شاعری    ( صفحہ نمبر 7 )

ضرورت نہیں ہے۔۔ حبیب شیخ

مجھے ضرورت نہیں ہے، مجھے ضرورت نہیں ہے اِس نئے نظام کی، اُس پرانے نظام کی نہ انتخابات کی نہ سیاسی جماعت کی نہ کسی شعبدہ بازکی نہ نئےامتحانات کی نہ ان کے منشوروں کی ،نہ ان کے نعروں کی←  مزید پڑھیے

​ بانوےبرسوں کا یہ بوجھ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کھول یہ گانٹھوں بھری پوٹلی، اے ستیہ پال جانے کیا اس میں ہے پوشیدہ تری نظروں سے آج کا ’’کل‘‘ تو نہیں؟ ہو بھی تو مخفی ہی رہے کل‘‘ تو ’’ایمائی‘‘ ہے، ’’اَن دیکھا ‘ہے، ’در پردہ‘ہے’ ’ تُو، سر←  مزید پڑھیے

بھنور۔۔ حبیب شیخ

زندگی میں کتنا ٹھہراؤ تھا! آہستہ آہستہ رواں دواں زندگی کوئی مسئلہ نہیں، کوئی پریشانی نہیں لیکن ذ ہن کہیں کھویا ہوا اور جسم ہمیشہ تھکا ہوا یہ بے چین سوچیں اور ٹوٹتے ہوئے انگ نہ پھولوں کی مہک، نہ←  مزید پڑھیے

قافیہ بندی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کے۲ اشعار پر ریدکتیو اید ابسردم تکنیک سے استوار کی گئی نظم ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ قافیہ بندی صفحہٗ قرطاس پر بکھرے ہوئے الفاظ نا بینا تھے شاید ڈگمگاتے، گرتے پڑتے کچھ گماں اور کچھ یقیں سے آگے بڑھتے پیچھے←  مزید پڑھیے

اپنی تصویر دیکھ کر روئیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 سوال مسخ شدہ، بد زیب، اُوپرا چہرہ بد وضعی، بد زیبی کی تزئین میں اجبک کل کا حسن مثالی ۔۔۔آ ج کا بد ہیئت، بے ڈھنگا بول آ ئینے، کیا پیری کا یہی ہے چہرہ؟ جواب حجریات سے باہر نکلو،←  مزید پڑھیے

صبر کیا ہے۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

ہائے۔۔۔سارے رتن چھین کر لے گئی موت کی کپکپی چار جانب، سراسیمگی اک۔۔۔وہی سر پٹختی رہی بال کھولے ہوئے لعل رولے ہوئے گھر کی دیوار و در سے چپک ہی گئی وحشت-دو جہاں رنگ کوئی بھی اب گھر میں باقی←  مزید پڑھیے

نظم/ذکیہ غزل

تن کی سوکھی شاخ سے گرتے پیلے زرد گلاب نین ہمارے ساون بھادوں غم ہووے سیراب یاد کی ٹیس سے ہوویں سارے زخم ہرے شاداب ہڈی ماس کو چاٹے جائے رشتوں کا تیزاب جیون کے چولے سے ادھڑے زردوزی ۔۔کمخواب←  مزید پڑھیے

ہولی (1956)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہر موڑ پہ اک شور سا ہے صبح سویرے رنگوں میں نہائے ہوئے بالوں کو بکھیرے یہ گلیوں میں پھرتے ہوئے رنگین سپیرے اس طرح سے بھی دیکھے ہیں ہولی کے نظارے گلیوں کی منڈیروں پہ یہ بچوں کی قطاریں←  مزید پڑھیے

یمین و یسار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

صد پہلو تو کوئی نہیں ہوتا دنیا میں دو ہی تو پہلو ہیں تیرے،ستیہ پال یا دایاں ہے یا ہے بایاں ایک توازن، خوش وضعی میں نستعلیق دُوجا عدم توازن،کج مج ، ٹیڑھا میڑھا سر مایہ، اور محنت، مالک َ←  مزید پڑھیے

مجھ سے پھر مانگ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فیض احمد فیض کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ مجھ سے پھر مانگ وہ پہلے سی محبت ، مری جاں انقلاب آنے میں تاخیر تو تھی قاف تا قاف اور ہم نے اسے بس ایک درہ سمجھا تھا فیضؔ←  مزید پڑھیے

مکڑی جال کا جُلاہا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

باغ میں لیمپ پوسٹ کے نیچے ایک جھاڑی کے پتوں میں پیوست ایک جالہ ہے، سیمگوں، زر باف کسی مکڑے کی زیرکی کا فسوں اہلیت، اختراع، استادی اور مہارت کا پُر کشِش چکمہ! رات کو لیمپ پوسٹ کے نیچے اک←  مزید پڑھیے

سانحہ پشاور۔۔علی محمد فرشی

سفید کاسہ لہو سے لبریز ہو چکا ہے لہو کے دریا میں تیرتی ہے سفید ٹوپی کسی نمازی کے سَر سے گِر کے! یہ اُس عبادت گزار بندے کی التجا ہے جوحق کا نعرہ بلند کرکے گرا زمیں پر خدا←  مزید پڑھیے

یوکرین سے ایک خبر(پھر ملبے میں بدل گئی اک آبادی)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پا مردی سے کھڑی ہوئی سرکش آبادی اک شطرنج کے مہرے سی پھر ڈٹی ر ہی باغی فوجوں کے رستے میں دیوار اٹھا کر پھر دو طرفہ پسپا ئی میں یہ آبادی (سخت جاں، سرکش آبادی) اس مڈ بھیڑ میں←  مزید پڑھیے

کلکتہ کا سفر، چند حقائق۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فکر فی نفسہ (۷)غالب : Short Notes jotted down in India House Library, London, in 1972-73 ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۰ کلکتے کا سفر اگست 26 کو شروع ہوا۔ فروری 28 کو وہاں پہنچ گئے۔ نومبر 29 کو واپس دِلّی پہنچے۔ (ڈاکٹر←  مزید پڑھیے

عشق۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آ تجھ سے کروں بات کہ کیا ہے فنا فی العشق اس نے کہا، سمجھایا تو رومیؔ نے بھی تھا، پر رومیؔ کی کوئی بات سمجھ آتی بھی کیسے رومی ـ کے ہاں تو “عشق” ہے بس ایک جھمیلا ہاں،←  مزید پڑھیے

​ایک نظم کی خود نوشت سوانح۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بانجھ کہاوت کی اس بنجر کوکھ کوجب میں چیر کے باہر نکلی تو میں نےکیا دیکھا؟ میں تو اپنے جیسے کئی ہزاروں، آدھےمُردہ، آدھے ِزندہ بچوں کی زنجیر میں خود بھی پڑی ہوئی تھی یہ بچے جو اپنی پیدائش کی←  مزید پڑھیے

عورت تیرے دکھ لاکھوں ہیں سیریز/​ ہسٹیریا کی ہسٹری۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

وہ نیک لڑ کی تھی صلح کل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی، لپٹائی باکرہ اک غریب گھر کی کنواری کنیا ذرا سے اونچے، امیر گھر میں بیاہی آئی تو اپنے شوہر کے لڑ←  مزید پڑھیے

​تو موت خود ہی مر گئی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

سترہ جنوری کی رات حرکت قلب کچھ دیر کے لیے بند ہو گئی۔ میں بستر پر نیم بے ہوش ساکت پڑا رہا ، لیکن پھر ایک جھٹکےسےدل کی دھڑکن استوار ہو گئی۔ اس دوران میں ذہن ماؤف تھا یہ موت←  مزید پڑھیے

کابل سے آئی اک لڑکی​۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

A clip from BBC Urdu 19 جنوری کو تمنا زریابی پریانی کو حقوق نسواں کے احتجاج میں حصہ لینے کے بعد کابل کے پروان-2 محلے میں ان کے اپارٹمنٹ سے ‘گرفتار‘ کر لیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ   ان کی←  مزید پڑھیے

اب کی بار اک غزل۔۔صابرہ شاہین

مکرو فریب کی ،کشتی لے کر مانجھی ، چھیل چھبیلا، چل منزل ۔ دھن کا پیلا پربت ، رستہ روکے ، نیلا جل سائے میں جوبن کے راہی کاٹ کے اک دوپہر، گیا مُرلی تیرے پیار کی پگلی ، آج←  مزید پڑھیے