انجام کی تلاش۔۔۔۔احمد نعیم

اُس وقت میری پیٹھ پر خوابوں سے  بھرا ایک بستہ تھا۔۔۔ اس بستے  میں۔۔۔ ماں باپ کے خواب ،سماج کے خواب او  ر بہت ساری آرزؤں کا بوجھ لَدا ہوا تھا – میں اپنے ننھے ننھے قدم اٹھا تا ہوا اسکول جارہا تھا کہ اچانک۔۔۔ ایک آواز میری سماعت سے ٹکرانے لگی۔۔
ڈَگ ڈگ ڈگ ڈگ۔۔۔۔ ڈ۔۔۔۔گ۔۔۔۔ ر۔۔۔ ک
میں نے برگد کی چھاؤں میں ایک بھیڑ دیکھی۔۔۔ میرے قدم بھی اس طرف چل پڑے ،میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس کے ہاتھوں میں ایک ڈگڈگی تھی۔۔
وہ ڈگڈگی کو اپنے تجربہ کار ہاتھوں سے گھماتا منکا ڈگڈگی کی کھال پر تیزی سے پڑتا۔۔
“ڈگ۔۔ ڈگ۔۔۔ کی آواز ابھرتی مداری کے منہ سے لفظ تیزی سے باہر نکلتے جارہے تھے۔۔

“۔ اے بھائے (بھائی)۔۔ گر جائے گا۔۔۔۔ صبر ہوجائے گا۔۔۔ جل جائے گا۔۔۔ صبر آجائے گا ،پر کسی کو دے گا نہیں۔۔۔۔ کسی غریب کے لیے آنہ۔۔۔ دو آنہ۔۔ روپیہ نہیں نکلے گا لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا اپنے کو ،لیکن قسم ہے ای شنکر بھگوان کی۔۔۔۔ (اس نے پاس رکھی شنکر بھگوان کی قسم کھائی)
جو میرے اس پٹارے میں بند ہے۔۔ اُس کے لیے تم موٹا موٹا لوگاں کو بھی تماشا بتائے گا ،وہ بار بار پٹارے کا حوالہ دیتا۔۔ آخر اس نے اپنے بوسیدہ پٹارے کے ڈھکن کو جیسے ہی ہٹایا ایک کالا ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہوگیا ۔۔وہ ناگ غصے میں اپنی لال لال زبان باہر لپلپا رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر کئی لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ تو کئی  لوگوں نے ہاتھ جوڑ لیے (مارے عقیدت کے) میں نے  پہلی مرتبہ کسی ناگ کو دیکھا تھا اور پہلی مرتبہ ایک انجانی سی دہشت میرے دل میں بیٹھ گئی ،میں حیرت سے سانپ کو دیکھ رہا تھا میری طرح اور بھی لوگ اس کو دہشت سے تک رہے تھے ۔۔ مداری پہلے کالے ناگ کوپٹاری میں بند کردیتا پھر اپنے پنجرے میں بند نیولے کوآزاد کردیتا۔۔ نیولا جیسے ہی آزاد ہوتا وہ مداری کے ارگرد چکر کاٹنے لگتا ۔۔مداری کہہ رہا تھا۔۔

“مائی باپ ابھی تک آپ لوگوں نے سانپ اور نیولا کی لڑائی نہیں دیکھی ہوگی لیکن یہ یار خان تم کو بتائے گا کسی فلم میں نہیں۔۔۔ یہاں۔۔ اُس نے انگوٹھا زمین کی طرف کرتے ہوئے پورے مجمع پر نظر ڈالی۔۔۔
” چل وجھمورے لگادے ایک چکرّ۔۔۔جے بولو شنکر بھگوان کی “مداری کے بیٹے نے پٹارے کو کھول کر سانپ کو اپنے گلے میں مفلر کی طرح لپیٹ کر اپنی ہتھیلی تماشائیوں کے آگے    پھیلا دی – لوگوں نے آنہ۔۔۔۔ دو آنہ۔۔۔ روپیہ اس کی ہتھیلی پر، تو کسی نے مارے  ڈر کے زمین پر پھینک دیا – – ڈگڈگی کی آواز تیز اور تیز ہونے لگی ۔۔ڈگ ڈگ ڈگ ڈ۔۔۔۔ گ۔۔۔ اس مداری نے میری مٹھی میں دبے ایک آنہ کو بھی لے لیا ،اُس وقت میری کل کائنات صرف ایک اسکولی بستہ اور مٹھی میں دبا  ہوا ایک آنہ ہی تھا۔۔

“چل – – – بھائے۔۔۔۔۔۔ جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا” لیکن یہ کیا۔۔۔۔ ؟مداری نے سب کی  جیبوں اور ہتھیلیوں سے پیسہ نکال کر کھیل ختم کردیا۔

سانپ اور نیولہ کی لڑائی ہوئی ہی نہیں! سانپ پٹارے میں بند تھا۔۔ اور نیولہ پنجرے میں بند، اِدھر سے اُدھر ہورہا تھا لوگ پہلے مایوس ہوئے۔۔۔۔ اور پھر اپنی اپنی زندگی کے  فریم میں داخل ہوگئے میری آنکھوں میں حیرت پھنسی پھڑ پھڑارہی تھی – میں کھڑا رہا۔۔۔۔۔ سوچتا رہا۔۔۔۔۔! ارے ____یہ تو ادھورا کھیل ہے __؟؟اس پل میری سوچ و فکر کی کائنات ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی۔۔۔
میں پہلی مرتبہ دیر سے اسکول پہنچا ۔۔۔۔جناب دینا ناتھ نے میرے ہاتھوں پر دو چھڑیاں ماریں ۔۔ میری ہتھیلی سرخ ہوگئی۔۔ لیکن مجھے صدمہ اس بات کا تھا کہ مداری نے سانپ اور نیولہ کی لڑائی نہیں  دکھائی  اور وہ میری ہتھیلی میں چھپے ہوئے ایک آنہ کو بھی لے کر چلا گیا ! میری پیٹھ پر اب بھی بستہ تھا!

میں اب بھی اسکول ہی جارہا تھا میری نگاہیں دیواروں پر تحریر کیے  گئے نعروں۔۔۔۔ اقوال۔۔۔۔ اور بلیک بورڈ کو روانی سے پڑھنے لگی تھیں ،ہونٹوں پر اسکول کے ترانے اور نظمیں بہہ رہی تھیں ،
پھر ایک مرتبہ۔۔۔۔۔ “ڈگ ڈگ ڈگ  ۔۔ڈ۔۔۔۔ گ۔۔!” کی آوازیں سماعت سے ٹکرانے لگیں – میں پھر اس بھیڑ کی جانب کھنچا چلا جارہا تھا میں نے اب کی بار  اپنی مٹھی خوب مضبوطی سے بند کر لی۔۔۔۔ اور دل ہی دل میں سوچا آج تو ضرور سانپ اور نیولے کی لڑائی ہوگی، لیکن مداری بس ڈگڈگی بجا رہا تھا اور دوسرے کھیل  دکھا  کر بِھیڑ سے ہنسی مذاق کرنے لگا – لوگ بھی ہنسی مذاق کے ساتھ ایک اہم لڑائی بھول گئے ۔۔لیکن مجھے تو اُس لڑائی کا انتظار تھا۔ سانپ اور نیولے میں جو ہونے والی تھی۔۔

میں پھر ایک مرتبہ ٹھگ لیا گیا – اور اتنی دیر سے اس روز اسکول پہنچا کہ میرا ہسٹری کا پیریڈ چھوٹ گیا – جناب دینا ناتھ اپنی موٹی سی عینک سے مجھے گھورتے ہوئے دوسرے کلاس روم میں داخل ہوگئے میں کانپتے کانپتے کلاس روم میں داخل ہوا تو نگاہ بلیک بورڈ میں دھنس کر رہ گئی، بلیک بورڈ پر سفید چاک سے تحریر تھا۔۔۔۔

“جو قوم اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہے ان کا جغرافیہ بھی انہیں فراموش کردیتا ہے”۔۔۔۔

دن کیلنڈر کے خانوں سے پھڑ پھڑ ا کر ڈسٹ بِن میں  گِررہے تھے اب – – – – بالوں میں چاندی کے تار جگمگا رہے ہیں۔۔۔۔ ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں۔۔۔۔۔ نظریں دھندلا سی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔ کتابوں کے حرف آپس میں گڈمڈ ہونے لگے ہیں۔۔۔۔
ایک روز میں اپنے ہی وجود سے جنم لینے والی نسلوں کا ہاتھ پکڑے زبیرا کراسنگ پار کررہا تھا کہ۔۔۔پھر وہی آواز
“ڈگُ ڈُگ ڈُگ ڈُ۔۔۔۔۔ ڈ۔۔۔۔ ر۔۔۔۔۔۔ گ۔۔۔۔۔ کی آوازیں سماعت سے ٹکرانے لگیں قدم بے اختیار پھر اُس جانب اٹھنے لگے تھے ۔۔میں پھر اُس بھیڑ کا حصہ بن گیا آج بھی مداری اُسی طرح راستوں پر بیٹھا رام رحیم رحمن کی قسمیں کھارہا تھا آج بھی اس کے حلق سے وہی لفظ اُبھر رہے تھے۔۔
“تو مائی باپ۔۔۔۔۔۔سرکار۔۔آپ نے دیکھی نہ ہوگی سانپ اور نیولے کی لڑائی تو پھر دیکھیے  کون ہارتا ہے۔۔۔۔ ؟کون جیتا ہے۔۔۔۔ ؟
کس میں ہے کتنا دم۔!!

اُس نے پھر ڈگڈگی بجانا شروع کی  – میں نے دھندلی آنکھوں سے دیکھا سب کچھ بدل گیا تھا۔۔ مداری بھی تبدیل ہوچکے تھے تماشائی بھی بدل گئے تھے۔۔۔۔ راستے بھی تو  بدل گئے تھے۔لیکن نہ بدلا تو مداری کے لبوں سے پھوٹنے والا منتر نہ بدلا تھا ، اور نہ ہی ڈگڈگی کی آواز تبدیل ہوئی۔۔

ڈُگ۔۔۔۔۔ ڈُگ ڈُگ۔۔۔۔ ڈُگ کوئی بھی تو فرق نہیں آیا تھا۔۔۔۔ ان آوازوں میں
“اے بھائے (بھائی) گر جایئگا۔۔۔۔ صبر ہو جائے گا – جل جائے گا چلے گا لیکن کسی  غریب کو کچھ پیسے دے دے گا تو صبر نہ آے گا” ،ارے۔۔۔ او  سیٹھ کہاں جاتا ہے پیسے  کا سن کر۔۔ ارے میرےکھیتوں کی   طرف  بھی برس ،تیرا کیا جاتا ہے “اس نے اپنے اندر خالی دھنسے ہوئے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
“اوہ۔۔۔۔۔۔ پیر۔۔۔۔۔ ہر بلا کو چِیر۔۔۔۔ نواز میرے غریب نواز سب کو نواز۔۔ علی، علی عباس۔۔۔بھولا بھٹکا مداری کے پاس ”
اُس نے کئی  اور بھی قسمیں کھائیں۔۔۔۔ پھر سنہرے وعدؤں کا جال بِھیڑ کی طرف پھینکا ،لوگوں نےپھر اُس کی قسمیں۔۔۔۔۔ اُس کے وعدؤں پر یقین کرتے ہوئے دھرتی پر پیسہ پھینکنا شروع کردیا۔۔مداری  نے پھر ادھورا کھیل دکھا  کر پیسہ بٹور لیا، کھیل ختم ہوگیا۔۔

” چلو گھر چلیں بابا قدم لرز کر رہ گئے۔۔۔” کیا “۔۔۔۔ ؟میں جیسے ہوش میں آگیا۔۔۔
” چلو گھر چلیں بابا کی آوازیں دل و دماغ میں گردش کرنے لگیں – مجھے پھر اپنے لُٹ جانے کا شدید احساس ہوا میں نے جو کھیل برسوں پہلے دیکھا تھا وہ اب ادھورا تھا، تو کیا ہم لوگوں کو  صرف ٹھگا جارہا ہے کیا آنے والی نسلیں بھی ؟۔۔۔میری ہتھیلیاں سُرخ ہونے لگیں۔۔۔۔ لیکن اس مرتبہ میری مٹھیوں میں کئی اور بھی ننھی ننھی سی انگلیاں دبی ہوئی تھیں۔۔

مگر یہ کیا ۔۔اب نیند میں، شعور میں،لاشعور میں۔۔۔۔ “ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈ۔۔ ر۔۔۔ و۔۔ ر۔۔اخبارات کے کالے کالے حرفوں سے بھی ڈُگ ڈُگ ڈُگ ۔۔۔ٹی وی آن کرو ڈُگ ڈگ ڈگ آفس۔۔۔۔ دفتر ڈُگ ڈُگ انٹرنیٹ۔۔۔۔ ٹوئیٹر۔۔۔۔ فیس بک ڈُگ ڈُگ ڈُگ اررے اررے یہ آوازیں تو اب معتبر لبوں سے بھی پھوٹنے لگی تھیں ۔۔۔۔ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈگ مُلاّ کی داڑھی پنڈت کی چوٹی سے بھی یہ آوازیں اُبھر رہی تھیں ۔۔۔میں اپنی بوجھل آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گھروں کے در ودیوار سے بھی بچوں کے لبوں سے بھی ڈُگ ڈُگ ڈُگ کی آوازیں  آتی محسوس ہونے لگی ہیں۔۔۔
مداریوں کی گٹھڑیاں سونے چاندی کے سّکوں سے بھرتی جارہی ہیں۔۔
وقت اور موسم کے ساتھ سانپ اور نیولے کی رنگت تبدیل ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔آوازیں اب بھی جاری ہیں۔۔
ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈُگ ڈُگ۔۔۔ ڈُ۔۔۔ ر۔۔ و۔۔۔ گ۔۔۔
ڈُگ ،ڈگُ ڈُگ ڈُگ۔۔۔ ڈ۔۔۔ و۔۔۔ ر۔۔۔۔ گ۔۔۔
۔۔۔۔۔ ڈُگ۔۔۔ ڈُگ۔۔۔۔ ڈُگ۔۔۔۔ ڈُگ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”انجام کی تلاش۔۔۔۔احمد نعیم

  1. کمال افسانہ ہے نعیم بھائی۔۔۔۔ ابتدائی سطور نے ہی انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ پوری کہانی پڑھوانے کو مجبور کر دیا۔۔۔۔
    کئی جملوں میں آپ کی تخلیقیت اس طور ابھر کر آئی ہے کہ بے اختیار واہ نکل جاتی ہے۔۔۔۔

    ” میری آنکھوں میں حیرت پھنسی پھڑپھڑا رہی تھی ”

    “دن کیلینڈر کے خانوں سے پھڑپھڑا کر ڈست بن میں گر رہے تھے۔۔۔”

    بہت اعلی ۔۔۔۔ !!
    جی خوش ہو گیا پڑھ کر۔۔۔۔
    اس عمدہ افسانے کی پڑھت کو ممکن بنانے کے لئے آپ کا شکریہ۔۔۔!!!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *