مٹھی۔۔۔۔روما رضوی

مندر کی گھنٹیوں کی آواز سے وہ چونک اٹھی ۔۔۔کچھ دیر سے وہ مندر کے صحن میں کھڑی درخت سے گرتے زرد پھولوں کو اپنی جھولی میں سمیٹ رہی تھی۔۔۔ عجیب سی حیرت بھری نظروں سے اس نے شرما جی کو دیوی کے چرنوں میں سر جھکائے دیکھا۔۔۔
چمپاء اور شرما جی ایک ہی بستی کے باسی ہیں ۔۔۔جو پاکستان سندھ میں موجود ہندو آبادی کی اکثریت رکھتی ہے۔۔۔ شرما جی ایک استاد ہیں جو سب کو برابری کا درس دیتے آئے ہیں ۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ انکے پانی پیئے ہوئے گلاس میں انکا ساتھی غلام رسول پانی پینا پسند نہیں کرتا ۔۔۔وہ پھر بھی اس بات کو ان دیکھا کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔۔۔۔
“آج گھر سے بیسن کے لڈو لایا ہوں کھائے گا۔۔۔؟” اور غلام رسول بتیسی دکھاتے ہوئے کہتا ہے ۔۔۔
“۔دیکھ بے شرمے میں نہیں چاہتا مجھے تیری وجہ سے ذیابیطس لگ جائے ۔۔۔تو کھا اور گھر جاکر پتنی کے ہاتھ چوم چوم کر تعریف کرنا۔۔۔”
شرما جی کے پڑوس میں برابر برابر کوئی دس گھر مسلمانوں کے تو 15 گھر ہندووں کے ہیں ۔۔۔ بستی میں ایک ہی مندر ہے جہاں اس وقت وہ کھڑے چمپا کی تنقیدی نگاہوں کا نشانہ بنے ہیں ۔۔۔۔۔ چمپا نے بھجن گنگناتے ہوئے پلو میں بندھا 5 روپے کا سکہ کھول کر چندے کے بکسے میں ڈال دیا ۔۔۔ یہ چندے کے بکسے ہر مذہبی عمارت میں رکھے ہوتے ہیں ان سے ہی بھگوان / اللہ / یسوح کا نام لینے والے اپنا کاروبار جاری رکھتے ہیں۔۔۔ شاید اپنے اپنے گھروں کا چولہا بھی انہی بکسوں کی آمدنی کے بل بوتے پر دہکاتے ہیں۔۔۔ قریب ہی گاوں میں ہر تہوار پر میلے کا بندوبست ہوتا ہے مزہبی تہوار ہوں تو چھوٹے بڑے جلسے جلوس بھی نکلتے نظر آئیں گے۔۔۔ ۔۔۔۔ شرما جی اپنے سب دوستوں سے ان ایام میں ملتے ہوئے کتراتے ہیں ماتھے پر لگی سرخی مائل زرد تلک اور لوبان کی خوشبو سے انہیں گھٹن ہونے لگتی ہے۔۔۔۔
چمپا نے اپنا آپ اپنے مذہب کی طرح کبھی نہیں چھپایا اسکی آنکھوں میں سیاہ کاجل کی ڈوریاں روز گہری ہوتی چلی جارہی ہیں ماتھے پر روشن بندی اور کبھی کبھی مانگ کی سرخی اسکے سہاگن ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔۔۔۔چمپا کا شوہر راج میونسپلٹی میں ملازم ہے جدی پشتی ملازمت ہے جو ایک کے بعد دوسرے کو باآسانی سپرد کردی جاتی ہے۔۔۔چمپاء کے سسر کا انتقال کوئی دو سال پہلے ہوا ہوگا ۔۔۔ جب وہ پینشن لینے سخت گرمی میں لمبی قطار کے درمیان کھڑا کھڑا بیہوش ہوکر گر پڑا تھا ۔۔۔لوگوں نے بیہوش پرکاش کو ذرا دور سائے میں لٹا کر اسکی چھوڑی جگہ ‘پر کرلی ۔۔۔شاید کسی نے گھر والوں کو فون پر بتا بھی دیا تھا ۔۔۔۔اور دکھ کی بات یہ ہوئی کہ گھر پہنچتے پہنچتے پرکاش نے دم دے دیا ۔۔۔
راج اسکی زندگی میں ہی ملازمت پر چڑھ گیا تھا ۔۔ خیر یہ تو آئے دن کے قصے ہیں کچھ تو رپورٹ ہوکر اخباروں تک پہنچ جاتے ہیں اور کچھ عینی شاہدین کی زبانی گلی محلوں میں گشت کرتے پھرتے ہیں۔۔۔۔
شرما جی اپنی برادری کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے مرد ہیں جو ہر جگہ عزت سے دیکھے جاتے ہیں ۔۔یہ اور بات ہے کہ انکے جاتے ہی اکثر لوگ آپس میں انکے پاکستان میں قیام اور اس قدر ترقی پر فکر مند نظر آتے تھے۔۔۔شرما جی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ انکے خیر خواہ کوئی بھی ذاتی نوعیت کا سوال ان سے نہ کریں ۔۔۔ اپنے اخلاق سے۔۔۔اور علم کے بل بوتے وہ عزت بنانے میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں ۔۔ مگر انکے پرکھوں کا ان سے جڑا نام اب بھی کئی سننے والوں کو متوجہ کرلیتا ہے ۔۔
“شرما جی آپ کے والد کا بڑا دکھ ہوا ”
چمپا نے انکو خلاء میں نظریں جمائے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
کوئی جواب نہ پاکر وہ ذرا اور نزدیک ہوکر بولی۔۔
“شرما جی ہندو جاتی مردے کیوں جلاتی ہے۔۔؟ ”
شرما جی چونک اٹھے ۔۔۔رکا ہوا سانس درست کر کے بولے
“اوہ!! چمپاء۔۔
پربھو نے ۔۔۔۔۔۔انسان کو بنایا بھی تو دھرتی کے عناصر سے ہے ۔۔مٹی۔۔۔ پانی۔۔ آگ۔۔۔اور ہوا ۔۔۔جب آتما یعنی روح پرلوک سدھارتی ہے تو رہ جانے والا شریر بھی اس کائنات کے حوالے کرنا پڑتا ہے جیسے آگ جلا کر جسم کو راکھ کردیتی ہے تو رہ جانے والی خاک کو جل کے حوالے کردیتے ہیں شریر کا انگ انگ انہی چیزوں سے تو بنا ہے سب اسی دھرتی کی امانت ہے اسی کو واپس لوٹا دیتے ہیں ۔۔۔ ”
چمپاء اپنی گول گول سیاہ آنکھوں میں آتے پانی کو نہ روک سکی ۔۔۔ایک موتی سا لڑھک کر اسکے آنچل میں جذب ہوگیا ۔۔۔
۔”شرما جی مسلمان بھی یہی کرتے ہیں پر جل میں بہاتے نہیں مٹی میں دبا دیتے ہیں بڑی حوصلے والی بات ہے نا۔۔۔۔اپنے ماں باپ کو اپنے سے جڑے رشتے کو خود سے ایسے دور کردینا خود چھوڑ آنا واپس نہ آنے کیلئے۔۔۔۔”

ادھر گھڑی دیکھتے ہی شرما جی نے جلدی میں کہا
“ہاں ہاں چلو پھر بات ہوگی میری تو بیس منٹ بعد ایک کلاس ہے ۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔یہ سمجھو اس بھری پری کائنات کا دستور ہے کوئی آرہا ہے ۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور کوئی جارہا ہے” ۔۔۔۔جملے کا بقیہ حصہ چمپاء نے مکمل کیا اور کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
اس پوری بستی کے آس پڑوس میں ہندو مسلمان تو سب ہی آباد تھے مگر برادری ہونے کے ناطے چمپاء کا بھی اپنے ہی لوگوں میں میل جول زیادہ تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ مسلمان گھروں میں کچھ پرانے لوگ اب بھی اس کا گھروں میں کام کے علاوہ آنا پسند نہیں کرتے تھے مگر وہ پڑوسی ہونے کا حق خوب ادا کرتی تھی… ہندو دھرم کے ماننے والے تعداد میں تو زیادہ نہیں تھے مگر تہوار منانے سب اکھٹا ہوتے اور رونق ایسی ہوتی جیسے دنیا بھر میں جشن منایا جا رہا ہو۔۔۔
موسیقی کی تیز آواز اور گھڑیال کی ٹنا ٹن کے درمیان بھی لوگوں کی باتیں جاری رہتیں “ارے تم نے کچھ سنا ؟ مرگھٹ کی زمین پر اپنے علاقے کے کسی با اثر شخص نے قبضہ کرلیا ہے”
“ہاں یار۔۔۔۔ اس کی جائیداد ہے نا ۔۔۔۔مطلب اسکی زمین کا کچھ ٹکڑا اس حصے میں آتا ہے اور وہ صرف اس ٹکڑے کو نہیں بلکہ اس کے ساتھ بنے مرگھٹ کو بھی اپنی چہار دیواری میں لینا چاہتا ہے ”
تہوار کے دن ایسی خبریں لوگوں میں پھیلتی بھی جلد ہیں ۔۔
“سنا ہے قبرستان میں جگہ الاٹ ہورہی ہے اب سے مردے جلائے نہیں دفنائے جائیں گے ۔۔۔ارے رے ایسے تو سب پر پاپ ہوگا ۔۔۔ ” ایکدوسرے سے یہ باتیں کرتے مندر کی سیڑھیاں پھلانگتے چمپاء کے پڑوسی ۔۔۔ رونق اور روشن گلی میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔ “کیا ہی اچھا ہوتا ہم بھی اوروں کی طرح ہندوستان جا بستے ۔۔۔۔”
شرماء جی کے زہن میں بھی ان آوازوں سے خیالات نے سر اٹھایا۔۔۔۔
وہ کافی دیر سے تیز ہوا میں بیڑی سلگانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔انکی نسل نے جانے کتنی پشتوں سے اس علاقے کو آباد کر رکھا تھا۔۔۔
حدود مقرر ہوئیں ۔۔۔علاقے بٹوارے کا شکار ہوئے یہاں تک کہ جنتا بھی تقسیم ہوئی مگر ان کے پرکھوں نے اپنے دوستوں اور عزیزوں سمیت اپنے گھر بار زمینیں چھوڑنے سے انکار کردیا ان کے گرد بسنے والے برسہا برس سے ساتھ تھے کم ہی ایسے تھے جو کسی دوسرے علاقے یا وطن کو ہجرت کرگئے ہوں۔۔۔شرما جی کو بھی کئی بار ایسا موقع ملا مگر وہ ہمیشہ مستقل مزاجی یا یوں کہیئے کہ رواداری میں اپنے پرکھوں کے گھر کو چھوڑنے پر رضا مند نہ ہوئے تھے۔۔۔
کالج کی موجودہ نوکری بھی عزت والی تھی جہاں کبھی خود بھی انہوں نے کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ وقت سے پہلے ہی کالج میں وارد ہوجاتے گڈ مارننگ کہتے خندہ پیشانی سے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ۔۔۔حاضری کی رجسٹر پر دستخط ثبت کرتے ۔۔۔
“اس دفعہ کالج کے سالانہ مقابلوں میں بھارت سے بھی لڑکے آرہے ہیں اور انکے کچھ پروفیسرز بھی ساتھ ہوں گے”
کلرک سے دن بھر کی روداد سنتے وہ کمرے سے نکلتے ہوئے ایک دم رک گئے۔۔
“اچھا! کس روز بھلا مجھے بتانا میں بھی انکے استقبال کو جاوں گا”
صرف ان کے ادارے کیا بلکہ شہر بھر کے کالجز میں مقابلوں کی تیاریاں زوروں پر تھیں لیکچررز کے مختلف گروپس ترانوں، تقریر، ٹیبل ٹینس کی ٹیموں کو مشق کروانے میں مصروف تھے ۔۔ عمارتوں کی صفائی مہمانوں کے پروٹوکول سے لے کر ہر کام کی نگرانی میں شرما جی نے دل سے سب کا ساتھ دیا ۔۔۔۔اگلے ہفتے بدھ کے دن پڑوسی ملک کے وفد کو پہنچنا تھا ۔۔۔
اپنے لوگوں سے ملنے کی چاہ بھی کیا عجب جذبہ ہے ۔۔۔نہ جان پہچان ہے اور نہ کوئی رشتہ مگر ۔۔۔شرماء جی کا انتظار دیدنی تھا ۔۔۔
جب مہمانوں کو معلوم ہوگا کہ وہ بھی انکے دھرم کے ہیں تو کیا والہانہ انداز ہوگا وہ گلے سے لگ جائیں گے اپنے گھر بھی چائے کی دعوت دیں گے اور اور اگر وقت کم ہوا تو۔۔۔۔۔تو کیا ہوا ۔۔۔کالج میں ہی شام تک ہاتھ میں ہاتھ دئیے اس ان دیکھے دوست کو اپنی قربت سے محروم نہ رکھیں گے ۔۔۔۔”مندر بھی تو دکھانے بلا سکتے ہیں” ۔۔۔وہ سوچتے سوچتے زیر لب سرگوشی میں بولے
دوسرے ہی دن صبح سویرے کاروں کا مختصر کارواں مہمانوں کو لینے روانہ ہوگیا ۔۔۔ پروفیسر شرما آنے والے اپنے ہم منصب کو ملنے کے لئے بیتاب تھے انکے ہم مذہب تعلیمافتہ روشن خیال اجلے کرتے پاجامے میں ملبوس دو پروفیسرز ریل کے ڈبے سے ہاتھ ہلاتے ان کے نزدیک پہنچے نیک خواہشات کا تبادلہ ہوا ہاتھ ملائے گئے پہلے سے مخصوص کئے گئے ہوٹل میں حفاظتی دائرے میں پہنچا دیئے گئے۔۔۔کار میں ساتھ بیٹھے سرسری گفتگو کے آغاز ہی میں معلوم ہوا کہ انکے اجداد بھی اسی علاقے سے تھے جہاں ابھی پروفیسر شرما رہائش پذیر تھے۔۔شام گہری ہوئی اور سب گھروں کو رخصت ہوگئے۔۔۔ شرما جی کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا وہ پڑوسی ملک سے اپنے پرکھوں کے ہمسائے سے ملنے اور بہت ساری باتیں کرنے کو بے چین تھے۔۔ صبح کی پو پھٹی روشن کرنوں سے آنگن کا ہر کونہ جگمگا اٹھا تھا چائے کی بھینی خوشبو سے رات کی بے خوابی کا خمار بھی دور ہونے لگا ۔۔۔۔سر کے بالوں کو نفاست سے کنگھی کی مدد سے جماتے وہ بار بار گھڑیال دیکھتے کہ کب آٹھ بجے کا گھنٹہ بجے اور وہ اپنی اسکوٹر پر سوار ہوکر کالج سدھاریں ۔۔۔ وقت سے کچھ پہلے ہی سڑک پر موجود ٹریفک کو پیچھے چھوڑتے وہ کالج کی عمارت میں داخل ہوگئے قطاروں میں سجی خالی کرسیاں اسٹیج پر سجی سنہری روپہلی ٹرافیاں مقابلہ کے لئے آنے والوں کا حوصلہ بڑھا رہی تھیں وہ خود بھی آفس سے ہوتے ہوئے اساتذہ کی نشست پر جا بیٹھے ۔دونوں جانب سے ٹیموں کی تیاری مکمل تھی اور مقابلہ سخت تھا ۔طلبہ اساتذہ دونوں کا جوش دیکھنے قابل تھا مقابلے ختم ہوئے مہمان ٹیموں نے کچھ کم اسکور کئے تھے مگر پھر بھی مہمان ہونے کت ناطے کئی اعزازات کی حق دار ٹہرائی گئی تھی میڈلز اور ٹرافیوں انعامات و سوئینرز کی تقسیم تالیوں کی گونج میں جاری تھی ۔۔۔
ایسے میں وقت کہاں تھا کہ وہ اپنے دل کی ہر بات مہمان دوست سے کہہ پاتے۔۔
چائے کا دور چلا صوبے کے گورنر جو مہمان خصوصی تھے اور پڑوسی ملک کے مہمان محو گفتگو تھے اور پروفیسر شرما اس وقت کی تلاش میں کہ جب اپنے سابقہ پڑوسی سے مزید تعارف حاصل کرسکیں ۔۔۔آخر کار مہمان کرشن پنا جی نے مسکرا کر انکی جانب بھی دیکھ ہی لیا اور پوچھا۔۔
“جی شرما جی کیسے مزاج ہیں کل آپ سے بات نہ ہوسکی تھی۔۔۔ میرے ماں اور پتا جی آپکے علاقے کی اس نہر کا بہت تذکرہ کرتے تھے جو انکے گھروں کیساتھ بہتی تھی ۔۔ انکا لڑکپن اسی علاقے میں گزرا پھر 47 کا واقعہ ہوا ۔۔۔۔گھر بار سب چھوڑ چھاڑ جانا پڑا وہ اس علاقے کے ہر فرد سے جان پہچان رکھتے تھے ۔۔۔ شرما جی۔۔۔وہاں رہنے والے سب اونچی ذات کے ہندو تو اپنا گھر بار سمیٹ کر ہندوستان چلے گئے تھے ۔۔۔۔ ویسے آپکی ذات کیا ہے”
اس سوال پر شرما جی کا دمکتا ہوا چہرہ ایک دم بجھ گیا تھا انکا مصاحفہ کے لئے آگے بڑھایا گیا ۔۔۔ لرزتا ہوا ہاتھ دیکھ کر ہی پروفیسر پنا نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“معاف کیجئے گا پروفیسر صاحب میں ایک روایتی پنڈت گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ۔۔ ”

شرما جی کی بند ہوتی مٹھی میں پسینے کے ننھے قطرے انکے اندر ابلنے والے لاوے کو سرد کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *