باتیں ذرا تلخ

کہاں سے شروع کروں، کیا لکھوں، کس لیے لکھوں؟
انسانیت کی عزت وحرمت پر دلائل دوں، یا علم ودانش سے آگاہ کروں؟
تعلیم پر لکھوں، تربیت پر لکھوں، یا ایسے انسانیت سوز مظالم پر قلم کو جنبش دوں؟
انسانیت شرمسار اور قلم میں لکھنے کی استطاعت نہیں!
عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، اس پر انسانیت افسردہ دے، دل غمگین وماتم زدہ ہے.
آپ میرے یہ چند جملے پڑھ کر ہی جذباتی ہونے لگے ہوں گے، اور فورا کمنٹ میں آکر مجھ پر فتوے لگانے شروع کریں گے، من پسند القابات سے نوازیں گے، گالیاں بھی دیں گے، جو ہو سکے گا کریں گے.
کیجیئے! جناب شوق سے کیجئے!!
ہاں ذرا ٹھہریے!!
کیا واقعی قتل ہونے والا اسٹوڈنٹ احمدی تھا؟
کیا اس نے توہین کی تھی؟
یا اس نے ایسے پیجز بنائے تھے جو توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے تھے؟
یا وہ ملحد اور منکر خدا تھا؟

اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو کیا دلائل ہیں آپ کے پاس؟
یا صرف اڑائی ہوئی پر آپ جذباتی بن گئے؟
اگر واقعی ایسا ہوا ہے کیا اس کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری ہے؟
پھر قانون کس چیز کا نام ہے؟
چھوڑئیے! قانون کو، شریعت کو تو آپ مانتے ہی ہوں گے، کیا حدود وقصاص کی ذمہ داری آپ کی ہے یا حکومت کی؟
میری بات آپ نے ماننی ہی نہیں، نہ مانیں!
شریعت کے احکام تو جانتے ہوں گے، حرمت مال وجان پر احادیثِِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو سنی ہوں گی.
علامہ شامی، فتاویٰ عالمگیری، بدائع الصنائع للکاسانی، فتاویٰ تاتارخانیہ، صاحب ہدایہ وعنایہ اورابن ہمام کی فتح القدیر کا تو نام سنا ہوگا، جن پر ہماری فقہ کی بنیاد ہے، فقہ اور فتاوی کی مستند اور معتبر کتب ہیں، ہر مفتی کی میز پر موجود ہوں گی، ہر دارالافتاء کی زینت نظر آئیں گی، ہر مفتی شامی کی عبارت کو حرف آخر سمجھ کر فتوی دیتا ہے، ہر فتوی میں ان کتب کیے حوالہ جات آپ کو نظر آئیں گے.
تمام کتب حدود وقصاص کے متعلق لکھتی ہیں کہ "یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حدود وقصاص کو نافذ کرے. " ہر ایرے غیرے شخص کو حد نافذ کرنے کی قطعاََ اجازت نہیں!
یہ خالص امام یا پھر حکومت وقت کی ذمہ داری ہے.
اگر ہر کسی کو اجازت دی جاتی تو ہر دوسرا شخص کسی پر الزام لگا کر اسے قتل کر دیتا ایک فتنہ اور فساد پربا ہوجاتا.
عبارتیں نقل کرنے لگوں گا تو بات طویل ہوجائے گی.
چند کتب کے ریفرنس درج کررہا ہوں تفصیل دیکھ لیجئے گا.
بدائع الصنائع 5/524رشیدیہ کوئٹہ.
ھندیہ2/143 ماجدیہ کوئٹہ.
تاتارخانیہ 6/492فاروقیہ کوئٹہ.

اگر واقعی میں مذکورہ اسٹوڈنٹ توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا، تو حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ اسے گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچاتی،آپ اسٹوڈنٹس کو کس نے اجازت دی؟
ہمارے ملک میں شاتم رسول کی سزا بھی مقرر ہے اور قانون بھی موجود ہے،
ملکی اور شرعی قانون کا کھلواڑ!!
قانون کو یقیناََ اپنے ہاتھ میں لیا گیا ہے ۔
کیا شریعت نے ہمیں اجازت دی ہم اس طرح کے فعلِ شنیع کا ارتکاب کریں؟
درندگی کی حدیں عبور کریں؟
انسانیت سوز ظلم کریں؟

پھر ملکی قوانین کس کام کے؟
جو ہوا اس پر میں شدید مذمت کرتا ہوں، حکومت کو چاہیے کہ ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دے.
اور وطن عزیز میں جو لوگ بھی اگر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں حکومت وقت کو چاہیے قانون کے مطابق انہیں سزا دے.
باقی یہ کام کرکے ہم نے جو اپنا نام روشن کیا ہے، اور اسلام کی خدمت کی، انسان اور اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دیا ہے،
وڈیو ایک دفعہ پھر دیکھ کر نتیجہ نکال لیجئے گا.
باقی احساس سے عاری جن لوگوں نے وڈیو بنائی ہے، ان کی مذمت کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں!
اقبال مرحوم کیا دور بین شخص تھے!
کیا خوب کہہ گئے ہیں ذرا پڑھیے !
مسلمان جسے دیکھ کر شرمائیں یہود!!
ہاں یاد آیا!
جو فتوے لگانے ہیں دل کھول کر لگائیے، شریعت اور انسانیت کے ناطے آج سب قبول ہیں…
بس شروع کیجئے!!
ون، ٹو، تھری……..

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *