بے ربط خیالات۔۔ رضوان ظفر گورمانی

سعودی عرب بھی سمجھ چکا ہے کہ دین اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ ریاست امن امان قائم کرے خدائی فوجدار بننے کی ضرورت نہیں۔ کیا ترکی مراکش یو اے ای والے مسلمان نہیں؟

شہزادہ محمد بن سلمان نے اک طرف تبلیغیوں پہ پابندی لگائی دوسری طرف پٹ بل سلمان خان اور شلپا سیٹھی کا کنسرٹ کرا کے اپنے ویژن 2030 کے لیے اک اور قدم بڑھا لیا ہے ‍

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

روشن خیالی برداشت اور باہمی احترام اور کچھ نہیں تو ملکی سیاحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ سیاح صرف پہاڑ دریا سبزہ ہی دیکھنا چاہے تو سری لنکا مالدیپ انڈیا سوئزرلینڈ سمیت اس کے پاس درجنوں چوائسز ہوتی ہیں صرف اس کے لیے وہ پاکستان کیوں آئے گا اسے لطف اندوز ہونا ہوتا ہے جہاں وہ سال بھر کی تھکان اتار سکے ٹینشنوں سے جان چھڑا سکے اس لیے فیصلہ لیتے ہوئے وہ سینما پب کلب کسینو اور فوڈ وغیرہ جیسی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے۔ ادھر ہم کچھا پہننے پہ بندے اغوا کر لیتے ہیں تو یہاں کوئی کیوں آئے گا۔

سیاحت معیشت کے لیے کتنا بڑا کردار ادا کرتی ہے کبھی گوا استنبول زیورچ یا دبئی کے شہریوں سے پوچھ کر دیکھیے۔ یو اے ای جہاں ریت کے ٹیلے ہوا کرتے تھے آج وہاں ہر سال کروڑوں سیاح اربوں ڈالرز لاتے ہیں۔

سعودی عرب بھی اب اسی راہ پہ چل پڑا ہے۔ وہ وہاں جدید شہر بنا رہا ہے بڑے بڑے مجسمے بنا رہا ہے کنسرٹ کرا رہا ہے جبکہ ہم ابھی تک تصویر اور موسیقی حرام ہے جیسے مسائل میں الجھے ہیں۔

کبھی آن لائن فتوے چیک کیجیے گا سیکس کے علاوہ ہمارے ذہن میں کچھ ہے ہی نہیں۔ سیکس کے متعلق ایسے ایسے سوالات پوچھے ہوتے ہیں جس کا عام آدمی تصور تک نہیں کر سکتا۔

دنیا کو پاکستان سے جب بھی کوئی خبر ملی اکثر شدت پسندی کی خبر ملی ایسا سونہڑا پاکستان ہم اپنی تنگ نظری کی وجہ سے ضائع کر رہے ہیں۔ کہیں پڑھا تھا کہ روشن خیالی کا مطلب ہے روایت پسندی کو رد کرنا نئی سوچ اور جدت کو اپنانا ہے۔

ادھر ہمیں پاٹھ پڑھایا گیا کہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے اس لیے اس دنیا اس زندگی کو خیمے میں گزارو اگلے جہاں پہ نظر رکھو۔

ہمیں ہر دکھ پہ کہا گیا اللہ پاک کی یہی مرضی تھی ہمیں ہر ظلم پہ کہا گیا کہ صبر کرنا مومن کی نشانی ہے ہر نا انصافی پہ کہا گیا کہ روز محشر ان سے حساب لیں گے یوں ہر ظالم و جابر کو محفوظ رستے دیے گئے۔

ہر دو نمبری ہر گناہ ہر بے ایمانی کرنے والی قوم اپنے سے زیادہ دوسروں کے ایمان کی فکر کرتی ہے۔

خوف و تشدد کی فضا جان بوجھ کر قائم کی جاتی ہے اور مذہب اشرافیہ کا اک ٹول ہے جسے استعمال کر کے وہ مرضی کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔

مولانا علت المشائخ کے شکار ہیں ویڈیو آتی ہے تو درجنوں دیگر مذہبی رہنما ان کے دفاع میں سامنے آ جاتے ہیں۔ علما پہ شیطان زیادہ حملہ کرتا ہے اس لیے بچوں سے جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ جہاد پہ بھیجنے والوں کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عوام کے بچے کھیت ہوتے ہیں۔

غزوہ ہند کے خواہشمند مغرب کے ناقدین کے اپنے بچے مغرب میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

غیر مسلم خاتون سے شادی پھر دوسری پسند کی شادی پھر کسی اور کی بیوی کو طلاق دلوا کر دوران عدت نکاح کرنے والے ریاست مدینہ کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کو مغرب میں رکھنے والے صاحب عوام کے بچوں کو یونیورسٹی میں مغرب کے اثرات سے بچانے کی نصیحتیں کرتے ہیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے والے اپنے بچوں کی تعلیم کا بجٹ کھا جاتے ہیں۔

اک ہی ملک میں دو دو قوانین ہیں امیر کے لیے اور غریب کے لیے اور۔ جس کی حفاظت کے لیے محافظ آتے ہیں دن میں پانچ پانچ بار ان سے پاکستانی ہونے کی شناخت طلب کی جاتی ہے۔ ان کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ دنیا کو عارضی قرار دینے والوں کے کنالوں پہ محیط بنگلے ہیں۔ صبر کی نصیحت کرنے والوں سے خود سردی یا گرمی تک برداشت نہیں ہوتی۔

یہ مذہب یہ غیرت کبھی اشرافیہ کا مسئلہ رہا ہی نہیں یہ وہ ٹول ہیں جن کو عام آدمی کے ذہن میں فیڈ کیا جاتا ہے ‍

آپ کبھی نہیں سنیں گے کسی مذہبی رہنما نے دین کے نام پہ قتل کر کے جیل جانا پسند کیا ہو آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ ایلیٹ کلاس کے فرد نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پہ قتل کیا ہو۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ لوگ خود دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں یہ لوگ خود قطار میں لگنے تک کا صبر نہیں کرتے یہ لوگ خود عیاشیاں کرتے ہیں یہ لوگ عام آدمی سے فاصلے رکھتے ہیں ہمیں جان بوجھ کر نان ایشوز میں الجھا دیا ہے جب تک ہم لوگ نہیں بدلیں گے کچھ نہیں بدلے گا۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

رضوان گورمانی
سرائیکی وسیب سے ایک توانا اور نوجوان آواز، کالم نگار روزنامہ خبریں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply