• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • کچھ نظمیں جو آپ تک پہنچنی ضر وری سمجھی گئیں۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کچھ نظمیں جو آپ تک پہنچنی ضر وری سمجھی گئیں۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چوہے دانوں کی مخلوق
(ایک غصیلی نظم)
بد صورت، مکروہ چڑیلوں کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی ؂۱
دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی
باہر ایک غصیلی آندھی
پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی ؂۲
مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کر
زندہ حیوانوں سے ان کی جان چھینتی
کھڑکی پر دستک دیتی ۔۔یہ بار بار کہتی ہے مجھ سے
چوہوں کی مانند بلوں میں چھُپ کر مت بیٹھو، اے شاعر
باہر نکلو!
باہر نکلو ۔۔اور اگر ہمت ہے تو ان گِدھوں کے پنجوں سے
’پنگا‘ لے کر تو دیکھو
تم نے شایدسقراطوں کی
نئی نسل کے بارے میں کچھ سن رکھا ہو
گھر کے اندر چھپ کر بیٹھے چوہے ہیں سب!
سب کو علم ہے
باہر نکلے تو سب کے سر
نوچ لیے جائیں گے۔۔چوراہوں پر
بجلی کے کھمبوں سے لٹکائے جائیں گے!
کیا سوچا ہے؟
میں البتہ یہی کہوں گی
باہر مت نکلو اے چوہے دانوں کی مخلوق
کہ داناؤں نے کہا ہے
’’دُم سے باندھو چھاج کہ چوہا بل سے باہرآ نکلا ہے!‘‘.
؂ ۱چڑیلیں : استعارہ ۔۔شیکسپیئرؔ سے مستعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعاے عافیت
خدایا، تری بارگاہ شفا بخش میں یہ دعا ہے
صیانت، فحانت، ایالت ہو
اے مرے مولا!
یہاں ہر طرف زہر سا وائرس ہے
عفونت کا یہ لاڈلا زنگ کیڑا
ہے بد فال آفت، نزول ِ بلا ہے
یہ تہدید ہے اس تلاطم کی ، آفت کی
جو بے خبر آل ِ آدم پہ ٹوٹی ہے
اب اک برس سے!
خدایا، کوئی دفع، احیا، مداوا
کوئی نسخہ ء خاص، درماں میسر ہو
جو اس عفونت کو، آلودگی کو
بسیلی سم آلود لعنت کو۔۔۔جڑ سے اکھاڑے
ازالہ ہو اس کا!
تمہاری بسائی ہوئی ساری دنیا
ہے خطرے میں، اے میرے خالق
خمیدہ ہے، معذور ہے۔۔۔اس کو درکار ہے تیری طاقت
اسے بخش ہمت کہ یہ اس کو جڑ سے اکھاڑے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں
دعا بارگاہ حقیقی میں ہے یہ
مری شاعری پڑھنے والو کی آنکھیں
سلامت رہیں تاکہ پڑھتے رہیں وہ!
سبھی پڑھنے والوں کے شوق و تجسس کی خاطر
مری طبع تخلیق ان کے لیے موتیوں کی یہ لڑیاں
پروتی رہے عمر ساری
میں لکھتا رہوں اپنی نظمیں
کہ لکھنا قلم کا وہ واحد عمل ہے
جو آواز کی حد فاصل سے آگے
بصارت کی سب کھڑکیاں کھولتا ہے۔
دعا بارگاہ ِ حقیقی میں ہے یہ
کہ جو بھی لکھوں میَں
محبت کے لب دوز شہد و شکر میں
حلاوت کے امرت سے گوندھا ہوا ہو
سبھی کے لیے انگبیں ، اندرسہ ہو
دعا بارگاہ حقیقی میں ہے یہ
مری شاعری میں بھروسہ، یقیں ہو
کہ پیغام صبط ِ نفس کا، نجابت
کشادہ دلی ، سیر چشمی، سخاوت کا
ا س سے ملے ، مشتہر ہو
یہی تو سبب ہے کہ جس کے لیے میں
دعا گو ہوں، مولا
مری شاعری پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں
تا کہ پڑھتے رہیں وہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کانچ کا مینار

کانچ کے مینار کے اندر
اندھیری کوکھ کی تہہ سے بلندی کی طرف
گولائی میں چڑھتی ہوئیں  یہ سیڑھیاں
اوپر ہی اوپر گھومتی بے انت چکر کاٹتی ہیں
حبس سے بوجھل فضا میں
ضعف سے مارے ہوئےلاچار بوڑھے اژدہے سی
مضمحل بیمار بد بو رینگتی ہے
سسکیاں بھرتے ہیں گذرے ہوئے ایام کی چیخوں  کے سائے
کانچ کی دیوار سے چِپکے ہوئے ہیں
ان گنت صدیوں سے اک لمحے کے وقفے میں مقید
بے صدا تاریخ شاید
گدڑیوں کے ڈھیر میں لپٹی پڑی ہے

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں سوچتا ہوں
مجھ سے پہلے بھی کوئی سیاح شاید
کانچ کے مینار کے اندر نہاں
ماضی کی نچلی سیڑھیوں سے چڑحتے چڑھتے
حال کی اس آخری سیڑھی پہ پہنچا ہو، جہاں
ٹھنڈی ہوا میں
بادلوں سے گفتگو میں محو سر اونچا اٹھائے
کانچ کے مینار کی چوٹی کھڑی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک غصیلی نظم
(یہ نظم پہلے انگریزی میںAn Angry Poem کے زیر عنوان لکھی گئی)
تھوکنا چاہتا ہوں

Advertisements
julia rana solicitors london

مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو
مجھ دیکھنے دو!
یہ کیا ہو رہا ہے؟
یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے
بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں
سمندر کی بے رحم لہروں میں غرقِ اجل ہو رہے ہیں۔
یہاں لاکھوں افراد بمبار گِدّھوں سے بچنے کی خاطر
ادھر سے اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں۔
یہاں بے زباں باقیات زمانہ
ہمارے پر اسرار ماضی کی سب بے بدل یادگاریں
زمیں بوس ملبے کے ڈھیروں میں اوندھی پڑی ہیں۔
یہاں بیسیوں ناتواں نو نہالوں کے اٹھتے لڑکپن کو
جنسی تشدد سے برباد کرنے کی قربان گاہیں کھلی ہیں۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
مرے خون کو سینکڑوں ایسی خبروں نے کھولا دیا ہے
مجھے اب نہ روکو
کہ یہ نظم لکھ کر
میں لقوہ زدہ وقت کے ٹیڑھے منہ پر
بہت زور سے تھوکنا چاہتا ہوں۔

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply