محسن ۔ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ملک کے نامور سرجن نے پیٹ میں پھیلے ناسور کا آپریشن شروع کیا… روشن تھیٹر میں وقت کا اندازہ نہیں ہو رہاتھا … لیکن تھیٹر کے باہر کالی اماوس کی ڈراؤنی رات جوبن پر تھی۔ کبھی کبھی کوئی الو بولتا یا کوئی گاڑی بیک فائر کرتی ہے تو دھماکے کی آواز سے ڈراؤنی رات مزید بھیانک لگنے لگتی ہے، گھروں میں دبکے لوگ بلند آواز میں آیۃ الکرسی کا ورد کر رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی سوچوں میں گم ہے۔ ہر ایک آنے والی صبح کے لیے پر امید ہے، لیکن سحر تھی کہ صدیوں کی مسافت پر کھڑی نظر آتی ہے۔ تھیٹر میں زندگی اور موت کا معرکہ سرگرم ہے۔ یہ عام مرض نہیں ہے، کینسر ہے جو پھیل چکا ہے ، جس کی علامتیں ، اہم اعضاء میں بھی نظر آرہے ہیں ۔ سرجیکل ٹیم مستعدی اور جانفشانی سے اپنی اپنی پوزیشن سنبھالے… سرجن صاحب کی ایک ایک جنبش کو نظر میں رکھے ہوئے ہے ۔ سرجن صاحب اپنی تمام صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پروفیشنل لائف کے سب سے بڑے اور مشکل ترین آپریشن سے نبرد آزما تھے۔ سرجن صاحب اور ان کی ٹیم جانتی ہے کہ آپریشن اسی وقت کامیاب ہو گا جب : تشخیص بہترین ہو… جسم میں موجود مدافعتی نظام پوری طرح کام کر رہا ہو … جسم کو دیے جانے والے خون کو جسم قبول کرتا رہے… سب سے اہم نکتہ یہ کہ متاثرہ حصوں کو فورا ًنکالا جائے ۔ ایک ٹیم لیڈر کی حیثیت سے سرجن صاحب کا کام ، تمام معلومات کے مطابق ، پلان بنانا ہے ، ڈسکس کرنا ہے اور سب کی رائے لینے کے بعد ، فیصلہ کن آڈر کرنا ہے ۔ مزید برآں سرجن صاحب اپنے آرڈر کے نتائج کے مطابق اپنے پلان کو تبدیل بھی کر سکتے ہیں ۔ آپریشن بے حد طویل اور صبر آزما ثابت ہو رہا تھا۔ کینسر کے عفریت نے جسم کے گوشے گوشے میں اپنے خون آشام پنجے گاڑ رکھے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کئی صدیوں پر مشتمل لمبا عرصہ گزر گیا ہو۔ دورانِ آپریشن وقتاً فوقتاً سرجن صاحب کوئی اوزار طلب کرتے یا کسی اسسٹنٹ کو کوئی ہدایت دیتے ،جس کی فوری تعمیل کی جاتی۔فرسٹ اور سیکنڈ اسسٹنٹ بھی اپنی ڈیوٹی جانفشانی سے نبھا رہے تھے۔ تمام حضرات اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے تھے،جیسے مشین کے پرزے اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ خون بہت بہہ رہا تھا، لیکن جتنا خون بہہ جاتا تھا ،مریض کے لیے اتنا ہی تازہ خون وفادار تیماردار فوراً مہیا کر رہے تھے۔ ہر تیمار دار کی کوشش اور خواہش ہے کہ ان کا عزیز سب سے پہلے اس کے خون کا عطیہ قبول کرے۔ اینیستھیزیا اسپیشلسٹ بھی اپنے کام میں بہت ماہر ڈاکٹر ہے…وہ بھی مریض کی دھڑکنوں اور سانس کی آمد و رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے…. کیا کاٹنا ہے ؟کیا نکالنا ہے؟ آغاز کیسے کرنا ہے اور اختتام کیسے ہو گا؟؟ یہ تمام تفصیلات سرجن صاحب نے اپنے ماتحتوں کے ساتھ آپریشن سے قبل ہی ایک میٹنگ میں طے کر لی تھیں۔ ایک اچھے لیڈر کی صفت یہی تو ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو اعتماد میں لے کر اپنے ساتھ چلائے۔ لیکن یہ جان بچانے کی جنگ آسان تو ہر گز نہیں اور یہ کھیل بھی نہیں۔ داؤ میں قیمتی ترین جان لگی ہوئی ہے۔ ایسی ہستی کی جان جس کے چاہنے والوں میں سے ہر ایک اپنی پسندیدہ ہستی کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہے۔ کینسر اتنا پھیل چکا تھا کہ اس کو مکمل صاف کرنے کے لیے پورے جسم کو چھاننا ضروری ہے۔ ظاہر اور مخفی ہر گوشے میں چھپ کر بیٹھے ناسور سے اس جسم کو پاک کرنا تھا۔ مریض بہت اہم ہے اس سے وابستہ لوگ اس کی زندگی کے لیے پر امید بھی ہیں اور دعا گو بھی۔ جب بھی آپریٹو ٹیم کو خون یا ادویات کی ضرورت ہوتی،تھیٹر کا دروازہ کھلتا ایک پرچی باہر آتی، محبت کرنے والے پرعزم عزیزوں میں سے کوئی جوشیلا جوان لپک کر آگے آتا اور اپنے خون کا عطیہ پیش کرتا۔کوشش مکمل تھی ،پوری ٹیم ایک پلیٹ فارم پر جمع تھی،رات اپنے پچھلے پہر سے گزر رہی ہے،سپید ہ ٔ سحر اب نمودار ہوا ہی چاہتا ہے۔ مریض کے ورثا میں سے کچھ لوگ مضطرب تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں سرجن صاحب کے متعلق کچھ علم نہ تھا اور وہ سب آپریشن ڈے پر حاضری لگوانے کے لیے آئے تھے اور اب انتظار سے بور ہو کر اپنی جھنجھلاہٹ نکالنا چاہ رہے تھے۔ وہ پہلے ڈھکے چھپے’’اور کتنی دیر لگے گی؟‘کا سوال دہراتے رہے اور کنفرم کرتے رہے کہ ’سرجن کو کام آتا بھی ہے نا…‘جب انہیں بتایا گیا کہ سرجن صاحب ایک مشہور و معروف سرجن گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ سرجری ان کی گھٹی میں پڑی ہے اور ان کی اپنی تمام عمر بھی اسی دشت کی سیاحی میں بسر ہوئی ہے، تو کچھ دیر کے لیے معترض حضرات خاموش ہوجاتے ، لیکن کچھ ہی دیر بعد نسبتاً اونچی اور طنزیہ آواز میں احتجاج رجسٹر کروانے لگتے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سرجن صاحب کی کامیابی کا یقین انہیں مضطرب کیے ہوئے ہے، شاید یہ معترض حضرات مریض کی صحت سے زیادہ آپریشن کی ناکامی کے لیے دعاگو تھے۔ آوازیں اونچی ہو رہی تھیں۔ سرجن معمر ہے اسے تو اب ریٹائر ہو جانا چاہیے۔ اس عمر میں اتنا لمبا آپریشن اسے نہیں کرنا چاہیے ۔ سرجن کو چاہیے کہ یہ کام کسی جونیئر تازہ دم سرجن کے سپرد کرے اور عہدے کے لالچ میں اس کرسی پر جما نہ رہے۔ اتنی رات بیت چلی ہے ہمیں اب تک آپریشن کی کامیابی کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ کسی تازہ دم سرجن کو لگائیں تا کہ آپریشن جلد ختم ہو۔ کسی نرس نے یہ باتیں سن لی اور تھیٹر میں جا کر تھیٹر اسسٹنٹ سے کہہ بھی ڈالیں،جس نے یہی باتیں جا کر بے ہوشی والے ڈاکٹر کو بھی جا بتائیں،بیہوشی والے ڈاکٹر نے سرجن صاحب کی کیفیت کا جائزہ لیا،جوان حوصلہ، پرعزم تجربہ کار شیر اپنے کام میں جتا ہوا تھا۔

۔ جو جذبہ ٹیم لیڈر کا تھا وہی جزبہ ٹیم ممبرز میں بھی نظر آ رہا تھا۔ کتنے صدیوں پر مشتمل پہر گزر گئے تھے۔ یہ آپریشن سرجن صاحب کے کیرئیر کا آخری آپریشن ہے۔ اصولا آپریشن کو ’سکن ٹو سکن ‘اسے ہی مکمل کرنا ہے۔ بلاشبہ سرجن کی ٹیم اپنے کام میں ماہر ہے۔اس مریض کی مکمل کیس اسٹڈی اور مریض کی صحت کی ہر اونچ نیچ سے جس طرح سرجن صاحب واقف ہیں،اسی طرح ان کے قریبی اسسٹنٹس بھی واقف ہیں،ہر آپریشن ایک ٹیم ورک ہوتا ہے اور سرجن کی ٹیم پروفیشنل ازم کا استعارہ ہے۔ کچھ بے صبر ورثاء نے جلدی جلدی کا شور مچا رکھا تھا، وہ بد اعتمادی کا شکار تھے اور سرجن کی مہارت اور نیت پر مسلسل شک کا اظہار کر رہے تھے۔ ان عزیزوں مین سے کوئی بھی مریض کی زندگی اور صحت کے لیے اتنا مخلص نہیں ہو سکتا، جتنا محاذ آپریشن پر زندگی کی جنگ لڑتا سرجن، کیونکہ یہ سرجن کی پروفیشنل ریپوٹیشن کا سوال بھی ہے اور ایک غیور انسان کی غیرت کا بھی کہ اس کا یہ آخری آپریشن ہر صورت کامیاب ہو۔ سرجن صاحب نے تھیٹر میں ہونے والی چہ مگوئیاں بھانپ لی تھیں۔ صورتحال کا مکمل علم حاصل کر لینے کے بعد سرجن صاحب نے ایک پیغام باہر بھجوایا… کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر آپریشن سے علیحدہ ہو جائیں گے ۔ لیکن !!! اس لیکن سے وہی لوگ گزر سکتے ہیں جو صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں ۔ایک آپریشن کے درمیان لیڈنگ سرجن کے ہٹ جانے اور دوسرے سرجن کے معاملات سمبھالنے میں ضایع ہونے والا وقت، نئے سرجن کے تمام صورتحال کو سمجھنے اورچارج لینے کا وقفہ بسا اوقات مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ سرجن صاحب کا یہ فیصلہ ان کی ذات پر اعتماد رکھنے والوں کے لیے دھچکا ضرور ہے لیکن درحقیقت یہ آپریشن صرف ایک انسان کا کام نہیں بلکہ اس کی ٹیم کی کامیابی ہی اس کی کامیابی ہے۔ یہ آپریشن 25کلو میٹر کی میراتھن نہیں کہ ایک ہی کھلاڑی تمام دوڑ مکمل کرے۔ آپریشن کی کمانڈ ، 800میٹر ریلے ریس کی طرح ہوتی ہے ۔ 800میٹر کی دوڑ کے بعد اپنی دوڑ اگلے کھلاڑی کے سپرد کرنا ہی گیم کا اصول ہوتا ہے۔بڑا سرجن اس وقت کے لیے تیار ہے اور اپنے جونئیرز کی صورت وہ ایسا بوٹا لگا چکا جو ان ہی کی صورت اپنے مریض کو امن و سلامتی والا سایہ بہم پہنچانے کے لیے تیار ہے…کھیل جاری رہے گا ! کینسر کی ہار اور سرجن کی جیت تقدیر کے سنہری قلم سے لکھی جا چکی…ان شاء اللہ!

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی: پیشہ طب سے وابستہ اور سرجن ہیں۔ آپ مریضوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کی مریضانہ سوچ پر بھی عمل جراحی کی شوقین ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”محسن ۔ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *