صبح ہی کچن میں ناشتہ کرتے ہوئے فوجی نے اعلان کردیا تھا۔ سامان شامان تیار کرلیں۔پیٹ پوجا کے لیے مزیدار چیزیں ساتھ چلنا ضروری ہیں۔کڑا امتحان ہے تمہارا۔’’ اس نے بیوی کو سُنایا۔180ایکڑ کی پیمائش کرنی ہے آج۔ ‘‘نہیں بھئی← مزید پڑھیے
”کیا عجب عنوان ہے! بڑی عمر کی عورت اپنی اپیل کھو نہیں دیتی؛ 71 سالہ زینت امان نوجوانوں میں کیوں مقبول ہو رہی ہے؟” ”نقرئی لومڑی Silver Vixen اپنے چاندی کے بالوں کی جھالر لٹکائے اس عمر میں جب انسٹاگرام← مزید پڑھیے
اچّھو محلے کا ایک بدنام لڑکا تھا جب وہ چھوٹا تھا تو ہر ماں باپ اپنے بچوں کواس سے دور رہنے کا کہتے جب بڑا ہُوا تو ہر گزرتی لڑکی کو تنگ کرتا ہر کسی سے لڑتا جھگڑتا ہر کوئی← مزید پڑھیے
اور آج وہ مجھے لینے آئی تھی۔وہ جوتنگ شیاؤ تھی۔غیر معمولی پھولی گالوں والی جن میں پھنس کر اس کی آنکھیں بس سرمے کی سلائی جیسی نظر آتی تھیں۔اس کا جسم بھی کچھ زیادہ ہی بھرا بھرا تھا۔اصل میں میٹھی← مزید پڑھیے
مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی سوسائٹی میں ابھی تک اعلیٰ اخلاقی اقدار باقی تھیں۔ یہی وجہ ہے عرصے سے قیام پذیر خاندان ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی، ہر اونچ نیچ میں دست بازو بنے رہتے تھے رشتوں← مزید پڑھیے
ترکی کے شہر استنبول میں جمعے کی نماز کے بعد وہ سلطان احمت مسجد کے مرکزی دروازے سے سیڑھیاں اُترتے باہر نکلا۔ سامنے ٹرام چل رہی تھی۔ یہ ٹرام استبنول کے ایمینونو بِرج سے گزر کر آگے جاتی، ٹرام معمار← مزید پڑھیے
شمال کے شدید سرمائی طوفان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہم سب اُس روز جمع تو پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے ہوئے تھے۔جس کا اہتمام” فیملی آف دی ہارٹ” نے کیا تھا۔تقریب میں شرکت کے← مزید پڑھیے
رنگ اُترا ۔۔۔ لباس ننگ اُترا راہگیروں نے کیا نظر ڈالی شرم سے سرخ ہوگئے عارض جھرّیاں پڑ گئیں خجالت سے شاخساروں کی نیم عریانی دیکھی بھالی ہوا میں ٹھٹھری ہے وہ جو غازے کے محملوں میں تھی ہکّا بکّا،← مزید پڑھیے
اردو نثر نگاروں میں معدودے چند قلمکار ہی ایسے ہیں جو اپنی تحریروں کے رستے میں کھڑے نہیں ہوتے۔ وہ اپنی نثر کو آزاد لکھ کر آزاد ذہنوں تک پہنچانے کے لیے اپنے لکھے ہوئے کے سامنے سے ہٹ جاتے← مزید پڑھیے
کِیا کرایا تو کچھ بھی نہ تھا۔ بس بات اتنی سی تھی کہ اوپر والے کو رحم آگیا تھا ۔یقینا سوچا ہوگا ۔فقیر کی سوکھے ٹکڑے کھانے والی لڑکی میری نظر کرم کی بھینٹ چڑھ کر بادشاہ کی ملکہ کے← مزید پڑھیے
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی دنیا یه سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں دروازے کو اوقات میں لانے کے لئے میں دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو← مزید پڑھیے
( فاضل دوست صغیر تبسم کی پنجابی شاعری کا طائرانہ جائزہ) تخلیق عرشِ بریں کا انمول تحفہ ہے۔اس کی قدر و قیمت کا اندازہ بھی انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اس فن سے وابستہ ہیں۔ایک قلم کار اپنے جذبات،← مزید پڑھیے
اوئے نکمے ادھر مر جی صاب جا اوئے یہ چائے پکڑا کے آ اوئے خبیث دیکھ کے چل، ابھی میرے پہ چائے گراتا! گاہگ نے اس کی گُدی پر چپیڑ لگائی۔ معذرت صاب! الو کے پٹھے روزانہ تیری شکایت آ← مزید پڑھیے
سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے وادیوں، پہاڑوں اور فطرت کے حسین نظاروں میں گھومنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان کے ماضی سے ہمکلام ہونے والے جاوید خان صاحب کا سفر نامہ “ہندو کش کے دامن میں”← مزید پڑھیے
تیز قدموں سے چلتا یونیورسٹی کے کوریڈور میں وہ بس اپنے آرٹیکل کے لیے کچھ مواد کے حصول کے لیے لائبریری کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ “خطاب میری بات سننا” عظیم نے اسے پکارا اپنی ازلی جلد بازی اور اپنے← مزید پڑھیے
Mutianyuجانا اور اُسے دیکھنا میرے حساب سے میری زندگی کا ایک اور انتہائی حسین تجربہ تھا ۔ دیوار چین کے اس بادہ لنگ Badaling والے حصّے کو دیکھ کر واپسی شام کو ہی ہوئی تھی۔یہ ہفتے کا دن تھا اور← مزید پڑھیے
کلاسک اردو کہانیوں کا مطالعہ جاری ہے ، کہانیاں جو تاریخ میں امر ہو گئیں، سلیبس کا حصّہ بن گئیں ، فلموں کا عنوان بن گئیں۔ آخر کیا خصوصیت تھی ان ناولز میں۔ ان کہانیوں میں کہ آج بھی ہم← مزید پڑھیے
اس کی زندگی میں وصل کی رت کم ہی آتی تھی؛ کبھی کبھار ملاپ کا چاند نکلتا تو وہ مد و جذر سے لطف اندوز ہو لیتی۔ نواب اختر کا دیا کرنے کو دل چاہتا تو ایک دو راتیں دان← مزید پڑھیے
جیسے کہا جائے بندے کی سوئی کہیں اٹک سی جاتی ہے۔کچھ ایسا ہی سیاپا میرے ساتھ بھی تھا۔تشنگی تھی میرے اندر۔اکیلے گھومنے پھرنے کی،پابندیوں سے آزاد ہونے کی۔اس صبح میں نے سعدیہ کے ہاتھ پکڑ لیے تھے کہ وہ میرے← مزید پڑھیے
لبرل اور پڑھا لکھا نظر آنا ہے تو پاکستان کے وجود اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں مخالفانہ اور متعصبانہ باتیں شروع کردو ۔ تاریخ کو ایک رُخ سے پڑھو تو اسے تعصب ہی کہتے ہیں۔ مجھے← مزید پڑھیے