یورپ۔ جہاں زندگی آزاد ہے (۱) ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

 

یورپ ٹور پلاننگ
موجودہ دور میں یورپی ممالک غیرملکیوں کے یورپ داخلے پر انتہائی سخت پابندیاں لگا چکے ہیں اور باقائدہ تحقیق کے بعد صرف ان افراد کو ویزہ جاری کیا جاتا ہے جو کہ 100 فیصد اورجنل وجوہات کی بنا پر سفر کرنا چاہتے ہوں جن میں میڈیکل، تعلیم، بزنس ٹرپ، فیملی گیدرنگ، ثقافتی اور سپورٹس ایونٹس کے ساتھ ساتھ سیاحت بھی شامل ہے۔ ان تمام کیٹیگریز میں ویزہ اپلائی کرنے کے لئے تمام تر ثبوت اور مستحکم مالی حالت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ذریعہ آمدن ظاہر کرنے ضروری ہیں۔ ان تمام لوازمات کے بعد بھی آپ کی قومیت سب پر حاوی رہتی ہے اور پاکستانی ہونے کے ناطے سب سے زیادہ سکروٹنی ہمارا انتظار کررہی ہوتی ہے کہ وہاں جانے والے ہمارے دس میں سے آٹھ افراد وہیں رہ جاتے ہیں چاہے کسی بھی کیٹگری میں گئے ہوں۔ اس لئے وہ ویزہ جاری کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ 2 اورجنل افراد کو لینے میں 8 نان اورجنل افراد کو بھی لینا پڑتا ہے جو کہ واپس نہیں آتے۔ اس لئے وہ سادہ سا طریقہ اپناتے ہیں کہ سب کو ہی ریجیکٹ کرو اور صرف اس کو ویزہ جاری کرو جو بہت اچھی پروفائل اور مستحکم مالی حیثیت رکھتا ہو تاکہ اس کو یورپ معاشی طور پر مستحکم نا لگے اور وہ وہاں سیٹل ہونے کی کوشش نا کرے۔
گلف میں سیٹل جنوبی ایشیائی افراد معاشی طور پر مستحکم سمجھے جاتے ہیں کہ اپنے آبائی ملک سے زیادہ کماتے ہیں اور اپنی جاب، یہاں فیملی کی موجودگی اور گلف میں قیام کا لمبا عرصہ ان کو یورپ کی سخت ویزہ پابندیوں سے قدرے آسانی فراہم کردیتا ہے کہ یہ بیک ہوم ناطے یورپ سے واپسی پر مجبور کردیتے ہیں۔ لیکن مہنگا یورپی ٹور ان کو بھی یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ یورپ جانے کا سوچا جائے اور وہ بھی صرف گھومنے پھرنے کے لئے، اس پیسے سے تو آلٹو خریدی جاسکتی ہے۔
میرے حالیہ یورپ ٹور پر سب دوست احباب بہت خوش تھے اور ویزہ ملنے پر حیران بھی کہ یورپ کا ویزہ ملنا اب ایک نایاب چیز ہے کہ گزشتہ ایک سال سے دبئی میں مقیم جتنے بھی دوستوں نے شنجن ویزہ اپلائی کیا تھا سب کا ہی ریجیکٹ ہوا باوجود اس کہ کہ تمام مطلوبہ اور غیر مطلوبہ عوامل بھی درخواست میں پورے تھے اور ان سے بھی زیادہ حیران کچھ وہ احباب بھی تھے کہ میں یورپ سے واپس کیسے آگیا؟ وہیں سیٹل کیوں نہیں ہوا۔ 😀
گزشتہ دو سالوں سے جاری افریقہ (ساوتھ افریقہ، مصر) ایشیا (سنگاپور، سری لنکا) سنٹرل ایشیا (جارجیا )اور ہمالین علاقے(نیپال) کی سیاحت اور کچھ بہتر معاشی پلاننگ سے لیس ہو کر یورپ کا ویزہ اپلائی کرنے کا اب بہترین وقت تھا۔ نیو ائیر کرسمس اور سنو فال یورپ کی اٹریکشنز میں نمبر ایک ہیں اس لئے جن تاریخوں کا انتخاب کیا وہ سب 28 دسمبر سے 5 جنوری تک موجود تھا۔
حالیہ مہینوں میں یورپ ویزہ ریجیکشن ریٹ تقریبا نوے فیصد تھا اور اسی کیٹگری یعنی سیاحت میں اپلائی کرنا ایک رسک، جس کے ساتھ ایک بڑی رقم بھی بندھی ہوئی تھی جوکہ ویزہ اپلیکیشن کے ساتھ اورجنل ریٹرن ٹکٹ وہ ابھی اچھی ایئرلائین یعنی ایمیریٹس کی تاکہ معاشی حالت اچھی دکھائی دے اس کے ساتھ ساتھ پورے ٹور کی تفصیلات یعنی ٹریول ایٹرنٹی جس میں ہوٹل بکنگ جس کی پیمنٹ کردی گئی ہو (فری کینسیلیشن والی) اور ٹرین ٹکٹس وہ بھی نان ریفنڈ ایبل تاکہ ٹور چانس لینے کی بجائے کنفرم محسوس ہو اور ان سب سے بڑھ 6 ملکوں کی ٹریول ہسٹری اور کور لیٹر میں اس کی تفصیلات، شامل تھے۔
سیاحتی ویزہ کا پراسس ٹائم 15 دن کم از کم ہوتا ہے اور قومیت کی بنیاد پر اس سے بڑھ بھی سکتا ہے جیسا کہ میرے کیس میں بھی ہوا۔ اس کی وجوہات میں چھان بین، نیو ائیر اور کرسمس کا رش بھی تھا۔
اٹلی کی تاریخ اور جدت نے مجبور کیا کہ آغاز یہاں سے کیا جائے. یہ ویزہ صرف نا صرف اٹلی بلکہ شنجن کے ممبر 26 ممالک میں جانے کے لئے بھی کافی ہوتا ہے اور بذریعہ ٹرین یا لوکل فلائٹ کسی بھی ملک میں جایا جاسکتا ہے۔ انگلینڈ کے یورپ سے اخراج کے بعد یہ تعداد 26 رہ گئی ہے۔
3 دسمبر کو ویزہ اٹلی کا سیاحتی ویزہ ایک ایجنسی CKGS کے ذریعے اپلائی کیا کیونکہ اب زیادہ تر ایمبیسیز ڈائیریکٹ اپلیکیشن قبول نہیں کرتیں اور یہ ایجنسیاں تمام درخواستیں ان کو فراہم کردیتی ہیں جہاں ویزہ پراسس کیا جاتا ہے۔
15 دن گزرنے کے بعد بھی ویزہ کی کوئی خیر خبر نہیں ملی تو سوچا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ بیسویں دن ایجنسی کال کی تو انہوں نے انتظار کا کہا یا درخواست کی واپسی کا فضول مشورہ دیا۔ ٹور پلان کے حساب سے 28 دسمبر کو صبح نو بجے دبئی سے روم فلائیٹ تھی اور 26 تک ویزے کا کوئی اتا پتا نہیں تھا کہ کیا ہوگا۔ ایجنسی نے مشورہ دیا کہ ایمبیسی ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہے 27 کو وہاں جائیں اور معلوم کریں کہ اس سے اگلے دن کی تو روانگی ہے۔
آخری دن ویزہ لگا کر دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لئے مایوسی کی حالت میں وہاں گیا کہ کم از کم ریجیکٹ کرکے پاسپورٹ ہی واپس کردیں تاکہ کہیں اور تو جاسکوں۔
ایمبیسی نے میری رسید دیکھی اور کہا 5 بجے شام تمہارا پاسپورٹ ایجنسی بھیج دیا جائے گا وہاں سے لے لینا۔ پروگرام یہ تھا کہ آج رات کو ہی پاکستان نکلا جائے کہ آخری دن ویزہ کیسے دے سکتے ہیں۔
گھر واپس آکر پاکستان جانے کی فل تیاری کی۔ بیگ پیک کئے اور نہا دھو کر ایجنسی گیا کہ پکا ریجیکٹ ہی ہوا ہوگا اور ٹکٹ لے کر لاہور نکلتا ہوں۔
ایجنسی والوں نے پاسپورٹ میرے حوالے کیا تو اس لفافے میں ریجیکشن پیپر نہیں تھا تو دال میں کچھ ہرا ہرا محسوس ہوا، سوچا دھنیا ہی ہوگا، جس پر لکھا ہوتا کہ کن وجوہات کی بنا کر ریجیکٹ ہوا ہے۔ پاسپورٹ کے ویزہ کے صفحات چیک کئے تو لشکارے مارتا ہوا شنجن ویزہ پیسٹ ہوا میرے حواس اڑا رہا تھا۔ کچھ وقت تو سانس بھی ٹھیک سے نہیں آیا کہ واقعی میرا ویزہ لگ چکا ہے!
اسی بھونچال میں فورا گھر بھاگا۔ پاکستان جانے کے لئے پیک شدہ بیگ خالی کئے اور یورپ کی پیکنگ شروع کردی کہ صبح 6 بجے دبئی ائیرپورٹ پہنچنا ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *