پردیس

جب سے ہوش سنبھالا پورے سال اگست کے مہینے کا انتظار رہتا ۔ اگست خوشیوں کا ،کھیل کود اور انجوائمنٹ کا مہینہ ہوتا تھا ۔ اگست میں ہم اپنے ننھیال کراچی آیا کرتے تھے ۔ لاہور سے کراچی ٹرین کا سفر ، وہاں نانی اماں سے ملنا ، ماموں کے گھر رہنا ، کزنز سے کھیلنا اور کراچی گھومنا ہمارے لئے سب سے انمول ہوتا ۔ خوشی ایسی جو لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن جیسے جیسے تھوڑے بڑے ہوۓ محسوس کیا کہ امی بہت اداس رہتی ہیں ۔ کراچی جاتیں ہیں تو ابا کو پیچھے چھوڑ جانے کی فکر ہوتی ہے ، انکے کام کاج ، ضرورت کی اشیاء کا انتظام کرتی رہتیں اور واپسی پر آنکھوں میں آنسو عجیب سی اداسی اور بے چینی ۔ پھر زیادہ غور کیا تو محسوس کیا کراچی سے بہن بھائیوں کی طرف سے کوئی بری خبر آتی تو وہ روتیں اچنبے کی بات یہ تھی کہ خبر اچھی ہوتی تو بھی وہ روتیں ۔ پوچھنے پر کہتی تم لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔ یہ باتیں پردیسی ہی سمجھ سکتے ہیں ۔
وقت کتنا عجیب ہوتا ہے ، قدرت کو کیا منظور ہوتا ہے کوئی نہیں جان سکتا ۔ ہوا یہ کہ وقت گزرتا گیا اور پھر میری شادی کراچی میں طے ہو گئی ۔ وہ سارا چارم جو ایک ننھیال کا ، گرمی کی چھٹیوں میں کراچی گھومنے کا تھا یکدم بدل گیا ۔ جب شادی ہو کر کراچی آئی تو ہر گذرتے پل کے ساتھ امی کی اداسی اور بے چینی کا سبب پتہ چلا ۔ پتہ چلا کہ کراچی آتے ہوۓ ، کراچی میں رہتے ہوۓ وہ ابو کے لئے فکرمند کیوں ہوتیں تھیں ۔ احساس ہوا کہ واپسی پر نانی کو دیکھ کر روتیں کیوں تھیں۔ پتہ چلا وہ غم پر تو روتیں تھیں خوشی میں ان کی آنکھیں نم کیوں ہو جاتیں تھیں ۔
سال پہلے جب بھائی نے بھتیجے کی تصویر بھیجی ، وہ بڑی بہن کی گود میں تھا اور میں نے محسوس کیا کہ میں اس سے بہت دور ہوں ۔ جب بھتیجے کی پہلی سالگرہ پر امی نے مجھے ویڈیو کال پر لیا اور میرے سامنے بھتیجے نے کیک اپنی ماں باپ کے ساتھ مل کاٹا اور خود ہی کھانے لگا ۔ آس پاس سب ہنس رہے تھے اور میری آنکھیں نم تھیں ۔ اس لمحے پتہ چلا خوشی کے بھی آنسو ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ جو کبھی دسترس میں ہوتے ہیں ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں کھاتے پیتے ہیں اچانک ایک لمحے میں آپ سے دور ہو جاتے ہیں ۔ وہ ماں جو ہر لمحے آپ کو اپنی نظروں کے سامنے رکھتی ہو ، آپ کے لئے ماں باپ دونوں کا درجہ رکھتی ہو ۔ وہ بہن بھائی جن سے آپ لڑتے تھے ، محبت کا اظہار کرتے تھے ، روٹھتے تھے یا انھیں مناتے تھے ۔ آپ کو اب ویڈیو کال پر دیکھتے ہیں ۔ انکا لمس محسوس نہ کر پانے کا غم آپ سمجھ ہی نہیں سکتے جب تک آپ ان میں سے ایک نہ ہوں جو کسی بھی وجہ سے اپنوں سے دور آ بسے ہوں ۔
اب میں بھی لاہور سے آنے والی کسی بری خبر پر روتی ہوں لیکن خوشی کے لمحوں میں بھی آنسو میرے گالوں کو تر کر دیتے ہیں ۔
جب بھی امی ، بہن بھائی میرے لئے کچھ بھی بھیجتے ہیں تو اس چیزوں سے ان سب کی خوشبو انکا لمس محسوس کرنے کی کوشش کرتیں ہوں ۔ میں بھی لاہور سے کراچی واپسی پر جہاز کے اڑان بھرنے پر اداس ہوتیں ہوں ہر بار لاہور کو اپنے گھر والوں کو دوستوں کو چھوڑنے اور ان سے دور جانے کا غم لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا ۔
لیکن آپ یہ درد ، یہ تکلیف یہ احساس تب تک محسوس نہیں کر سکتے جب تک آپ پردیسی نہ ہوں ۔۔۔۔
یہ تحریر ان سب پردیسیوں کے نام جو کسی بھی وجہ سے دوسرے شہر یا ملک ، اپنے پیاروں سے دور اپنی خوشی اور غم میں خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں

Facebook Comments

آمنہ احسن
کتابیں اور چہرے پڑھنے کا شوق ہے ... معاملات کو بات کر کے حل کرنے پر یقین رکھتی ہوں ....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply