روشن خیالی کا نمائندہ: کارل پوپر/ترجمہ :پروفیسر ساجد علی

“میں پہلے اپنا تعارف کرانا پسند کروں گا۔ میں روشن خیالی کی اس تحریک کا آخری پسماندہ راہرو ہوں جس کا رواج مدتوں پہلے ختم ہو گیا تھا اور جس کی سطحیت بلکہ ابلہہ پن کو کراہت انگیز تکرار کی حد تک بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں عقلیت پسند ہوں اور صداقت اور انسانی عقل پر یقین رکھتاہوں۔ اس سے بلاشبہ یہ مراد نہیں کہ میں عقلِ انسانی کی قدرت کاملہ پر اعتقاد رکھتا ہوں۔ عقلیت پسند ویسا ہرگز نہیں ہوتا جیسا عقلیت پسندی کے مخالفین ہمیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں: ایسا شخص جو صرف اور صرف عقل پر بھروسہ رکھتا ہو اور دوسروں کو بھی ویسا ہی بنانا چا ہتا ہو۔ یہ انتہائی غیر عقلی بات ہو گی۔ لہٰذا مجھے امید ہے کہ ہر معقول شخص، اور عقلیت پسند بھی، اس بات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں عقل کا کردار بس واجبی سا ہے اور یہ کردار تنقیدی تفکر، تنقیدی مباحثے کا ہے۔ عقل یا عقلیت پسندی کا تذکرہ کرنے سے میرا مقصد اس یقین کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کہ ہم تنقید کی مدد سے یعنی دوسروں کے ساتھ تنقیدی مباحثے کے ذریعے اور خود انتقادی سے سیکھ سکتے ہیں: ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ عقلیت پسند ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں سے سیکھنے پر آمادہ ہو، (دوسروں سے سیکھنے سے مراد) محض ان کی آرا کو قبول کر لینا ہی نہیں بلکہ انھیں اپنے خیالات پر تنقید کی اجازت دینا اور ان کے افکار پر تنقید کرنا بھی ہے: بالفاظ دیگر تنقیدی مباحثے کے ذریعے سیکھنا مراد ہے۔ سچا عقلیت پسند یہ یقین نہیں رکھتا کہ وہ یا کوئی اور حکمت کا اجارہ دار ہے۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہ ہمیں ہر لحظہ نئے افکار کی ضرورت رہتی ہے اور تنقید نئے خیالات کو جنم دینے سے قاصر ہوتی ہے۔ مگر وہ یہ یقین بھی رکھتا ہے کہ تنقید گندم کو بھوسے سے الگ کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہوتا ہے کہ کسی خیال کا رد و قبول محض عقل پر ہی مبنی نہیں ہوتا۔ لیکن صرف تنقیدی مباحثہ ہی کسی تصور کو مختلف جہات سے دیکھنے اور اس کے متعلق درست فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ عقلیت پسند یہ دعویٰ بھی نہیں کرتا کہ تمام انسانی تعلقات کی مکمل جانکاری تنقیدی مباحثے کے ذریعے ممکن ہے؛ کیونکہ یہ بھی بہت غیر معقول بات ہو گی۔ عقلیت پسند اس نقطے کو اجاگر کرتا ہے کہ تنقیدی مباحثے کی تہہ میں کار فرما ”کچھ لو اور کچھ دو“ کا رویہ خالصتاً انسانی معاملات میں بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ عقلیت پسند اس بات کو بآسانی سمجھ لے گا کہ اس کی عقلیت دوسروں کی مرہونِ منت ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ تنقیدی رویہ بھی دوسروں کی تنقید کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسان اپنا نقاد بھی اسی وقت ہو سکتا ہے، جب وہ دوسروں پر تنقید کرے اور ان کی تنقید کو برداشت کرے۔ عقلی رویے کا شاید سب سے عمدہ بیان یہ ہو سکتا ہے: ممکن ہے آپ درست ہوں، ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں اور اگر ہماری بحث وتمحیص اس حتمی فیصلے پر پہنچنے میں ہماری مدد نہ بھی کر سکے کہ کون صحیح ہے، تب بھی امید ہے کہ ہم بحث کے بعد معاملات سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں تاوقتیکہ ہم اس نکتے کو فراموش نہ کریں کہ یہ بات اہم نہیں کہ کون سا فریق درست ہے، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم معروضی صداقت سے کس قدر قریب ہوئے ہیں۔ یہ معروضی صداقت ہی ہے جس کی خاطر ہم دونوں کوشاں ہیں۔
مختصراً میں اسی مفہوم میں اپنے آپ کو عقلیت پسند قرار دیتا ہوں۔ جب میں اپنے آپ کو روشن خیالی کا آخری پسماندہ راہروکہتا ہوں تومیرے ذہن میں کچھ اور باتیں بھی ہوتی ہیں۔ میرے دل میں وہی آس ہے جس نے پیسٹالوٹسی کے جذبوں میں روح پھونکی تھی کہ علم ہمیں معاشی اور روحانی غلامی سے رہائی دلاسکتا ہے؛ میں یہ امید بھی رکھتا ہوں کہ ہم اذعان کی گہری نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں، جیسا کہ کانٹ نے کہا تھا۔ میرے پیش نظرایک اہم ذمے داری بھی ہے جسے بیشتر دانشور قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے خصوصاً جب سے بعض فلسفیوں، مثلاً فختے، شیلنگ اور ہیگل نے ہماری فکری دیانت کو سبوتاژ کرنا شروع کیا ہے۔ میرا اشارہ اس ذمے داری کی طرف ہے کہ ہمیں کبھی بھی پیغمبروں کا روپ نہیں دھارنا چاہیے۔
اس فریضے کو ادا نہ کرنے کی سنگین کوتاہی کے سب سے بڑھ کر جرمن فلاسفہ مرتکب ہوئے ہیں۔ بلاشبہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ ان سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ان پیغمبروں یا مذہبی متجددین کے طور پر پیش کریں جو کائنات و حیات کے عمیق ترین اسرار کی پردہ کشائی کا ملکہ رکھتے ہوں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی مسلسل طلب بدقسمتی سے اپنا سامانِ رسد بھی فراہم کر لیتی ہے۔ لوگ پیغمبروں اور لیڈروں کی تمنا کرتے تھے اور وہ انھیں مل بھی جاتے تھے۔ اس کے ردِ عمل میں، خصوصاً جرمن زبان میں، جو کچھ تخلیق ہوا وہ ہرگز لائقِ اعتماد نہیں۔
(ترجمہ ڈاکٹر ساجد علی)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply