غالب خیال اور تمناکی وسعت کے لیے دو عالم تو کیا عدم اور امکان کو بھی ناکافی سمجھتے ہیں۔وہ دو جہانوں کو آدمی کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں۔ دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا یاں آپڑی یہ← مزید پڑھیے
عام سے غریب آدمی کی اقتدار میں شرکت ناممکن جب تک یہ مگرمچھ بیٹھے ہیں ہماری ملک میں سچے اور سُچے سوشلسٹ نظام کی خواہش کی اوقات کیا؟اگر اِس نظام کے نافذ کرنے والے مخلص نہیں۔ڈھکے چھپے لفظوں میں نہیں← مزید پڑھیے
ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دھرم ویر بھارتی ہندی کے کہانی کار، ناول نگار اور شاعر ہیں۔ وہ صحافت سے منسلک رہے ۱۹۷۱ کی پاک بھارت جنگ کو بطور فیلڈ رپورٹر کے کور کیا۔ “سورج کا ساتواں گھوڑا” دھرم ویر← مزید پڑھیے
کھانے اور مشروبات کھانوں کے معاملے میں کوٸٹہ شہر نے بہت ترقی کی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب یہاں آتا تھا تو کابلی پلاؤ، روش، چپلی کباب اور تندوری نان کے علاوہ بازار میں شاذ و نادر ہی← مزید پڑھیے
ایک خوبصورت زندگی کا خاتمہ یقیناً ایک شاندار موت ہے۔ شاندار موت وہ ہے جس کی آہٹ پا کر غم سے سلے لبوں پر مسکان کھلنے لگے۔ ایک اطمینان بھری سانس کہ نہیں، اب نہیں؛ زندگی کی تلخیوں بھرے صبر← مزید پڑھیے
تیسرا دن : جمعرات ہالیڈے جہاں انجوائمنٹ کا باعث ہے وہاں کافی محنت طلب کام بھی ہے۔ اگر آپ سٹی بریک کیلئے جا رہے ہیں اور آپ کو گھوم پھر کر تاریخی اور پُرکشش مقامات دیکھنے کا شوق ہے تو← مزید پڑھیے
ساٹھ اور ستر کے عشرے کے انقلابیوں کے لئے اس لحاظ سے زندگی بہت آسان تھی کہ انہیں صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ان کے لئےکوئی ” گرے ایریا” نہیں تھا، چیزیں← مزید پڑھیے
عمر بیت چکی ہے اب مجھے شہنائیوں کے شور میں چوڑیاں ٹوٹنے کی آواز سنائی پڑتی ہے کبھی کبھار گلی میں کچھ بچوں کا شور اٹھتا ہے تو نبض تیز چلنے لگتی ہے، میں سوچتی ہوں کہ شاید کسی بچے← مزید پڑھیے
چھت کی جانب جاتی ہوئی چیونٹیوں نے دیکھا کہ اس کمرے میں مدت بعد آدمیوں کی آواز سنائی دی ہے۔ان کے ننھے قدم رک گئے۔کچھ دیر تو انھیں سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کریں۔ان میں سے چند ایک← مزید پڑھیے
اب تو یادوں کی پٹاری سے کوئی یاد نکالنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا الجھے ہوئے ریشم کے ڈھیر سے کسی مخصوص رنگ کا ریشم تلاشنا۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا ہے، سوچنے کچھ بیٹھو، یاد کچھ اور آ← مزید پڑھیے
کینڈی ‘‘مسٹرجسٹنن پریرا Justinian Paryra حددرجہ مودبانہ اور مسکین سے خدوخال والے جس شخص نے نیم ایستادہ سا ہمیں تعظیم دیتے ہوئے یہ تعارفی جملہ بولا تھا۔سچی بات ہے اُسکا اتنا کہنا ہی کافی تھا۔میں تو پل نہیں لگا تھا← مزید پڑھیے
مارک مینسن کا تعلق امریکہ سے ہے ان کی کتاب The Subtle art of not giving a f*ck نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کتاب کا موضوع Behavioral Science ہے۔ کتاب پر گفتگو← مزید پڑھیے
انا بالیسٹروس وہ پہلی لکھاری ہیں جنہوں نے پاکستان نامی کتاب ہسپانوی زبان میں لکھی ہے ۔ یہ سپین کی زبان میں پاکستان پر لکھی گئی پہلی مونو گراف ہے ۔ انہوں نے بارسلونا منتقل ہونے والے 80ء کی دہائی← مزید پڑھیے
حنہ جھیل ؛ حنہ جھیل دیکھنےکی مجھے کوئی خاص ایکسائٹمنٹ نہیں تھی کہ بچپن میں یہ جھیل میں دو بار دیکھ چکا تھا۔ سُنا تھا کہ اس کا پانی کم یا خشک ہو گیا ہے لیکن اس دن ماشاءاللہ، جھیل← مزید پڑھیے
کیا بارتھ نے مصنف کی موت کا نظریہ سارتر کے نظریئہ کمٹمنٹ کے رد کے طور پر پیش کیا تھا؟ بظاہر تو نہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بارتھ ضرور سارتر کا حوالہ دیتا یا کمٹمنٹ کی وجودی منطق کا ہی← مزید پڑھیے
مجید امجد اردو شاعری کا ایک اہم اور منفرد نام ہے۔ ان کی شاعری میں گہرائی اور معنی خیزی انھیں اوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ مجید امجد کی شخصیت اور ان کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں← مزید پڑھیے
ہماری ممدوحہ تہواروں کی دلدادہ ہیں اور ہر تہوار سے ثواب کشیدینے کی قائل۔ اپنے سفر نامہ میں “ہولووین کا تہوار اور کدّوکی اُڑانیں ” کے عنوان سے فرماتی ہیں : “۔۔۔کیونکہ ہولووین تہوار منایا جا رہا تھا لہذا ایک← مزید پڑھیے
ناول: سیتا زینب مصنف: زیب سندھی سندھی سے اُردو ترجمہ: شاہد حنائی ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی “سیتا زینب”، محترم زیب سندھی صاحب کے قلم سے سندھی زبان میں لکھی گئی ایک منفرد اور پُر تجسس تخلیق ہے۔ یہ← مزید پڑھیے
دوسرا دن: ہوٹل میں ناشتے کا وقت صبح سات سےگیارہ بجے تک تھا ۔ ہم تیار ہو کر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے۔ بہت اچھا صاف ستھرا انتظام تھا ۔ ہر طرح کی ضروریات والے لوگوں کے← مزید پڑھیے
رسالہ فنون کے تاثرات کے گوشے میں محترمہ منصورہ احمد کی نظم بعنوان مجھے رستہ نہیں ملتا ,پر اپنا تاثر رقم کرتے ہوئے معروف شاعر اور نقاد جناب غافر شہزاد فرماتے ہیں کہ منصورہ احمد اپنی نظم اس سطر سے← مزید پڑھیے