خلا ۔۔۔۔۔۔ رخشندہ بتول/افسانہ

 میں ایک مُسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہمارے گھرانے میں تعلیم کا آغاز ابتدائی سانسوں سے ہوجاتا ہے پیدائش کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو کان میں “اللہ اکبر” کا درس پھونک دیا جاتا ہے نومولود کو فلاح کی راہوں کا پتا جلدی دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ماں کی گود میں پنگھوڑے میں زندگی کے پُرسکون دِنوں کا عروج ہوتا ہے۔ زندگی کتنی آسان ہوتی ہے نا۔ لا اللہ، لا اللہ، اللہ ھو، اللہ ھو ماں بھی خوش رب بھی خوش…

لیکن پھر تعلیم کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ میں دو پونیاں لگائے سکول جانے لگتی ہوں۔ ماسٹر جی بتاتے ہیں دُنیائیں دو ہیں۔ ‘میں’ جس کے  ذہن میں دُنیا بس میرے گھر کا آنگن ہے۔ ‘میں’ حیرانی سے ماسٹر جی کا چہرہ دیکھتی ہوں۔ وقت کو پَر لگ جاتے ہیں اور میں بھی وقت کے ساتھ اُڑتی پھرتی ہوں۔ یہ دُنیا، وہ دُنیا یہ جہان وہ جہان… آخرت، حشر، جنت، جہنم یہ فلسفے دل کو چُھبنے لگتے ہیں اور یوں کالج چلی جاتی ہوں۔ سوچا تھا ادب پڑھوں گی ان فلسفوں کی تہہ تک پہنچوں گی، بھئی پتہ تو چلے کیسی جنت؟ کا ہے کا جہنم؟ ماں دو چُٹیا بنانے لگی تو میں ہنس کے بولی… ارے  اماں کالج ایک نئی دُنیا ہے میں اب بچی نہیں رہی اور ماں کے ہاتھوں سے کنگھی لے کر اپنے سارے بالوں کو پونی ٹیل میں سمیٹا اور کالج چل دی۔

ادب کی کلاس میں میڈم نے ادب اور تاریخ کا فرق واضح کرتے ہوئے ایک نئی حیرانی میں ڈال دیا۔ کہنے لگی اس دُنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو مر کے بھی زندہ رہتے ہیں اور وہ تاریخ کے کردار ہیں۔ اور ایک وہ جو زندگی میں کئی بار موت سے روشناس ہوتے ہیں، ایک ہی زندگی میں کئی زندگیوں کا مزہ چھکتے ہیں وہ ادبی کردار ہوتے ہیں۔ میں سوچ میں پڑ گئی یعنی دنیا اور آخرت کے علاوہ بھی کئی دنیائیں ہیں جن میں لوگ مر کے بھی زندہ رہتے ہیں اور زندہ رہ کے بھی مرجاتے ہیں۔ نجانے آج میرے سر میں درد اِس پونی ٹیل نے چھیڑ دیا تھا یا اس نئی دُنیا کی تسخیر کا شوق تھا جو میری رگیں کھینچنے لگا۔ سو ان فلسفوں میں اُلجھ کر ادب پڑھنے لگی۔ وقت پر لگا کے اُڑتا رہا اور کالج کے چار سالوں میں بُہت سی نئی دنیائیں دیکھی، زندگی کو ادیبوں کی عینک سے دیکھا تو سوچا کہ ادب ہی دُنیا ہے۔ اب میں کُھلے بالوں کے ساتھ یونیورسٹی جانے لگی۔ ایک دن پروفیسر صاحب نے دل کی دُنیا پر لیکچر دیا۔ موجودات اور احساسات کا فرق بیان کرنے لگے اندرونی اور بیرونی دُنیا کے اختلافات پر زیر حاصل بحث ہوئی، اشعار کا تبادلہ ہوا اور میں ایک ہی سوچ میں گم… دُنیا کی وسعت زیادہ ہے یا دل کی؟۔۔

غُور کرنے پر اندازہ ہوا کہ دل کے اندر تو کئی جہان آباد ہیں۔ اجرام فلکی سے بھی کہیں بڑا نظام ہوگا اس دُنیا کا۔ اور میں اس نئے جہان کے حیرانیِ سمندر میں غوطہ زن کرنے لگی۔ یونیورسٹی کا عرصہ گزرا تو میری حیران آنکھیں ماں کو متفکر کرنے لگی اور یوں مُجھے ایک نئی دُنیا میں بھیج دیا گیا۔ میں اپنے خوابوں اور ماں کی نصیحتوں کو اپنے جوڑے میں گوندھے سُسرال پُہنچی تو یہ دُنیا اس سب سے بُہت مُختلف تھی، جو آج تک پڑھتی اور سیکھتی چلی  آئی تھی۔ میں سنجیدہ چہرے کے ساتھ نئے اسرار اور رموذزسے واقف ہوتی گئی۔ پنگھوڑے میں مُنے کی قلقاریاں اور آنگن میں اللہ ھو، اللہ ھو، لا اللہ، لا اللہ کی صدائیں… دُنیا پھر سے میرے گھر کے آنگن میں سمٹ آئی۔ میں جو اتنی دُنیاؤں کے سفر سے قدرے گھبرائی ہوئی خوف زدہ تھی کسی حد تک مطمئن ہوگئی کہ اب تو آٹے اور دال کے باؤ معلوم ہوگئے۔ میں نے ایک نئی زندگی کو جنم دے دیا۔ فلسفے سمجھ آنے لگے اور شاید اپنے تئیں میں ‘میں’ نے وہ راز پا لیے جو زندگی کا مقصد ہیں۔ آنکھوں کی جُھریوں اور ماتھے کی شِکنوں پر فخر ہونے لگا، تب میرا بیٹا گاڑی کی چابی لِہراتا ناشتے کی جلدی مچانے لگا۔ ناشتے کی میز پر بولا… اماں کل لیکچر بہت اچھا تھا۔ سر نے ایک نئی تحقیق پہ بات کی، باقی سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کیے جارہے ہیں۔ وہ بولے جارہا تھا اور میں ہونق بنی اُس کی شکل دیکھ رہی تھیں۔ یعنی مزید دنیائیں بھی؟ اس نے قہقہہ لگایا میری بھولی  اماں… اور اپنے چمکتے بالوں میں ہاتھ پھیرتے باہر نکل گیا۔ میں مزید دُنیاؤں کے خیالوں میں گم تھی کہ مسجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی اور مُجھے یوں لگا کہ یہ وہ پہلی صدا ہے جو مُجھے کان میں دی گئی تھی۔ میں اپنے سفید بالوں کو چادر میں سمیٹنے لگی۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *