اختصاریئے    ( صفحہ نمبر 63 )

ایک بہن کا بین

بحیثیتِ ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی قوم کی فرد ہونے کے کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے کیوں کہ قتل ہونے والا کونسا میرا باپ تھا، بھائی بھی نہیں تھااور بیٹا تو ہو ہی نہیں سکتا۔میں پکی←  مزید پڑھیے

کیا اسے درندگی کہوں؟

اسے درندگی کہوں؟ … نہیں یہ الزام میں انہیں کیسے دے سکتا ہوں ؟ .. درندے تو اتنے سفاک نہیں ہوا کرتے. کسی انسان کو گستاخ قرار دے کر اسے ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کردیا جاتا ہے. اس←  مزید پڑھیے

بنامِ خدا

کتنی بار قلم اٹھایا کہ مشال پر ہونے والی بربریت پر کچھ کہا جائے. واللہ دل ٹکڑے ہورہا ہے خدا کا واسطہ تصویریں نشر مت کرو.. ویڈیو مت نشر کرو. کب تک میرے سرکار علیہ السلام جو رحمۃ للعالمین تھے←  مزید پڑھیے

کانفلکشن(تصادم)

وہ جہاں سے آیا تھا وہاں نام لے کر نہیں پکارا جاتا تھا اور جنس کا فرق تو تھا ہی نہیں۔ یہاں آیا تو سب نے اسے کوئی نہ کوئی نام دے دیا۔۔۔ محلے والے اسے اپنی مرضی کے نام←  مزید پڑھیے

پردیس

جب سے ہوش سنبھالا پورے سال اگست کے مہینے کا انتظار رہتا ۔ اگست خوشیوں کا ،کھیل کود اور انجوائمنٹ کا مہینہ ہوتا تھا ۔ اگست میں ہم اپنے ننھیال کراچی آیا کرتے تھے ۔ لاہور سے کراچی ٹرین کا←  مزید پڑھیے

وجودِ انسان

میں کیوں اس دنیا میں موجود ہوں حالانکہ کہ یہ دنیا عجائبات کی دنیا ہے۔مجھے کامل ترین مخلوق کہا تو گیا ہے مگر میں ناقص ترین مخلوق میں سے ہوں۔ جسموں میں اتنا حبس بھر گیا ہے کہ کھلی فضا←  مزید پڑھیے

بس ایک !!کال

ہم چند دوست آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے میں کچھ کام کے سلسلے میں اسلام آباد آیا ہوا تھا۔ ایک دوست باتوں باتوں میں کہنے لگا:اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے (مقامِ شکر؟) کہ میں آج تک پاکستان←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ مستحق

میرے دفتر کے سامنے بہت بڑا پیپل کا درخت ہے۔۔۔۔ جس کے نیچے ایک ٹانگ سے معذور شخص کشکول سامنے دھرے گردن جھکائے بیٹھا رہتا ہے۔ میں آتے جاتے اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا تھا ۔۔۔۔شاید اس لیے کہ←  مزید پڑھیے

’’آب حیات ‘‘ ( سو لفظوں کی کہانی )

شاہی قافلے کوآب حیات کی تلاش کئی دنوں کے پر خطر سفر کے بعد ایک پہاڑی کٹیا میں لے آئی تھی۔ ’’ ہوں، کونساآب حیات چاہتے ہو؟‘‘ بزرگ استغراق میں تھے۔ ’’ فرعون تھے ،جنہوں نے اس سوچ کے ساتھ←  مزید پڑھیے

لازوال وظیفہ

نفسا نفسی کے اس دور میں اگر کوئی کسی کو کار آمد بات بتادے تو نہ صرف اس مسیحا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے بلکہ حسب توفیق کوئی تحفہ تحائف بھی بھیج دینا چاہیے۔ آج میں بھی آپ کو ایک←  مزید پڑھیے

سو لفظ: پنکھا

یہ ہاتھ والا پنکھا کتنے کا ہے؟ 50 روپے کا! ارے بھائی اتنا مہنگا کیوں؟ اچھا آپ 40 دے دو. مہنگائی حکومت کرتی ہے ہم نہیں. ہاں وہ تو بجلی بھی نہیں دیتی! ان کی مرضی! لیکن ٹی وی پر←  مزید پڑھیے

فتویٰ (سو لفظوں کی کہانی)

” انگریزی نظام َتعلیم کفر ہے۔ گمراہ ہیں وہ لوگ جو اپنی اولاد کو انگریزی کی تعلیم دلواتے ہیں۔“ مولوی صاحب جمعہ کی تقریر میں موجودہ نظامِ تعلیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے اور یہ ان کا←  مزید پڑھیے

میں اور ڈوڈو (سو لفظی کہانی)

ڈوڈو میں کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں تمھاری آجکل باس سے گاڑھی چھنتی ہے۔۔۔ میں نے ڈوڈو کو گنگناتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔ ڈوڈو بولا : تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے۔۔۔؟ ہماری نسبت تمھاری سیلری بھی وقت پر آتی←  مزید پڑھیے

پارسا کون ؟

مجھے کئی عورتوں نے دھوکہ دیا۔۔ پر میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ تمام عورتیں گھٹیا ،خود غرض ہیں۔ اب مجھے مجھ جیسی عورتیں ملی ہیں تو باقیوں کا کیا قصور ہے۔ کسی مرد نے تمہیں دھوکہ دے دیا←  مزید پڑھیے

حقیقت اور محبت (مختصر کہانی)

میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ میں کیسے کروں محبت ؟۔ مطلب؟۔۔۔۔ اگر آپ نے خود کو آزاد کردیا ہے ،سب قیدوں سےتو میں خود کو کیسے کروں؟ جیسے میں نے کیا ہے خود کو۔ پھر کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟←  مزید پڑھیے

سرپرائز (مختصر کہانی)

نعیم کو فرخ سے ملے عرصہ ہو گیا نہ اسے وقت ملتا نہ ہی فرخ کو۔ کئی بار ملنے کا پروگرام طے ہو ا لیکن آخر میں کسی نہ کسی وجہ سے ملتوی ہو جاتا۔ اگلے دن ملک بھر میں←  مزید پڑھیے

تقسیم در تقسیم

ہمارے یہاں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ آپس میں نفرت کے جذبات تھے۔ پھر ہم نے الگ ملک حاصل کر لیا اور خوشی خوشی رہنے لگے۔ کوریا کے صدر کا بیان پڑھا اخبار میں۔۔۔ میں سوچا ہم نے بھی خوشی کے←  مزید پڑھیے

نکی کتنی بڑی ہو گئی

حال ہی میں اقوام متحدہ ميں تعینات ہونے والی امريکی سفير نکی ھیلے نے پاکستان اور بھارت کے درميان کشمير سميت تمام تنازعات کے حل کے لئے امريکی کردار کی بات کی تو تمام بھارتی قيادت اور حزب اختلاف کی←  مزید پڑھیے

سو لفظ”انٹر نیٹ”

یہ انٹرنیٹ کیا بلا ہے؟ لوگوں کو ملانے اور انکی آسانی کا ایک جدید اور وسیع ذریعہ ہے۔ کیا ہوتا ہے اس پر؟ جی بہت کچھ بلکہ سب کچھ۔ کس زبان میں ؟ ہر زبان میں۔ اچھا۔۔ خریدو فروخت بھی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی . سکون

ارے میں تو تمھیں پہچان ہی نہ سکا۔۔۔ کالج کا آخری دن اور پھر آج یوں اچانک ملاقات ،اس طرح بازار میں ۔۔بچے کیا کرتے ہیں؟ ایک ہی بیٹا ہے شادی شدہ، ساتھ ہی رہتا ہے اور میں ریٹائرڈ زندگی←  مزید پڑھیے