سادھو کا خواب۔۔۔ابوبکر

وہ ایک نایاب پرندہ تھا۔ واپس آتے ہوئے جب میں اسے ساتھ لایا تو قصبہ کے لوگ حیران رہ گئے۔کسی نے ایسا پرندہ پہلے نہ دیکھا تھا۔ بظاہر تو اس میں ایسی کوئی خاص بات نہ تھی۔بھورے پروں، درمیانی جسامت اور دراز ٹانگوں کا وہ پرندہ جس کی گردن موٹی تھی۔ سینے کی طرف جاتے ہوئے اس کےپروں کا رنگ سنہری ہوجاتا اور جب نئے پر نکلتے تو ان کی چمک دیدنی ہوتی تھی۔ لیکن کچھ تو ایسا تھا کہ اسے دیکھنے سے راحت ملتی اورجہاں وہ رکھا جاتا وہاں کی فضا عجیب دوستانہ انداز کے ہلکے پن سے بھر جاتی تھی۔اس کی چہک سے اک غیر مرئی توانائی کی گونج محسوس ہوتی تھی۔مجھے یہ پرندہ اس سال دوران سیاحت ملا جب میں ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں کیمپ لگا کر ڈیڑھ ہفتے سے باقی دنیا سےمنقطع تھا۔میرا کیمپ قریبی آبادی سے ایک دن کی دوری پر تھا۔ دور دور تک کوئی بندہ بشر نہ تھا البتہ سامنے کی پہاڑیوں پر چراہوں کے کچھ عارضی چھپڑتھے۔ وہ سبزے کے موسم میں یہاں بکریاں چرانے آتے اور کچھ دن ادھر ہی رہتے تھے۔

وہ بوڑھا انہی میں سے ایک چرواہا تھا جس کے بیٹے کو کسی زہریلی شے نے ڈس لیا تھا۔بوڑھا اس کے لیے تریاق لینے آبادی جارہا تھا اور خلاف توقع پیدل تھا۔ تیز قدموں پر بھاگتا ہوا۔راستے سے ایک طرف کچھ دور اس نے میرا کیمپ دیکھا تو مدد کی امید میں ادھر چلا آیا۔ وہ اتنے تیز اور جذباتی انداز میں بول رہا تھا کہ مجھے پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا لیکن پھر کچھ ہی دیر میں اس کا مطلب جان گیا۔ بوڑھے کے پاس چند پرانے نوٹ تھے جو اس نے یہ سب بتاتے ہوئے ہی نہایت تیزی سے میری طرف بڑھا دئیے کہ اسے قیمت سمجھ کر رکھ لوں۔ ابھی تک میں نے اسے یہ بھی نہ بتایا تھا کہ کیا میں اس کی مدد کے قابل بھی ہوں یا نہیں۔ اسی سے مجھے اندازہ ہوا کہ بوڑھا نہایت مشکل میں ہے۔ میں دوران سیاحت ہمیشہ اپنے ساتھ ایک فرسٹ ایڈ باکس رکھتا ہوں۔ ویرانوں میں کیمپنگ کی وجہ سے اس باکس میں زہریلے کیڑوں کے کاٹے کی کچھ دوائیں ضرور ہوتی ہیں۔ میں نے ایک شیشی اور چند گولیاں اس کے حوالے کیں جو میرے خیال میں کام آسکتی تھیں۔ بوڑھے کی آنکھوں میں دوا دیکھ کر چمک پیدا ہوگئی۔ وہ پیسے واپس نہ لیتا تھا بلکہ میرے قدموں پر جھک کر دیوانہ وار میرا شکریہ ادا کررہا تھا۔ بمشکل وہ رقم میں نے واپس اس کے ہاتھوں میں تھمائی۔ پھر وہ جہاں سے آیا تھا ادھر کو واپس نکل گیا۔

tripako tours pakistan

دو تین دن گز ر گئے۔ مجھے یہ واقعہ بھول چکا تھا کہ اچانک ایک طرف سے وہی بوڑھا آتا دکھائی دیا۔ آج اس کی چال معمول کے مطابق تھی اور چہرہ خوشی سے تمتا رہا تھا ۔ اس کے ایک ہاتھ میں کوئی سامان تھا جس پر کپڑا ڈالا ہوا تھا۔ بوڑھا میرے قریب پہنچا اور دوبارہ اسی تپاک سے ملا۔اس نے بتایا کہ دوا نے فوری اثر کیا تھا اور اب اس کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے۔ وہ باربار میرا شکریہ ادا کرنے لگتا تھا۔ میں نے اسے بیٹے کی صحت یابی پر مبارکباد دی اور چائے کی ایک پیالی پیش کی جو میں نے کچھ دیر پہلے ہی بنائی تھی۔ اب اس نے سامان سے کپڑا ہٹایا۔ وہ لکڑی کا ایک پرانا پنجرہ تھا جس میں یہ پرندہ بند تھا۔بوڑھے نے بتایا کہ وہ یہ پرندہ میرے لیے بطور خاص تحفہ لایا ہے کیونکہ میں نے اس کے بیٹے کی جان بچائی اور یہ کہ مجھے ہرصورت اسے قبول کرنا ہوگا۔ مجھے پرندے پالنے کا کچھ ایسا شوق نہیں اور پھر پنجروں میں بند پرندے دیکھ کر مجھے ازحد کوفت ہوتی ہے۔ میں نے اسے یہ مجبوری بھی بتائی لیکن اس کا پرتپاک اصرار جاری رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ نظر پڑتے ہی میں اس نامانوس پرندے سے متاثر ہوچکا تھا اور میرے اندر بھی ایک آواز مجھے اسے قبول کرنے پر مائل کررہی تھی۔ بوڑھا اب تک پرندے کی باتیں کررہا تھا۔ وہ مجھے اس کی خوبصورتی اور آواز کے بارے میں بتاتا رہا۔ اسی دوران میں نے سوچ لیا کہ مجھے یہ تحفہ قبول کرلینا چائیے۔ جب میں نے اس کا اظہار کیا تو اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔اب وہ مجھے بتانے لگا کہ اس کی خوارک کے اوقات اورمقدار وغیرہ کیا ہے نیز کس قسم کے موسم میں اسے کن حالات میں رکھنا ہوگا۔میں نے یہ سب اچھی طرح سمجھ لیا۔ بوڑھا چائے پی چکا تھا اور اب واپس اٹھنے کو تھا۔ رخصت ہونے سے ذرا دیر پہلے اس نے مجھے اسی پرندے کے بارے میں ایک ایسی بات بتائی جو اس وقت مجھے نہایت حیران کن لگی یہاں تک کہ مجھے دل ہی دل میں بوڑھے کی سادگی اور جہالت پر ترس آنے لگا۔

اس نے بتایا کہ وہ نسل در نسل چرواہے ہیں اور سینکڑوں سالوں سے اس کے آبا انہی پہاڑوں پر اپنے جانور چراتے پھرتے ہیں۔ وہ لوگ سال کا زیادہ حصہ سفر میں رہتے ہیں۔ گھاٹیاں ان کا گھر اور ڈھلوانیں ان کے آنگن ہیں۔ وہ رات کی اندھیرے میں بھی دوڑ کر پہاڑ چڑھتے ہیں۔ روایات کےمطابق یہ پرندہ کئی سو سال قبل ان چرواہوں کے گرو کے عمل سے پیدا ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ کچھ عرصہ سے چرواہوں کو دوران سفر کئی طرح کے نقصان ہوئے اور مختلف وباؤں سے سامنا کرنا پڑا۔ ان لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ ضرور کوئی آسیب انہیں نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہی دنوں یکے بعد دیگرے چرواہوں کے کئی لوگوں کی بینائی جاتی رہی ۔ اس سارے عمل کی آسان توجیہہ کےلیے فرض کیا گیا کہ تاریکی کا عفریت ان کا دشمن ہوگیا ہے۔ اسی دوران ایک سادھو کا گزر وہاں سے ہوا جو دور کسی چلہ گاہ جارہا تھا۔ اس نے چند دن ان لوگوں میں قیام کیا۔ یہیں اسے ان حالات کا علم ہوا تو اس نے کوئی ٹونہ کیا۔ اگلے ہی دن کئی لوگوں کی بینائی واپس آگئی۔ چرواہوں نے سادھو کو اپنا گرو مان لیا۔ گرو نے بتایا کہ اس نے اپنے عمل سے تاریکی کے عفریت کو شکست دی اور قتل کردیا ہے لیکن اس کا ہیولہ اب بھی باقی ہے ۔ اگلی رات کے عمل میں گرو اس ہیولہ کا سامنا کرنے لگا تھا۔ سب کو ہدایت کی گئی کہ شام ڈھلے ہی جھونپڑیوں میں گھس جائیں اور روشنی بالکل نہ ہو۔ سناٹے کی اس رات کے آخری پہر میں اچانک ایک مدھم لیکن مسلسل آواز آنے لگی۔ رفتہ رفتہ یہ آواز پھیل گئی اور کئی جانب سے آنے لگی۔ لوگ خوف کے مارے اندر رہے۔صبح ہوئی تو سب نے دیکھا کہ جھونپڑیوں کے پاس کچھ پرندے زمین پر اترے ہوئے ہیں اور ادھر ادھر چل پھر رہے ہیں۔ تب گرو نمودار ہوا جسے دیکھتے ہی وہ سب پرندے اس کے گرد جمع ہوگئے۔گرو نے چرواہوں کو بتایا کہ اس نے عظیم ہیولہ کو حصوں میں کاٹ کر یہ پرندے بنائے ہیں کیونکہ ہیولہ کو فنا کرنا ناممکن ہے پس جب تک ہیولہ تقسیم نہ ہوتا اسے شکست دینا ممکن نہ تھی۔ ان سب پرندوں میں وہی ایک ہیولہ ہے۔ گرو وہی ہے جو زہر سے تریاق بنائے۔ اب یہ پرندے تمہیں سیدھا راہ دکھائیں گے۔ انہیں رات کے وقت آزاد رکھنا اور صبح جس طرف انہیں چلتا پاؤ وہی سمت تم بھی اختیار کرنا۔ لیکن ایک احتیاط کرنا کہ جب اس کے پروں کے کنارے سرخ ہونے لگیں اور اس کی گردن اور سے اور موٹی ہوتی جائے تب اسے بوقت صبح ذبح کرنا اور دن بھر پردے میں رکھ کر رات کو بستی سے ایک کوس دور ویرانے میں پھینک آنا۔گرو نے مزید بتایا کہ تین سال کی عمر میں اس کے پرسرخ ہونے لگیں گے اور تب تک اس سے دو بچے نکل چکے ہوں گے۔ پس ان کی نسل جاری رہے گی۔ تین سال کا ہوتے ہی اس کے سرخ پر دو چاند کی مدت تک رہیں گے۔ انہی دنوں میں اسے ذبح کرنے میں دیر نہ کرنا۔ یاد رکھنا اگر ایسا نہ کیا تو یہ پرندہ آفت میں بدل جائے گا جس سے ہر طرف ویرانی ہوجائے گی۔اور ہر شے کا اک دورانیہ ہے اور جو شے اپنے دورانیے سے دراز ہوجائے وہ آفت بن جاتی ہے۔ میری باتیں یاد رکھنا۔

چرواہوں نے گرو کا سنا اچھی طرح یاد کرلیا۔ گرو اگلے ہی دن وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کے بعد نسل در نسل یہ لوگ اسی طریقے پر عمل کرتے آئے ہیں اور اب بھی ان کے ہر قبیلے میں کم از کم ایسا ایک پرندہ ضرور ہوتا ہے اگرچہ صدیاں گزرنے کے بعد یہ روایت اب اتنی مضبوط نہیں رہی۔ صرف راسخ العقیدہ ہی اسے سنبھال پاتے ہیں اور وہ لوگ ساری رسم پر عمل کرتے ہیں۔

بوڑھے کی اس گفتگو کے دوران میں جی ہی جی میں ہنستا رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس دوران کافی وقت میں پنجرے کی طرف دیکھتا رہا تھا اور بوڑھے کی کئی باتیں بالکل نہ سن سکا تھا۔ یہ باتیں میرے لیے ایسی اہم نہ تھیں۔ تاریکی کا عفریت، سرخ پر ، ایک کوس دور ویرانہ ۔۔ کیا خوب بکواس تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے رخصت طلب کی اور چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے مزید دو دن کیمپنگ کی۔ رات کو میں اسے کھلا چھوڑ دیتا پھر دن بھر وہ پنجرہ میں رہتا۔رات کو بھی زیادہ دور نہ جاتا تھا۔ پہلی صبح میں نے اسے کیمپ کے پاس ہی دیکھا تو اس بات پر حیران ہوا۔ بوڑھے نے مجھے اس بابت بھی کچھ بتایا تو تھا لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے اس کی تمام باتیں نہ سنی تھیں۔ دو دن بعد میں واپس نکلا اور چوتھے روز گھر پہنچ گیا۔ پنجرہ میرے ساتھ تھا۔

اس کے بعد کی کہانی آپ سن رہے ہیں۔ جو یہ پرندہ دیکھتا حیران رہ جاتا تھا۔ کئی لوگ صرف اسے دیکھنے میری طرف آتے تھے۔واپسی کے بعد کچھ راتوں تک میں اسے کھلا چھوڑ دیتا لیکن چونکہ وہ زیادہ اڑ نہ سکتا تھا اس لیے مجھے خوف رہتا کہ کوئی جانور اسے نقصان نہ پہنچائے یا پھر کوئی اسے چوری ہی نہ کرلے۔ اسی پیش نظر میں رات کے وقت اسے پنجرے سے آزاد کردیتا لیکن کمرے کے اندر کھلا چھوڑتا اور باہر نہ جانے دیتا تھا۔ رات بھر اس کی مدھم لیکن مسلسل آواز آتی تھی۔ صبح کے وقت کچھ دیر وہ خوب چہکتا تھا۔دن کا اکثر حصہ سویا رہتا۔ رفتہ رفتہ لوگ اس سے مانوس ہوگئے اور حیرت کی وہ فضا نہ رہی۔ مجھے بھی اب اس سے انس پیدا ہوچکا تھا۔ میں اس کےدانہ پانی کا مکمل خیال رکھتا تھا اور اب بھی رات کو کھلا چھوڑ دیتا تھا۔ بعدازاں جب مجھے کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا ہوتا تو بیوی کو تاکید کر کے جاتا تھا۔ یونہی وقت گزرتا رہا۔

اس دوران کافی وقت گزر گیا۔ میرے کاروبار کی مصروفیات بڑھ چکی تھیں۔ گھر بھی بدل لیا تھا۔ پرندہ اب ہماری معمولات کا حصہ بن کر رہ گیا تھا۔یونہی آسانی کے لیے ہم نے اس کا ایک نام بھی رکھ لیا تھا۔ ”سم سم”

ایک دن صبح کے وقت یونہی میں نے غور کیا تو سم سم کے پروں کے کنارےسرخ ہورہے تھے۔ نہایت چمکدار اور تازہ سرخ پر نکل رہے تھے۔ میں نے قریب جاکر دیکھا تو واقعی ایسا ہی تھا۔ اس وقت تک میں بوڑھے کی گفتگو شاید مکمل طور پر بھول چکا تھا یا شاید مجھے کہنا چائیے کہ میں نے اس کی مکمل گفتگو کبھی یاد ہی نہ رکھی تھی۔ مجھے یہ سرخ پر بہت اچھے لگے۔میں اسے پیار کیا اور پنجرے میں ڈال دیا۔

اس دوران مجھے دوبار شہر جانا پڑا۔ کئی لاکھ کا سامان پھنسا ہوا تھا جس کا گھاٹا برداشت کرنا ممکن نہ تھا۔ میں نے پوری جان لڑائی اور سامان حاصل کیا۔ پھر ایک دن میری گاڑی خراب رہی جس کی وجہ سے سارا دن ورکشاپ میں نکل گیا۔الغرض کئی دن گزر گئے۔

ایک رات میں اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔سم سم کی مدھم لے ساری رات جاری رہتی تھی۔ مجھے کئی بار خیال آیا کہ آج اس کا انداز بدلا بدلا سا ہے لیکن میں نے کچھ زیادہ غور نہ کیا۔ صبح بھی اس کی چہک قدے مختلف تھی۔ میں نے جاکر دیکھا کہ اس کے کمرے میں کوئی خطرہ تو نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہ تھا۔میں نے سم سم کو دیکھا جو مسلسل چہک رہا تھا۔ اس کے پروں کے کنارے گہرے سرخ ہوچکے تھے اور گردن کے سرمئی بال کچھ جگہوں سے گر رہے تھے۔ میں نے جی ہی جی میں سوچا کہ سم سم اپنے جوبن پر ہے۔

دوسری رات مجھے واضح محسوس ہوا کہ سم سم کی آواز بدل رہی ہے۔ وہ اپنے کمرے میں تھا جہاں میں نے دن میں تسلی سے معائنہ کیا تھا۔ میں نے کچھ زیادہ غور نہ کیا اور سوگیا۔ پھردن طلوع ہوا اور یونہی کاروبار زندگی جاری رہا۔

اگلی رات چاند غائب تھا اور مکمل تاریکی تھی۔ پچھلے پہر کے قریب سم سم کی آواز اتنی بلند اور عجیب ہوئی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہاں ہزاروں پرندے اکٹھے بول رہے ہوں جن کا شور مسلسل بڑھ رہا تھا۔ میں فوراً اس کی کمرے کی طرف گیا۔ سم سم وہاں اکیلا موجود تھا او ر مجھے دیکھتے ہی خاموش ہوگیا۔ پھر تیزی سے چل کر میرے پاس آیا اور کچھ دیر ساکت رہا۔میں نے اسے اٹھا لیا اور پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ دیر یونہی اسے سہلانے کے بعد جب مجھے محسوس ہوا کہ اب سم سم بالکل ٹھیک ہے تو میں نے اسے واپس فرش پر چھوڑ دیا۔ ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ اب سم سم بالکل خاموش ہوچکا تھا۔ مجھے فوراً نیند نہ آئی۔ کچھ دیر کروٹیں بدلنے کے بعد سونے کے بالکل قریب تھا جب سم سم ایک بار پھر بولا ۔ وہی پرانی مدھم لے۔ لیکن پھر وہ دوبارہ نہ بولا۔ اتنی دیر تک میں سوچکا تھا۔
صبح بیوی نے مجھےجھنجھوڑ کر جگایا اور بتانے لگی کہ سم سم اپنے کمرے میں نہیں ہے۔ میں وہاں گیا اور اسے تلاش کرنے لگا۔ کمرہ میں وہ کہیں بھی نہ تھا۔ اردگرد بھی تمام دیکھا لیکن وہ نہ ملا۔ میں نے سوچا شاید وہ زور لگا کر کچھ قدم کی چھلانگ لگاتے ہوئے باہر نکل گیا ہے۔ رات یوں بھی وہ کمرے میں ڈر رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے وہ ابھی واپس آجائے گا۔ میں نے بیوی کو یہی دلاسہ دیا اور ہم دونوں واپس بیٹھ گئے۔ تب مجھے برسوں پرانی وہ صبح یاد آئی جب پہلی رات کے بعد میں نے سم سم کو اپنے کیمپ کے پاس بیٹھا پایا تھا۔ میں جی ہی جی میں یہ سوچ کر مسکرانے لگا کہ آج بھی وہ آجائے گا۔

تمام دن گزر گیا لیکن سم سم نہ آیا۔ میں نے محلے میں سب سے پوچھا لیکن کسی کو علم نہ تھا۔قریب ہی ایک ویرانہ سا ہے وہاں جھاڑیوں میں تلاش کیا مگر بے سود۔ شام تک تھک ہار کر بیٹھ گیا کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔ اگر اسے واپس آنا ہوا تو مل ہی جائے گا اب کہاں ڈھونڈوں۔

رات کا پچھلا پہر تھا کہ اچانک کہیں دور سے ایک مدھم لیکن مانوس آواز آنا شروع ہوئی جو آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی تھی۔ کچھ دیر میں یہ آواز کئی جانب سے آنے لگی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔یہ سم سم کی آواز تھی۔ اب مجھے خیال آیا کہ گذشتہ رات یہی آواز جب سم سم کے کمرے سے آئی تھی تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا تھا اور سم سم کو اکیلا دیکھنے کے بعد تو اس اونچی ہوتی آواز کو بالکل وہم سمجھا تھا۔ آج تو یہ آوازہرگز وہم نہ تھی اور ہم دونوں اسے سن رہے تھے۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اٹھا کہ باہر جا کر اس آواز کی حقیقت کا پتہ چلاؤں۔ بیوی نے مجھے روکا لیکن میں نہ رکا۔ گلی میں صرف تاریکی تھی۔ وہ آواز اب بھی آرہی تھی لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ میں دیوانہ وار چلتا رہا۔ وہ آواز ہر جانب سے آتی تھی لیکن کوئی سامنے نہ آتا تھا۔ میرا ذہن مکمل طور پر ماؤف ہوچکا تھا۔ کافی دیر تک یونہی ڈھونڈنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں کہیں گرنے لگا ہوں۔ ہمت بالکل جواب دے رہی تھی جبکہ وہ آواز اب بھی جاری تھی۔ لیکن میں مکمل طور پر دیوانہ نہ ہوا تھا۔ آخر کار گھر لوٹ آیا۔ کچھ دیر تک وہ آواز آتی رہی پھر یکلخت بند ہوگئی۔ اس یکایک ہوئے سناٹے سے دوبارہ شدید حیرانی ہونے لگی۔ بیوی جو میرے کندھے دبا رہی تھی کہنے لگی کہ تمہیں بخار ہورہا ہے۔ مجھے تھکاوٹ کی غنودگی محسوس ہورہی تھی۔ کچھ دیر بعد نیند آگئی۔ سونے سے پہلے مجھے وہم ہوا کہ جیسے سم سم اپنے معمول کی مدھم آواز میں ایک بار چہکا اور پھر چپ ہوگیا ہے۔ جلد ہی میں سوگیا۔

جب مجھے ہوش آیا تو معلوم ہوا سات دن گزر چکے ہیں اور میں کومے کے بعد اب ہوش میں آیا ہوں۔ ڈاکٹروں کے مطابق میرے دماغ کی کوئی شریان پھٹ گئی تھی جس کی وجہ سے میری بینائی ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔ کئی دن کی بے ہوشی کے اندھیرے سے نکلتے ہی اس سچ کا سامنے میری روح تک کو تاریک کرگیا۔ مجھے لگا جیسے میں مرچکا ہوں۔ نابینا ہونا میرا شدید خوف تھا جوحقیقت میں ڈھل چکا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ میں دو ماہ ہسپتال میں داخل رہا اور پھر گھر منتقل ہوگیا۔ بیوی دن رات میرا خیال رکھتی تھی۔ وہ میرے پاس بیٹھی رہتی اور باتیں کرتی تھی۔ اولاد کوئی تھی نہیں۔ کچھ عرصہ بعد حالت بالکل سنبھل گئی اورصرف تاریکی باقی رہ گئی۔ بیوی اب مجھے کبھی کبھی اخبار پڑھ کر سناتی اور اردگرد کی دنیا سے باخبررکھتی تھی۔ ایک دن اس نے یونہی بیٹھے بیٹھے بڑی عجیب بات کی کہ جب سے تمہارے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہے شہر میں عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔یکے بعد دیگرے تمام عمارتیں، گھر اور دکانیں خود بخود سیاہی مائل ہوگئے ہیں اور ان کی دیواروں کی سیاہی روز بروز گہری ہوتی جاتی ہے۔ دوبارہ روغن پھیرا جائے تو کچھ دن بعد پھر سے سیاہی نمودار ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ سارا مکان پھر سےسیاہ ہوجاتا ہے۔ اتنا سیاہ کہ تاریک راتوں میں محلے کے محلے دکھائی نہیں پڑتے۔ سب کچھ غائب سا ہوجاتا ہے۔

میں بھی یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ عجیب معاملہ ہے۔شاید فضائی آلودگی کے سبب ایسا ہوتا ہو لیکن یکایک سیاہ ہونا سمجھ نہیں آتا اور پھر روغن پھیرنے کے باوجود بھی ۔۔۔۔ بہرحال میں حیران ہوکر بھی کیا کرسکتا تھا۔ میرے لیے تو سب کچھ پہلے ہی بالکل سیاہ ہوچکا تھا۔

Advertisements
merkit.pk

اس رات مجھے کئی ماہ بعد یعنی نابینا ہونے کے بعد پہلی دفعہ کوئی خواب آیا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی سادھو پرندوں میں گھرا ہوا ہے جو اپنی چونچوں سے اس کے جسم میں سوراخ کررہے ہیں ۔ سادھو کی درد بھری چیخیں سیاہ ہیولوں کی صورت آسمان تک بلند ہورہی تھیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سادھو کا خواب۔۔۔ابوبکر

Leave a Reply