بنگلہ دیش میں 1971سقوط ڈھاکہ کے وقت متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے والے محصور پاکستانی انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ بنگالی حکومت نے انہیں زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہواہے۔سقوط ڈھاکہ کے وقت← مزید پڑھیے
عمران حکومت کے بارے میں سب اچھا کا ماحول بنانے والے ترجمانوں کی فوج ظفر موج اصرار کئے جارہی ہے کہ رواں برس ہمارے ہاں کئی زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ دیہات میں اس کی بدولت← مزید پڑھیے
میرے ایک دوست پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں، پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں، یہ کل مجھ سے ملنے اسلام آباد تشریف لائے، شکل سے پریشان دکھائی دے رہے تھے، میں نے وجہ پوچھی تو یہ ہنس کر بولے← مزید پڑھیے
ہم اپنے بچوں سے شرمندہ ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں‘ اپنے طالب علموں سے ٗ اسکول کالج اور یونیورسٹی کے بچوں سے ‘ مدارس اور مساجد میں پڑھنے والے بچوں سے ۔ ہم شرمندہ ہیں‘ اپنی قوم سے ، ہم شرمندہ ہیں‘ اقوامِ عالم سے! ← مزید پڑھیے
پاکستانی پانامہ لیکس اورسسلین مافیا کا جنم۔۔ارشد غزالی/پاکستان میں سسلین مافیا اور گاڈ فادر کےالفاظ اس وقت زبان زدِ عام ہوئے جب سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق اپنا فیصلہ سنایا، جس کی ابتداء پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اختلافی نوٹ سے کی گئی← مزید پڑھیے
مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں اس وقت گوادر میں ایک عوامی تحریک جاری ہے،ـ اس سے پہلے کہ اس تحریک پر بات کی جائے آئیے ماضی میں چلتے ہیں۔ ـ یہ نومبر 2006 ہے ـ بلوچ رہنما سردار اختر← مزید پڑھیے
اجی واقعہ کچھ یوں ہے کہ یہ یونیورسٹی میں فلم کا سیکنڈ لاسٹ ڈے تھا ۔ہم نے سوچا ہفتہ ہے ،آج ٹکٹ مل جائے گا، دیکھنے والے مووی دیکھ چکے ہونگے۔ آن لائن چیک کیا،سب بکنگ ہو چکی تھی سوچا← مزید پڑھیے
فَمَااسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً” (ترجمہ: تو ان میں سے جس کے ساتھ تم متعہ کرو تو ان کی اجرتیں جو مقرر ہوں ادا کردو)؛ القرآن سورہ النساء آیت نمبر24 چند دن قبل تحریک انصاف کے رہنما اور پاکستان← مزید پڑھیے
مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر جیت کر فارورڈ بلاک بنا لینے والے رکن پنجاب اسمبلی نشاط ڈاہا کے تہتر برس کی عمر میں انتقال کے بعد ان کی نشست پی پی 206 پر کل جمعرات کے روز انتخاب ہو← مزید پڑھیے
میرا نام عبدل سمیع ہے۔ میری زندگی نہ پوچھیے، گویا تنہائی کی تصویر و تفسیر تھی ،مجھے لوگوں سے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ۔ نہیں نہیں میں آدم بےزار نہیں! پر جانے کیوں دوسرے لوگوں سے connect نہیں کر پاتا← مزید پڑھیے
ڈاکخانے والوں نے نیا طریقہ ڈھونڈھ لیا ہے،جس پارسل پہ فون نمبر لکھا ہو اسے کال کرکے کہتے ہیں کہ ” آپ کا گھر نہیں مل رہا ،پوسٹ آفس آکر کتاب لے جائیں۔” جس وقت کال آئی سارے بچے کالج← مزید پڑھیے
سعودی عرب بھی سمجھ چکا ہے کہ دین اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ ریاست امن امان قائم کرے خدائی فوجدار بننے کی ضرورت نہیں۔ کیا ترکی مراکش یو اے ای والے مسلمان نہیں؟ شہزادہ محمد بن سلمان← مزید پڑھیے
عید: نوے کی دہائی میں چونکہ ابھی انٹر نیٹ اور موبائل کا دور دورہ نہیں تھا لہٰذا عید مبارک کہنے کے لیے سوشل میڈیا کی بجائے دوسرے ذرائع کا استعمال کیا جاتا،جن سے آج کی نسل یقیناً نا آشنا ہو← مزید پڑھیے
چنانچہ ان تمام مباحث سے جہاں رضا سے خارج استحصال کی بحث نکلتی ہے تو وہ ہر جگہ بدی پر مبنی ہوتی ہے چاہے لبرل اداروں میں ملتی ہو یا مذہبی اداروں میں پائی جاتی ہو ،مگر اتنا طے ہے← مزید پڑھیے
سعودی عرب میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کا ثمر سامنے آنا شروع ہوگیا ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے انقلابی معاشی پلان کو پاکستان کے سوشل میڈیا پر جس طرح منفی پروجیکٹ کیا جارہا ہے، لیکن اصل میں← مزید پڑھیے
ملک میں اس قدر شور اور غوغا کس لئے؟ کیا ہوا ہے؟ کیا آسماں ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا ہے؟ سمندر سوکھ گئے ہیں؟ بھائی، کوئی تو کچھ بتلائے۔ میں آپ کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ شاید← مزید پڑھیے
علمی اندھے پن کی وباء۔۔تنویر سجیل/اس بات میں کوئی شک والی بات نہیں کہ آج کی دنیا انفارمیشن کے سیلاب سے مزیّن ایک ایسی دنیا ہے جہاں پر ہر طرح کی ضروری اور غیر ضروری انفارمیشن جس کے حصول کے لیے خواہ آپ نے کوشش نہ بھی کی ہو، ٹپک کر آپ کی آنکھوں کے راستے دماغ میں گھسنے کی کوشش کرتی ہے ۔← مزید پڑھیے
بنگلہ دیش کی آزادی: ایک بنگالی کمیونسٹ کا مؤقف۔۔تحریر: بدرالدین عمر /ترجمہ: شاداب مرتضی/ نوٹ: 89 سالہ بدرالدین عمر بنگلہ دیش کے ایک ممتاز انقلابی مفکر، سیاستدان، محقق اور مصنف ہیں۔ وہ بین الاقوامی اور ملکی کمیونسٹ تحریک، نظریے، سیاست، تاریخ، ثقافت اور سماجیات وغیرہ کے موضوعات پر 100 سے زیادہ کتابیں اور بے شمار مضامین لکھ چکے ہیں۔← مزید پڑھیے
مجھے یقین ہو گیا کہ فیصل صاحب انتہائی جھوٹے انسان ہیں۔ ثبوت میرے سامنے تھا۔ پھر بھی مزید چیک کرنے کے لیے اُن کے بیٹے سے پوچھا کہ چنے والی دال پکی ہے، کھا لو گے؟ برخوردار نے نہایت سعادت← مزید پڑھیے
پاکستان اگست 1947 میں آزاد ہوا، تاریخ 14تھی کہ 15 ،اس میں اختلاف ضرور ہے لیکن قوم ہر سال اگست کی 14تاریخ ہی کو جشن آزادی مناتی ہے۔ پاکستان کا نام جس شخص نے رکھا وہ قیام پاکستان کے بعد← مزید پڑھیے