بس ایک !!کال

ہم چند دوست آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے میں کچھ کام کے سلسلے میں اسلام آباد آیا ہوا تھا۔ ایک دوست باتوں باتوں میں کہنے لگا:اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے (مقامِ شکر؟) کہ میں آج تک پاکستان میں کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر کوئی پکڑ بھی لے تو زیادہ دیر مجھے روک کے نہیں رکھ سکتا میری جان پہچان ہی اتنی ہے۔ میں حیران پریشان اس کو دیکھے جا رہا تھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا : بھائی! یہاں کوئی اندھی نگری تھوڑا ہی ہے جہاں کوئی کسی کو پکڑ لے۔۔۔کوئی آپ کو کیوں پکڑے گا؟؟؟ کہنے لگا: جناب! میں اسلام آباد میں بائیک پر گھومتا پھرتا ہوں اور مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی ہیلمٹ پہنا ہو، یا بائیک کے کاغذات یا اپنا ڈرائیونگ لائسنس پاس رکھا ہو۔۔۔اکثر تو میں پولیس ناکہ دیکھ کر اس کے قریب بھی ون ویلنگ کرتا ہوں لیکن کوئی مجھے پکڑ نہیں سکتا۔میں نے کہا: کیوں جی! آپ کو ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں جو آپ کو کوئی نہیں پکڑ سکتا ؟ کہنے لگا: میری جان پہچان ہی بہت ہے۔۔۔کوئی پکڑ کے دکھائے تو سہی اوپر سے ایک کال کروا دوں گا تو بے چارے کو نوکری کے لالے پڑ جائیں گے۔!
ایک بار ایک پارٹی میں شراب چل رہی تھی میں بھی وہاں تھا۔اچانک پولیس کا چھاپہ پڑ گیا ہم سب لوگوں کو پکڑ لیا ۔ ابھی تھانے بھی نہ پہنچے تھے کہ انہیں ہمیں چھوڑنا پڑا۔۔۔
میں نے کہا: ایسا کون ہے آپ کی جان پہچان میں جس کی اتنی اتھارٹی ہے؟ پولیس یا بیوروکریسی کا بندہ ہو گا یا پھر فوج کا۔۔۔۔وہ میری بات سن کر ہنس دیا اور کہنے لگا : ان سب سے اوپر کی چیز۔۔۔۔میں نے کہا: عدلیہ۔۔۔۔کہنے لگا: ارے نہیں ایک صحافی ہے میرا دوست!میں نے کہا: میں مان ہی نہیں سکتا کہ کسی صحافی کا اتنا اثر و رسوخ ہو۔ وہ کہنے لگا: اصل میں صحافیوں کے پاس سب کے کالے کرتوتوں کی فائلیں موجود ہوتی ہیں جن کو افشاءکرنے کی دھمکی دے کر اکثر صحافی اپنے کام نکلواتے ہیں اور اس ملک میں سب سے طاقتور نہ فوج ہے، نہ عدلیہ،بیوروکریسی ہے نہ سیاست دان۔۔۔۔۔یہاں طاقت ور ہے میڈیا اور صحافی۔۔۔۔!!!
قلم کی حرمت کے پاسبانوں کے بارے میں یہ باتیں سن کر دل خون کے آنسو رو دیا۔ اگر کسی ملک کے صحافی اور ادیب حق اور سچ کے علمبردار ہوںتووہ ملک جلد یا بدیر ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو سکے گالیکن اگر ان کا یہ حشر ہو تو اس ملک کا خدا ہی حافظ!!!!

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *