اسی مقام پر میر کی صناعی اور صنعت شعری پر چند باتیں عرض کرنی ضروری ہیں۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ صنعتِ تضاد سے حسن پیدا کرنا عام سی بات ہے۔ میر نے بھی یہاں، یہی عام طریقہ برتا ہے۔ اکثر← مزید پڑھیے
اب میں اپنے اجڑے دل کے ساتھ، سونے در و دیوار کے بیچ پہروں بیٹھی سوچتی ہوں کہ ہم لوگ آنے والے بچے کے لیے لفظ “مہمان “کیوں استعمال کرتے ہیں؟ مہمان کو تو جلد یا بدیر رخصت ہی ہونا← مزید پڑھیے
تمہیں پتہ ہے میں کبھی مرا نہیں تھا میں نے بس اپنی ہیّت بدلی تھی گو کہ جب تم آگے جاکر میری یہ پوری بات پڑھ لوگے سب سمجھ جاؤ گے اور میں بھی چاہتا ہوں کہ تم یہ جان← مزید پڑھیے
عزیزم! کسی نے کہا تھا کہ آخر میں سب کچھ ان کہانیوں اور داستانوں میں بدل جاتا ہے جنہیں ہم دوسروں کو سناتے ہیں- کہانی کئی ہزار سال سے چل رہی ہے اور اسے دلچسپ بنانے میں ہر آنے والا← مزید پڑھیے
کسی لکھاری کی رو ح کو سمجھنے کے لئے اس فضا کو سمجھنا از حدضروری ہوتا ہے جس ماحول میں اس نے تعلیم و تربیت اور پرورش پائی ہو۔ کیونکہ وہ اسی ماحول سے تخیلات و جذبات کا چراغ جلا← مزید پڑھیے
آج کی صبح بھی روز ہی جیسی چبھتی ہوئی تھی۔ وہی غصیلا قہر برساتا سورج، نروٹھی ساکت ہوا اور کائیں کائیں کرتے ہوئے سمع خراش کؤے۔ شہر ہے یا کنکریٹ کا جنگل، درخت ناپید سو کانوں کا مقدر چڑیوں کی← مزید پڑھیے
ڈاڈر کا گاؤں آیا۔ میں چونکی۔ میری ایک دوست ٹی بی کی مریض بن کر یہاں آئی تھی اور اس ٹی بی کے خوبصورت ہسپتال کے ایک کمرے میں دم توڑ گئی تھی۔ ڈاڈر کا نام سالوں میرے ذہن پر← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں 14 قسط لاہور میں اہلِ تشیع کے دینی ادارے ’’جامعہ المنتظر‘‘ کی جانب سے ایک نعتیہ مشاعرہ کا دعوت نامہ والد صاحب کا موصول ہوا ہے اور یہ دعوت نامہ پہنچانے← مزید پڑھیے
میں نے اس کتاب کے پانچ باب پڑھ لیے ہیں – مصنف نے اس کتاب میں ابتدائی مسلم سماج بارے جن کتابوں کے مصنفین پر زیادہ انحصار کیا ان میں سے ایک محمود احمد عباسی ہیں – وہ شیعہ اور← مزید پڑھیے
ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا← مزید پڑھیے
عالمی ادب کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہوتی ہے، مگر یہ کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ عالمی ادب ہے کیا؟ کیا اس عالم کی سب (سات ہزار سے زائد) زبانوں کا پورا یا منتخب ادب عالمی کہلاتا ہے← مزید پڑھیے
چین کے صوبہ ہیبی میں قومی سطح کے ترقیاتی زون میں ڈیجیٹل سڑکوں کا تعارف ڈرائیوروں کی زندگی کو بہت آسان بنا رہا ہے۔ سڑکوں پر لگے ٹریفک سگنلز، فائیو جی نیٹ ورکس، ریڈار، کیمرے اور← مزید پڑھیے
پہلے کسی محاذ پر گئے ہو؟ نہیں سر! تو یہ پہلی دفعہ ہے؟ جی سر! ڈر رہے ہو؟ نہیں سر ۔۔۔ جھوٹ بولتے ہو؟ نہیں سر، تھوڑا سا ڈر ہے۔ کوئی یاد آتا ہے؟ جی سر! کون؟ اپنے بچے سر!← مزید پڑھیے
“سر جی، یہ لوگ خودکشی کیسے کر لیتے ہیں؟” وہ آج تین دن بعد آفس آیا تھا اور اپنے خیالوں میں کھویا مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ ” مرنا تو آسان نہیں ہوتا۔ یہ تو بڑا مشکل کام ہے۔ انسان← مزید پڑھیے
نثری ادب میں افسانہ نگاری ایک معتبر صنف ہے۔جو طویل صدیوں کا سفر طے کر کے اہل سخنوروں کے اذہان و قلوب پر براجمان ہوئی ہے۔ یہ اہل ادب کا صدیوں پرانا شیوہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں ہونے← مزید پڑھیے
ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا← مزید پڑھیے
میجی لن اور اسکا بیڑہ ۔ جلکوٹ اور جلکوٹیے شاہراہ ریشم اور اُس کا حسن و جمال پہلی قسط کا لنک میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ) ذکر اُس پری وش یاسین کا -سلمیٰ اعوان/قسط1 اس وقت جب صبح کا نور← مزید پڑھیے
سطح مرتفع پوٹھوہار میں جا بجا مختلف قلعوں اور مندروں کے آثار/کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ تو بہتر حالت میں ہیں جبکہ کچھ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ملوٹ کا قلعہ اور مندر← مزید پڑھیے
بچپن میں ہم دونوں قاری ولی صاحب کے حجرے اور ماسٹر ریحان صاحب کے سکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ہمیں شرارت اور چھیڑ چھاڑ کرنے پر ہمیشہ مار بھی کھانی پڑتی تھی۔ اس نے جماعت پنجم کے بعد سکول کو← مزید پڑھیے
بوڑھے درویش نے اپنی لاٹھی سے زمین پر ایک دائرہ کھینچا اور مجھے کہنے لگا، جانتے ہو یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دائرہ ہے- وہ مسکرا کر بولا حسابی زبان میں یہ دائرہ ہی ہے اور تم جیسے← مزید پڑھیے