سیاسی کالم کیسے لکھیں۔۔۔۔ رعایت اللہ فاروقی

دلیل اور مکالمہ جیسی ویب سائٹس کے آنے سے رائٹرز کی دلچسپیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر علمی یا ادبی نوعیت کی تحریروں میں تو معاملہ ٹھیک جا رہا ہے مگر سیاسی تجزیہ کاری میں بلنڈرز ہو رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لکھنے والے یہ نہیں جانتے کہ سیاسی تجزیئے کے لئے کن کن چیزوں کا پس منظر میں بطور ٹول موجود ہونا ضروری ہے۔ وہ بس اپنے ذہن میں کھچڑی پکا کر مضمون کی شکل میں پیش کر دیتے ہیں جو اکثر اوقات بہت ہی مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ رہنماء گزارشات پیش خدمت ہیں ممکن ہے آپ کے کام آجائیں۔

آپ جانتے ہیں کہ سیاست بنیادی طور پر دو اقسام پر مشتمل ہے۔ ایک قومی سیاست اور دوسری بین الاقوامی سیاست۔ پھر ان میں سے بین الاقوامی سیاست سے بھی ایک تیسرا ٹکرا ریجنل سیاست کا نکل آتا ہے جو بین الاقوامی سیاست ہی ہوتا ہے مگر محدود لیول کا۔ ان تین سطحوں پر ہونے والی سیاست پر بولنے یا لکھنے کے لئے لازم ہے کہ آپ کم از کم بھی گزشتہ تین سو برس کی تاریخ اور جغرافیئے سے آگاہ ہوں۔ خاص طور پر جغرافیئے پر آپ کی گہری نظر اس درجے کی ہو کہ آپ کو خبر ہو کہ دنیا کے نقشے کس کس طرح تبدیل ہوتے آئے ہیں اور کن کن وجوہات سے تبدیل ہوتے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خود علم سیاسیات کا بھرپور مطالعہ ہو۔ جدید و قدیم عمرانیات سے بخوبی آگاہی ہو۔ ملکوں کے مابین رشتے کن بنیادوں پر قائم ہیں اور وہ بنیادیں کتنی گہری یا سطحی ہیں اس کا بخوبی علم ہو۔ پھر یہ بھی خبر ہو کہ یہ رشتے کسی یکطرفہ مفاد سے وابستہ ہیں یا دو طرفہ مفاد سے ؟ اور دو طرفہ مفاد میں توازن کی صورتحال کیا ہے ؟

لازم ہے کہ ہر ملک کی اندرونی اکائیوں پر آپ کی اچھی نظر ہو۔ یعنی وہاں رہنے والی والی اقوام و قبائل یا کمیونٹیز اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت سے آپ درست آگہی رکھتے ہوں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ جب عرب بہار کی لہر چل رہی تھی تو ہمارے پاکستانی اخوانی نوجوان یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ سعودی بادشاہت بھی اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔ جبکہ میری رائے یہ تھی کہ سعودی عرب اس کی لپیٹ میں نہیں آئے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہ رائے اس ایک بنیاد پر کھڑی تھی کہ سعودی معاشرہ افغانستان کی طرح قبائلی ہے اور یہ قبائل بہت ہی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں ۔ آل سعود بادشاہت حاصل ہونے پر اس قبائیلی سسٹم سے غافل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اسے مزید مضبوط کیا ہے اور ان قبائل کے جرگوں میں شاہی خاندان کی باقاعدہ نمائندگی اور شرکت ہوتی ہے اور یہ ان جرگوں میں ایک رکن کی طرح ہی ہوتے ہیں، ان کا شاہی کر و فر ان جرگوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اسی طرح ترکی کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ترکی خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا لیکن یہ کہنے سے قبل انہوں نے تاریخ کا جائزہ لینے کی زخمت گوارا نہ کی تاکہ جان پاتے کہ یہ قوم خانہ جنگیوں کی کوئی تاریخ ہی نہیں رکھتی۔ اب اس کیس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ درست تجزیے میں تاریخ کا کردار کتنا کلیدی ہے۔

مذکورہ علوم کے بھرپور مطالعے کے ساتھ ساتھ لازم ہے کہ آپ کی اطلاعات کے مراکز تک رسائی ہو۔ اطلاعات کے مراکز چار ہیں۔

(01) اعلیٰ سیاسی حلقے

(02) اعلیٰ فوجی حلقے

(03) اعلیٰ سفارتی حلقے

(04) اعلیٰ صحافتی حلقے

سیاست درحقیقت زیر زمین چل رہی ہوتی ہے، جو اخبارات میں نظر آتا ہے وہ تو فقط بلبلے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر آپ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سطح کے نیچے کوئی ہنگامہ چل رہا ہے جس کے سبب یہ بلبلے اٹھ رہے ہیں۔ مثلا اخبار میں یہ بلبلہ نظر آیا کہ پی ٹی آئی نواز شریف کے خلاف بات تو اسی سخت لہجے میں کر رہی ہے لیکن دھرنے کا ذکر گول ہوگیا ہے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ ایک اور جماعت کا بلبلہ کہہ رہا ہے کہ دھرنا نہیں ہوگا جلسہ ہوگا اور وہ بھی نواز شریف کے گھر سے پانچ کلومیٹر دور تو طے ہوگیا کہ سطح کے نیچے کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ یا تو دھرنے باز کسی دباؤ میں آگئے ہیں اور یا پھر کوئی سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ اب آپ کو مذکورہ بالا چار میں سے کسی بھی ایک جگہ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہوا کیا ہے۔ اگر آپ کے پاس وہ خبر نہیں ہے تو آپ کبھی بھی درست تجزیہ نہیں کر سکتے۔ اب یہاں میں آپ کو ایک بار پھر اپنا ہی ایک حالیہ قصہ سناتا ہوں جب میں ایک اہم ایشو پر پوسٹ نہیں لکھ سکا۔ جنرل راحیل شریف کو ٹیک اوور کی دعوت دیتے بینرز جب سامنے آئے تو یہ بہت ہی اہم مسئلہ تھا۔ مجھے خبر درکار تھی کہ اس کے پیچھے کون ہے ؟ اور یہ خبر دو حلقوں سے مل سکتی تھی۔ ایک سیاسی اور دوسرے فوجی حلقے۔ سیاسی حلقے سے تو خبر مل گئی لیکن چونکہ یہ معاملہ فوج کا تھا لھذا فوجی حلقے سے بھی خبر ملنا ضروری تھا۔ جب میں نے اپنے فوجی ذرائع سے رابطہ کیا تو سب نے چپ سادھ رکھی تھی۔ چنانچہ میں نے اس موضوع پر نہیں لکھا کیونکہ جب درست معلومات ہی میسر نہ ہوں تو پھر تکے بازیاں ہی کی جاسکتی ہیں اور میں تکے بازیوں پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ جب بھی لکھتا ہوں ٹھوس معلومات کی بنیاد پر لکھتا ہوں اور اگر معلومات میسر نہ ہوں تو پھر نہیں لکھتا۔

تجزیے میں سب سے مشکل کام پیشنگوئی ہے۔ خبریں تو آپ کو مل گئیں لیکن اگر آپ صرف خبر دے رہے ہیں تو آپ تجزیہ کار نہیں بلکہ رپورٹر ہوئے۔ اب یہ آپ کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ آپ اطلاعات کا درست تجزیہ کرکے کتنی دور کی کوڑی لا سکتے ہیں اور کتنی درست پیشنگوئی کر پاتے ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے لئے ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی موضوع پر لکھنا چاہیں تو اس پر سینئرز سے مشاورت کر لیا کریں۔ انتہائی سینئر لوگ بھی جب کسی اہم موضوع پر لکھتے ہیں اور انہیں معمولی سا بھی عدم اطمینان ہو تو اپنے رفقاء سے مشاورت کر لیا کرتے ہیں۔ خود میں بھی اپنے بعض دوستوں سے مشاورت کر لیتا ہوں اور میرے وہی دوست مختلف مواقع پر مجھ سے بھی مشاورت کر لیتے ہیں۔ اس سے کسی کا قد نہیں گھٹتا بلکہ یہ بہت ہی اچھی روایت ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لکھنے والا انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بسا اوقات ہمارا کوئی دوست بلنڈر کر دیتا ہے تو ہم اس سے یہی کہتے ہیں کہ “یار تم مجھ سے پوچھ لیتے” اور وہ آگے سے یہ نہیں کہتا کہ میں تو خود پھنے خان ہوں تم سے کیوں پوچھتا ؟ بلکہ صاف کہدیتا ہے کہ “ہاں یار غلطی ہوگئی” تو آپ حضرات بھی اس کی عادت ڈال لیں ورنہ خود کو عقل کل سمجھنے کے بہت بھیانک نتائج بھی نکل آتے ہیں۔ اگر یہ سب پڑھائی آپ نہیں کرسکتے اور یہ مشقت آپ نہیں اٹھا سکتے تو پھر آپ تجزیہ کار نہیں تکے باز ہیں۔ عامر لیاقت کے پروگرام میں فردوس کی لان یا کیو موبائل کے لئے قسمت آزمائی کیا کیجئے !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *