ایک بہن کا بین

بحیثیتِ ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی قوم کی فرد ہونے کے کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے کیوں کہ قتل ہونے والا کونسا میرا باپ تھا، بھائی بھی نہیں تھااور بیٹا تو ہو ہی نہیں سکتا۔میں پکی مسلمان ہوں،الحمدللہ اور وہ کسی کافر کی اولاد۔۔ بھلا اس کا مجھ سے اور میرے باپ بھائیوں سے کیا جوڑ۔۔۔
میں نے قرآن پڑھا ہے،میرے بھائی مدرسہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور وہ یونیورسٹی کا پروردہ۔۔کیاہوا جو میرے بھائی نے اس سے کسی لڑکی کا وٹس ایپ نمبر مانگ لیا۔۔ کوئی بڑی بات نہیں،میرا بھائی بھی یونیورسٹی جاتاہے لیکن وہ اس دنیاوی تعلیم کے لیئے نہیں بلکہ ایسے گمراہوں کو دوزخ کا رستہ دکھانےاور یہ دیکھنے کہ جہاں اللہ رسول کی نافرمانی ہو وہیں معاملہ صاف کر دے۔۔ بھائی جماعت کا بندہ ہے۔۔اور اس جماعت کا اپنا مذہب ہے،اپنے قائدے اور اصول۔۔یہ دنیا دار کیا بیچتے ہیں ان کے آگے۔۔جس کی موت آئی ہو وہی ان سے ٹکراتا ہے۔۔اور ٹکرانا بھی آسان نہیں کہ بدلہ صرف کرچیاں ہیں اور کرچیاں بھی ایسی کہ جو نسلوں تک چبھتی اور لہو لہان کرتی رہیں۔۔
دیکھا نہیں کیسے نہتے لڑکے کو گولیوں سے چھلنی کردیااور برہنہ کرنے کے بعد تشدد کیا،پھر اس کی میت کو بھی سنگسا ر کر دیا۔۔ یہی حل ہے ایسے کافروں کا، جو ان کی بات نہیں مانتے۔۔بڑے آئے دین سکھانے والے۔ ذرا جو آئیں بائیں شائیں کریں کسی معاملے میں فوراً گستاخی رسول کا فتوی ٰ لگاؤ اور بس پھر دیکھو کسی کے باپ کی بھی جرات نہیں جو ایسے شخص کو قتل ہونے سے روک سکے۔۔نہ حکمراں، نہ عدالتیں۔۔کوئی فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا،کہ اگر انہوں نے میرے ایک بھائی کیخلاف بھی فیصلہ دیدیا تو وہ ان کا کرسی پر آ ٓخری دن ہوگا،سب بساطیں اُلٹ جائیں گی،اس لیئے عدالتوں کے منہ پر لگے تالے کبھی نہ ٹوٹیں گے،حکمراں اپنی زبانیں کاٹ چکے۔۔طے کر لیا جماعت نے۔۔گستاخِ رسول کی سزا،سر تن سے جدا!
بس،ہو گیا فیصلہ،ٹوٹ گئے قلم،جل گئے سب کاغذ کہ جن پرنوشتہ ٗ دیوار لکھا جانا تھا۔۔۔اور یہ ایسا حربہ ہے جو کبھی ناکام نہیں ٹھہرا۔۔ہم نے تو ممتاز قادری کا دربار بنوا دیا ۔۔وہ بھی میرے بھائیوں جیسا دلیر تھا، اس نے بھی گستاخ ِ رسول کو جہنم واصل کیا تھا۔۔آہ۔۔۔جنت کے مزے لوٹ رہا قادری اور ہم یہاں ان بدبختوں کو موت کے حوالے کر رہے،خیر یہ بھی کوئی کم سعادت نہیں۔۔اوروہ دن دور نہیں کہ میرے بھائی بھی مزے میں ہوں گے،انہوں نے بھی گستاخِ رسول کو اذیت ناک موت مارا ہے ایسی موت کہ خود موت بھی پناہ مانگتی ہوگی۔۔یہ سلسلہ ابھی صدیوں جاری رہے گا۔۔یہاں مزار ہی مزار ہوں گے اور سب کے کتبوں پر لکھا ہوگا"سچا عاشقِ رسول" ہاں۔۔وہ دن دور نہیں!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply