کیا اسے درندگی کہوں؟

اسے درندگی کہوں؟ … نہیں یہ الزام میں انہیں کیسے دے سکتا ہوں ؟ .. درندے تو اتنے سفاک نہیں ہوا کرتے. کسی انسان کو گستاخ قرار دے کر اسے ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کردیا جاتا ہے. اس کا سر ضربوں سے کچل دیتے ہیں. جسم کے ہر ایک حصے کو لہولہان کردیتے ہیں. پھر اس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں مگر دل ابھی بھی نہیں بھرتا، جذبہ ایمانی کی تسکین ابھی بھی نہیں ہوتی لہٰذا مجمع میں گھسیٹ لاتے ہیں. پھر اس کی لاش کو پیروں سے روندتے ہیں اور باجماعت نعرے لگاتے ہیں اللہ اکبر ! اللہ اکبر !
کیا کہوں اسے؟ حب رسول؟ اسلام؟ .. نہیں یہ میں نہیں کہہ سکتا. میں اسے اسلام نہیں مان سکتا. قطعی نہیں. اول تو آج کی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں مگر اگر مشعل خان گستاخ تھا تب بھی میری آنکھ آج اس نوجوان کے دردناک سفاکانہ قتل پر اشکبار ہے. کیا ان متقین کی نظر میں مجھے بھی گستاخ قرار دے دیا جائے گا؟ عدالت جانے کی بجائے اس مجمع نے کسی کی جان اتنی سفاکیت سے تلف کرکے اور اسکی لاش کی ایسی بے حرمتی کرکے بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے. اس افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ پر تین اقدامات لازمی کرنے چاہیئے
١. اس سفاکیت کے ذمہ دار ایک ایک مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے.
٢. اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی گروہ کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ ان مجرمین کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر پیش کرنے لگیں.
٣. علماء آگے بڑھ کر ایسے شدت پسند بلکہ نفسیاتی رویوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کریں اور صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ مسلسل منبروں اور میڈیا کے ذریعے قوم کی تربیت کریں کہ ایسا کوئی بھی اقدام شدید جرم ہے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *