سلمیٰ اعوان، - ٹیگ

ترکی آگے بڑھے گایا پیچھے۔۔ سلمیٰ اعوان

اِن دنوں اردوان کی انتظامیہ اعتراضات، سوالات اور ڈھیر سارے خدشات کی زد میں ہے۔عالمی اور داخلی دونوں سطح پر محاذ کھل گئے ہیں۔معترضین کا پہلا اعتراض ڈیڈ کے جعلی ہونے پر ہے۔ دوسرا مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر علی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط21)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں کوئی گھنٹہ بھر سے وقفے وقفے سے اُسے آوازیں دئیے جا رہی تھی۔ ”اُٹھ نا پُتر۔ تیرے انتظار میں کب سے بیٹھی ہوں تو ناشتہ کرے تو کسی اور کام میں لگوں۔ ابھی مجھے ہانڈی لینے بازار بھی جانا←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ کیا اسلام اور مسیحیت کے درمیان نیا تنازعہ کھڑا کرے گی۔۔سلمیٰ اعوان

تو پھر ترکی کی کونسل آف اسٹیٹ نے دس جولائی کو اپنا فیصلہ سُنا دیا جو عین طیب اردگان کی توقعات اور وعدے کے مطابق تھا۔فیصلے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد اس نے بڑی جی داری سے اس کا اعلان←  مزید پڑھیے

یہ طوفان بلا خیز۔۔سلمیٰ اعوان

سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہِ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائیبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ دورِ جدید کی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط19)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چاندنی فسوں خیز تھی اور ماحول سحر زدہ۔دھان منڈی کے غربی حصّے میں واقع شاندار گھر کی بیرونی منڈیر پر وہ چُپ چاپ بیٹھی تھی۔اُس کے پاس ہی وہ بھی بیٹھا ہو ابائیں ٹانگ کو ہولے ہولے ہلا رہا تھا۔اُس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں←  مزید پڑھیے

ایک خط خان کے نام۔۔ سلمیٰ اعوان

وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔اظہاریہ کا طریقہ کیا ہوگا؟اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط17)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ ایک پوری رات گزارو۔“ اُس وقت وہ باہر نظاروں میں گُم تھی۔ تاحدّ نظر دھان کے سر سبز کھیتوں کے پھیلاؤ نے دھرتی پر گہر ے سبزے کے جیسے قالین بچھا رکھے تھے۔ اِن←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط15)۔۔۔سلمیٰ اعوان

کیسی طوفانی بارش تھی۔ لگتا تھا جیسے آسمان کے سینے میں چھید ہو گئے ہوں۔ گھُلے ہوئے بادلوں میں سارا ماحول دُھواں دُھواں ساہو رہا تھا۔ہوا کے تیز تھپیڑے کسی پاگل جنونی کی طرح جو بپھرا ہوا اپنے شکار کا←  مزید پڑھیے

ہمارے رونے ہی رونے ۔۔سلمیٰ اعوان

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔جدھر دیکھتی ہوں ادھر کروناکی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ہسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پیناوالا معاملہ←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”ٹھیک سے بیٹھو۔گھبرا کیوں رہی ہو؟ اور ہاں شیشہ نیچے کرو۔ تمہیں ٹھنڈی ہوا لگے۔“ اُس نے شیشہ آہستہ آہستہ نیچے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سختی سے بھینچے ہونٹ یوں بند تھے جیسے کبھی نہیں کھُلیں گے۔←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط13)۔۔۔سلمیٰ اعوان

” تُف ہے اِس لُتری پر۔“ اتنی لگائی بُجھائی کی اُس نے رحمان بھائی سے کہ خود چیزیں پہچانے کی بجائے اُس نے اُنہیں اِس چھمک چھلّو کے ہاتھ بھیج دیں اور وعدہ کرنے کے باوجودخود نہیں آئے۔ ٹام بوائے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط12)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چٹا گانگ کے اِس اعلیٰ درجے کے چینی ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے اُسے شدید خفّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ایسے کھانے اور کھانوں کے یہ ایٹی کیٹس بھلا اُس نے کب دیکھے اور کہاں سیکھے تھے؟ وہ تو←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

علی الصبح جاگنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا کام چٹا گانگ اپنی فرم کے مینجر شمس الدین عُرف گورا کو فون پر اطلاع دینا تھا کہ وہ آج تقریباً دو بجے چاٹگام پہنچ رہا ہے اور یہ کہ←  مزید پڑھیے

میری اماں۔۔سلمیٰ اعوان

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی←  مزید پڑھیے

ہم کرونا سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہے۔۔ سلمیٰ اعوان

یقین کیجیے یہ میرا بیانیہ ہرگز نہیں۔ اس لیے عنایت ہوگی اگر لعن طعن کی سان پر چڑھائی نہ جاؤں۔سچی یہ تو چند دن پہلے کی مکالمہ بازی ہے اُن پانچ نوجوان ڈاکٹر بچیوں سے جو لاہور کے نامی گرامی←  مزید پڑھیے

چھوڑ دو اب میرے مولانا کو۔۔سلمیٰ اعوان

دل کے بہت بڑے تو نہیں پر کہیں کسی چھوٹے سے گوشے میں مولانا کے لیے تھوڑی سی محبت ضرور ہے۔یقینا اس میں اُن کے انداز بیان کی نرمی، اس میں گھلی مٹھاس، لہجے کا دل کو گرفت میں لیتا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط7)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر میں پیدا نہ ہوتی تو خدا کی اِ س وسیع کائنات میں کیا کمی رہ جاتی؟“ یہ دُھند اورکُہر میں ڈوبی ہوئی ایک صُبح تھی اور وہ  سکول جا رہی تھی۔ اُ←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط6)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں جی کہا کرتی تھیں قیامت کے روز سُورج سوا نیز ے پر آ جائے گا۔ پر مجھے تو یہ آج ہی سوا نیز ے پر آیا ہوا لگتا ہے۔ جُون کی چلچلاتی دوپہر میں جب زمین بھٹی میں دانوں←  مزید پڑھیے

سپین میں پانچ سو سال بعد اذانوں کا گونجنا۔۔سلمیٰ اعوان

ہم پاکستانیوں کے لیے کرونا کی یہ افتاد کچھ اتنی نئی تو نہیں ہاں البتہ اس کی سنگینی بہت گھمبیر ہے۔دہشت گردی جیسے عفریت کو کِس طرح اِس قوم نے بھگتا ہے یہ کوئی ہم ماؤں سے پوچھے جن کے←  مزید پڑھیے