آنا کپتی ساس سے چھٹکارا ،گھریلو حالات کی بہتری مالی آسودگی،عورت پاکستان کی ہو یا ترکی کی، اسکے ہاتھ دعا کیلئے اٹھتے ہیں تو حاصل دعا ایک جیسا ہی ہوتا ہو گا۔
روضہ مبارک کے اندر ایک خوبصورت طاقچے میں رکھے شیشے کے فریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبرک پاوں کا نقش سجا تھا میں اس کے سامنے کھڑا نگاہوں سے حضور کے قدم مبارک کے بوسے لئے جارہا تھا اور دل کی دنیا میں عجب ہلچل تھی کہ یہ اس ہستی کے قدموں کے نشان ہیں جنہیں اپنی جبینوں پر سجانے والے تاجدار کہلائے۔۔۔جسے ان قدموں کی دھول نصیب ہو گئی  اسکا تو نصیبا ہی سنور گیا۔۔۔

ایوب مسجد
روضہ حضرت ابو ایوب ا انصاری رض بیرونی منظر
روضہ مبارک حضرت ابو ایوب انصاری رض کا اندرونی منظر

بے اختیار یہ دعا ہوک بن کر دل سے اٹھی اور آنکھوں کو نمناک کر گئی۔۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرآ
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا

روضہ مبارک حضرت ابو ایوب انصاری رض کا اندرونی منظر

حضرت ابو ایوب ا انصاری رض کے روضے پر دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے میں ایک پل کیلئے مدینہ کی گلیوں کے تصور میں کھو گیا کیسا منظر تھا مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مدینہ کی جانب ہجرت کا حکم ملا آقائے   نامدار شہر میں داخل ہوئے تو انصار مدینہ دھڑکتے دلوں کے ساتھ سراہا ،انتظار تھے کہ دو جہانوں کے سردار کسے شرف میزبانی بخشتے ہیں اور پھر یوں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس اونٹنی پر سوار تھے وہ ایک گھر کے سامنے جا بیٹھی مدینہ والے پکار اٹھے ابو ایوب تیری قسمت پہ ہمیں رشک آتا ہے جس کے گھر کو وجہ کائنات نے اپنے دم قدم سے رونق بخشی ہے اور آج 25 اکتوبر 2018 کی دوپہر میں اپنی قسمت پہ نازاں جسے میزبان رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی مرقد پر حاضری کا شرف حاصل ہو گیا۔

کوئی  ایسا غزوہ نہیں جس میں حضرت ابو ایوب ا انصاری رض نے داد شجاعت نہ دی ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد جب لشکر اسلام قسطنطنیہ کی فتح کا عزم لئے روانہ ہوا تو اپنی پیرانہ سالی نقاہت کے باوجود حضرت ابو ایوب ا انصاری رض اس کا حصہ بن گئے اور کیوں نہ ہوتے شافع روز جزا کی زبان مبارک سے یہ بشارت سن رکھی تھی کہ جو لشکر قسطنطنیہ کو فتح کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
قسطنطنیہ کا محاصرہ جاری تھا کہ آپ کو علالت نے آن لیا مزید آگے بڑھنا اور میدان جنگ میں کھڑے رہنا اب ممکن نہ رہا ایسے میں ان کا کمانڈر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا طبیعت کا احوال پوچھنے کے بعد گویا ہوا آپ کیا چاہتے ہیں جذبہ جہاد سے سرشار عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں گرفتار بزرگ مجاھد نے مجاہدین اسلام کو پیغام دیا کہ ضرب کاری لگاو اور اندر تک گھس جاو اور ساتھ ہی وصیت فرما دی کہ مجھے قسطنطنطیہ کی دیواروں تلے دفن کر دینا۔یوں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد آپ کی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پورے احترام کے ساتھ اس مقام پر دفن کر دیا گیا

تاریخ بتاتی ہے کہ میزبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مرقد مبارک صدیوں سے مرجع خلائق چلا آ رہا ہے رومی ہوں یا یونانی سب یہاں احترام کے دئیے جلاتے رہے ہیں کچھ روایات کے مطابق آفات ارضی سے نجات اور باران رحمت کے حصول کیلئے دعائیں بھی یہاں مدفون ہستی کے وسیلے سے مانگی جاتی رہیں
1453ع میں طویل محاصرے کے بعد جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو روایت کے مطابق اس کے مزہبی پیشوا اور استاد مکرم کو خواب میں اشارہ ملا کہ جس جگہ آپ نے مصلی بچھا کر نماز ادا کی وہاں میزبان رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب ا انصاری رض آرام فرما ہیں۔
ان کی تاکید پر سلطان محمد فاتح نے مرقد کو دریافت کرایا اور اس پر شاندار مقبرہ تعمیر کرنے حکم صادر کیا فتح کے پانچ برس بعد سلطان کے حکم پر اس مزار کے سامنے ایک شاندار مسجد تعمیر کی گئئ جسے وقت کی آندھیوں زلزلوں بے خستہ حال کر دیا لیکن 1800میں اسکی تعمیر نو کی گئی یہ مسجد ایوب مسجد کے نام سے معروف ہے جسکا شمار ترکی کی قدیم ترین اور مقدس مساجد میں ہوتا ہے
روضہ حضرت ابو ایوب ا انصاری رض اور ایوب مسجد ترک فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہیں روضے کے عقب میں مرکزی قبرستان ہے جہاں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدفون ہیں۔اسلامک ریسرچ سنٹر ترکی نے تاریخ کو رقم کرنے اور عظیم ثقافتی ورثے کے متعلق بکھرے ہوئے اوراق کو جمع کر کے ان کی تدوین کا خاصا اہتمام کر رکھا ہے

1453ترکی کے معروف ادیب ڈاکٹر A Suheyl کی تحقیق کے مطابق قسطنطیہ کے محاصرے کے دوران اسلامی لشکر میں بہت سے صحابہ شامل تھے جن میں سے 28 جانثاروں کی قبروں کے آثار استنبول میں ملے ہیں۔حضرت ابو ایوب ا انصاری رض کے روضے کے عقب میں ایک مرکزی قبرستان موجود ہے جہاں بہت سے صحابہ مدفون ہیں یہاں کی خاص بات قبروں کے کتبے ہیں جو انتہائی منفرد اور ترک ثقافت کی نشانی بن کر ایستادہ ہیں۔روضے کے باہر کچھ خواتین نیاز بانٹتی دکھائی  دیں۔
تیز بارش تھم کر نرم سی پھوار میں ڈھل کر خوشگوار لگنے لگی تھی سامنے ایک جلیل القدر صحابی کی مرقد دوسری جانب تاریخی مسجد درمیان میں موجود احاطے میں سرسبز ہودے اور برسوں پرانے درخت پر اٹھکیھلیاں کرتی ہوئی  بلی۔۔
دل ایک عجیب سے اطمینان اور سکون کی کیفیت سے سرشار تھا
شاید سبھی اللہ والوں کی آرامگاہوں پر ایسا ہی سکون ہوتا ہے جو روح کی تسکین کا سامان بن جاتا ہے۔۔۔

مزار کے احاطے کے پاس ہی چند قدم کا فاصلہ طے کر کے کیبل کار تک پہنچے گائیڈز نے ٹکٹ پہلے ہی سے لے رکھے تھے مختصر سا فاصلہ طے کر کے ایک بلند مقام پر پہنچے بارش ایک بار پھر سے تیز ہو چکی تھی تیز سرد ہوائیں مزاج پرسی کر رہی تھیں یہاں سے استنبول شہر اور آبنائے باسفورس کا نظارہ بخوبی کیا جا سکتا تھا سیاحوں کی آسانی کی خاطر دوربین بھی نصب تھی۔
تا حد نگاہ پھیلا ہوا شہر بے مثال جسے باسفورس دو براعظموں میں تقسیم کرتا ہے اپنی تمام تر دلکشی کے ساتھ ہماری نگاہوں کے سامنے تھا جا بجا مسجدوں کے منفرد گنبد اور پر شکوہ مینار اس شہر میں نگینوں کی مانند جڑے تھے باسفورس کے پانیوں میں تیرتی ہوئی  کشتیاں بحری جہاز بلندی سے یوں لگتا جیسے بچوں نے کاغذ کی کشتیاں بنا بنا کر پانی میں ڈال دی ہوں۔

آبنائے باسفورس جو استنبول کو ایشیا اور یورپ میں تقسیم کرتی ہے

یہ جگہ مری کے پنڈی پوائنٹ جیسی تھی جہاں اوپن ائیر ریسٹورنٹ چھوٹی چھوٹی دوکانیں موجود تھیں تھوڑا اوپر جا کر دیکھا تو مقامی لوگوں کے خوبصورت گھر بھی موجود تھے جہاں لوگ اپنی گاڑیوں پر آ جا رہے تھے گویا آمد و رفت کا ایک ذریعہ سڑک بھی تھی۔ابر کرم کو بھی شائد خبر ہو چکی تھی کہ پاکستان سے آنے والے یہ سیاح استنبول کے حسن کے اسیر ہو چکے ہیں اسی لئے یہ تھم تھم کے برستا رہا۔۔۔۔
اے ابر کرم آج اتنا برس اتنا برس
کہ وہ جا نہ سکیں

ریسٹورنٹ کی ٹیرس کے ٹین کی چھت پر برکھا کی بوندوں سے پیدا ہونے والی جلترنگ تیز ہوا کے شریر جھونکے عین سامنے آبنائے باسفورس کے کناروں پر صدیوں سے آباد استنبول کا سحر انگیز نظارہ ٹھنڈ کے تاثر کو مٹانے کیلئے ترکش قہوے کے گھونٹ اور ساتھیوں کے قہقہے ماحول کی دلکشی میں رس گھول رہے تھے۔
میں یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں تھا چشم تصور سے دیکھ رہا تھا کہ پاکستان میں اس جگہ سے زیادہ دلکش اور پر فریب مقامات موجود ہیں جہاں کیبل کار اور چئیر لفٹ اور سیاحوں کیلئے سہولیات فراہم کر دی جائیں تو پاکستان میں دنیا بھر سے سیاحوں کو مائل کیا جا سکتا ہے لیکن کرے کون ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔انہی سوچوں میں گم تھا کہ گائیڈ کی آواز نے چونکا دیا خواتین و حضرات واپسی کیلئے روانہ ہو جائیے۔یوں ہم کیبل کار سے اترے اور پیدل چلتے ہوئے ایک ریستوران پر دوپہر کے کھانے کیلئے جا پہنچے۔

اس ٹور کی منتظمہ مس شہروز نے مقامی گائیڈز کے ساتھ مل کر پہلے ہی سے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا پھر بھی ایک دم پچاس مہمانوں کو دیکھ کر عملے کو ہاتھ پاؤں پڑے تھے۔
ترکش ہوٹلز پر سٹارٹر کے طور پر جو سوپ دیا جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں پتلی سی دال مسور ساتھ میں ڈھیٹ قسم کی بریڈ اور ایک پلیٹ میں الجبرا کے سوالوں سے مشکل تین چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں جن میں سے ایک شائد بینگن کے بھرتے کا ترکش ورژن۔مین کورس میں ابلے چاول اور گرلذ چکن میٹھے میں گلاب جامن نما مٹھائ سیانے کہتے ہیں جب بھوک لگی ہو تو سب کچھ مزے کا لگتا ہے۔۔
آتش شکم بجھانے کے بعد ہم گرینڈ بازار پہنچے گائیڈ نے حاضری لگائی  جائے ملاقات کی نشاندہی کی اور وقت بتا دیا کہ سب لوگ اتنے بجے یہاں جمع ہو جائیں۔۔کچھ ہی دیر میں ہم دنیا کے قدیم ترین ڈھکے ہوئے بازار میں قدم رکھ چکے تھے صدیاں گزر گئیں اس کی رونق ماند پڑی نہ گرمئ بازار میں کمی  ،اس بازار کو آپ دنیا کا سب سے پہلا شاپنگ مال بھی کہہ سکتے ہیں جس کی بنیاد سلطان محمد فاتح نے 1456 میں رکھی اور اسکی تعمیر 1460-1461عیسوی میں مکمل ہوئی ، 1894 تک اس بازار میں تاجر اہنی اشیاء دیوان پر رکھ کر بیچتے جیسے سٹالز لگائے جاتے ہیں اس بازار کی روایت تھی کہ خریداری کے لئے آنے والے گاہک کی تواضع ترکش قہوے سے کی جاتی 61 گلیوں اور چار ہزار دوکانوں پر مشتمل یہ بازار ایک طلسم کدہ ہے  جس کی رنگین بھول بھلیوں میں گم ہو کر وقت کا احساس ہی نہیں رہتا  ، کم و بیش چار لاکھ سیاح روزانہ اس بازار کا طواف کرتے ہیں 2104 میں ایک اندازے کے مطابق 91 کروڑ دو لاکھ پچاس ہزار سیاحوں نے اس بازار کی سیر کی یہ بازار نہیں ایک انڈسٹری ہے جس سے 26 ہزار لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

یہاں آپ کو ترکی کے دم توڑتے ہوئے پیشے بھی ملیں گے اور دستکاروں کے ہنر مند ہاتھوں سے نکلے ہوئے شہکار بھی۔۔۔ترکش قہوے کافی انجیر زیتون روائیتی مٹھائیوں سے سجی دوکانیں ہوں یا کپڑے اور جوتوں کے مراکز ضرورت کی ہر شے دستیاب ۔۔ترک لوگوں کے حسن ذوق اور رنگوں کے انتخاب کی داد نہ دینا ناانصافی ہو گا منقش لیمپس رنگا رنگ برقی گلوب اس بازار کی خوبصورتی کو واقعی چار چاند لگاتے ہیں ہر تیسری دوکان پر روشن یہ چراغ اتنے دلکش اور شفاف دکھتے ہیں کہ آپ کہ قدم بے اختیار اس طرف اٹھتے ہیں رنگوں کے امتزاج کا ایسا کمال لگتا یوں ہے جیسے رات کے وقت تاروں بھرا آسمان۔اس گرانقدر تاریخی ثقافتی ورثے کو سنبھال رکھنے جدت کا رنگ دینے اور تمام تر سہولیات فراہم کرنے میں ترک حکومت نے کوئی  کسر اٹھا نہیں رکھی۔
یہ بازار ترک طرز تعمیر اور ان کے آرکیٹیکٹس کا نمونہ یے اس کی محرابیں داخلی و خارجی دروازے خوبصورت اندرونی گنبد اسے عجوبہ بناتے ہیں اس کی پیچ دار گلیوں میں گھومتے میرے تصور میں اپنا انارکلی بازار جھلکنے لگا اور ایک حسرت بھری ہوک کہ اس تاریخی بازار کو بھی ایسی دلکشی دی جا سکتی ہے مگر ۔۔۔

قوس قزح کے رنگوں سے سجے فانوس لیمپس اور دیگر اشیاء
قوس قزح کے رنگوں سے سجے فانوس لیمپس اور دیگر اشیاء

وقت مقررہ پر ہم بازار سے نکلے اور سامنے موجود مسجد کے احاطے میں بیٹھ گئے ابھی کافی دوست بازار میں ہی تھے جن کا انتظار تھا،سوچا نماز ہی ادا کر لی جائے وضو کیلئے مختص جگہ باہر تھی میں مسجد کے دروازے پر جوتے اتار کر وضو کیلئے واپس پلٹنے لگا کہ گیلے پاوں جرابیں پہننا عجیب سا لگتا ہے وہاں موجود گارڈ نے آواز دے کے منع کر دیا اب میں اسے دیکھے جا رہا کہ اسے کیا ہوا وہ مسجد میں داخل ہونے والے دوسرے لوگوں  کی جانب اشارہ کر کے ترکی زبان میں کچھ کہتا جس کو سمجھنا مشکل تھا ،میں مسجد میں داخل ہوا جوتے ریک پر رکھے جرابیں پہنے باہر آیا اس نے دوبارہ شور مچانا شروع کر دیا اب میرے پلے کچھ نہ پڑا
کہ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
کیا کروں عجب مخمصہ ہے کہ میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں اس زبان سے نابلد
خیر میں نے جوتے دوبارہ اٹھائے۔۔۔نیچے آ کے وضو کیا نا چار گیلے پاوں کے ساتھ جرابیں اور جوتے پہن کر دروازے تک پہنچا وہاں جوتے اتارے پھر کہیں جا کے سرکار نے داخلے کی اجازت دی
گرینڈ بازار کے باہر ایک بازار ہمارے ساتھی لگائے بیٹھے تھے مقامی لوگ پرفیومز سے بھرے شاپر لئے آواز لگاتے کہ 25 ڈالر مذاق ہی مذاق میں روالپنڈی والے بٹ صاحب اور لاہور والے شفیع اللہ بھائی  نے سودے بازی شروع کر دی کرتے کرتے انہیں پانچ ڈالر پر لے آئے وہ شیر جوان بھی پورے کا پورا شاپر انکو بیچ گیا اور تھوڑی دیر میں ایک اور شاپر بھر لایا دوستوں کے ہاتھ ایک اچھا شغل آ گیا آس پاس جمگھٹا لگ گیا اور پرفیوم دھڑا دھڑ بکنے لگے دیکھا دیکھی دیگر پھیری والے بھی وارد ہو گئے۔

وفد میں شامل کچھ افراد کافی تاخیر سے بازار سے نکلے جس پر ہمارے گائیڈ اسمعیل کا موڈ اچھا خاصا خراب ہو گیا کندھے اچکا کر بڑبڑائے لگا کہ میری صحت پر کیا اثر اگر آپ وقت کی پابندی نہیں کرتے تو آپ کا اپنا ٹائم ہی ضائع ہوتا ہے۔۔اس کے رویے پر سب کو ہی گلہ تھا اور شکایت بھرے انداز میں ایاز علی خان صاحب سے کہا گیا کہ اس کا رویہ نامناسب ہے اور حقیقت میں اس کا انداز پیشہ ورانہ نہیں تھا۔گنتی پوری کرنے کے بعد بس روانہ ہوئی  اب ہمیں ڈنر کیلئے جانا تھا۔۔۔ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا ڈنر کیلئے ایک انڈین ریسٹورنٹ پہنچے جہاں بوفے سجا تھا عمومی طور پر ہر انڈین ریسٹورنٹس کے کھانوں کا کوئی سر سواد نہیں ہوتا لیکن یہاں قدرے بہتر ذائقے کے کھانے موجود تھے۔ہوٹل پہنچے تو رات کے 9 بج رہے تھے اسماعیل نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کل آپ لوگ صبح 7 بجے تیار رہیے  گا ٹرائے جانے کیلئے اور مزید یہ کہ میں آپ کے ساتھ نہیں جا رہا اب کوئی  نیا گائیڈ آپ کا ساتھ دے گا۔۔۔یوں ہمارے اس سفر کا پہلا دن بخیر و خوبی گزرا!

SHOPPING
گلاتا ٹاور

استنبول کا تاریخی مرکز اس کے ضلع گولڈن ہارن کے علاقے میں واقع ہے صدیوں پرانی تاریخ کے آثار عالی شان عمارت عجائب گھر یونیورسٹیوں کے کیمپس ثقافتی مراکز اسی گولڈن ہارن پر واقع ہیں
گولڈن ہارن اس علاقے کا نام ہے جہاں آبنائے باسفورس کا پانی ایک سینگ کی صورت استنبول کی آبادی میں داخل ہوتا ہے جغرافیائی  طور پر گولڈن ہارن استنبول کے تاریخی مرکز کو باقی شہر سے جدا کرتا ہے اس کا ترکش نام Halic ہے جو عربی زبان کے لفظ خلیج سے ماخوذ ہے آسان لفظوں میں اسے Estuary یعنی دریائی دہانہ کہہ سکتے ہیں اس کے انگریزی نام Golden Horn کا مطلب سینگ سے مشابہت رکھنے والی سنہری خلیج یے جو تنگ گذر گاہ کی صورت استنبول کے مرکز کو باقی شہر سے جدا کرتی یے Horn تو اس کے سینگ جیسا ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور لفظ Golden کے پس منظر کے باب میں تاریخ دان الگ الگ رائے رکھتے ہیں کچھ کا خیال ہے کہ چونکہ ماضی میں یہ ایک اھم بندرگاہ تھی جو اس شہر میں مال و دولت کی فراوانی کا ذریعہ بنی اس نسبت سے اسے گولڈن کہا جانے لگا جبکہ دوسروں کی رائے ہے کہ جب طلوع و غروب ہوتے سورج کی کرنیں باسفورس کے پانیوں کو منور کرتی ہیں تو یہ سونے کی مانند چمک اٹھتے ہیں

SHOPPING

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *