کچھ دن پہلے خواتین کے ایک افسانوی مجموعے میں شامل افسانوں کے ذریعے مجھے ابصار فاطمہ کے کچھ افسانے پڑھنے کا موقع ملا جو مجھے بہت منفرد لگے۔ پھر گوگل کرتے ہوئے میری نظر ایک انوکھے عنوان پر پڑی ”← مزید پڑھیے
دو ہزار سولہ کی بات ہے۔جن دنوں اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف یا فٹیف کی خوشنودی کے لئے صوبائی خودمختاریوں کی سستیوں کے ردعمل میں زمین جائداد کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کیا تھا۔ان دنوں اسٹیٹ ایجنٹ ورغلاو سلسلے← مزید پڑھیے
لاہور میں مبینہ طورپر مدرسہ میں جوواقعہ پیش آیا اس کی تحقیق ہونی چاہیے اور قانون کے تحت قرار واقعی سزادی جانی چاہیے۔ کچھ لوگوں نے اس کو بنیادبناکر مدارس, مساجد اور خود اسلام کو ہی نشانہ بنانا شروع کردیا۔← مزید پڑھیے
حماس 1987 میں قائم ہوئی تھی اور اس نے شہرت نوے کی دہائی میں اسرائیل کے شہروں پر کئے گئے خودکش حملوں سے پائی۔ جو فتح کی الاقصٰی بریگیڈ اور اسلامی جہاد سے زیادہ تھے۔ اگرچہ اس کی شہرت اس← مزید پڑھیے
ان کا نام محمد فائق ہے یہ ایک لبرل خیالات رکھنے والے شخص ہیں ان کی ایک جوان بیٹی سویرا ہے جو کہ یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہے۔ فائق صاحب روزانہ صبح آفس جاتے ہوئے اسے یونیورسٹی ڈراپ کرتے ہیں اور لنچ← مزید پڑھیے
“میں پہلے اپنا تعارف کرانا پسند کروں گا۔ میں روشن خیالی کی اس تحریک کا آخری پسماندہ راہرو ہوں جس کا رواج مدتوں پہلے ختم ہو گیا تھا اور جس کی سطحیت بلکہ ابلہہ پن کو کراہت انگیز تکرار کی← مزید پڑھیے
راجھستان میں مصوری کی روایت صدیوں قدیم ہے۔ کشن گڑھ کی مصوری پر یہاں کے شاعر ناگری داس جی کی شاعری کا بہت گہرا اثر ہے۔ ناگری داس جی کی تخلیقات میں منودھت منجری رشکار تناولی اور دی ہرچند ریکھا← مزید پڑھیے
س: یقینی طور پر پاکستان اور خطے میں یہ ایک اہم وقت ہے، امریکی فوجی مداخلت کے باعث پاکستان کو خاصی امریکی مدد حاصل رہی، اب جبکہ امریکہ وہاں سے جا رہا ہے تو آپ پاکستان امریکہ تعلقات کو مستقبل← مزید پڑھیے
اسرائیلی حکومت 2003 سے ایک مغربی کنارے میں ایک رکاوٹ تعمیر کر رہی ہے۔ اس کو مختلف نام دئے جاتے ہیں۔ اسرائیلیوں میں زیادہ مقبول security fence ہے جبکہ فلسطینیوں میں apartheid wall۔ اسرائیلیوں کے لئے یہ ان کی حفاظت← مزید پڑھیے
وطنِ عزیز میں ہم جنس پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان واقعی قابلِ تشویش ہے۔ ہم جنسی پرستی صدیوں سے کہیں نہ کہیں ,کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے اسے ایک منظم طریقے سے← مزید پڑھیے
یہ غالباً 2006 کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے، عبدالقادر ناظر۔ فوج سے خطیبِ اعلیٰ ریٹائرڈ تھے۔ غضب کے منطقی تھی۔شطرنج کھیلنا اور علمی موضوعات پر بحث کرنا اُن کا خاص مشغلہ تھا۔شطرنج اور بحث دونوں میں← مزید پڑھیے
ڈاکٹر وزیر آغا نےآزادی اظہار کو انسانی آزادی سے تعبیر کرتے تمام عمر عجز و انکسار ،استغنا ،قناعت اور استقامت کا ارفع ترین معیار قائم رکھا۔ان کی تخلیقی فعالیت اس حقیقت کی مظہر ہے کہ دل کی آزادی ہی ان← مزید پڑھیے
اوسلو معاہدوں کے دستخط کے بعد فلسطین میں جشن منائے گئے تھے لیکن اس میں بہت زیادہ وقت نہیں لگا جب اس کی جگہ گہری مایوسی نے لے لی۔ چند لوگوں کے لئے (جو فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تھے) حالات← مزید پڑھیے
یہ مندر انارکلی بازار میں جالندھر سویٹ کے سامنے واقع ہے۔ اگر ہم انارکلی سے گزر رہے ہوں تو اس مندر کی عمارت ہمیں متوجہ کرلیتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اس کا پُرکشش جھروکا ہے۔ مندر کی عمارت کافی← مزید پڑھیے
دو روز پہلے سینئر دانشور و کالم نگار جناب دانش عالم ہمارے گھر تشریف لائے ۔ بعد از سلامتی ارشاد فرمایا برخوردار ذرا ٹی وی کا بٹن تو دبانا ، میرے بٹن دباتے ساتھ ہی پھر فرمایا ، اب ذرا← مزید پڑھیے
عالمی شہرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی ادیب ،دانشور، نقاد ،محقق اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا سراپا خلوص و مروت اور انسانی ہمدردی کا پیکر تھے ۔انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو وہ دل و جان سے عزیز← مزید پڑھیے
ابا جب بھی کھیتوں سے واپس آتا تو بیٹی کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر ضرور آتا۔ کبھی پوٹلی میں اپنی بیری کے میٹھے بیر، کبھی گڑ، کبھی بتاشے اور کبھی ریوڑیاں۔ دروازہ کھلتے ہی وہ بھاگی بھاگی آتی اور ابا کے ہاتھ سے پوٹلی لینے کی کوشش کرتی۔ بتاشے کھاتے اس کی بلوری آنکھوں میں جو چمک آتی وہ دیکھنے کے لیے اس کا باپ روز اتنے تردد سے کوئی نہ کوئی چیز لاتا تھا۔ یہ دو معصوم ہی اب اس کی زندگی تھے۔← مزید پڑھیے
“میرا نام زہرا ہے۔ آپ کو کوئی مدد چائیے؟”
وہ مجھ سے شاید کچھ سال ہی بڑی ہوں یا شاید ہم عمر مگر ان کے گندمی چہرے پہ جیسے کچھ سال رک سے گئے تھے۔ اپنے ہاتھوں میں تھامے شاپنگ بیگز زمین پہ رکھ کر اپنے برقع کی جیب سے چھوٹا سا بٹوہ نکالا اور کہا۔۔← مزید پڑھیے
سرحدیں اگرچہ بہت سے برس لگے اور بہت سا خون بہا، لیکن دونوں اطراف سرکاری طور پر اس اصول پر اتفاق کر چکی ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل کی الگ ریاستیں ہوں گی۔ فلسطینی سائیڈ نے اس دو ریاستی حل← مزید پڑھیے
آپ کو اردو آتی ہے؟ اس کی آنکھوں میں آئے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ اس سوال کا جواب صرف “جی/ہاں” میں سننا چاہتی تھی۔ میں اپنی روٹین میں ہفتہ وار گروسری کے لئے قریبی قصبہ کی سپر مارکیٹ← مزید پڑھیے