• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • اردو ادب میں غیرمسلموں کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے اظہار خیال— ظفر ندیم داود

اردو ادب میں غیرمسلموں کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے اظہار خیال— ظفر ندیم داود

حسین اگر بھارت میں اتارا جاتا

یوں چاند محمد کا، نہ دھوکے میں مارا جاتا

نہ بازو قلم ہوتے، نہ پانی بند ہوتا

گنگا کے کنارے غازی کا علم ہوتا

ہم پوجا کرتے اس کی صبح و شام

ہندو بھاشا میں وہ بھگوان پکارا جاتا

[روپ کماری]

واقعہ کربلا اور امام عالی مقام کی لازوال قربانی کے برصغیر کی تمام زبانوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اسے کئی حوالوں سے دیکھا جا سکتا ہے ایک تو وثائی ادب ہے، جس میں مرثیہ، نوحہ، سلام، سوز وغیرہ شامل ہیں جن میں خالصتاً کربلا اور امام حسین (ع) اور ان کے جانثاران کے عظیم کارنامے کو نہ صرف بیان کیا گیا بلکہ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا گیا یہ ایک اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ جس کی اہمیت اور معنویت مسلّم ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف اصناف ادب مثلا غزل اور نظم میں جابجا کربلا، قربانی، علم، پیاس، خون وغیرہ کا ذکر کرکے شاعر نے اپنے مخاطبین کو پیغام دیا ہے، حتی کہ غیر مسلموں، ہندوں، عیسائیوں اور سکھوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں گلہائے عقیدت پیش کئے ہیں۔

ان میں اردو زبان کا دامن سب سے زیادہ وسیع نظر آتا ہے ۔

امام عالی مقام کی ذات ایک ایسی ذات ہے جن کے بارے میں بے شمار غیر مسلم شعرا نے سلام اور مرثیے بھی تخلیق کیے جن میں سے چند ایک نام یہ ہیں:

پنڈت ایسری پرشاد‘ پنڈت دہلوی‘ حکیم چھنو مل نافذ دہلوی‘ مہاراجہ بلوان سنگھ راجہ‘ چھنو لال دلگیر‘ دلو رام کوثری‘ رائے سندھ ناتھ فراقی‘ نتھونی لال دھون وحشی‘ کنور سین مضظر‘ بشیشو پرشادمنور لکھنوی‘ نانک چند کھتری نانک‘ روپ کماری کنور‘ لبھو رام جوش ملسیانی‘ گوپی ناتھ امن‘ باوا کرشن گوپال مغموم‘ نرائن داس طالب دہلوی‘ دگمبر پرشاد جین گوہر دہلوی‘ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر‘ وشوناتھ پرشاد ماتھر لکھنوی‘ چند بہاری لال ماتھر‘ صبا جے پوری‘ گورو سرن لال‘ ادیب‘ پنڈت رگھو ناتھ سہائے امید‘ امر چند قیس‘ راجندر ناتھ شیدا‘ رام پرکاش ساحر‘ مہرلال سونی ضیا فتح آبادی‘ جاوید و ششت‘ رائے بہادر بابو اتاردین اور درشن سنگھ دُگل وغیرہ۔

یہ تو ممکن نہیں کہ ان تمام شاعروں کا کلام اس کالم میں پیش کیا جا سکے مگر ان میں سے چند ایک کے کلام سے نمونے پیش خدمت ہیں ایک شاعر کا ایک شعر ہی پیش کیا گیا ہے

برصغیر کے مشہور اور معروف ہندو شاعر جناب مرحوم ماتھر لکھنوی کا کلام “جبین کائنات” میں امام عالی مقام کی شان و معرفت بیان کی گئی ہے

وہ جذب جس میں کہ مذہب کی کوئ قید نہیں

حسین نام ہے انسان سے محبت کا

ممتاز سکھ شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر دہلوی کہتے ہیں:

ہر نظامِ کہنہ کو پیغام آئین جدید

اے کہ ہے تیری شہادت اصل میں مرگ یزید

پرتپال سنگھ بیتاب

اور غم زمانے کے دور دور رہتے ہیں

اک حسین کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا

امر سنگھ جوش

دوسروں میں ایسی جرات کی فراوانی کہاں؟

سارے عالم میں بھلا تیری سی قربانی کہاں

چرن سنگھ چرن

خدا کرے کہ مجھے خواب میں حسین ملیں

تمام رات اندھیروں میں کی دعا میں نے

سردار جسونت سنگھ راز چونتروی

وہ یاد آتے ہی ہو جاتی ہیں آنکھیں اشکبار اب بھی

زمیں ہے مضمحل اب بھی، فضا ہے لالہ زار اب بھی

ڈاکٹر امر جیت ساگر

رواں ہے شام و سحر چشمِ درد سے ساگر

غمِ حسین سے ہم بھی تو پیار کرتے ہیں

سردار ترلوک سنگھ سیتل

سن کے سیتل کربلا کا سانحہ

سینکڑوں خنجر میرے دل پر چلے

ہر چرن سنگھ مہر

کبھی نصیب ہو ہم کو بھی کربلا کی خاک

یہ وہ دعا ہے جسے بار بار کرتے ہیں

سورج سنگھ سورج

کرب و بلا میں دیکھیئے شبیر کی ’’نہیں”

ہر دور کے یزید کو جڑ سے مٹا گئی

رام پرکاش ساحر

ہے حق و صداقت مرا مسلک ساحر

ہندو بھی ہوں، شبیر کا شیدائی بھی

رائے بہادر بابو اتاردین

وہ دل ہو خاک، نہ ہو جس میں اہل بیت کا غم

وہ پھوٹے آنکھ جو روئی نہ ہو محرم میں

دلو رام کوثری

قرآں کلام پاک ہے، شبیر ؑ نور ہے

دونوں جہاں میں دونوں کا یکساں ظہور ہے

پنڈت ایسری پرشاد پنڈت دہلوی۔

رکھتے ہیں جو حسینؑ سے عداوت پنڈت

ایسے مسلمانوں سے تو ہندو اچھے

منشی لچھمن داس

پابند شریعت نہ سہی گو لچھمن

ہندو ہوں مگر دشمن شبیر ؑ نہیں ہوں

آخر میں پروفیسر ستنام سنگھ خمار کے اشعار ملاحظہ ہوں۔

لکھا ہے آسماں پہ فسانہ حسین کا

سب کا حسینؑ، سارا زمانہ حسین کا

کوئی امام کوئی پیمبر کوئی ولی

کتنا ہے سربلند گھرانہ حسین کا

ہوگی کوئی تو بات کہ صدیوں کے بعد بھی

جس دل کو دیکھئے، ہے دیوانہ حسین کا

میں حر ہوں چاہیے مجھے تھوڑی سی نقشِ پا

کوئی مجھے بتا دے ٹھکانہ حسین کا

آزادی خیال کی تحریک ہی تو ہے

عاشور کو چراغ بجھانا حسین ؑ کا

اب بھی زبانیں خشک ہیں پہرے فرات پر

دہرا رہا ہے خود کو زمانہ حسین کا

کب سے چکا رہا ہوں قصیدوں میں اے خمار

مجھ پر ہے کوئی قرض پرانا حسین کا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *