حال کی فنکاریوں کا ماضی کے فن پاروں پر اثر۔۔حافظ صفوان محمد

ایلیٹ غریب نے صرف یہ لکھا تھا کہ اچھا فن پارہ ماضی کے فن پاروں پر بھی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ماضی کے فن پارے ہمارے ادبی شعور کا حصہ بنتے ہیں۔ بے دال کے بودم ایلیٹ کو یہ علم نہیں تھا کہ آج کی فنکاری پرانے مخطوطوں اور کلاسیکس پر بھی اثر ڈالتی ہے۔

ایلیٹ کا مردہ خراب کرنے کے اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ الطاف حسین حالی کی “حیاتِ جاوید” کا پہلا ایڈیشن 1901 میں شائع ہوا۔ اس کے دوسرے حصے کے پہلے صفحے کی عبارت یہ ہے:
سر سید کی لائف، انکی تصنیفات اور انکے کامونپر رویو
اس قسم کا املا اس زمانے کے کاتبوں کی عام روش تھا جسے پرانی کتابیں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں۔

حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس کتاب سے بھی 30 برس پہلے شائع ہونے والی ایک کتاب دیکھی جس میں مجھکو، اسپر، لکہا، پڑہا، یھی، یھاں، وغیرہ وغیرہ والا املا چل رہا ہے لیکن اس میں چوں کہ، چناں چہ، حالاں کہ، کیوں کہ، کیوں کر، وغیرہ لکھے مل رہے ہیں۔ مجھے شک پڑا تو میں نے اسی دور کی ایک اور پرانی کتاب دیکھی۔ اس میں بھی یہی کچھ نظر آیا۔ مزید تسلی کے لیے دیکھا تو 1877 کی شائع شدہ ایک کتاب میں سکول کے لفظ شروع میں منحنی سا الف لگا نظر آیا۔ اور یہ کام اس صفائی سے کیا ہوا ہے کہ forging کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

کتابوں کے نام اور سائٹ اس لیے نہیں لکھ رہا کہ جہاں یہ کتابیں رکھی ہیں وہ لوگ خفیف نہ ہوں۔ یہ کام ان لوگوں کا کیا ہوا نہیں ہے بلکہ فنکاروں کا کیا ہوا ہے۔

میرے والد عابد صدیق صاحب اردو کے پروفیسر تھے اور ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر وحید قریشی وغیرہ کے شاگرد تھے۔ میرا اردو سے محبت کا تعلق ہے جسے دور نزدیک کے لوگ جانتے ہیں۔ میں ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ پرانی کتابیں جن کی حیثیت ہمارے ہاں اب تاریخی ہے، ان کے الیکٹرانک ورژنوں کو اپنی فنکاریوں کا نشانہ نہ بنائیں۔ اور بہت چیزیں ہیں جنھیں خراب کیا جا سکتا ہے۔

مُلّا، بنا دیا ہے اِسے بھی محاذِ جنگ
اِک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی

آنند نرائن مُلّا

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *