“کیا یہ حقیقت آشکارا نہیں کہ یہ قوم اور مذہب سراب نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ۔” جو مذکورہ عبارت ابھی آپ نے پڑھی ہے یہ بھی سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی ہے ۔ وہی منٹو جس کے← مزید پڑھیے
تحریر کی نسبت تصویر اور ویڈیو کسی بھی شخص کی حمایت حاصل کرنے یا اس کے جذبات کو ابھارنے کے لیے زیادہ پُر اثر ہوتی ہے۔ اسی لیے آج کل ایسے کسی موقع کی مناسبت سے سوشل میڈیا پر تحریر← مزید پڑھیے
پاکستان کے موقر تاریخ دان و مصنف ڈاکٹر مبارک علی کا ایک ویڈیو بیان اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس سے قارئین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وڈیو بیا ن میں آپ نے ملک کے ایک← مزید پڑھیے
“بازار کی زینت ہوتے ہیں وہ رنگین و منقش برتن جو اطراف میں بکھری مٹی سے کمہار بنایا کرتے ہیں ہاں یونہی وہ اشعار جنہیں سُن سُن کے زمانہ جھوم اُٹھے ہر لب پہ مچلتے لفظوں سے فنکار تراشا کرتے← مزید پڑھیے
زیر نظر کتاب” اگر مجھے ریٹائر کر دیا گیا “ جسٹس بابا رحمت کی خود نوشت رودادِ حیات، عدالتی زندگی کی گواہ اور ان کے رشحاتِ فکر کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ جج صاحب کو ظاہری طور پرریٹائر ہوۓ چار سال← مزید پڑھیے
اگر کہیں آنے سے قبل تھوڑا سا یہ جان لیتی کہ چینی شاعر خزاں سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں۔ان کے ہاں یہ صرف خوبصورتی اور اداسی کی نمائندہ نہیں بلکہ یہ چینی معاشرے کی بہت سی تہذیبی و تمدّنی← مزید پڑھیے
(ویتنام کے ایک بوڑھے پروفیسر کی کہانی جو یادداشت کھو کر اپنی بیوی کو اپنی محبوبہ سمجھنے لگا) کچھ دن قبل ویتنام کے ایک گمنام ادیبViet Thanh Nguyenکی کہانیوں کا ایک مجموعہ میری نظر سے گزرا ؛ اس میں ویتنام← مزید پڑھیے
زمانہ قبل بھٹو پر سٹینلے ولپرٹ کی کتاب لائبریری سے مستعار لے کر پڑھنا شروع کی، بھٹو کی امریکی گرل فرینڈ مارگریٹ کے ذکر میں ولپرٹ نے لکھا تھا کہ بھٹو سرعت انزال premature ejaculation کے مریض تھے، کسی جیالے← مزید پڑھیے
سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے وادیوں، پہاڑوں اور فطرت کے حسین نظاروں میں گھومنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان کے ماضی سے ہمکلام ہونے والے جاوید خان صاحب کا سفر نامہ “ہندو کش کے دامن میں”← مزید پڑھیے
کلاسک اردو کہانیوں کا مطالعہ جاری ہے ، کہانیاں جو تاریخ میں امر ہو گئیں، سلیبس کا حصّہ بن گئیں ، فلموں کا عنوان بن گئیں۔ آخر کیا خصوصیت تھی ان ناولز میں۔ ان کہانیوں میں کہ آج بھی ہم← مزید پڑھیے
اندھیرے کا ذکر ہوتے ہی ہمیں اپنی بینائی کی صلاحیت کے متعلق تشویش شروع ہو جاتی ہے کہ اب ہم ظلمت میں کیا کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ تیرگی میں صرف چند لمحات بعد ہماری ہر ایک حِس← مزید پڑھیے
آج ایک بات سمجھ میں آ گئی ۔کتابوں کی زبان نہیں ہوتی ،کتابوں کا دل ہوتا ہے۔کیونکہ کتاب آپ سے باتیں نہیں کرتی ، وہ تو بس یہاں وہاں بالکل چُپ چاپ خاموشی سے پڑی رہتی ہے۔کسی ادھیڑ عمر شخص← مزید پڑھیے
اس نام سے لکھی ایک مختصر کتاب کو لکھنے والے نے سوانحی ناول کہا ہے۔ مجھے بہت زیادہ شک ہے کہ یہ سوانحی کتاب ہے اور ناول تو میں اسے مانوں گا ہی نہیں کہ ہئیت کے حوالے سے یہ← مزید پڑھیے
مترجم: اجمل کمال تنہائی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، گہری، دھندلی، اور کاٹ دار۔ آدمی کا تنہائی سے کسی بھی جگہ سامنا ہو سکتا ہے۔ اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کرتے ہوئے، کسی معمولی سے جرم میں جیل جاتے ہوئے← مزید پڑھیے
بڑی بی، کیوں آنکھیں چرائے پھر رہی ہو ؟ ہماری اور دیکھتیں بھی نہیں ؟ گھر لا کر کونے میں ڈال رکھا ہے،کیا ڈر ہے تمہیں ؟ پنڈورا باکس کھل جائے گا اور وہ یادیں بھی نکل آئیں گی جو← مزید پڑھیے
ادب کی کسی صنف کے نمایاں تخلیق کاروں کی تخلیقات سے انتخاب جمع کر کے شائع کرنا کوئی آسان کام نہیں، بالخصوص اس وقت جب آپ اپنے انتخاب کے ٹائٹل پر یہ دعویٰ کر رہے ہوں کہ یہ محض انتخاب← مزید پڑھیے
دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی پیرس کے کیفے سرگوشیوں میں ہونے والی گفتگو،گلاسوں کی کھنک اور قہقوں کی گونج سے آباد تھے ۔فروری 1943 کی وہ دوپہر، نرم دھوپ کی کثافت لیے بدن میں عجب سی ہلچل برپا کر← مزید پڑھیے
پیدائش کے ساتھ موت جڑی ہوئی ہے۔ ذی روح پیدا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ اسے کسی وقت مر جانا ہوتا ہے۔ علیحدگی اورطلاق کا تعلق اکٹھے رہنے اور بیاہے جانے کے ساتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ سکّے کے← مزید پڑھیے
بھارت کے ایک سکالر مسعود عالم فلاحی کی تحقیقی کتاب “ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان” شائع ہوئی ہے جس کے مطالعہ سے چودہ طبق روشن ہونے کا پورا امکان ہے۔ یہ کتاب ریختہ پر موجود ہے۔ اب اجمل کمال← مزید پڑھیے
سولہویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہرسُو نشاة ثانیہ کی ہوائیں چلنا شروع ہوچکی ہیں۔خوابیدہ طاقتیں بیدار ہو نے سے سرزمین یورپ پر صدیوں سے چھائی ہوئی دبیز تاریکی چھٹنے لگی ہے ۔اٹلی سے اٹھنے والی بیداری کی پُر زورلہر← مزید پڑھیے