محبت کی ادُھوری کہانی۔۔۔۔فیصل فارانی

اِک ذرا ہَوا کیا تیز ہوئی ، محبت کی شمع ہی بُجھ گئی۔۔
محبت۔۔۔ جسے مَیں نے زمانوں سے اپنے دل میں یوں چُھپا کر رکھا کہ کبھی تمھاری آنکھوں میں جھانکا تک نہیں کہ کہِیں تم میری آنکھوں میں اپنے لئے بے پناہ محبت کے رنگ ہی نہ دیکھ لو۔

لیکن، غلطی تو ہونا ہی تھی ناں ! سو، ہوگئی ۔۔۔اور اُس سے بھی بڑی غلطی تب ہوئی جب تم نے بھی مجھ سے محبت کا اقرار کرلیا۔
محبت، میرے دل میں دفن ہی رہتی تو شاید شدّتوں کے عذاب کا شکار نہ ہوتی __ اندر ہی اندر اگربتّی کی طرح دِھیمے دِھیمے ۔۔ دِھیرے دِھیرے سُلگتی رہتی۔

یہ عذاب نہیں تو اور کیا ہے کہ تمھاری محبت کھو دینے کے بعد مَیں چاہ کر بھی تمھاری دوستی قبول نہیں کر پا رہا۔
دوستی، محبت میں بدل سکتی ہے لیکن محبت کو پھر سے صرف دوستی میں کیسے بدلوں ؟

مَیں تو آج بھی تمھاری پیشانی، تمھاری آنکھوں اور تمھارے ہونٹوں کو چُومنا چاہتا ہوں۔۔ اپنی محبت تمھارے ہونٹوں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔
جب جب تم میرے خوابوں میں آتی ہو تو مَیں جاگنے کے بعد بھی بہت دیر تک تمھارے لَمس کے ذائقے میں سرشار رہتا ہوں۔ مجھے یقین ہوتا ہے کہ اُس وقت تم بھی میرے لَمس کی حِدت میں پِگھل رہی ہوتی ہو۔
تو ایسے میں بتاؤ ! مَیں پھر سے صرف دوستی کی جانب کیسے پلٹوں ؟

حالات کی تیز ہَوا ہی تو چلی تھی ۔۔۔اور تم محبت کے راستے سے ہی پلٹ گئیں؟
تمھارے لئے یہ محبت ایک بُجھتی ہوئی شمع کے دُھوئیں سے زیادہ کچھ نہیں لیکن مَیں آج بھی اُسی موڑ پر کھڑا ہوں جہاں تم نے میرا ہاتھ چھوڑا تھا۔
معلوم نہیں کتنی سانسیں بچی ہیں اور کب تک اِس موڑ پر کھڑا رہ پاؤں ؟ کب تک محبت کی اِس کہانی کو یاد کرسکوں جو تمھاری اور میری کہانی ہے۔۔ ایک ادُھوری کہانی۔۔ایسی محبت کی کہانی جو شروع ہونے سے پہلے ہی میرے لئے شدّتوں کا ایک عذاب بن کر ختم ہوچکی ہے۔

کاش ! یہ محبت میرے دل ہی میں دفن رہتی اور کاش مَیں محبت کی اِس ادُھوری کہانی کا عذاب نہ سہہ رہا ہوتا۔
ایسے کتنے ہی “کاش” تمھاری زندگی میں بھی ہونگے۔۔ اور آخری “کاش” یہ ہوگا کہ ۔۔۔
“کاش! مَیں تم سے مِلی ہی نہ ہوتی”
تمھارا یہ “کاش” ہم دونوں کا مشترکہ “کاش” ہے۔

سُنو ! مَیں جانتا ہوں کہ جس دن تمھیں میری موت کی خبر ملے گی اُس دن تُم ہماری محبت کی یہ کہانی ضرور لکھو گی۔۔ اور اُسی دن ہماری محبت کی یہ ادُھوری کہانی مکمل ہو جائے گی۔
مجھے اُس دن کا انتظار ہے!!

فیصل فارانی
فیصل فارانی
تمام عُمر گنوا کر تلاش میں اپنی نشان پایا ہے اندر کہِیں خرابوں میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *