آج قلم اٹھایا ہے کچھ لکھنے بیٹھی ہوں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں۔ جب سے آپ ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں، ذہن ماؤف ہے، ہر چیز اپنی جگہ سے ہل گئی ہے ،نہ زمین← مزید پڑھیے
اے کرشا گوتمی! تُو پھر آگئی۔ وہ دن جب سدھارتھ کی بیوی یشودھرا کی امیدوں کے باغ میں پھل آیا اس دن تو خیر مقدمی گیت گا رہی تھی۔ خوشی کا گیت۔۔ ” سب خوش ہیں، باپ خوش، ماں خوش← مزید پڑھیے
سالِ نوء کے پہلے دن، یکم جنوری اتوار کے باعث سرکاری تعطیل تھی۔میں گھر پر ہی تھا تو دن خاصا خوش گوار رہا۔ شام کو جب ساۓ لمبے ہو رہے تھے تو میں چکوال جنرل بس سٹینڈ پہ اسلام آباد ← مزید پڑھیے
ماں۔۔۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے ۔ خدا کے لیے کچھ تو دو کھانے کو ۔۔بھوکی بچیاں یک زبان ہو کر ماں سے کھانے کو مانگتی ہیں۔ تو وہ تڑپ کر انہیں سینے سے لگاتی ہے اور روہانسی ہو← مزید پڑھیے
کُن فیاکُن کے بعد سے میں بڑا پریشان تھا – جتنوں کو زندگی دی گئی تھی سارے مردار تھے ، سب کی آنکھیں بند تھیں، کان بند ،منہ بھی بند۔۔۔ ہاں مگر بڑے بڑے نتھنوں والی ناک زندہ تھیں، جو← مزید پڑھیے
نہ جانے کس آنگن اس لفظ کی گردش میرے کانوں میں کھٹ کھٹ کرنے لگی، اور رات کی تاریکی میں بیدار کر ڈالا۔ اس بات کا اندزہ تب ہونے لگا جب اندھیرے میں اپنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تڑپ← مزید پڑھیے
کیا کوئی ہے ؟ کوئی ہے جو اس ملک کی سڑکوں پر بٹتی اذیت ناک ترین موت کا یہ سلسلہ روک لے۔ انسانوں کی زندگیوں کو دردناک ترین انجام سے دوچار کرتی ان بڑی بڑی بسوں کے اس وحشی رقص← مزید پڑھیے
ڈاکٹر عامر لیاقت کو میں نے پہلی مرتبہ عالم آن لائن میں دیکھا تھا ، بڑی سنجیدگی سے مذہبی معاملات پر انتہائی با ادب گفتگو ، درود شریف نہ صرف خود پڑھنا بلکہ پروگرام کے اوّل و آخر دیکھنے والوں← مزید پڑھیے
یہ نظم میں نے اپنی موت کے بعد لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سر پھرا ، پاگل تھا وہ اک شخص جس نے دل کے بیت المال سے حاصل شدہ الفاظ کے عمدہ، نمو پرور لہو سے شاعری کی پرورش کی تھی← مزید پڑھیے
سترہ جنوری کی رات حرکت قلب کچھ دیر کے لیے بند ہو گئی۔ میں بستر پر نیم بے ہوش ساکت پڑا رہا ، لیکن پھر ایک جھٹکےسےدل کی دھڑکن استوار ہو گئی۔ اس دوران میں ذہن ماؤف تھا یہ موت← مزید پڑھیے
در اصل روہت کی داستان صرف روہت کی نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت کے کروڑوں محکوم طبقات کے طلبہ کی دردناک کہانی ہے۔ جو کوئی بھی طالب علم کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ لینے، امتحان پاس کرنے ، ہاسٹل اور ٹیوشن فیس ادا کرنے کے لیے لڑتا ہے، وہ سب روہت کی کہانی میں کردار ہیں← مزید پڑھیے
پختہ خیالی کے لیے انسان کو خدا کی آنکھ کی کمی محسوس ہوئی۔ اپنے سوچ و خیال کے کینوس کو خدا سے ہمکنار کر نے کی جدوجہد میں انسان مارا جانے لگا۔← مزید پڑھیے
سرد موت اور شدت پسند رویّے۔۔رزاق لغاری/سردی میں مسجد جانا مشکل اور مری جانا آسان ہوگیا۔ ایمان کمزور اور شوق طاقتور ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔← مزید پڑھیے
گڑیا کی گڑیا (سانحہ مری میں مرنے والی بچی کے نام)۔۔محمد وقاص رشید/ماما۔ ۔ میری ڈول کو سردی لگ رہی تھی، یہ کانپ رہی تھی ، میں نے اسے اپنے کوٹ میں چھپا لیا ہے ۔ اپنے ساتھ لگا لیا ہے،اسے میں نے بتایا ہے کہ پریشان نہ ہو۔۔ ماما کہتی ہیں مسلمان مصیبت میں کبھی مایوس نہیں ہوتے← مزید پڑھیے
برف کاتابوت۔۔آغرؔ ندیم سحر/ میں اس وقت جب یہ کالم لکھنے میں مصروف ہوں’مری حادثے کو تیس گھنٹے گزر چکے ہیں مگر ابھی تک جھیکا گلی سمیت کئی علاقوں میں آپریشن شروع نہیں ہو سکا’ مری میں جو کچھ ہوا’وہ بیان سے باہر ہے← مزید پڑھیے
بینچ پر بیٹھا ہوا ہوں اک اکیلا، یکسرو تنہا، یگانہ برف شاید رات بھر گرتی رہی ہے اس لیے تو میرا اوور کوٹ، مفلر اور ٹوپی برف سے یوں ڈھک گئے ہیں جیسے ان کی بیخ و بن میں اون← مزید پڑھیے
زیاں یہ ہے کہ انسان روحانی قدروں کو کھو کر مادی قدروں میں کھو جائے ۔۔اور احساسِ زیاں یہ ہے کہ اُسے تائب ہو کر لَوٹ آنے کا احساس باقی رہے۔ انسان کی قدر، روحانی قدروں میں بسر کرنے میں ہے۔← مزید پڑھیے
خود کشی ۔ وجوہات، تدارک اور مذہبی زاویہ (2،آخری حصّہ)۔۔ابو جون رضا/ آج کل ٹیکنالوجی نے انسان کے لئے آسانی کے ساتھ ساتھ تنہائی کا تحفہ مفت میں فراہم کیا ہے۔ یہ تنہائی انسان کو دھیرے دھیرے خود پسندی اور نفسیاتی مسائل کی طرف دھکیلتی ہے۔← مزید پڑھیے
عالیہ حسن جو اب جاپانی گڑیا بن چکی تھی ساری اسٹاف کالونی میں مشہور تھی تین سال کی عمر میں ہی اسے ماں اور خالاؤں کی طرح چوڑیاں پہننے اور مہندی لگوانے کا شوق تھا۔ ماموؤں اور ان کے دوستوں کے ساتھ کھیلتی گڑیا ایک دن چکرا کر گر پڑی← مزید پڑھیے
ابا امید ہے جنت میں ہونگے ، بلکہ دل کہتا ہے لازمی ہو نگے ۔ کیونکہ آپ کو شوق ہی بڑا تھا جنت میں جانے کا ۔یہ میں دیکھتا تھا تو کیا خدا نہیں دیکھتا ہو گا۔ ؟← مزید پڑھیے