پاکستان، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 259 )

کارکردگی دکھائیں ورنہ گھر جائیں۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

گزشتہ دنوں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم حکومتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا. وزیراعظم کافی برہم دکھائی دئے. انھوں نے اپنے ایک بیان میں وزراء، مشیران اور بیورو کریٹس کو مخاطب کرتے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

فنا تعلیمِ درسِ ِ بےخودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الِف لکھتا تھا دیوار ِ دبستاں پر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ’’فنا تعلیم ، درس ِ بے خودی‘‘ کو غور سے دیکھیں توسمجھیں گے کہ یہ پہلی←  مزید پڑھیے

صحیح تر کی طرف ۔۔وہاراامباکر

فلسفے میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک پوزیشن ہے جس کے مطابق حقیقت اور سچ ایک کلچرل بیانیہ ہے۔ فلسفے کے اس خیال کو سائنس مخالف استعمال سائنس کو ڈِس کریڈٹ کرنے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ ہر سائنسی←  مزید پڑھیے

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔۔ثمینہ انصاری

وبا نے میرے اندازے کے مطابق زہریلا اثر نہیں دکھایا مگر وطنِ عزیز میں معاشی حالات کا دھارا بدل ڈالا ہے۔ حکومتِ وقت نے وبا سے لڑنے کے لیے خاص انتظامات کیے ہوں گے مگر یہ خاص انتظامات حکومتی عہدیداران←  مزید پڑھیے

اٹھارویں ترمیم کے بارے ضروری معلومات ۔۔۔ پرویزبزدار

آج کل ذرائع ابلاغ پر ایک دفعہ پھر اٹھارہویں ترمیم کے چرچے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ترمیم سے خوش نہیں ہیں جبکہ اپوزیشن کی خوشی اسی میں ہے۔آئیں دیکھیں اٹھارویں ترمیم کیا ہے اور←  مزید پڑھیے

حال کی فنکاریوں کا ماضی کے فن پاروں پر اثر۔۔حافظ صفوان محمد

ایلیٹ غریب نے صرف یہ لکھا تھا کہ اچھا فن پارہ ماضی کے فن پاروں پر بھی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ماضی کے فن پارے ہمارے ادبی شعور کا حصہ بنتے ہیں۔ بے دال کے بودم←  مزید پڑھیے

تمہیں خدا پر بھروسہ نہیں۔۔حبیب شیخ

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقع کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں گم  تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟ ←  مزید پڑھیے

غیر مقبول مگر درست فیصلوں کی ضرورت ہے۔۔محمد زبیر خان موہل

یاد رکھیں کچھ فیصلے غلط ہوتے ہیں مگر مقبولِ عام ہوتے ہیں۔ نا سمجھ ان فیصلوں کی بہت پذیرائی کرتے ہیں اور وقت گزرنے پر ان فیصلوں کے نتائج قوموں کو بھگتنا پڑتے ہیں جبکہ کچھ فیصلے غیر مقبول ہوتے←  مزید پڑھیے

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی۔۔عبدالستار

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے ۔یہاں پر بچپن سے ہی انسانی←  مزید پڑھیے

مثبت سوچ کی طاقت۔۔وہاراامباکر

“حقیقت اور اپنے یقین میں مفاہمت کروانی ہو تو مجھے تبدیلی اپنے یقین میں کرنی پڑتی ہے۔ اس کا برعکس طریقہ ٹھیک کام نہیں کرتا۔” ۔علی زیر یدکوسکی مثبت سوچ کی طاقت کی تحریک سے سیلف ہیلپ کے کئی گرو←  مزید پڑھیے

گول روٹی، مشترکہ خاندانی نظام، ہندو کلچر یا اسلام۔۔منصور ندیم

مہذب دنیا کی تمام تہذیبوں، ملکوں اور خطوں میں انسان خاندانی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ خطہ ہندوستان بھی زمانۂ قدیم سے مقامی مذاہب اور اپنے مقامی مروجہ اخلاقی روایات  کے مطابق خاندانی نظام کی مخصوص تشکیل کر←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے ستیہ پال آ نند یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو کیا کہیں گے،بندہ پر ور،←  مزید پڑھیے

سرگودھا اور کوٹ مومن کے پلُوتے ۔۔آصف محمود

یہ کیا کہانی ہے کہ بالوں میں سفیدی اترتی ہے تو اپنی زمین اورا س سے جڑی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ اپنا گائوں ، اپنی ثقافت ، اپنے لوگ ، اپنی تہذیب ، یہ سب میٹھا میٹھا درد←  مزید پڑھیے

اب صنم بھی ایمان خراب کرنے لگے۔۔ذیشان نور خلجی

یہی کوئی بائیس پچیس کے سن میں ہوگا۔ اصل نام تو جانے کیا تھا، یار لوگ اسے بھولا کہتے تھے لیکن باتیں وہ بڑی سیانی کیا کرتا تھا۔ بھولا چونکہ پیدائشی مسلمان تھا اور رہتا بھی دار الاسلام میں تھا←  مزید پڑھیے

مفت توانائی۔۔وہارا امباکر

مفت توانائی ایک دعویٰ ہے کہ توانائی کی کنزریویشن کے قوانین توڑے جا سکتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ نکالا جا سکتا ہے جس سے توانائی مفت ملتی رہے۔ اس دعوے کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ←  مزید پڑھیے

قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے←  مزید پڑھیے

مندر یا مسجد: بات ہے اصول کی۔۔حسان عالمگیر عباسی

میں سمجھتا ہوں دین جذبات کی قدر کرتے ہوئے  ‘اصول’ کو فوقیت  دیتا ہے۔ معاشرتی برائیوں اور مذہبی روایت پرستی نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ ہمیں دین ،دماغ اور لاجکس کی ضرورت محسوس ہو۔ دین لاجیکل ہے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ جانوں کیوں کہ مٹے داغ طعن ِ بد عہدی تجھے کہ آئینہ بھی ورطہ ٗ ملامت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، مجھ کو تو جو کچھ سمجھ میں آیا ہے اگر کہیں تو میں منجملہ اس کو پیش←  مزید پڑھیے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔۔نازیہ علی

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جس طرح پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا بالکل اسی طرح تعلیم کے نظام کو بے حد متاثر کیا ہے، کہیں آن لائن کلاسز کے نام پر خانہ پوری کی جانے لگی تو←  مزید پڑھیے

جے آئی ٹی۔۔جاوید چوہدری

علامہ اقبال 1931ءمیں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن تشریف لے گئے‘ کانفرنس کے دوران اٹلی کے آمربنیٹو میسولینی نے انہیں روم آنے کی دعوت دی اور علامہ صاحب نومبر کے تیسرے ہفتے روم پہنچ گئے‘ 27 نومبر 1931ءکو←  مزید پڑھیے