پشتو افسانے کا ترجمہ۔بیوہ لڑکی/فضل ربی راہی

مرجان کی نظریں مرغئی پر پڑیں۔ وہ شیر کی طرح دھاڑی اور سرخ سرخ آنکھیں نکالتی ہوئی بولی ’’کالی بلا! تونے میرے پھول جیسے بچے کو چاٹ لیا۔ اب ہماری عزت و ناموس نیلام کرنے پر بھی تل گئی۔‘‘

مرغئی کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں بہنے لگیں۔ ہچکیوں کے درمیان بولی!’’آخر میرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ مرغئی کی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ مرجان سانپ کی طرح بل کھانے لگی؟ ’’ منحوس! خدا تیرا رونا غارت کرے اپنے ٹسووں سے لوگوں کو ڈرانا چاہتی ہے؟ معمولی سی بات تھی، تیرے آنسو نکلنے لگے۔ ٹھہر جمال خان کے باپ کو آنے دے، وہ تجھے مزہ چکھا دے گا۔‘‘

زخمی دل مرغئی خود پر قابو نہ پا سکی ۔ درد بھری آواز اس کے منہ سے نکلی اور میلے دوپٹے کے آنچل سے اپنا منہ چھپا کر بولی!’’ ماں! تم میرے زخمی دل پر نمک کیوں چھڑکتی ہو؟‘‘

مرجان کو کچھ اور تو نہ سوجھا، بے ساختہ ایک کابلی مکہ اسے دے مارا اور کہا:’’ خبردار! آئندہ جو مجھے اماں کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گی، آگ لگ جائے اس گھر کو جس میں تجھ جیسی منحوس نسل پلتی ہے، ایسی ماؤں کی کوکھ جل اٹھے جس سے تجھ جیسی منحوس جنم لیتی ہے۔ میں تیرے زخموں پر نمک چھڑکوں گی؟ یا تو نے میرا جگر جلادیا؟ ایسی منحوس شکل سے تو خدا بچائے خدا تجھے جلد اس گھر سے فنا کے گھاٹ اتارے، تیری ٹانگیں ٹوٹ جائیں، میرے نو سال کاغمے(موتی جیسا بیٹا) تو مٹی تلے دفن ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
مُکہ  مرغئی کی پسلیوں میں لگا تھا، بے چاری شدت درد سے تڑپ اٹھی۔ اس کے آنسوؤں سے اس کے دوپٹے کا آنچل گیلا ہو گیا۔ وہ ہچکیاں لیتی ہوئی کہنے لگی:’’ اماں اور مار نہیں سہہ سکتی، آخر میرا گناہ میری خطا کیا ہے کیوں مجھے بے قصور پیٹتی ہو؟‘‘
پشتون لڑکی اور ساس سے پوچھنے کی یہ جرات کہ مجھے کس قصور کی پاداش میں مارا؟ یہ مرغئی کا ایک ایسا قصور تھا جو کسی بھی صورت نہیں بخشا جا سکتا تھا۔ مرجان کے دل میں تو جیسے آگ بھڑک اٹھی۔ ’’جھوٹی مکار! میرے ساتھ زبان چلاتی ہے معمولی سی انگلیاں کیا لگیں جیسے کسی نے تلوار مار دی ہو، تو جو اس طرح پھول کی کلی تھی تو ماں باپ نے تجھے بیاہا کیوں؟ تیرا تعویز بناکر اپنے گلے میں ڈال دیا ہوتا۔ سوئی میں دھاگہ تک ڈالنا نہیں آتا اور نخرے بے شمار۔ نہ کام کی نہ کاج کی بس دشمن اناج کی۔ کھانا پکانا جیسے پہاڑ پر چڑھنا لگتا ہے۔ اگر معمولی سی آنکھیں اِدھر سے اُدھر کرلوں تو گھر بھر کے برتن گندے پڑے رہیں‘‘۔ ۔
اس کے بعد کیا تھا پھر تو مرجان کی زبان جیسے کالا بادل تھی، گالیوں کی ژالہ باری ہونے لگی، زندہ مردہ سب نشانہ بن گئے۔ چھوٹے بڑے کسی کو بھی نہیں بخشا گیا۔
بد قسمت بیوہ مرغئی کے پاس گالیوں کے جواب میں آنسوؤں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ بے اختیار ہچکیاں لے رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد جب گل محمد (سسر) آئے گا تو اس پر جیسے قہر بن کر ٹوٹ پڑے گا۔

مرغئی خوبصورت تھی، قابل تھی، اپنے والدین کے گھرانے میں سب کی آنکھوں کا تارا تھی۔ اس کی ہم عمر سہیلیاں کہتی تھیں کہ مرغئی کی باتوں میں جادوہے، سب کو مسحور کر لیتی ہے۔ اب بھی اگر کبھی اس کی سہیلیاں عید کے دن جمع ہو جاتیں تو ان کی زبانوں پر مرغئی کا تذکرہ ہوتا۔اپنے گاؤں میں مرغئی کی عفت و پاکیزگی اور حسن کے تذکرے زبان زد عام و خاص تھے، مگر افسوس پشتونوں کے غلط رواجوں نے اسے بد قسمت بنا دیا تھا۔ اس کی قسمت جو پھوٹی تو پندرہ سال کی عمر میں نو سالہ لڑکے کے پلے باندھ دی گئی۔ پیسوں کے لالچ نے اس کے باپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ اپنے منحوس ہاتھوں سے اسے ڈولی میں بٹھایا اور دور دیس میں بیاہ دیا۔ چند مہینوں کے بعد اس کی چوڑیاں ٹوٹ گئیں اور اب وہ ایک بیوہ تھی۔ نوبیاہتا بیوہ۔ غموں کا پہاڑ اس کے سر پر آپڑا تھا۔ ماں باپ کے گھر میں اب اس کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہی تھی۔ سسرال والے تو اسے منحوس پکارتے تھے۔ اب وہ منحوس شکل تھی، بے کار تھی، سارے خاندان کے طعنے سہتی تھی، سسر کی گالیاں برداشت کرتی تھی۔ سارا دن گھر بھر کے کاموں میں جتی رہتی تھی مگر رات کو اسے آنکھیں بند کرنے کا حق بھی حاصل نہ تھا۔ وہ کھانا نہیں کھاتی تھی، کھانا اسے کھا رہا تھا۔ میلے کچیلے کپڑے بھی اس کا دل نوچ رہے تھے۔ کفن کو یاد کرتی تھی۔ ایسا کوئی دن اس کی قسمت میں نہ تھا جس میں اسے چار جوتیاں نہ کھانی پڑتیں۔ بد قسمت مرغئی کے بالوں میں جیسے جالے پڑ گئے تھے۔ ایک دن اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی کہ سسر نے اس کے ہاتھ پر شاہ توت کی ایسی لاٹھی رسید کی کہ بہت دنوں تک وہ اس ہاتھ سے کوئی کام کرنے کے قابل ہی نہ رہی تھی۔ اس کا دوپٹہ جب میلا کچیلا اور پھٹا پرانا ہو گیا تو اس نے اپنے ماں باپ کے گھر کا نیا دوپٹہ اوڑھ لیا جس پر سسر نے اسے پیچھے سے مٹی کا تیل چھڑک کر ماچس دکھائی، مگر خدا نے اسے بچا لیا۔
یہ آج کا جھگڑا کس بات پر تھا؟ محض اس بات پر کہ سولہ سترہ سال کی لڑکی ذات،سارا دن چکی پیستے پیستے تھک ہار گئی تھی، شدید گرمی میں پسینہ اس کے سارے وجود میں سرایت کر گیا تھا۔ ہوا کھانے چھت پر چلی گئی۔ ایسا کرنا تھا کہ اسے جان کے لالے پڑ گئے۔ وہ مرجان کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی، لیکن شکر کی بات یہ تھی کہ اسے لاٹھی نظر نہیں آئی تھی ورنہ بے چاری تو گئی تھی کام سے۔ عشاء کے وقت مرغئی نے ابھی کمر سیدھی کی ہی تھی کہ گل محمد گھر آگیا۔ آتے ہی اس کی زبان چلنے لگی۔
’’ کیا تمہاری کمر ٹوٹ گئی ہے؟ دیا تو ابھی بجھا بھی نہیں ہے اور تم ابھی سے مر کھپ گئی ہو۔ اٹھو ہاتھ دھونے کا برتن لے آؤ۔‘‘
مرجان تیزی سے آگے بڑھی اور کہنے لگی :’’ اسے کچھ مت کہو۔ محل کی اس رانی کو تو چھوڑ دو تاکہ نیند کے مزے لوٹ سکے۔ تمہارا کوئی کام ہو تو میں کر لوں گی۔‘‘
اتنی دیر میں مرغئی ہاتھ دھونے کے برتن اور پانی کے ساتھ اپنے سسر کے سامنے آئی لیکن مرجان نے اسے سینے میں ایک ایسا زبردست مُکامار دیا کہ وہ بے چاری دھڑام سے زمین پر گر پڑی۔
مرجان نے کہا:’’ بس بس ہمیں معاف کرنا، اپنے شوہر کی خدمت میں خود کرلوں گی تم جاؤ، پلنگ پر سو جاؤ۔ تم تو رانی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نواب کی بیٹی ہو‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مرغئی اشک بار آنکھوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھ کر بولی:’’ میں رانی کب ہوں میں تو تمہاری ایک کنیز ہوں۔ تم ناراض کیوں ہو رہی ہو۔‘‘
مرجان کو تو جیسے موقع ہاتھ آیا۔ بولی:
’’ تُو پھر میرے ساتھ زبان چلانے لگی؟ لوگو! میں نے اس کے ساتھ کون سی برائی کی ہے، یہ ہر وقت بن سنور کر چھت پر کھڑی رہتی ہے، میں نے اگر صرف اتنا کہا کہ بیٹی یہ کام تمہارے ساتھ نہیں جچ رہا ہے تم بیوہ ہو تو لوگو، تم ہی انصاف کرو اس میں، میں نے کون سی بری بات کہہ دی ہے؟ اس وقت ہی سے رانی صا حبہ کے ماتھے پر شکنیں پڑی ہوئی ہیں۔ مجھے بہت برا بھلا کہا لیکن ابھی تک اس کا دل ہلکا نہیں ہوا۔‘‘
گل محمد خان نے جب یہ باتیں سنیں تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:
’’ تم اس حرامی  کے ساتھ کیوں زبان لڑاتی ہو۔ یہ تو ایک دن میری ناک کاٹ لے گی۔ تو نے ہی تو اسے سر پر چڑھا رکھاہے۔ پرسوں جب میں اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر جلانا چاہتا تھا تاکہ قصہ ہی ختم ہو جائے تو تم نے ہی آگے بڑھ کر اسے بچا لیا تھا، اب خود ہی بھگتو۔‘‘
مرغئی نے ہچکیاں لیتے ہوئے اپنا سر سسر کے پاؤں میں رکھ دیا اور کہا:’’ باباجی، اللہ مجھے موت دے اگر میں نے اماں کے ساتھ لام کلام (لام کاف) کیا ہو۔ خدا جانے کیوں صبح سے میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے۔‘‘ گل محمد خان نے اس کے سر پر لات رسید کی: ’’ چل ہٹ دور ہو جا میری نظروں سے، خدا تجھے جلد موت دے تاکہ میری عزت، عزت رہے۔ میرے پھول جیسے بچے کو کھا لیا اب میرے سفید کپڑوں پر داغ بھی لگانا چاہتی ہے‘‘ وہ غصے سے جیسے دھاڑا۔
مرغئی اٹھ کھڑی ہوئی اور منت سماجت کے ساتھ اپنے ہاتھ ماتھے پر رکھ کر بولی:
’’ بابا اگر سچ مچ ایسی بات ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو مجھے اب جلادو تاکہ کل گلی کوچے کا خاکستر بنوں اور کوئی میرا نام لینے والا بھی نہ رہے۔‘‘
گل محمد خان کے منہ میں غصے کی زیادتی سے کف آنے لگا اور اس نے ایک موٹی سی  لاٹھی اٹھائی: ’’ مردار، خنزیر، شیطان، پلیت میرے ہاتھوں جلنا چاہتی ہے۔‘‘
مرغئی:’’ ہاں باباجی: جلنا چاہتی ہوں۔ اپنے ہاتھوں سے مجھے آگ لگا دو، میری اس زندگی سے تو موت اچھی ہے۔ میں اگر رہوں تو کیا اور اگر نہ رہوں تو کیا؟‘‘
گل محمد :’’ کم اصل، بدبخت، پلیت نسل، میں تمہیں ضرور آگ لگا دوں گا۔‘‘
اس نے اپنی بیوی کو آواز دی:’’ جمال کی ماں مٹی کے تیل کی وہ بوتل لے آؤ۔‘‘ اور پھر نازوں میں پلی مرغئی پر لاٹھی برسنے لگی۔ بس اس کے بعد گھر کے صحن میں تین آوازیں گونجنے لگیں۔ ایک گل محمد کی لاٹھی کی آواز، دوسری اس کی اپنی آواز کہ آگ لگوانا چاہتی ہو اور تیسری مرغئی کے درد و اذیت میں ڈوبے ہوئے زور دار نعرے۔
’’ اوہ بابا مرگئی، تمہیں خدا کا واسطہ رسولؐ کا واسطہ، ہائے میرے ابا اور امی، کاکا صاحبؒ پہنچ جاؤ،لوئی زوانؒ مدد دو، میں تو بے قصور ہوں۔ میں تو بے خطا ہوں اے خد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے رب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بد قسمت مرغئی کا چہرہ آج کچھ کھلا ہوا تھا۔ اس کے جسم میں خون گردش کرنے لگا تھا۔ وہ پورے دو سال کے بعد والدین کے گھر آئی تھی۔ اس کے بڑے بھائی کی شادی تھی۔ سسر کے گھر مار کھاتے کھاتے اس کے پاؤں ایسے سفید پڑ گئے تھے جیسے ان پر کسی نے چونا چھڑک دیا ہو۔ روتے روتے اس کی آنکھیں سوج گئیں تھیں اس کا خیال تھا کہ والدین کے گھر کچھ دن ہنسی خوشی گزر جائیں گے لیکن قسمت کہہ رہی تھی کہ بیوائیں ہنس نہیں سکتیں۔ ماں کی گود اب تمہارے لیے ایک سلگتا ہوا تنور ہے۔ مرغئی نے ایک لمبی مدت کے بعد اپنی ہم جولیوں کی شکلیں دیکھ لی تھیں اس لیے وہ پھولے نہیں سما رہی تھی۔ اس نے اپنے غموں کے لمبے قصے بھلا دئے تھے۔ ہر کسی کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔ نیا لباس بھی ا س نے لمبے عرصے کے بعد زیب تن کیا تھا جو اس کا پرانا حسن ایک بار پھر لوگوں کو یاد دلا رہا تھا۔ جب اس کے دل میں اپنے بھائی کی شادی کی خوشی کی یاد امڈ آتی تو کبھی وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ تمبل بجاتی اور کبھی خوشی خوشی کے نغمے گانے لگتی۔ جب اس کی نظریں اپنے بھائی پر پڑ جاتیں تو ماں سے پہلے وہ اس پر صدقے واری جاتی۔ یہاں تک کہ ڈولی کا وقت آپہنچا۔ دلہا، دلہن کے لباس نکالے گئے اور لڑکیاں جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ جب شادی کے کپڑوں کا صندوق تیار ہونے لگا تو رسم کے مطابق ہر ایک دلہا اور دلہن کے لباس دیکھنے لگا۔ بد قسمتی سے مرغئی نے بھی اپنے بھائی کے لباس کو چھوا۔ اس پر عورتیں ’’ہائے‘‘ کے نعرے بلند کرنے لگیں کہ یہ کیا کررہی ہو۔ جب اس کی ماں کا دھیان اس کی طرف ہوا تو اس نے مرغئی کے منہ پر ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا کہ اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشان پڑ گئے۔ مرغئی حیران و پریشان کھڑی رہی کہ اے رب! مجھ سے کیا خطا سرزد ہوئی؟ اس کی ماں نے کہا کہ ’’ بیوہ عورتیں شادی کے لباس کو نہیں چھوا کرتیں تم منحوس بیوہ ہو تم نے کپڑوں کو کیوں ہاتھ لگایا؟

وہ ماں جس نے مرغئی کی پرورش اپنے دودھ سے کی تھی اور اسے نازو نعم میں پالا پوسا تھا۔ اس کی آنکھیں یک دم بدل گئیں۔ یہ بد شگونی وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ عین شادی کے موقع پر ایک بیوہ کا ہاتھ شادی کے کپڑوں سے لگ جائے۔ وہ مسلسل کہے جا رہی تھی کہ ’’تم نے لباس کیوں چھوئے؟‘‘
یہ خدا کا فضل تھا کہ اس وقت مرغئی کے باپ کے دل میں رحم کا جذبہ امڈ آیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا:’’ خیر کوئی بات نہیں۔ ایسی غلطیاں انسانوں سے ہو ہی جاتی ہیں۔‘‘ورنہ خدا جانے مرغئی کی کیا درگت بنتی۔ اس کا دل بھر آیا تھا لیکن وہ رو بھی نہ سکتی تھی، کیونکہ رونا تو اور بھی نحوست تھا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے کمرے میں چلی گئی۔ نیا لباس اتار کر پرانا لباس پہن لیا اور دوپٹہ منہ پر ڈال کر چارپائی پر لیٹ گئی۔
جنج چلی گئی، ڈولی لائی گئی، ہاؤ ہو ختم ہوا لیکن مرغئی کو کچھ پتہ نہ چلا۔ نہ کسی نے اس کو پوچھا اور نہ کسی نے اسے یاد کیا۔ بیوائیں تو ویسے بھی منحوس ہوتی ہیں، کس کو یاد رہتی ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کے وقت مرغئی ادیزو کی سڑک پر چلی جا رہی ہے۔ اندھیرا اتنا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ لیکن مرغئی کو نہ سانپ اور بچھو کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی وہ چور اچکوں سے خوف محسوس کررہی ہے۔ جب وہ دریا کے کنارے پہنچ گئی تو اس کے قدم رک سے گئے۔ پھر سڑک سے ہٹ کر دور ایک چٹان کے اوپر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپالیا اور دل کھول کر رونے لگی۔۔

’’ اے میرے عظیم رب! مجھ بدنصیب کے لیے اب ماں کی گود میں کوئی جگہ نہ رہی۔ میں منحوس ہوں، میں بد قسمت ہوں۔ سسرال کے گھر کے لوگ تو پرائے ہیں، ان سے کوئی شکوہ نہیں ہے مگر کیا میں اپنے گھر میں بھی منحوس ہوں افسوس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، اے خدا تو نے عورتوں کو کیوں پیدا کیا؟ اے خدا تو نے تو ایسا نہیں کیا اور نہ ہی تمہارے رسولؐ نے ایسا کیا ہے۔ یہ پختون جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو مسجدوں میں اذان بھی دیتے ہیں۔ نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ داڑھی رکھنے والے لوگوں کو تو اسلام کا لباس کہا جاتا ہے۔ ان میں تو بڑے بڑے عالم اور ولی بھی موجود ہیں۔ لیکن بہن بیٹی کے ساتھ انہوں نے جو سلوک روا رکھا ہے یہ تو قدیم کفار کا طریقہ ہے۔ بہن بیٹی پیدا ہوتی ہے تو منحوس۔ جب بیاہی جاتی ہے تو منحوس۔ جب مرجاتی ہے تو منحوس۔ اے خدا! تو ان کو آخرت میں جنت دے گا؟ دنیا میں ان پر اچھے دن لائے گا؟ ان پر پتھر کیوں نہیں برساتا؟ ہم بھی تمہاری مخلوق ہیں۔ انسانوں کی نسل سے ہیں۔ ہمارے ساتھ یہ ناروا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ تو نے مجھے یہ بات کیوں نہیں سمجھائی؟ جس گھر میں، میں نے آنکھیں کھولی تھیں، جس میں، میں پلی بڑھی ہوں، وہ میرے لئے اب دوزخ بن گیا ہے۔ ڈھائی سال تک تو میں کونتون (بیوگی) برداشت کرتی رہی ہوں لیکن کسی نے بھی میرے برے دنوں کو نہیں دیکھا۔ اب میری موت اچھی ہے۔ اگر دوسرا شوہر کرتی ہوں تو شرم۔ اگر شکایت کرتی ہوں تو شرم۔ اگر کچھ کہنے کے لیے زبان کھولتی ہوں تو شرم۔ میرا اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا سب شرم، شرم ہے یہ اچھا ہی ہوگا کہ شرم کا یہ بوجھ اتر جائے۔‘‘
ہچکیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہچکیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہچکیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’ اے دریا! تم بہت پردہ پوش ہو۔ تمہارا دل بہت بڑا ہے جب لوگ کسی کے دل کی تعریف کرتے ہیں تو کہتے ہیں دریا جیسا دل رکھتا ہے۔ تم اپنے اس بڑے دل کا پاس رکھ۔ تمہیں خدا اور رسولؐ کا واسطہ مجھے اپنی جھولی میں جگہ دو۔ مجھے اپنے دامن میں چھپا لو۔ مجھ پر پردہ ڈال دو۔ اللہ کی اس وسیع زمین پر میری ا ور کوئی جگہ نہیں ہے۔ تمہارے پاس بڑی امیدیں لے کر آئی ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم بھی مجھے ساس اور سسر کی طرح دھتکار دو۔‘‘
اس کے بعد غڑاپ کی آواز آئی۔ دریا کا دل مرغئی کی فریاد پر نرم پڑ چکا تھا۔ اس نے مرغئی کے لیے اپنی گود وا کرلی اور اپنے وسیع دامن میں اس بیوہ لڑکی کو چھپا لیا۔ جس کے لیے ماں کی گود میں بھی کوئی جگہ باقی نہ رہی تھی!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *