دیوانہ۔۔۔حسیب حیات

پہلے پہلے پیار کی ملاقاتیں یاد ہیں
مجھ کو وہ تمہاری ساری باتیں یاد ہیں
پھر تم کیسے بھول گئے دل کا یہ افسانہ
میں تم کو کیا کہوں ؟
دیوانہ۔۔۔
یہ گانا 1979 میں ریلیز ہونے والی فلم گریٹ گیمبلر کا ہے۔ جس میں لڑکی اپنی آنکھوں میں کاجل سجائے مسکارا لگائے لڑکے کے گرد چکر لگاتی ہے۔ اپنی اداؤ ں سے اسے پٹاتی ، مناتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کبھی بیچ سڑک، کبھی باغوں میں تو کبھی ساحل سمندر کٹ در کٹ لیتا یہ سلسلہ آگے بڑھتا جاتا ہے ۔لڑکا میری طرح کا بھلکڑ سا ہوتا ہے تھوڑے سے نخرے دکھاتا ہے اور پھر مان بھی جاتا ہے۔ دیکھنے  میں پنجاب کی جٹی لگتی وہ کڑی آجکل کے ٹمٹماتے ہوئے ستارے رنبھیر کپور کی اماں جانی ہے جو ہمارے بچپن کے چن یعنی بچن جی کے ساتھ محبت کی  پینگھیں بڑھا رہی ہوتی ہے۔۔

مجھے یاد ہے کہ پانچویں جماعت کا بورڈ کا امتحان تھا جسے دے دلا کر خود کو ڈگریوں شگریوں سے فارغ التحصیل کروائے سکون کی لمبی سانسیں پانے گھر میں   داخل ہوا تھا ۔ اسی شام اوپر والی آنٹی نے یہ فلم دکھا کر ہماری خوشیاں دوبالا کر دیں تھیں ۔ اس روز ہمیں چوپڑیاں نالے دو دو کا اصل مفہوم سمجھ میں آیا ۔ ایک فلم کی خوشی اوپر سے امیتابچن دو دو یعنی ڈبل رول میں۔
“اوپر والی آنٹی” یہ خطاب ہمارا ہی عنائیت کردہ تھا۔۔ وہ ہمارے گھر کے اوپر والے پورشن میں رہتی تھیں اسی مناسبت سے آنٹی کو اس نام کا حق دار ٹھہرایا۔ وہ آنٹی ہمارے ساتھ خاص شفقت برتتی تھیں۔ اس والہانہ پن ہی کا اثر تھا کہ ہم اس بڑے سے گھر میں اوپر والی آنٹی کو کرائے دار اور خود کو کوٹھی کا اصل مالک و مختار سمجھا کرتے تھے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی ۔
ان کے ہاں خدمت گاروں کی ایک کھیپ تھی۔ نوکر لائن بنائے با ادب کھڑے ہوتے تھے ۔ ان پر حکم آنٹی سے زیادہ ہم چلا لیا کرتے اور آنٹی ہماری ہر بات پر سر ہلا دیا کرتی تھیں۔
اس دور میں جب عام گھروں کے پنکھے بھی دن میں دو گھنٹے کا آرام فرماتے تھے اوپر والی آنٹی کا اے سی ٹوینٹی فور سیون ڈیوٹی دیتا تھا ۔ سورج کا قہر برسے یا لوڈ شیڈنگ کی نحوست وار کرے اس کمرے کا درجہ حرارت انیس سے بیس کبھی نہیں ہوپایا تھا ۔ ان کے کمرے میں چھبیس انچ کا ٹی وی بھی اپنی پہچان آپ تھا۔ کسی راشی تھانیدار کی نکلی ہوئی توند جیسا چھبیس انچ اسکرین والا کلرڈ ٹی وی سینما  سکرین کا چھوٹا بھائی مانا جاتا تھا۔ بڑی  اسکرین سے تعلق وی آر نے استوار کر رکھا تھا۔ وی سی آر پر تو فیکٹری ورکر کی طرح آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی لازم تھی۔ اس بیچارے کی قسمت میں ہفتہ وار چھٹی بھی نہ  لکھی تھی۔ فلموں کی لائبریری گھر میں بنی پڑی تھی۔ ان سب سہولتوں اور رسائی کے باوجود ہماری قسمت میں فلم دیکھنا کم کم ہی لکھا تھا ۔ ہمارا کنٹرول سرکار کے ہاتھ میں تھا ۔ یہ افسر شاہی کب کسی کا بھلا ہونے دیتی ہے۔ غریب بیچارہ خواب اور امیدیں لئے ہی جیتا رہتا ہے۔ہم درخواستیں لکھ لکھ جمع کرواتے رہتے اور وہ سرکاری فائل کی طرح نیچے سے نیچے دبتی چلی جاتی تھیں۔ مہینے گزرتے جاتے، کبھی اماں سے اپروول مل بھی جاتی تو ابا اپنے فرائض کی ادائیگی ڈیکلائنڈ کے ڈنڈے سے کردیتے ۔۔ قصہ مختصر وی سی آر ہماری پہنچ سے چوہے مار گولیوں کی طرح دور رکھا گیا۔

سائنس کی ایجادات نے بھی انسان کو بہت سارے سکھ دئیے ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہی ایجادات معاشرتی بگاڑ اور ٹوٹ پھوٹ کا سبب بھی بنی ہیں۔ بات ہے شے کے استعمال کی ، منفی سوچ خواہ استعمال کرنے والے کی ہو یا بنانے والے کی ,اس کا نتیجہ کبھی بھی انسانی مفاد میں نہیں ہوتا ۔وی سی آر ہی کو لے لیجئے یہ ایجاد ہماری نسل کے لئے سائنس کا بہترین تحفہ تھی ۔ مگر افسوس منفی سوچ رکھنے والے موءجد نے اس میں فارورڈ کا بٹن لگا کر ہمارے جذبات کا کلیجہ فرائی کئے رکھا ۔ فلم کا منظر بدلتا گانا شروع ہونے لگتا اور فارورڈ کا بٹن ہمیں منہ چڑاتا نظر آتا۔ گانوں بنا فلم تو ایسے ہی ہے جیسے پکوڑوں بنا کڑی ۔ سارا بچپن ہم نے پکوڑوں کو ترستے ہوئے گزارا ۔ مگر اس تاریخی دن گریٹ گاڈ بھی ہم پر مہربان ہوا اور فلم گریٹ گیمبلر کا یہ گانا ہمیں پورے کا پورا سننے اور دیدے پھاڑ پھاڑ دیکھنے کو نصیب ہوا۔ فارن لوکیشنز کی شوٹنگ خاص کر ساحل سمندر کی جھلک ہماری آنکھوں کو پلکوں سے میلوں دور لے گئیں ۔

“میں تم کو کیا کہوں ؟
دیوانہ ”
ساحل سمندر کی   ٹھنڈی ریت پر یہ گانا لبوں سے چاکلیٹی دودھ کی طرح چپکا ہوا ہے۔

اسے گنگنانے کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی میں خود کو مصروف رکھے ہوئے ہوں اور بہت سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ جنت میں کون کون جائے گا اور کس کس کے لئے وہاں نو اینٹری کا بورڈ لگے گا۔ بطور پاکستانی ہم پر لازم ہے کہ جنت کے لئے فکر مند ہوتے ہوئے چھان پھٹک کا یہ کام پوری دلجمعی سے ادا کرتے رہیں ۔ جنت میں داخلے کا اصول بھی بہت سادہ سا ہے جس کی جیب میں نیکیاں ہوں گی وہ اس میں داخل ہو گا اور جس کی جیب خالی ہوگی اس کے لئے یہ دروازہ کبھی نا کھلے گا۔ ہم مشرقی لوگ روائتوں کے امین اور بلند اقدار کے محافظ ہوتے ہیں۔ ہماری جنت ماں کے قدموں تلے ہوتی ہے اور جنت کے مزے کسی گوری   کے ساتھ ۔۔

ایک زمانہ تھا  دنیاوی جنت کمانے ہم لوگ سات سمندر پار ولایت کی ٹکٹ کٹاتے پھرتے تھے ۔ مگر کچی بنیادوں پر کھڑے اس جعلی تماشے سے ہمارا دل کچھ عرصے بعد اُچاٹ ہونے لگتا تھا اور ہمیں بہت دور چھوڑ آئے ہوئے اپنوں کی یاد ستانے لگ جاتی تھی ۔اس کے بعد ہم مشرقی اقدار کے غم میں آنسو بہانے کا سلسلہ شروع ہوتا تھا۔

اللہ بھلا کرے جی ان شیخوں کا جنہوں نے سمندروں کے فاصلے مٹا ڈالے ہیں۔ ہمارے لئے اپنے سمندر میں جنت کے نظاروں کا بندوبست کر چھوڑا ہے۔ شیخوں کی بنائی اس تماشے کو ہم جنت اور دوزخ کا کونیکٹنگ جنکشن کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یہاں ہر وہ شے آپ کے ایک اشارے کی منتظر ہے جس کو آپ کا من چاہتا ہے۔ آپ کے لئے رنگ بدل بدل فوارے ناچنے لگتے ہیں ۔سمندر گانے لگتا ہے جھولے آپ کا دل بہلانے آپ ہی کی چاہت میں جھولنے لگتے ہیں۔ دنیا جہاں کی بہترین ڈشوں سے دستر خوان سج جاتے ہیں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ہم نہیں کہ ہم اس لگے تماشے کی حقیقت سے لا علم ہیں ۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ سب محض ظاہری دمک ہے اور ہر چمکنے والی شے سونا نہیں ہوتی مگر ہمارا تجربہ کہتا ہے کہ ہر چمکنے والی بوتل سونے کے پانی کی ضرور ہوتی ہے۔ جسے پی کر انسان خود کو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اس پانی کو چکھ کر مولانا طارق جمیل کا بیان سننے کے فوائد دوگونہ ہوجاتے ہیں ۔ پہلا فائدہ یہ کہ اس نقل کے ایک گھونٹ سے اصل کے ہزارویں حصے کی آگاہی کا راستہ کھلتا ہے یوں جنت کی تمنا دل میں شدت پکڑتی ہے اور دوسرا یہ کہ خمار میں ڈوبی آنکھیں طارق جمیل صاحب کے فرمودات کی روح تک پہنچتی ہیں۔ یوں حوروں کا بہترین نتائج دیتا ہے۔ ہم جیسے دنیا دار سے مسلمانوں کے لئے طارق جمیل صاحب حوروں کے برینڈ ایمبیسڈر کا درجہ رکھتے ہیں۔
دبئی کا موسم کچھ ایسا ہے کہ یہاں باغات لگانا ممکن نہیں ہے اس کا حل یہاں شاپنگ مالوں کی سوغات لگا کر نکالا گیا ہے ۔ ان شاپنگ مالوں کے تلے شب شباب کی نہروں میں تماشبینوں کے دلوں کے ارمان بہتے ہیں۔
اصول یہاں پر بھی وہی اصل جنت جیسے ہی لاگو ہوتے ہیں ۔ جس کی جیب میں زیادہ “نیکیاں” ہوتی ہیں وہ اس جنت کے مزے پاتے ہیں۔
اور خالی جیب لوگ ،دوزخیوں کی لائن میں گنتی کا اضافہ ہوتے ہے۔ ان دوزخیوں کو جلتی دھوپ میں کردہ گناہوں کی سزا روزانہ کی بنیاد پر ملنے کا یہاں پورا بندوبست کیا گیا ہے۔

دبئی کے شاپنگ مالز میں گھومتے گھماتے ہم نے جینز پینٹ اٹھائی قیمت پر نظر پڑی تو واپس رکھتے ہوئے اپنی ران پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اپنے لنڈا بازار کے حق میں زور دار نعرہ لگایا۔ اگر غور کریں تو ہمارا لنڈا بازار کتنوں کے بدن ڈھانپتا ہے اور پوری رازداری سے مجھ جیسوں کا بھرم رکھے رکھتا ہے۔ اس لنڈے بازار کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر ہمارے ہاں ایک اور لنڈا بازار بھی تو ہے جو سراسر تباہی کا سبب بنتا رہا ہے۔ غور طلب بات ہے کہ یہ جو عرب شیخوں نے اپنی اترن ہمیں دئیے رکھی ہے جسے وہ خود ترک کئے بیٹھے ہیں ہمارے ہاں پھیلائے گئے اس لنڈے کے اسلام نے نفرت کے سوا ہمیں اور کچھ نا دیا ہے ۔
خیر چھوڑئیے ان باتوں میں کیا رکھا ہے۔ آپ ہماری زبان پر چڑھا گانا سنئے۔

کتنے لوگوں سے ملکر میں بھول جاتا ہوں
میری عادت ہے اکثر میں بھول جاتا ہوں
دیکھو پھر میں بھول گیا مجھ کو یاد دلانا
میرا کیا نام ہے ؟
انجانا۔۔۔۔

Avatar
حسیب حیات
ایک پرائیویٹ بنک میں ملازم ہوں اسلام آباد میں رہائش رکھے ہوئے ہوں اور قلم اُٹھانے پر شوق کھینچ لاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *