وہ کب سے اس جگہ موجود تھا کوئی بھی نہیں جانتا یا شاید کسی کو یہ جاننے میں دلچسپی ہی نہیں تھی۔ البتہ یہ بات طے تھی کہ وہ علاقے کے لوگوں کے رازوں کا امین تھا۔ یہاں کے لوگ← مزید پڑھیے
یہ ایک ویران اور وسیع و عریض ریگستان تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور چودھویں کا چاند سامنے افق پر ہمیشہ کی طرح ساحرانہ کیفیات لیے روشن تھا۔ چاند جب مکمل روشن ہو تو ستاروں کی جانب نگاہیں کم← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط10)- جاویدخان پڑاؤ: ہماراپڑاو پہاڑوں میں گِھری ایک خیمہ بستی تھی ۔جب ہم یہاں پہنچے تو سورج سر پہ کھڑاتھا۔ہماری جیپ رینگتی ہوئی ایک خیمے کے آگے جاکر رُک← مزید پڑھیے
سینکڑوں ہزاروں سال تک انسان فکرِ خوراک کی خاطر برج باشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور رہا لیکن زراعت کے انقلاب نے اسے زمین کے ساتھ نتھی کیا اور اس نے دریائی وادیوں میں کم و بیش دو سو← مزید پڑھیے
’’ اوکن جِیا کیا جیا ہوتا ہے۔ ۔؟ ‘‘اُس نے آٹھویں بار پوچھا،ہم نے سولہویں بار اِدھر اُدھر کر دیا ۔ خدا ہونی کہیں ، اُردو میں دودھ پیتے بچّے کوہم کیسے سمجھاتے کہ ایسے تمام سوالات جن سے بڑوں← مزید پڑھیے
آبادی کے اُس حصے میں جہاں اس نے پرورش پائی تنگ گلیوں، گُھسے بندھے کمروں اور فربہ لوگوں کی بھیڑ رہی عمومی طور پر جب لوگ گھروں میں بھی ایک جگہ سے گزرتے تب بھی آتے جاتے ان کے اجسام← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے سفر نامہ روس(3)-پاؤں نہیں، دل تھکتا ہے/سید مہدی بخاری چوتھی قسط دیس میں نکلا ہوگا چاند گھڑی شام کے چار بجا رہی تھی۔ اس چھوٹے سے ہال میں بیٹھے آٹھ← مزید پڑھیے
کچھ مصنف کے بارے میں : 1979 میں فیصل آباد میں پیدا ہونے شاہد مسیح جن کا قلمی نام ڈاکٹر شاہد ایم شاہد ہے واہ کینٹ کے باسی ہیں ۔ بہت کم عمری میں بہت سے علمی و ادبی کارنامے← مزید پڑھیے
پہلا حصّہ پڑھنے کے لیے لنک کھولیے دُمانی کے دامن میں(قسط1)/محمد عظیم شاہ بخاری دوسرا حصہ ہپاکُن سے تغافری ؛ تغافری، راکاپوشی بیس کیمپ کا مقامی نام ہے جسے سُن کر مجھے کوہ قاف کے کسی پہاڑی← مزید پڑھیے
ریان ہالیڈے Ryan Holiday امریکی ادیب ہیں انھوں نے سیلف ہیلپ نفسیات سمیت History، philosophy، how to live کے علاوہ marketing پر 12 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں ان کی ایک کتاب” Ego is the Enemy” (ایگو از دی اینمی)← مزید پڑھیے
اس بار بھی بارش نہیں ہوئی ۔۔۔ کرم دین نے اُڑتے ہوئے بادلوں کو دیکھ کے مایوسی سے آہ بھری۔ جانے یہ بارش کب ہوگی؟ کب اتنا مینہ برسے گا کہ اچھی فصل ہو اور پیٹ بھر اناج گھر میں← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط پڑھنے کیلئے لنک کھولیے سفر نامہ روس تیسری قسط پاؤں نہیں، دل تھکتا ہے ایسے لوگ ہیں جو ماضی کے بارے غمگین و اداس یادیں رکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے عموما ًحال و مستقبل← مزید پڑھیے
معروف انسان اور انسانیت دوست ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنے تازہ کالم ” کیا آپ دعاؤں پر انحصار کرتے ہیں یا دواؤں پر ؟” میں معروف شاعر اور دانشور جناب جون ایلیا کے اٹھائے گئے سوالات کہ کیا خدا موجود← مزید پڑھیے
اب تک تو میں اپنے خیالوں میں اپنی آنے والی کتاب کا انتظار کر رہی تھی لیکن زارا مظہر کی کتاب دِلم کا میں نے باقاعدہ انتظار کیا ہے۔ زارا آپا اپنے فیس بک آئی ڈی پہ بتا چکی تھیں← مزید پڑھیے
خالد سہیل قلم پرور ، روح پرور اور دوست پرور انسان ہیں۔ 70 کتابیں پڑھنی مشکل ہوجاتی ہیں مگر انھوں نے 70 کتابیں لکھ ڈالیں۔ بسیار نویسی اور بسیار خوری ان کے محبوب مشاغل ہیں۔ لکھتے اور کھاتے وقت ان کے← مزید پڑھیے
بلاشبہ وہ بہت مسحور کُن شخصیت کی مالک تھی، زندگی سے بھرپور۔۔۔جہاں جاتی ایک رونق سی آجاتی۔ دلوں کو گرما دینے کی طاقت تھی اس میں۔ اللّٰہ نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کشش سے بھی نوازا تھا اور پھر← مزید پڑھیے
پہلی قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے سفر نامہ روس(1)-ہاں ابھی تو میں بھی ہوں/سید مہدی بخاری دوسری قسط تین گیت ہیں یہ ماہِ جون تھا۔ چناب کے کنارے لُو چل رہی تھی۔ دُور بہت دُور، سائبیریا← مزید پڑھیے
چند سال پہلے کی بات ہے،جب پنجاب کے ایک کونے میں صحرائی علاقے کے ایک شخص کی پہاڑوں سے محبت نے جوش مارا تو اس نے اپنے ملک میں موجود اپنی پسندیدہ پہاڑی چوٹیوں کو قریب سے دیکھنے اور سراہنے← مزید پڑھیے
ناصر عباس نیرایک روشن دماغ نقاد،افسانہ نگار اور دانشور ہیں،آپ نے اردو ادب کو دو درجن سے زائد اہم کتب سے نوازا،آپ اردو کے واحد نقاد ہیں جنھیں دیگر زبانوں اور علوم سے وابستہ افراد بھی انتہائی سنجیدگی سے پڑھتے← مزید پڑھیے
جنگل کا وہ گوشہ دنیا سے الگ تھلگ ہی کوئی دنیا تھی۔ برفباری تھم چکی تھی، برف سے ڈھکے درخت یوں خاموش کھڑے تھے جیسے ان پر طلسم پھونک کر انہیں پتھر کر دیا گیا تھا۔ مؤدب درختوں کے جھنڈ← مزید پڑھیے