بےبسی….سانول عباسی

ایک نظم “بےبسی” اپنے لوگوں کے نام

مرے لوگو!!
کہیں پر کچھ نہیں بدلا
یہ دنیا ظالموں کی تھی
یہ دنیا ظالموں کی ہے
یہ جنّت بےحسوں کی تھی
یہ جنّت بےحسوں کی ہے
اٹھا کے دیکھ لو تاریخ ساری تم
کسی انسان نے وقعت نہیں پائی
بہت سفّاک حاکم تھے
بہت سفّاک حاکم ہیں
جو جیسا چور ڈاکو تھا
وہ اتنا ہی معزز تھا
مسلط ہم پہ پہلے بھی لٹیرے چور ڈاکو تھے
لٹیرے اب بھی قابض مسندوں پر ہیں
سبھی کردار ویسے ہیں
سبھی افکار ویسے ہیں
فقط چہرے ہی بدلے ہیں
فقط چہرے بدل جانے سے تبدیلی نہیں آتی
کہیں پر کچھ نہیں بدلا
رعایا کے مقدر میں تو پہلے بھی اذیت تھی
ابھی بھی ہم غریبوں کے مقدر میں اذیت ہی اذیت ہے
کوئی رستہ نہیں باقی
مرے لوگو!!
ابھی جو سانس لیتے ہو
یہی سمجھو غنیمت ہے وگرنہ وہ اگر چاہیں
جہاں چاہیں جسے بھی ان کا دل چاہے
اسے وہ مار دیتے ہیں
ابھی تو کچھ نہیں بگڑا
ہوا ہے کیا جو روتے ہو
یہ ساہیوال کا قصہ
یہ پہلا تو نہیں لوگو
بجھا ڈالے ہیں ظلمت نے
چراغ زندگی کتنے
انہیں کیا فرق پڑتا ہے
یہ شوریدہ سری بےکار ہے دیکھو
ہمیں ہے کس لئے مارا کسی سے پوچھنا کیسا
وہ مالک ہیں ہمیں وہ سانس لینے دیں نہ لینے دیں
جو مقصد زندگی کا ہے اسے سمجھو
ہیں ہم معمور بس ان کی حفاظت پر
رگوں میں دوڑتا یہ خون بھی انکی امانت ہے
نہ جانے کیا سمجھتے ہیں بچارے لوگ
جیسے اس طرح رونے یا کہنے سے
کسی کا دل پسیجے گا
جہاں بےحس رعایا ہو
جہاں بےدرد حاکم ہوں وہاں انصاف کی باتیں
زبانوں پر تو رہتی ہیں حقیقت بن نہیں سکتیں
وہاں قاتل مسیحا روپ پھرتے ہیں
کبھی کافر یا دہشتگرد کہہ کر مار دیتے ہیں
وہاں پر ایسی باتوں پہ
کوئی آفت نہیں آتی
کوئی طوفاں نہیں آتے
مرے لوگو ذرا سوچو
کہیں پر کچھ نہیں بدلا
کہیں پر کچھ نہیں بدلا

ساؔنول عباسی

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *