ہر حال میں اللہ کا کیسے شکر ادا کیا جاۓ۔ سیکھتے ہیں بابا بلے شاہ سے کہ وہ کیسے اتنی غریبی میں بھی اللہ کا شکر گزار ہوتے تھے۔ وہ اپنے ایک کلام میں لکھتے ہیں۔ چڑھدے سورج ڈھلدے← مزید پڑھیے
اس محلے میں ایک شخص جس سے تقریباً سبھی نالاں تھے وہ تھا شوکی سٹوڈنٹ۔نام تھا شوکت اللہ اور پیار سے بگڑ کر شوکی کر دیا گیا تھا۔شوکی، بقول اُس کی ماں کے، سولہویں جماعت میں پڑھتا تھا۔چونکہ وہ گلی← مزید پڑھیے
برٹش قونصلیٹ داخل ہوتے ہی عبداللہ مِین کاؤنٹر کیجانب بڑھا، اور اپنا تعارف کروایا۔ جی عبداللہ صاحب یہ رہا آپ کا پاسپورٹ، اِس پیکٹ کو آپ کھول سکتے ہیں، کاؤنٹر پر موجودافسر نے عبداللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،اور پیکٹ← مزید پڑھیے
فسانہ ء امن ۔۔۔(گزشتہ برس کامریڈ چے گویرا کےیومِ شہادت پر کہی گئی ایک نظم) میں جنگ مخالف نظم کہوں ؟ میں کیسے امن کا گیت لکھوں ؟ میں پہلی جنگ سے آج تلک واقف تاریخ کی رات سے ہوں← مزید پڑھیے
رواںؔ کا پورا نام جگت موہن لال رواںؔ تھا اور وہ قصبہ مورانواں ضلع اناّؤ میں بروزدوشنبہ ۱۴؍جنوری ۱۸۸۹ ء مطابق ۱۱؍جمادی الاولیٰ۱۳۰۶ ھ کو پیدا ہوئے۔رواںؔ ذات سے کائستھ تھے اور ان کے والد چودھری گنگا پرساد اپنے والد← مزید پڑھیے
مرجان کی نظریں مرغئی پر پڑیں۔ وہ شیر کی طرح دھاڑی اور سرخ سرخ آنکھیں نکالتی ہوئی بولی ’’کالی بلا! تونے میرے پھول جیسے بچے کو چاٹ لیا۔ اب ہماری عزت و ناموس نیلام کرنے پر بھی تل گئی۔‘‘ مرغئی← مزید پڑھیے
تعارف ہاروکی مراکامی(Haruki Murakami) بین القوامی شہرت یافتہ جاپانی ادیب، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد 12 ؍جنوری 1949میں جاپان کے کیوسو شہر میں پیدا ہوئے لیکن ان کا بچپن شوکوگاوا، آشیا اور کوبے میں← مزید پڑھیے
دن کی دھوپ خاصی پھیل گئی تھی ،جب شوکا کھولی سے باہر آیا،ایک بدبودار سانس فضا میں چھوڑ کر اس نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی،اور پھر تھڑے پر بیٹھ گیا۔کچی بستی میں دن پورا چڑھ آیا تھا،جگہ جگہ← مزید پڑھیے
اپنے دوست کا میسج پڑھتے ہی عبداللہ نے کھڑکی کے پردے ہٹائے اور باہر کی جانب نظریں مرکوز کردیں ، اُسے پہلے ہی ایکڑینڑن کی شامیں بہت خوبصورت لگتی تھیں، صاف ستھرا شہر کم آبادی، خاموشی، سکون اور یہ بارہ← مزید پڑھیے
آج تیسرا دن تها اس کے غبارے نہیں بکے تهے وہ سڑک پہ کهڑی کهڑی تهک گئی تو دوگلیاں چهوڑ کے لگے ہوئے ٹوٹے نلکے سے پیاس بجهانے کیلئے چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی ہوئی غباروں کا تهیلا گھسیٹنے لگی، تین← مزید پڑھیے
1945ء تک نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا،← مزید پڑھیے
اہل علم کا کہنا ہے کہ جرنیلی سڑک کو جرنیلی سڑک اس لیے کہتے ہیں کہ یہ فوجیوں کی آمدورفت کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ہمیں مگر اعتراض ہے ۔ پھر یہ فوجی سڑک کہلاتی جیسا کہ فوجی سیمنٹ،← مزید پڑھیے
سند یافتہ طوطے! گنرز کو طوطوں سے تشبیہہ کیوں دی جاتی ہے اس بارے میں تو ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا طوطا بھی توپ چلانے اور رٹا لگانے میں← مزید پڑھیے
ایک زمانے میں میں انٹیریو میں شیریڈن کالج میں انگلش گرامر سیکھنے جاتی تھی۔میرا ٹیچر ایک ایرانی تھا، اس کا نام مجھے بالکل یاد نہیں مگر پہلے دن کا تعارف بہت یاد ہے، وہ جب کلاس میں داخل ہوا← مزید پڑھیے
میرا نام مسلمانوں جیسا ہے، مجھ کو قتل کرو اور میرے گھر میں آگ لگا دو۔ لیکن میری رگ رگ میں گنگا کا پانی دوڑ رہا ہے، میرے لہو سے چلّو بھر کر مہادیو کے منہ پر پھینکو، اور اس← مزید پڑھیے
ہاں جی ! یہ نیم چڑھی سچی واردات ہے، جی ! ایسا ہوتا تو سب کے ساتھ ہے،لیکن کوئی بتاتا نہیں ، تو لیجیئے ہم بتلائے دیتے ہیں ،کہ سب کے سارے کزن کتنے کمینے ہو سکتے ہیں، نہیں ؟← مزید پڑھیے
ہم نے ماتم کی ریت نبھائی، غم حسین ؑ بھی منایا ،مناتے آۓ ہیں، یہ غم رہے گا بھی۔۔۔ ہم نے مجلسیں سجائیں غم کو تازہ کیاہر اک برس، ہرنئے سال کی شروعات ہم نے ایسے کی کہ ہم حسینؑ← مزید پڑھیے
آٹھویں جماعت سے مجھے سکول سے بھاگنے کا جو چسکا پڑا تو بس پھر بھاگتا ہی رہا ۔ ماں سے ضد کر کے میں نے تائی مارشل آرٹس سینٹر بھی جوائن کر لیا تھا جو وانڈو سٹائل میں مارشل آرٹس← مزید پڑھیے
مرغے اور تیتر! یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب یونٹسں دو دو تین تین مہینے لگاتار ایکسرسائز ایریا میں گزارا کرتی تھیں۔ خانہ بدوشی کا عالم ہوتا ۔ کبھی تو چل سو چل اس طرح سے ہوتی کہ سامان← مزید پڑھیے