غزل۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

زندگی ہے عارضی‘ اس کا یقیں آتا نہیں
عارضی ہے پیار بھی‘اس کا یقیں آتا نہیں

کل تلک ہر راہ میں‘ ہر موڑ پر‘ ہر خواب میں
تو بھی میرے ساتھ تھی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

زندگی کے بحر میں‘ وہ دور تک بہتی رہی
ایک ناؤ کاغذی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

چاہتوں کے گیت جن ہونٹوں نے گائے رات دن
ان کو کیسی چپ لگی ‘ اس کا یقیں آتا نہیں

جن نگاہوں میں ہوا کرتی تھی ہر سو روشنی
ان میں اب اک تیرگی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

عشق کی چنگاریوں کو تو ہوا دیتے ہوئے
خود ہی آکر جل بجھی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

جس تعلق پر ہمیں‘ حد سے زیادہ ناز تھا
اس پہ اب شرمندگی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

عشق میں قربان سب کچھ کر دیا پھر بھی سہیلؔ
رہ گئی تھی کچھ کمی‘ اس کا یقیں آتا نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *