• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول کی استقلال سٹریٹ اور تکسیم میدان۔۔۔۔سفر نامہ/سلمی اعوان۔۔قسط13

استنبول کی استقلال سٹریٹ اور تکسیم میدان۔۔۔۔سفر نامہ/سلمی اعوان۔۔قسط13

تھکاوٹ دُور کرنے کا بہترین گُر ہمارے ہاتھ آگیا تھا۔دن بھر کی آوارہ گردی کرنے کے بعد شام کو ہمارے لئیے کسی بھی بس ،میڑو یا ٹرام میں بیٹھنا اور اردگرد کے نظارے لوٹنا ہوتا۔نہ ہماری کوئی منزل ہوتی، نہ ہمیں اُترنے کی کہیں جلدی ہوتی۔بس دو کاموں کا ضرور دھیان رکھتے۔جہاں اُترے ہیں اس کے قریب قریب رہنا ہے۔اگرذرا دُور تک جانا ہے تو گردوپیش کے نظاروں میں کھونے کے باوجود ہرصورت اپنی اپنی آنکھیں اور دماغ کو کھول کر رکھنا ہے۔اردگرد کی نمایاں علامتی جگہوں کو دو تین بار دہرانا ہے۔تاکہ واپسی میں شناخت کا حوالہ رہیں۔اِس دلچسپ کام نے کافی حد تک مدد کی تھی۔گو کبھی کبھی بونگیاں بھی ماریں۔
بسو ں کی کھڑکیوں سے ہم نے بیگلو Beyoglu کا علاقہ دیکھا۔یورپی حصّے کو دو ٹوٹوں میں تقسیم کرنے اور اس کے اندردُور تک گھس جانے والی شاخ زریں کے چاروں پلوں جو دونوں یورپی حصّوں کو ملاتے ہیں۔گلاتا،اتاترک،پرانا گلاتااور ہیلک Halic پر سے ہم نے اِن علاقوں کا حُسن شام کی خوبصورتیوں میں جیسے تحفے کے طور پر وصول کیا۔
کھڑکیوں سے رنگا رنگ منظر یوں آنکھوں کے راستے اندر گُھستے کہ سارا وجود حسن کی اِس بارش میں بھیگ سا جاتا۔پلوں پر سے گزرتے ہوئے ایک جانب اگر پانیوں پر سورج کی طلائی کرنیں دلفریب نقش بنا رہی ہوتیں تو وہیں پانیوں پر تیرتی پھرتی کشتیاں،سٹیمراور لانچیں اِن نقوش میں رنگ بھر تیں۔سامنے اور دائیں بائیں کی پہاڑیوں پر سُرخ کھپریل کی چھتوں والے بادامی اور آف وائٹ اوپر نیچے ایک منظم ترتیب میں بکھرے ہوئے گھر،درخت،سبزہ ،میدانوں اور پارکوں میں کھیلتے بچے اور بڑے اس شعر کا غمّاز بن جاتے۔

beyoglu

galata

دامن دل فی کشد کہ فردوس ایں جا است
بیگلو میں زیادہ عیسائی اور یہودیوں کے گھر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:ترکوں کا محبوب و مقبول شاعریونس ایمرے۔۔۔سفر نامہ/سلمیٰ اعوان۔۔۔قسط12
کیرا کوئے karakoyo اور بیگلوBeyogluکے درمیان اُس ٹنل کو دیکھنا بھی دلچسپ تجربہ تھا کہ یونہی ایک شام ایمی نونو بیٹھے بیٹھے فیری کے چُوٹھے لینے کو جی مچلنے لگا۔استنبول کی شاموں میں ہمارے دل اکثر بالک ہٹوں پر اُتر آیا کرتے تھے۔ایمی نونو سے کشتی میں بیٹھے اور گلاتا پُل کے پار کیرا کوئےKarakoyoکی جیٹی پر جا اُترے۔تھوڑا آگے ایک عمارت میں ساز بجتے تھے۔لگتا تھا جیسے موسیقی کا کوئی پروگرام ہورہا ہو۔گیٹ کیپر نے ہماری درخواست پر دروازہ کھول دیا۔ ایک بڑے سے ہال میں نوجوان بچے بچیاں ڈانس کرتے اور موج مستی کی سی کیفیت میں تھے۔ہماری آمد کا فوراً نوٹس لیا گیا۔ کاؤ بوائے ٹائپ ایک اُدھیڑ عمر کا مردبھاگتا ہوا آیا۔
’’کون ہیں؟ کہاں سے ہیں؟اور کِس لئیے آئی ہیں؟ جیسے سوال ایک ہی سانس میں پُوچھے گئے۔تیوروں میں ذرا سختی سی تھی۔میں نے بھی جوابی چوٹ کی۔
’’پہلے سانس درست کرو۔پاکستان سے ہیں اور پُرامن عورتیں ہیں۔‘‘
پاکستان کا سُن کرتو اس کے منہ کے زاویے بگڑگئے ۔کچھ دیر بیٹھنے اور پروگرام دیکھنے کی درخواست ردّ ہوئی اور ہمیں فوراً باہر نکل جانے کا کہا گیا۔
بڑبڑاتے ہم باہر تو آگئے پر جاننے کی ٹوہ اُکسانے لگی کہ معلو م تو ہو۔کون لوگ ہیں؟ اگر ترک ہیں تو کتنے بدلحاظ ؟برادر ملک کی بے ضرر قسم کی عورتوں سے کیا خطرہ؟
ذرا فاصلے پر چند دکانیں تھیں۔انہی میں سے ایک کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔تعارف کروایا۔مسکراہٹوں کا تبادلہ اور محبت بھرے کلمات ملے۔چلو شکر کچھ دلجوئی ہوئی۔اب ذرا تجّس کی پٹاری کھولی۔دکاندار کا لہجہ گو نارمل ہی تھامگر ہلکی سی بیزارگی کا عنصر بھی تھا۔
’’یونانی یہودیوں کا میوزک سکول ہے۔سارا دن بس غُل غپاڑہ مچا رہتا ہے۔ ‘‘
چلو تھوڑی سی ٹھنڈ پڑی اور کچھ معلومات میں بھی اضافہ ہوا۔
بیگلوBeyogluکا پرانا نام پیرا تھا۔استنبول کے اِس حصّے میں رہنے والے زیادہ لوگ یونانی عیسائی اور یہودی تھے اور اب بھی ہیں گویہودیوں کی ایک اکثریت نے اسرائیل بننے کے بعد ہجرت کرلی تھی۔مگر بہت سے لوگوں نے نقل مکانی پسند نہ کی کہ اپنے جمے جمائے کاروباروں کو چھوڑ کر نئی جگہوں پر جا کر سیٹ ہونا انہوں نے مشکل سمجھا۔
رُخصت ہوکر چلنے لگے کہ چلو گلاتا ٹاور کو دیکھیں۔مگر ٹنل پر پہنچ گئے۔معلوم ہوا تھا یہاں دنیا کا شاید دوسرا مگر قدیم ترین اور مختصر ترین زیر زمین ریلوے ٹریک ہے ۔گولڈن ہارن کے شمالی ساحل پر واقع 573میٹر لمبا جو گلاتا اور پیرا یا ان کے ماڈرن ناموں کیرا کوئے اور بیگلوBeyoglu دو اہم حصّوں یا ضلعوں کو ملاتا ہے۔

grand-pera

یہ ایک فرانسیسی انجینئر  ہنری گیوندGavand کا کارنامہ ہے جوکہیں 1875 میں استنبول کی سیر کیلئے آیا تھا اور جس نے اپنی سیاحت کے دوران اِن دونوں حصّوں کے درمیان سفر کرتے لوگوں کو ہچکولے کھاتے اور ایک دوسرے پر گرتے دیکھا۔دراصل کیرا کوئے یعنی گلاتا سطح سمندر سے جڑاہوا ایک طرح ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔بگلیوBeyoglu یعنی پیرا اُونچائی پر ہونے کی وجہ سے رہائش کیلئے زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا۔
اُس نے لوگوں کو اس تکلیف سے نجات دینے کا سوچا ۔اپنی تجویز کو وہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالعزیز کے پاس لے گیا۔جس نے تفصیلات سُن کر پروجیکٹ کی منظوری دی۔ درمیان میں بہت سے مسائل حائل ہوئے۔ تاہم ایک نیک نیت منصوبہ تکمیل پر پہنچ کر لوگوں کی سہولت کا باعث بنا۔
دومنٹ کا سفر۔بندے کے سفری شوق کا حلق تالو بھی نہ گیلا ہو اور منزل آجائے۔زیرزمین اسٹیشن بہت خوبصورت تھے۔آرٹ کے شاہکاروں سے سجے۔
ہم نے بھی بے اختیار سوچا ۔بلاشبہ اُس نے پیسہ ضرور کمایا ہوگا۔مگر سوچ اور نیت کیسی خالص تھی ۔
استقلال سٹریٹ کوپہلی بار دیکھ کر تو جیسے بھونچکارہ جانے والی بات تھی۔بٹر بٹر تکتے تھے۔دودھیا روشنی دروازوں سے ،کھڑکیوں کے شیشوں سے یوں پھوٹ پھوٹ کر باہر لپکتی تھیں کہ جیسے اندر آتش فشاں پھٹ پڑے ہوں۔فضاؤں میں نظریں ڈالنے سے لگتا تھا جیسے ستاروں سے سجا آسمان اپنی قوس قزح کے ساتھ استقلال سٹریٹ پر اُتر آیا ہے۔نیلے،پیلے،سبز رنگ جیسے مہتابیاں چھوٹ رہی ہوں۔پھلجڑیاں رقصاں ہوں۔
خوبصورت انسانی چہرے پل بھر کیلئے لشکارے مارتے ،عریاں حسن کے نظارے آنکھوں کو پھیلاتے، گرماتے اور پل جھپکتے میں کہیں اوجھل ہوجاتے۔دو حسین چہرے اور قیامت جیسے جسم کہیں سگریٹ کے مرغولوں میں چکریاں کھاتے کھاتے سامنے آئے اور پھر غائب ہوگئے۔
اب پینڈو آنکھیں ہجوم میں ان کی تلاش میں سرگرداں۔پھر یہ کوشش کہ کوئی اور ایسا ہی حسین منظر گرفت میں آئے۔ نیون سائن جل بُجھ جل بُجھ میں ہی اُلجھے ہوئے تھے۔ہجوم روشنیوں میں نہاتاشاہراہ کے سینے پر کِسی پھڑکتے دل میں ہلچل مچاتے گیت کی طرح رواں دواں تھا۔
اس سٹریٹ میں ٹرام کا چلنا تو صرف ایک نوسٹلجیائی کیفیت کا ہی آئینہ دار تھا۔ہر طرح کی سواری تو یہاں ممنوع تھی۔ اس کی اِس خوبی کو تو چلیے جانے دیں کہ یہ ٹنل کی داخلی گزرگاہ کو تقسیم سکوائر سے ملاتی ہے۔یہ تو استنبول کے شاہکاروں میں سے ایک ہے۔عثمانی دور سے لے کر آج تک جب انہوں نے اسے مغربی ملکوں کے سفارت خانوں کیلئے مخصوص کررکھا تھا۔اس کی بلندو بالا خوبصورت عمارات اور اُنکا بانکپن،طرز تعمیر جو انیسویں صدی کے کلاسیکل طرز تعمیر میں آتا ہے۔اس میں بنے ریسٹورنٹ،ہوٹل ،کافی شاپس ،دوکانیں، گوتھک سٹائل کا چرچ اور گلاتا سرائے کو دیکھنا کتنا پرلُطف کام تھا۔سیاحوں اور بالخصوص نوجوانوں نے اِسے ترکی کا دل اور روح یونہی تو نہیں کہا۔ہماری بیچاری آنکھیں نظارے سمیٹتے سمیٹتے ہی ہلکان ہوگئی تھیں۔

Taksim_Square
taksim-square

اس کی پستہ کریم جسے کپوں میں دوکاندار کا لمبے چوبی ڈنڈے سے ڈالنے کا عمل دلچسپ اور اسے کھانا دلچسپ ترین کام۔گانے گانے اور ساز بجانے والوں کی ترکی کے علاقائی روایتی ملبوسات میں سڑکوں پر مظاہرے کرتی منڈلیاں ۔ترکی قہوہ بیچنے والے بھی ایک خاص کردار۔لکڑی اور شیشوں سے بنی چار پہیوں والی ریڑھیاں جن میں رنگا رنگ کھانے پینے کی چیزیں ،پھولوں ، کپڑوں کی جیولری کی دکانیں ۔ہائے کیا کیا نہیں تھا وہاں۔
گلاتا سرائے سکوائر میں مسلسل دو شامیں گزاریں کہ اس کے حسن سے جی نہیں بھرتا تھا۔ایک بہت خوبصورت ریسٹورنٹ میں جانا چاہا جب سیمانے ڈپٹ کر بٹھا دیا۔’’کمبخت باہر سے دیکھ کر دل ٹھنڈا کرلے۔اندر جا کربھڑبھونجوں کی طرح سستی ڈشوں کو کھوج کرو گی تو ننگی ہوجاؤ گی۔یوں بھی یتیمی مسکینی تو تیرے چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ ہم نے ایک سمطSimit اور صبح کا چوری کیا ہوا بقلاوہ کھا کر دوپہر گزار لی ہے۔رات کو کمبخت مارے بیگن اوراُبلے ہوئے چاول وہ میرا عاشق لے کر بیٹھا ہوگا۔ کھالیں گے جا کر۔
بہتیری ٹکریں ماریں کہ Cicek Pasajiمیں کسی طرح اندر جاکر نظارے لوٹوں پر اُس نے ایک نہ چلنے دی۔
’’ ارے آگے ہی ملک بیچارہ بڑا بدنام ہوگیا ہے۔اب اندر جاکر ندیدوں اور جاہلوں کی طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تیرا دیکھنا پول تو کھول دے گا نا۔تیسری دنیا کے غریب اور دہشت گردی کے مارے ملک کی سیاح۔
’’سیما مجھے شدید غصّہ آیا۔بتا تجھے کوئی کمپلیکس ہے۔پیسہ جیب میں نہ ہو تو باہر نکلا جاتا ہے کہیں۔‘‘۔۔۔۔۔پر وہ سیما کیا جو میری سُنتی۔

cicek-pasaji

تقسیم سکوائر میں 1928کی یادگار کے پہلو میں بیٹھ کر گردوپیش کے نظارے لوٹنا بھی خاصا دلچسپ کام تھا۔یادگار کی محرابوں میں پھنسے اتاترک اور اُن کے ساتھیوں کو ہاتھوں میں پکڑے جھنڈے لہراتے دیکھنا اور اردگرد بکھرے نظاروں کی بارش میں بھیگنا بہت مزے دار تھا۔
ہم نے مسلسل وقفوں سے پانچ دنوں کے ہر روز ڈھائی تین گھنٹے یہاں گزارنے کا معمول بنا لیا تھا۔اس کے ارد گرد پھیلے لانوں کے آہنی جنگلوں میں مقید پھولوں اور سبزے کے ڈیزائن دار قطعوں کو دیکھ کر خوش ہوتے پھر ذرا گھومتے پھرتے۔پھولوں سے بھری دوکانوں پر پھول دیکھ کر مسرت بھرا اظہار ہوتا۔ڈونر کباب کا سینڈوچ کھاتے ۔کُنجوں میں بدمعاشیاں کرتے جوڑوں کو دیکھ کر انہیں ستانے کو دل مچلتامگر ڈر جاتے کہ ہائے لوگ کیا کہیں گے۔
بوڑھے منہ مہاشے
کرنے چلے تماشے
جام و سبو کے نظارے بھی ہوش اُڑانے والے ہوتے۔نوخیز بچے بچیاں یوں گٹ گٹ بوتلیں چڑھاتے جیسے کمبخت پانی پی رہے ہوں۔
ایسے ہی دنوں میں شلوار قمیض میں ملبوس خاتون سے ہماری ملاقات ہوئی۔ہماری عمر کی یا ہم سے کچھ چھوٹی۔شوہر کہیں ساٹھ کی دہائی میں یہاں آئے اور بس یہیں کے ہوگئے۔تین بچے تینوں بیٹے جو موسمی پرندوں کی طرح اڑا نیں بھرتے رہتے ہیں۔کاروباری سلسلہ چین اور جاپان سے جڑا ہوا ہے۔سنان پاشا کے علاقے میں رہائش تھی۔

خیابان تکسیم استنبول
میدان-استانبول-تکسیم

لوگوں کے بارے میں میرے ایک سوال کے جواب میں بولیں۔دراصل معاشروں میں اچھے بُرے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔مثالی معاشرے تو کہیں بھی نہیں ہیں۔تاہم ترک بہت ساری خوبیوں کے مالک ہیں۔اتاترک نے جو سبق اس قوم کو پڑھایاکام کرنے ، خود پر اعتماد کا اوراپنی قوم پر فخر کا۔وہ اِن لوگوں نے اچھی طرح پڑھااور عمل بھی کیا۔نتیجہ ظاہر ہے۔آج ترکی بہت سارے بحرانوں سے نکل آیا ہے۔قبرص کا مسئلہ بھی انہوں نے حل کرلیا ہے۔‘‘
’’ہائے سبق تو ہمیں بھی بڑے اچھے ملے تھے۔یقین ،اتحاد اور تنظیم ۔ہم جاہل روز پڑھتے ہیں مگر حرز جان نہیں بناتے۔نہ لیڈر ایسے ملے جو چاک اور تختہ سیاہ ہاتھوں میں پکڑکر اس کا مفہوم سمجھانے گاؤں گاؤں جاتے۔ہمارے اندر تو دُکھ ہی دُکھ تھے۔خوابوں ، خواہشوں کے انبار تھے۔وطن کیلئے کیا کریں جیسے جذبوں کے طوفان تھے۔
دلیر اور جی دار ہیں ۔اپنی رائے رکھتے ہیں۔اور خم ٹھونک کر اس کا اظہار کرتے ہیں۔کردارکا یہ پہلو دیکھیں کہ آتاترک سے گہر ی محبت اور عقیدت رکھنے کے باوجود اس کے مرنے کے صرف بارہ سال بعد مخالف پارٹی کومیدان میں لاکھڑا کیا۔
اسلام کے حوالے سے میرے ایک سوال کے جواب میں نفیسہ بیگ نے کہا۔اسلام کو وقت اور دنیا کے بدلتے رحجانات میں ترکی کے اسلامی مفکروں نے اسے جس عمدگی اور خوبصورتی سے اپنے کرداروں کے ذریعے پیش کیا ہے وہ قابل تقلید ہے۔سعید نورسی ہوں یا فتح اللہ گلین ہوں ان کی تحریکیں ریفارمسٹ تحریکیں ہیں جنہوں نے سوچ کو تبدیل کیا۔اُسے وسعت دی۔اسلام کے آفاقی پیغام کو اِسی روشنی میں آگے بڑھایا کہ معاشرے برداشت اور رواداری سے نمو پاتے اور پھلتے پھولتے ہیں ۔تنگ نظری اور تشدد گُھن کھائی لکڑی کی طرح ریاست کی جڑیں کھوکھلی کردیتا ہے۔
میں سماجی حوالوں سے بھی کچھ باتیں جاننا چاہ رہی تھی۔ہم زبان ملی اور وہ بھی ایک عرصے سے اِس ماحول میں رچی بسی ہوئی تو بہت کچھ جاننے کی تمنا ہونٹوں پر آنے لگی۔اتنا تو ہم جان ہی چکے تھے کہ ترکی میں والدین کا بہت احترام اور خاندانی نظام بھی خاصا مضبوط ہے۔تعطیلات پر اکٹھے ہونا اور تہوار منانا بہت پسندیدہ ہے۔ہاں البتہ عورت کِس حد تک اپنے معاملات میں آزاد ہے۔اس کا کچھ اندازہ تو ہوتا تھا کہ وہ ہر شعبے میں سرگرمی سے کام کرتی نظر آتی ہے اور پراعتماد بھی بہت ہے۔
تاہم نفیسہ بیگ سے جو کچھ سُننے کو ملا وہ خاصا حیرت انگیز تھا۔
استنبول اور انقرہ میں جو کچھ نظر آتا ہے یہ ترکی کا بڑا روشن چہرہ پیش کرتا ہے۔ رواداری سے بھرا ہوا سیکولر معاشرے کا چہرہ۔جہاں معاشرتی رویوں اور قانون کے لحاظ سے عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری کا درجہ حاصل ہے ۔مگر جونہی آپ دیہاتی علاقوں خصوصاً جنوب مشرق کی طرف نکلتے ہیں ۔آپ کو بہت واضح فرق نظر آئیں گے۔یہاں سماجی اور معاشرتی حوالوں سے عورت کو وہ حقوق حاصل نہیں ۔عزت کی خاطر قتل بھی ہوتے ہیں۔پسند کے اظہار پر لڑکی کوزودوکوب بھی کیا جاتا ہے۔جلانے،گولی سے مارنے اور چھرا گھونپنے کے واقعات بھی ہوتے ہیں۔مزے کی بات کہ ایسا کرنے والوں کو قانون اگر گرفت میں لے کر جیل بھیج دیتا ہے تو وہاں انہیں بہت عزت و احترام ملتا ہے۔
ہم تو بڑے حیران ہوئے ۔بے اختیار ہی منہ سے نکلا تھا۔
’’یہ مسلمان کچھ زیادہ ہی عزت کے معاملے میں حساس نہیں ہیں۔جس مسلمان ملک کو اٹھا کر دیکھ لیں وہی اسی میں گوڈے گوڈے دھنسا نظرآئے گا۔
نفیسہ بیگ کھلکھلا کرہنس پڑیں۔

یوں قتل تو عورت یورپ میں بھی ہوتی ہے۔کہیں شوہر اور کہیں دوست کے ہاتھوں۔بس یہ عزت اور غیرت کے مفروضے ہم مسلمانوں کے ساتھ کچھ زیادہ چمٹ گئے ہیں۔ دراصل ہم لوگ اسلام کی روح سے ناآشنا ہیں۔عزت کی خاطر قتل کا اسلام سے کب کوئی تعلق ہے؟یہ تو ہمارے معاشرے کی جہالتوں کے نمونے ہیں۔مسلمانوں کے بانی پیغمبر کواسلام کی خاتون اول پسند کرتی ہے اور بذات خود شادی کا پیغام دیتی ہے۔اِس سے بڑی روشن خیالی اور لبرل ازم کی مثال بھی کوئی ہوسکتی ہے۔
نفیسہ بیگ اب رخصت ہونا چاہتی تھی۔بڑی محبت سے انہوں نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔پاکستانی کھانے کھلانے کی پیشکش کی۔
’’چلیے کوشش کریں گے۔‘‘ہم نے اُنکا شکریہ ادا کیا۔
بُھوک لگ رہی تھی۔ڈونر کباب کھانے کا ہی فیصلہ ہوا۔پھر سیماکراکری کی ایک شاندار سی دُکان میں گھس گئی۔ کرسٹل اور برقی روشنیوں کی چمک آنکھوں کو خیرہ کررہی تھی۔وہ ایک کافی سیٹ کو دیکھنے لگی جب ایک دلکش سا مرد اُس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔کہاں سے ہیں؟سوال ہوا۔سیما نے پاکستان کا کہتے ہوئے متلاشی نگاہیں اِدھر اُدھر کسی اور خوبصورت چیز کی تلاش میں دوڑائیں۔
’’آپ کا پرفیوم بہت اچھا ہے ۔کونسا ہے؟‘‘
سیماکے ساتھ ساتھ اب میرے بھی چونکنے کی باری تھی۔اُس نے فوراً ڈپٹ کرکہا۔’’آپ کو میرے پرفیوم سے کیا لینا۔فضول باتیں مت کریں۔‘‘
’’کمال ہے ۔آپ کی آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں؟ناک کا تو جواب نہیں۔چہرہ کیسا دلکش ہے؟شادی کرلیں مجھ سے۔میں اِس دکان کا اکیلا وارث ہوں۔گھر بھی بہت بڑا ہے میرا۔‘‘
میری ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
’’لو بھئی ترکی میں تیرے عاشقوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔‘‘
مزے کی بات اِس بار سیما نے جھنجھلانے یا جزبز ہونے کی بجائے اِس صورت کو دلچسپی سے دیکھا اور لُطف اٹھایا۔پر بات تو یہ ہے ۔اُس نے گفتگو میں بڑا ڈرامائی سا تاثر پیدا کیا۔
’’میں تو چھ بچوں کی ماں ہوں۔پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا۔‘‘
’’تمہاری جس لڑکی کی شکل و صورت تم جیسی ہو ۔اُس کی میرے ساتھ شادی کردو۔دکان اور گھراُسکے نام لکھ دوں گا۔‘‘
سیما اب کھلکھلا کر ہنسی۔دونوں ہاتھ لہراتے ہوئے نفی کا تاثر دیا اور بولی ۔
’’مجھے کیا پتہ تھا کہ دور دیس کا کوئی دل پھینک شہزادہ اُنکا منتظر ہے۔نہیں تو کوئی ایک آدھ نگ خالی رکھ ہی لیتی۔اب تو ہاؤس فل ہے۔‘‘
اُسے ہنستے اور مسخرے پن سے ہاتھ ملتے دیکھ کر ہم نے دکان سے باہر نکل کر اِس ڈرامے کو وہیں وائنڈ اپ کردیا۔

جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *