تمہیں یاد ہی ہوگا۔۔۔۔اختر عمر

شام کی سرد ہوتی ہوئی سرخی مائل دھوپ پہاڑیوں پر بھیلی ہوئی تھی ۔ ہر طرف ایک پراسرار سناٹا سا چھایا ہوا تھا ۔ ایسا سناٹا جو پتھریلی زمین پر خچروں کی ٹاپوں کی آواز کے باوجود برقرار تھا۔ کبھی کسی پہاڑی عقاب کی تیز آواز دور تک لہراتی چلی جاتی اور پھر وہی مہیب سناٹا فضا کو اپنی آغوش میں لے لیتا ۔ سورج آہستہ آہستہ پہاڑی افق میں اتر رہا تھا اور تین افراد کا خچروں پر سوار یہ قافلہ بھی آخری پہاڑی ڈھلان اتر رہا تھا۔ ڈھلان کے نیچے پہاڑیوں کے دامن میں مٹی کے چند گھروں پر قائم چھوٹی سی بستی کے گھروں سے سرمئی دھوئیں کے مرغولے فضا میں بلند ہوکر قافلے والوں کی رہنمائی کر رہے تھے جو غروب ہوتے ہوئے سورج سے پہلے پھیل جانے والے ملگجی اندھیرے میں اب ڈھلان کی آخری اترائی اتر رہے تھے ۔ بستی کے لوگوں نے آگے بڑھ کر قافلےوالوں کا خیر مقدم کیا اور ایک خالی مکان میں ان کے ٹہرنے کا بندوبست کیا جو اس راہ سے گزرنے والے مسافروں کے لیئے ہی بنایا گیا تھا۔

ناول کا پیراگراف یہاں تک پڑھنے کے بعد میں نے کتاب سائڈ ٹیبل پر رکھدی، ریڈنگ گلاسز اتار کر سینٹرل ٹیبل پر رکھتے ہوئے صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرلیں۔
تصورات کی لہریں بہت تیز رفتار ہوتی ہیں۔ تیس بتیس سال کا سفر وہ چند لمحوں میں طے کرلیتی ہیں۔ یونیورسٹی کی طرف سے پاکستان ٹؤرز پر لنڈی کوتل کا سفر تو تمہیں یاد ہی ہوگا۔ اور اس سفر کے دوران پروان چڑھنے والی محبتیں بھی۔
ہمارے علاوہ سب ہی نے اس سفر کے دوران کئے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کیا۔ لیکن شاید تم یا پھر میں ہی ظالم سماج کی اونچی دیواروں کو نہ پھلانگ پائے۔

چلو چھوڑو ساحر کی ایک غزل کے چند اشعار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فار یور آئیز اونلی

اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں
اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
میرے ماضی کو اندھیروں مین دبا رہنے دو
میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں
میری امید کا حاصل، مری کاوش کا صلہ
ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر
میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم خاکے
اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر
مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو
مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں
اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں
میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں
مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں
عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *