ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

تتھاگت نظم–17 (سلسلہ سوالوں کا ۔۔1)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (17)…..بھیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے سیریز کی نظمیں(دو)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (16)…..بھیڑ سے یہ کہا تتھا گت نے سیریز کی نظمیں(ایک)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (15)…..انگلی مالا ۲

…………………. انگلی مالا کی کتھا بُدھ کی تعلیمات کا ایک خاص باب ہے۔ یورپی، جاپانی اور امریکی بودھوں نے کہا ہے کہ انسانی تہذیب میں زنداں (جیل) کو ایک اصلاح خانہ میں تبدیل کرنے کا پہلا سبق اس کتھا سے←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (14)۔۔۔۔اُنگلی مالا (ایک)

اُنگلی مالا (ایک) ایک ضروری نوٹ …………………. انگلی مالا کی کتھا بُدھ کی تعلیمات کا ایک خاص باب ہے۔ یورپی، جاپانی اور امریکی بودھوں نے کہا ہے کہ انسانی تہذیب میں زنداں (جیل) کو ایک اصلاح خانہ میں تبدیل کرنے←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (12)………. تین چوتھائی ہمارا مغز پوشیدہ ہے بھکشو

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتاگھت نظم (11)۔۔۔

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(10) ۔۔۔۔۔بیج

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(9)۔۔۔۔۔دوزخ

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (8) ….ثمر

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(7)…….. واجب رشتہ

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتتھاگت نظم۔۔5 (گوتم سے عیسےٰ تک)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم۔۔۔ 4(جسم کا یُدھ ہارنے والی استری)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم۔۔۔ 3 (قبولیت)

پیش لفظ کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم ۔۔(2) ذاتی فیصلہ

تتھاگت نظم ۔۔۔2 ذاتی فیصلہ ستیہ پال آنند اور پھر ایسے ہوا، اک نرتکی نے خوبرو آنند کو باہوں میں بھر کر یہ کہا، ’’تم سَنگھ سے باہر چلے آؤ، یہ میری دولت و ثروت، یہ جاہ و حشم، یہ←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم ۔تعارف اور پہلی نظم

(آج سے تتھاگت نظم کے عنوان سے ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی گوتم بدھ کے بارے لکھی گئی نظموں کا نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے ،امید ہے یہ نیا نظمیہ سلسلہ آپ کو پسند آئے گا۔مدیر) تعارف ۔۔تتھاگت←  مزید پڑھیے

نذرِ غالب— نظمِ آنند ۱۲

؂ حسن چہ کام دل دہد چوں طلب از حریف نیست خست نگاہ گر جگر خستہ ز لب نمک نہ خواست ۰۰۰ پیشتر اس کے کہ ہم یہ شعر سمجھیں کیوں نہ ہم سب دیکھ ہی لیں کچھ ذرا سا←  مزید پڑھیے

نذرِ غالب نظمِ آنند –11

نذرِ غالب -نظمِ آنند–11 ستیہ پال آنند دولت بہ غلط نبود از سعی پشیماں شو کافر نہ توانی شد، ناچار مسلماں شو ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ تُو کیا ہے؟ مسلماں ہے؟یا کافرِ ِ ِ زناّری کچھ بھی ہے، سمجھ خود کو اک معتقد←  مزید پڑھیے

نذر غالب- نظم آنند -۱۰

ما ہمہ عین خودیم ا ما خود از وہمِ دوئی درمیانِ ما و غالب،ؔ ما و غالبؔ حائل است ۰۰۰۰۰۰ میں کہ غالب کا ہی اصلی روپ تھا اس کے زمانے سے بھی ابداً پیشتر پیدا ہوا تھا تھا تو←  مزید پڑھیے

نذرِ غالب نظمِ آنند 9

غالب نہ شود شیوہ من قافیہ بندی ظلمیست کہ بر کلک ِ ورق می کنم امشب ۰۰۰ صفحۂ قرطاس پر بکھرے ہوئے الفاظ نا بینا تھے شاید ڈکمگاتے، گرتے پڑتے کچھ گماں اور کچھ یقیں سے آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے←  مزید پڑھیے