ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 41 )

باد کوبیدن نامی شہر میں(1)- ڈاکٹر مجاہد مرزا

جب کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنی کتاب ” قسطنطنہ سے عمر خیام کے شہر تک” میں لکھا تھا کہ ” باکو دنیا میں استعمال کیے جانے والے تیل کا پانچواں حص}ہ پیدا کر رہا ہے” تب مامید امین رسول←  مزید پڑھیے

آخری اسٹیشن(بہاول پور تا امروکہ تک پھیلی بربادی کی ایک داستان/قسط 1)-ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

18 اپریل 1992 بغداد اسٹیسن سطح سمندر سے بلندی 393 فٹ سمہ سٹہ جنکشن سے بہاول نگر، امروکہ آنے جانے کے لیے ٹرینوں کی واحد گزرگاہ پر 1835 میں بغداد الجدید کا اسٹیشن تعمیر ہوا تو نہ صرف بہاول پور←  مزید پڑھیے

: ہائیڈل برگ کی ڈائری سے ایک ورک/ناصر عباس سنیّر

” انسٹی ٹیوٹ میں گرما کی تعطیلات ہیں۔ شعبے کے سب لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے کسی یورپی یا ایشیائی ملک گئے ہوئے ہیں۔ میں پورا دن اپنے اپارٹمنٹ میں لکھنے کا کام کرتا ہوں ۔ دوپہر کو←  مزید پڑھیے

میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ)بسین اور نوپورہ کی تہذیبی جھلک-بدھ عقیدت مندوں کے شاہکار/سلمیٰ اعوان(قسط15 )

دن کا پروگرام میں نے اپنی مرضی سے ترتیب دیا۔سرفہرست کار گاہ نالہ کی سیر تھی۔ شفقت نے چپ چاپ پیچھے چلنے میں عافیت خیال کی۔ ذرا بھی انتظار کی زحمت نہیں کرنا پڑی۔ سڑک پر قدم رکھے اور ویگن←  مزید پڑھیے

جُونا گڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی/اظہر حسین بھٹی

اِس کتاب کے مصنف رؤف کلاسرا صاحب ہیں۔ میں ان سے دو بار ملا ہوں اور دوسری بار جب انہوں نے مجھے میرے نام سے مخاطب کیا تو میں دنگ رہ گیا اور سوچنے لگا کہ یہ کس قدر تیز←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے….تحریر: حامد یزدانی…( قسط نمبر 16)

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) ( قسط نمبر16) آج جو کتابیں والد صاحب میرے پڑھنے کے لیے لائے ہیں اُن میں مزدور(مارکسی) لکھاری قمر یورش صاحب کی تصا نیف بھی شامل ہیں۔ ایک کتاب ہے ’’قمر←  مزید پڑھیے

ایک طرح کا پاگل پن/تبصرہ و انتخاب : مسلم انصاری

لیکھک : رحمان عباس (انڈیا) قریب ہر سال کوئی نا کوئی ایسی کتاب زیر مطالعہ آجاتی ہے جس کے بارے میں ہر اگلا صفحہ پڑھتے ہوئے یہ خیال گزرا ہے “یہ ختم نہیں ہونی چاہئے!” رحمان عباس بھائی کا تعارف←  مزید پڑھیے

“عہد ادیب”:نئے اور پرانے ادیبوں کی تحریروں سے مزیّن بہترین کتاب/ ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی

پہچان پاکستان گروپ کی طرف سے حال ہی میں شائع شدہ ادبی شاہکار “عہد ادیب” جسے زکیر احمد بھٹی اور آمنہ منظور نے مرتب کیا ہے، نئے اور پرانے قلم کاروں کی متنوع موضوعات پر مبنی تحریروں کا مجموعہ ہے۔←  مزید پڑھیے

فیض کی شاعری کا لسانی پہلو/شاہد عزیز انجم

شاعری کا ایک اہم پہلو لسانی نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی شاعر کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس کے اہم پہلو یعنی لسانی پہلو کو بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ شاعری بنیادی←  مزید پڑھیے

نہاتی دھوتی رہ گئی تےنک اُتے مکھی بہہ گئی/احمد شہزاد

میاں صاحب کی سیاسی ولادتِ باسعادت جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کی عسکری چھتری تلے ہوئی ، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قسمت کے دھنی ہیں ، اقتدار کی راہداریوں سے بار بار نکالے جانے←  مزید پڑھیے

پروفیسر رابعہ بتول کی شاعری: روحانی لچک اور سماجی و سیاسی عکاسی کی ایک جھلک/ڈاکٹر رحمت عزیز خان

پروفیسر رابعہ بتول کی شاعری روحانی عکاسی اور سماجی و سیاسی تبصروں کا دلکش امتزاج پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کے اشعار، اسلامی اخلاقیات میں گہری جڑیں رکھتی ہیں، اور لچک، جبر اور ایمان کے موضوعات سے بھر←  مزید پڑھیے

میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ)چلو کہ چل کے دیدار کریں ،جلتے ہیں جہاں میری یادوں کے چراغ/سلمیٰ اعوان(قسط14 )

اکبر حسین اکبر کے ساتھ دوسری ملاقات اس صبح ہوئی جب میں صدر روڈ پر ہنس راج کی طرح پر پھیلائے پی آئی اے کی عمارت کے ایک چھوٹے سے کیبن میں میز پر ہاتھ پھیلائے جناب زیدی صاحب کے←  مزید پڑھیے

قدیم حویلی کا بوڑھا/علی عبداللہ

زمانے کی دھول سے اَٹی ہوئی کسی قدیم حویلی کی طرح، میری روح میں بھی کہانیوں اور تجربات کا ایک خزانہ موجود ہے، جیسے مٹی کی خوشبو ماضی کو سمیٹے رکھتی ہے، ویسے ہی میرے ماتھے کی جھریاں بیتے وقت←  مزید پڑھیے

چند لمحوں کی محبت/شاہین کمال

ہنستے ہنستے یک دم ہنسی کو بریک لگ جاتا تھا اور پسندیدہ کھانا کھاتے ہوئے ٹیسٹ بڈ ذائقے سے نا آشنا ہونے لگتے تھے۔ وجہ! وجہ انہونی کا ہراس جو سب کے دل پر کاسنی سانپ کی طرح لپٹا ہوا←  مزید پڑھیے

سیاق و سباق کا طریقہ مع مثال/یحییٰ تاثیر

سیاق و سباق عموماً تین مراحل سے گزر کر تکمیل تک پہنچتا ہے۔ وہ تین مراحل یہ ہیں: متن کا حوالہ:یہ پہلا مرحلہ ہے جو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ۱۔ عنوان: یہاں ہم تشریح طلب اقتباس←  مزید پڑھیے

میں کس سےپناہ مانگوں؟ -ناصر عباس نیّر

مُلا شمس الدّین کچھ مہینوں سے اپنے دل میں غضب اور تخیّل میں فساد محسوس کررہے تھے۔ ان کا دل کسی شئے  کی طرف ایک پل کے لیے نہیں کھنچتا تھا،الٹا اس میں طیش اور وحشت کے بگولے اچانک اٹھتے۔←  مزید پڑھیے

ایبسرڈ/ علی عبداللہ

کیا زندگی واقعی “ایبسرڈ” ہے؟ امیدیں ٹوٹتی ہیں، خواہشیں بکھرتی ہیں، آرزوئیں دم توڑتی ہیں اور انسان جب عقل کے آگے بے بس ہو جاتا ہے؛ عقل اور منطق سے ہر شئے پرکھنے کی عادت جب اسے کشمکش کے بھنور←  مزید پڑھیے

مجھے یاد ہے۔۔ قسط نمبر 15۔۔حامد یزدانی

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 15 پاکستان میں انتخابات کا موسم اُترا ہوا ہے۔ گھروں، دکانوں، گلیوں، بازاروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رنگا رنگ جھنڈے لہلہا رہے ہیں۔ شام ڈھلے چھوٹے چھوٹے←  مزید پڑھیے

میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ)مزاج یار برہم ہے، چلو چھوڑو ہمیں پرواہ نہیں -ہمیں تو پر بتوں کے دیس جانا ہے /سلمیٰ اعوان(قسط13 )

میری واپسی قدوائی فیملی کے ساتھ ہوئی۔ مشہ بروم ٹورز کی بس میں بیٹھے جس نے آٹھ بجے شب چلنا شروع کیا۔ باہر گُھپ اندھیرا تھا۔ میں نے الو کی طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ بڑا خوفناک منظر تھا فوراً←  مزید پڑھیے

نور کی سیانیاں اور دیوانیاں/صنوبر ناظر

کہتے ہیں کہ عورت حسین ہو اور پھر سمجھدار بھی ہو تو یہ ’لیتھل کومبینیشن ‘ کہلاتا ہے لیکن نور ظہیر نے اپنے نئے افسانوں پرمشتمل کتاب ’سیانی دیوانی‘ میں عورت کے انکار کرنے کی جراًت کو بھی اس ’کومبینیشن‘←  مزید پڑھیے