غزل پلس(8)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بول کر سب کو سنا، اے ستیہ پال آنند! بول
اپنی رامائن کتھا، اے ستیہ پال آنند ! بول

تو کہ کامل تھا کبھی، اب نصف سے کم رہ گیا
دیکھ اپنا آئینہ ، اے ستیہ پال آنند ! بول

tripako tours pakistan

ایسے گم صم مار مت کھا،اٹھ کھڑا ہو، دے جواب
تان مُکّا، غُل مچا، اے ستیہ پال آنند ! بول

کیا خموشی کی رِدا اوڑھے ہوئے مر جائے گا؟
سیکھ لے اب بولنا، اے ستیہ پال آنند ! بول

شہر ہے سوداگروں کا اورتو پتّھر کا بُت
بول کر قیمت بتا، اے ستیہ پال آنند ! بول

جنّت و دوزخ تو اب ابلیس کی جاگیر ہیں
کس جگہ تو جائے گا  ؟ اے ستیہ پال آنند ! بول

ابن ِ مُلجِم پھر کوئی آنے نہ پائے اس جگہ
کربلا کو کر بلا ، اے ستیہ پال آنند ! بول

کُڑھنے والوں کا اُجَڈ پن اور نقّادوں کی ڈِینگ
تیری اب قیمت ہے کیا؟ اے ستیہ پال آنند ! بول

شعر کہنا سنگ برداری سے بڑھ کر کچھ نہیں
سِسّی فُس کو بھول جا ، اے ستیہ پال آنند ! بول٭

صرف مُردوں کو ہی ملتی ہے خموشی کی سزا
لب بکف ہو، ہاتھ اُٹھا، اے ستیہ پال آنند ! بول

سب زبانوں پر ہیں پہرے، شہر اب خاموش ہے
گُنگ ہے ساری فضا، اے ستیہ پال آنند ! بول

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *