وہ ایک نایاب پرندہ تھا۔ واپس آتے ہوئے جب میں اسے ساتھ لایا تو قصبہ کے لوگ حیران رہ گئے۔کسی نے ایسا پرندہ پہلے نہ دیکھا تھا۔ بظاہر تو اس میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی۔بھورے پروں، درمیانی جسامت← مزید پڑھیے
میں خمیازہ ساحل کا بقدر ظرف ہے ساقی!خمارِ تشنہ کامی بھی جو تو دریاۓ مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا منہ دیور کی طرف ہے دائیں بائیں دیکھنے کی ممانعت ہے کہ دونوں طرف اپ جیسے بندھے ہوۓ← مزید پڑھیے
میں نے فیس بک پر آج ایک نئی نظم پوسٹ کی ہے۔ اس پہ میرے ایک دوست نے کمنٹ کیا ہے کہ تم فیض احمد فیض کی طرح کی نظمیں لکھ رہے ہو۔ ساتھ اس نے دل بنا کر بھی← مزید پڑھیے
ہمیں ٹی وی کا پہلا دن بھی یاد ہے۔ جب پہلی بار ٹی وی آیا تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ ہم چھوٹے سے تھے اور بہاولپور میں رہتے تھے۔ ٹی وی بنانے والی کمپنی نے← مزید پڑھیے
کہاں سے شروع کروں ؟ ہر طرف سامان کے بکھرے ڈھیر دیکھ کر شمسہ نے سوچا ۔ کیوں نا لڑکیوں کے کمرے سے آغاز کر لوں ؟ یہ سوچ کر وہ ان کے کمرے میں گئی تو پنک کلر کے← مزید پڑھیے
زندگی ہے عارضی‘ اس کا یقیں آتا نہیں عارضی ہے پیار بھی‘اس کا یقیں آتا نہیں کل تلک ہر راہ میں‘ ہر موڑ پر‘ ہر خواب میں تو بھی میرے ساتھ تھی‘ اس کا یقیں آتا نہیں زندگی کے بحر← مزید پڑھیے
فکر و فاقہ اور استطاعت سے زیادہ محنت کے سبب آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ظاہر ہو جانے کے باوجود اس کی آنکھوں کی خوبصورتی ابھی بھی کسی راہ بھٹکے”عاشق مزاج” کو اپنی گرفت میں لینے کے لئے کم نہیں← مزید پڑھیے
پہلا بوسہ! اس کو برسوں بیت گئے ہیں لیکن پھر بھی اس کے پہلے بوسے کی شیرینی اب تک اس کی یاد دلاتی ہے اس کے خواب دکھاتی ہے پیار! ہونٹ پر انکار ہے اور آنکھ میں اقرار ہے پیار← مزید پڑھیے
تھکاوٹ دُور کرنے کا بہترین گُر ہمارے ہاتھ آگیا تھا۔دن بھر کی آوارہ گردی کرنے کے بعد شام کو ہمارے لئیے کسی بھی بس ،میڑو یا ٹرام میں بیٹھنا اور اردگرد کے نظارے لوٹنا ہوتا۔نہ ہماری کوئی منزل ہوتی، نہ← مزید پڑھیے
“یہ بھی بس ایک خیال ہے کہ خوراک لباس رہائش ریاست کے ذمہ ہوتی تو ہم مَن چاہی عیاشی کرتے جس کے بعد اپنے ہی کیے عمل کی وضاحتیں نہ دینی پڑتیں”. فرخندہ کو اپنا سوشل ڈیموکریٹک خیال ابھی یاد← مزید پڑھیے
ایک نظم “بےبسی” اپنے لوگوں کے نام مرے لوگو!! کہیں پر کچھ نہیں بدلا یہ دنیا ظالموں کی تھی یہ دنیا ظالموں کی ہے یہ جنّت بےحسوں کی تھی یہ جنّت بےحسوں کی ہے اٹھا کے دیکھ لو تاریخ ساری← مزید پڑھیے
“رات کے یا شاید دن کے پونے چار بج رہے ہیں، میں تمہیں یاد کر رہا ہوں”. میں فرخندہ کو آخری میسج کر کے سونے آ گیا ہوں. “صبح بخیر”. صبح اٹھ کر دیکھا تو فرخندہ کا میسج آیا ہوا← مزید پڑھیے
وہ بائیس دسمبر کی ایک شام تھی، علی نے طویل سفر کر کے واپس اسلام آباد جانا تھا۔اس کی نوکری نتھیا گلی سے آگے ایک چھوٹے سے پہاڑی شہر میں تھی ،اس کی فیملی اسلام آباد میں ہی مقیم تھی۔اس← مزید پڑھیے
جہانگیر صاحب کافی کے سِپ لے رہے ہیں، سگار بھی جَل رہا ہے، بول رہے ہیں، جب وہ بولتے ہیں تو سننے کو مَن کرتا ہے. ایک دن زراعت کی دریافت پہ گفتگو کر رہے تھے، جو روانی جو طرز← مزید پڑھیے
ہم لائبریری میں آگئیں۔یقیناًدل چاہتا تھا تھوڑا سا وقت اور یہاں گزارا جائے۔لائبریری کی انچارج مسز ایمل بہت سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔سکارف پہنے ہوئے تھیں۔باتیں ہونے لگیں تو احساس ہوا کہ سوچ اسلامی فکر میں گندھی ہوئی ہے ۔ان کے← مزید پڑھیے
مندر کی گھنٹیوں کی آواز سے وہ چونک اٹھی ۔۔۔کچھ دیر سے وہ مندر کے صحن میں کھڑی درخت سے گرتے زرد پھولوں کو اپنی جھولی میں سمیٹ رہی تھی۔۔۔ عجیب سی حیرت بھری نظروں سے اس نے شرما جی← مزید پڑھیے
نیلوفر اپنی خالی خالی آنکھوں سے اپنی کلائیوں کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔اس نے سوچا : “میری کلائیاں ایسی سونی تو کبھی نہ تھیں۔” اسے اچانک ایسے محسوس ہوا کہ اسفندیار نے آہستگی سے خفگی سے اس← مزید پڑھیے
گم صم، چپ چاپ، سہما سہما سا، وہ اس پجاری کی طرح کھڑا تھا جس کا خدا مر گیا ہو اور اسے پوجا کرنے، ماتھا رگڑنے کے لیے کسی نئے مندر کی چوکھٹ کی تلاش ہو۔ اس کی آنکھیں جذبات← مزید پڑھیے
میں اپنی پہلی شادی کا کارڈ بہت خوشی خوشی اسے دینے گیا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ وہ صاف انکار کر دے گا صاف انکار۔۔۔ میرے ذہن میں کئی طرح کے خیال آئے مگر کسی گمان کسی وسوسے← مزید پڑھیے
یورپ ٹور پلاننگ موجودہ دور میں یورپی ممالک غیرملکیوں کے یورپ داخلے پر انتہائی سخت پابندیاں لگا چکے ہیں اور باقائدہ تحقیق کے بعد صرف ان افراد کو ویزہ جاری کیا جاتا ہے جو کہ 100 فیصد اورجنل وجوہات← مزید پڑھیے