کوئی تو رہنے دو…….. حامد یزدانی

شمال کے شدید سرمائی طوفان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہم سب اُس روز جمع تو پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے ہوئے تھے۔جس کا اہتمام” فیملی آف دی ہارٹ” نے کیا تھا۔تقریب میں شرکت کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل کی دعوت پرعارف صاحب کے بیٹے نوروز  عارف اور ان کے اہل ِ خانہ بھی امریکا سے تشریف لائے تھے۔ٹورانٹو کے کتنے ہی ادبی ستارے وہاں جکمگا رہے تھے۔تقریب سے پہلے چائے اور سموسوں سے طبیعت گرمائی جارہی تھی۔ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی چل رہی تھی اوردھیمے دھیمے قہقہے بھی بلند ہورہے تھے کہ صلاح الدین پرویز صاحب نے میرے قریب آتے ہوئے سرگوشی کی
”کیا جرمنی سے یہ خبر آپ کو ملی؟ ہمارے مشترکہ دوست طفیل خلش فوت ہوگئے ہیں؟“
”نہیں تو۔۔۔۔۔کیسے اچھے دوست اور پنجابی زبان کے خوب صورت شاعر تھے ہمارے خلش صاحب۔“ میں نے بے ساختہ کہا تھا۔
”آپ کی تو کافی ملاقاتیں رہی ہوں گی جرمنی میں۔۔۔میں بھی ملتا رہا ہوں ان سے۔“  پرویز صاحب نے اپنی یادوں کی جھیل میں جھانکتے ہوئے کہا تھا
”جی، بالکل، جرمنی میں بھی اور اس سے بہت پہلے لاہور میں بھی ہم نے ان گنت مشاعرے مل کر پڑھے تھے۔ جرمنی میں خلش صاحب  مشاعروں میں بھی ملتے اور میرے گھر پر بھی۔بہت محبت کرنے والی شخصیت تھے۔“ میں کہتا چلا گیا تھا

”ہاں، بہت مخلص انسان تھے اور بہت اچھے شاعر۔“ پرویز صاحب نے کہا۔ پھر انھیں کسی مہمان نے مخاطب کرلیا۔وہ اُدھر مصروف ہوگئے اور میں ہال کے باہر گونجتی تند تیز برفیلی ہواؤں کے احساس سے بے نیازاپنی یادوں کے دشت کی جانب نکل گیا جہاں لمحوں کے خاموش جھونکوں نے وقت کی سوئی ہوئی ریت کی جانے کتنی ہی پرتوں کو یک دم الٹ پلٹ کر کے رکھ دیاتھا۔
جرمنی کی سر سبز و شاداب وادی رائن میں  ۰۹۹۱ کا موسمِ بہارجوبن پر تھا۔دریائے رائن اپنی روائتی جولانیاں دکھا رہا تھا اور اس کے پہلو میں ایستادہ مشہورِ عالم کیتھڈرل (ڈوم)  دنیا بھر سے آئے سیاحوں کی توجہ اپنے شکوہ کی جانب مبذول کئے ہوئے تھا۔یوں تو میں جرمنی پہلے بھی جا چکا تھا مگر محض گھومنے پھرنے کے لئے، انجان منظروں سے عارضی شناسائی کے لئے  اور سب سے بڑھ کر  اپنے عزیز دوست سینئر براڈکاسٹر اور انتہائی نفیس آرٹسٹ  امجد علی سے ملنے کے لئے۔مگر اس بار سفر مختلف تھا۔ ڈوئچے ویلے (دی وائس آف جرمنی) میں بسلسلہئ روزگار لاہور سے کولون تک کا سفر، موسمی و ثقافتی تغیرات اورنئے دفتری معمولات جن میں جرمن پارلیمنٹ، آڈیناور ہاؤس اور دیگر اہم مقامات کے سرکاری دورے بھی شامل تھے،  پھرکولون یونیورسٹی کی کلاسیں، گھر اور پاک ٹی ہاؤس دونوں سے یک دم دوری کا المیہ، یوں سمجھ لیجئے کہ میری ٹھہری ٹھہری زندگی میں تبدیلیوں کا، معاملات و حالات کا اور جذبات کا ایک مبہم سا طوفان بپا تھااور ایسے میں قبلہ والد گرامی یزدانی جالندھری صاحب کے سانحہئ ارتحال کی خبر۔ بہار کی شادابیاں یکا یک پت جھڑ کی اداسیوں میں بدل گئیں۔ ایسے میں لاہور سے ہزاروں میل دور امجدعلی، سید اعجاز حسین (شاہ صاحب)، شہناز حسین (ناز بہن) اور ممی جی کی دل جوئی میرے لئے کسی نعمت و رحمت سے کم نہ تھی۔ امجد مجھے خوش رکھنے کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتا تھا۔ کبھی ادب و صحافت کی باتیں کر کے اور کبھی شو بز کی رنگا رنگ داستانیں سنا کر۔ مگر جی تھا کہ بہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔اورپھر ایک روز اس نے مجھے اپنے ساتھ فرینکفرٹ چلنے پر آمادہ کرلیا جہاں قراردادِ پاکستان کی گولڈن جوبلی کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب مقامی یونیورسٹی میں منعقد ہونے جارہی تھی۔ اس تقریب کا ایک حصہ مشاعرہ بھی تھا جس میں مقامی شعرأ کے علاوہ  بیرونِ ممالک سے بھی مہمان لکھاری مدعوتھے۔ ہم دریائے رائن کے ساتھ سفرکرنے والی ٹرین میں بیٹھے اور وقت سے پہلے ہی کولون سے فرینکفرٹ پہنچ گئے۔ شام تک شہر گردی کی، وہاں کا بوٹینیکل گارڈن دیکھا،مختلف پارکوں اور شہر کے مرکزی چوراہے پر تصاویر اتاریں اور پھر شام کو تقریب میں شرکت کے لئے فرینکفرٹ یونیورسٹی پہنچ گئے۔ لاہور جیسے اردو کے مرکز سے دور کسی ادبی تقریب میں شرکت کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔میری توقع کے برعکس یونیورسٹی کا ہال شائقینِ ادب سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کچھ سامعین کو تو کھڑے ہونے ہی کی جگہ مل سکی۔ ذرائع ابلاغ سے تعلق کے سبب ہمیں پہلی رو میں نشستیں مل گئیں۔امجد علی نے اپنے ہم نام امجد احمد صاحب کے ذریعے میرا نام بھی ناظمِ مشاعرہ عرفان خان صاحب تک پہنچا دیا۔باقاعدہ مدعو نہ ہونے کے باوجود انھوں نے مجھے شعر سنانے کا موقع دیا۔
خیر،  اب اسے اتفاق کہہ لیجئے یا بزرگوں کی دعاؤں کا اثر کہ مشاعرے میں عزت رہ گئی۔ حاضرین کی جانب سے اس عاجز کی تخلیقات کی خوب پزیرائی ہوئی۔ ایک سے زیادہ بار سُنا گیا۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی بخش لائل پوری صاحب مسکراتے ہوئے مجھ سے بولے: ”بھئی، لگتا ہے اس مشاعرے کا اہتمام تو آپ کو سننے کے لئے کیا گیا تھا، ہم تو بس  ’شامل باجا‘  تھے“۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ یہ یادگارمشاعرہ جہاں جرمنی کے اردو پنجابی شعراء سے میرے تعارف کا ذریعہ بنا وہاں لندن سے آئے خوبصورت شاعر ارشد لطیف صاحب سے دوستی کاوسیلہ بھی ثابت ہوا اور ان کے توسط سے استاذی شاہد ملک صاحب سے ازسرِ نو رابطہ ہو گیا جو ان دنوں بی بی سی سے منسلک ہونے کے سبب لندن ہی میں مقیم تھے۔ یہ ادبی تقریب  میرے لئے یوں بھی اہم رہی کہ یہیں لاہور سے اپنے دیرینہ پنجابی شاعر دوست طفیل خلش صاحب سے بھی تجدیدِ ملاقات کا موقع ملا۔اور پھر یہ ملاقاتیں ایک تسلسل کے دھارے سے بندھ گئیں۔جرمنی کی شاید ہی کوئی ادبی تقریب ہو گی جس میں میں مدعو نہ ہوتا۔ برلن سے عارف نقوی اوررشی خان، بون سے رخسانہ شمیم اور کتنے ہی عمدہ شاعروں سے ملاقاتیں رہیں۔
لاہور سے دور حلقہ اربابِ ذوق کی یاد نے ستایا تو کولون میں حلقہ کا غیر رسمی اجرا ءکردیا۔ حلقہ کے اوّلین اجلاس میں کل پانچ افراد شریک ہوئے؛ یعنی میں، میری بیگم طاہرہ، ریڈیو پاکستان والے اشرف انصاری، ریڈیو بنگلہ دیش سے آئے جاہد الحق اور اردو سروس کے کارکن امجد علی جو اس اجلاس کے میزبان بھی تھے۔حلقہ کو باقاعدہ رسمی صورت بعد ازاں جناب قمر اجنالوی نے دی اور کچھ اچھی تقریبات کا انعقاد بھی کیا۔میں اس حلقہ کا پہلا سیکریٹری تھا۔
حلقے کی روایت گویا میرے ساتھ ساتھ سفر میں رہی ہے۔ یہاں کینیڈا میں بھی حلقہ اربابِ ذوق کے قیام کا اور بہ طور اولین سیکریٹری خدمات انجام دینے کا اعزاز اس عاجز کو حاصل ہے۔ طاہر اسلم گورا میرے ساتھ جائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔ اس حلقے کے تحت نہ صرف باقاعدہ تنقیدی اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا بلکہ کچھ اچھے مشاعرے بھی منعقد ہوئے۔
کینیڈا میں میرے ادبی احباب کا حلقہ وسیع نہ سہی بھرپور ضرور ہے۔فیملی آف دی ہارٹ کی طرف دیکھوں تو ڈاکٹر خالد سہیل، صلاح الدین پرویز اور امیر حسین جعفری جیسے مخلص لکھاری دوست دکھائی دیتے ہیں۔ٹیگ ٹی وی کی بیٹھکوں میں طاہر اسلم گورا، بھابھی حلیمہ سعدیہ، نسیم سید (سیّدی)،عرفان ستار،سلمان حیدر،سیما نقوی جیسے شعرا اور شاعرات حوصلہ افزائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ پروگریسو رائٹرزکی تقریبات میں جاؤں تو منیر پرویز سامی خوش آمدید کہتے ہیں۔ اردو انٹرنیشنل کا مشاعرہ ہوتو اشفاق حسین صاحب کی مہمان نوازی اور پذیرائی لائقِ تحسین ہوتی ہے۔ تسلیم الٰہی زلفی صاحب اپنے ٹی وی چینل کے ذریعے الگ سے محفل سجائے ہوئے ہیں۔یہاں میں احمد رضوان کو کیسے بھول سکتا ہوں جنھوں نےانٹر نیٹ پر ایک کامیاب تخلیقی اور معاشرتی ”مکالمہ“ کا آغاز کررکھا ہے۔کیسی خوش قسمتی ہے کہ میں کم آثار اب ایسے دمکتے ستاروں کے جلُو میں ہوں جو کینیڈا کے جھنڈے پر دمکتی سُرخی سے آگے بڑھنے کا پیغام اور پاکستان کے پرچم کی ہریالی سے گہری روایات کی مہک کشید کرتے ہیں۔
مجھے یاد ہے یومِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ فرینکفرٹ کے اس یادگارمشاعرے میں، میں نے جو تخلیقات پیش کی تھیں ان میں ایک نظم پاکستان کے لئے تھی جس کا مطع تھا:
مِرے وطن میری پاک دھرتی میں جب بھی دل کی کتاب دیکھوں
تو اس کے اک اک ورق پہ روشن تری محبت کے باب دیکھوں
اور ایک شعر تھا:
ہزار نکہت بدوش باغوں سے، کہکشاؤں سے گھوم آؤں
کہیں نہ تیری مثال پاؤں، کہیں نہ تیرا جواب دیکھوں
جبکہ دوسری تخلیق ان دنوں کی ایک تازہ غزل تھی:
فصیلِ غم میں دریچہ کوئی تو رہنے دو
خوشی کے واسطے رستہ کوئی تو رہنے دو
نویدِ صبحِ طرب کون دینے آئے گا
کسی شجر پہ پرندہ کوئی تو رہنے دو
یہ کیا کہ وقت تمہاری ہی دسترس میں رہے
مِری گرفت میں لمحہ کوئی تو رہنے دو
سوچتا ہوں وقت واقعتاً کس کی دسترس میں رہا ہے۔۔۔مگر پھر بھی، لگتا ہے کہ ترکِ وطن میں پہلے ہی پڑاؤ پریعنی یورپ اوربرطانیہ میں طفیل خلش،شاہد ملک،ارشد لطیف، سید اعجاز حسین، ناز بہن،لئیق احمد منیر، اورعبیداللہ نیازی جیسے احباب کی جانب سے پرخلوص اور پر تپاک خیر مقدم نے لمحوں کا ایک آدھ جگنو ضرور میری گرفت میں دے دیا تھا جس کی دھیمی دھیمی ضو سے میرا دستِ خیال آج بھی جگمگا اٹھتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply