مائے نی میں کِنوں آکھاں۔راجہ محمداحسان/ قسط6

آٹھویں جماعت سے مجھے سکول سے بھاگنے کا جو چسکا پڑا تو بس پھر بھاگتا ہی رہا ۔ ماں سے ضد کر کے میں نے تائی مارشل آرٹس سینٹر بھی جوائن کر لیا تھا جو وانڈو سٹائل میں مارشل آرٹس سکھاتا تھا۔ مارشل آرٹس کا تو جیسے مجھے جنون کی حد تک شوق ہو چُکا تھا۔ ایک دن سکول میں میری بختو کے چھوٹے بھائی سے لڑائی ہو گئی  اس نے گھر آ کر شکایت لگا دی اور میرے سکول سے بھاگنے کا بھی بتا دیا ۔ اگرچہ مجھے خوب مار پڑی لیکن پھر بھی میں سکول سے بھاگنے سے باز نہ آیا البتہ اب میں اکیلا ہی بھاگتا تھا اوربختو کے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

ایک دن میں سکول سے بھاگ کر ملیر ندی چلا گیا۔ ان دنوں ملیر ندی کا یہ حال نہیں تھا جو آ ج کل ہے بلکہ اس وقت پانی کافی صاف ہوا کرتا تھا۔ میں نے ایک مناسب جگہ تلاش کر لی اور ندی میں نہانے کے لیے اتر گیا۔ ایک جگہ پانی کافی گہرا تھا اور مجھے غوطے آنا شروع ہو گئے۔ اُلٹے سیدھے ہاتھ پاؤں مار کر میں ڈوبنے سے بچ نکلا۔ لیکن شوقِ جنوں کم نہ ہوا اور یوں میں نے اس غوطا غوطی میں تیرنا بھی سیکھ لیا۔اب ملیر ندی میرے لیے پسندیدہ ترین مقام بن گئی  اور میں سکول سے بھاگ کر اکثر وہاں چلا جاتا کبھی پانی میں تیراکی کرتا تو کبھی کنارے پر مارشل آرٹس کی پریکٹس کرتا ۔

نویں جماعت میں نے بمشکل پاس کی ۔ چھوٹی خالہ کی رخصتی ہو چکی تھی اور اب بختو کے گھر والوں کی طرف سے ماں پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ جلد از جلد شادی کریں۔تاج الدین سٹیل مل سے ریٹائر ہو گیا تھا اور جو کچھ اسے ریٹائرمنٹ پر سٹیل مل سے ملا اس سے اس نے مرتضیٰ  چورنگی میں ڈھائی تین مرلے پر مشتمل ڈبل سٹوری گھر لے لیا جس کے اوپر نیچے دو دو کمرے تھے۔جب میں دسویں جماعت کے امتحانات دے چکا تو ماں کی شادی بختو سے ہو گئی ۔ ابتدائی طور پر ماں رخصت ہو کر تاج الدین کے گھر مرتضیٰ  چورنگی گئی  جہاں بختو اپنے دیگر پانچ بھائیوں اور ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا اور ماموں بغلولی اور اس کی بیوی بھی وہیں رہتے تھے۔ داؤد چورنگی والا نانا جی کا گھر انہوں نے کرائے پر دے دیا۔ولیمے والے دن اس بات سے لاپرواہ کہ  میری ماں کی دوسری شادی ہو گئی ہے میں بھی سب لوگوں میں گھلنے ملنے کی کوشیش کر رہا تھا کہ تاج الدین آ گیا اور اس نے مجھے پاس بلا کر کہا کہ “کُتے یہاں لڑکیاں تاڑ رہا ہے! چل دفع ہو یہاں سے”۔میں تاج الدین کے اس الزام و بہتان سے بہت حیران ہوا لیکن   سوائے خاموشی کے اور کیا کہہ کر سکتا تھا۔ماں اور بختو کو اس نئے گھر میں اوپر کی منزل پر ایک علیحدہ کمرہ دے دیا گیا ۔ ایک کمرے میں تاج الدین اور دادی ہوتیں ایک کمرے میں ماموں بغلولی اور اس کی بیگم اور ایک کمرے میں میں بختو کے پانچ بھائیوں کے ساتھ رہتا۔

اس نئے محلے میں آ کر مجھے اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ میری ہر حرکت کی نسبت ماں کی طرف کی جائے گی ۔ لڑکیوں سے تو میں پہلے ہی جھجکتا تھا اور خوداعتمادی نام کی چیز تو ویسے بھی مجھ میں    نہیں تھی ۔ ڈرا  سہما ، نظریں جھکا کر چلنا میری فطرت بن چکی تھی بس ایک لڑائی بھڑائی تھی وہ بھی ماں کی عزت کی خاطر چھوڑ دی۔اس محلے میں بھی اکثر لڑکے مجھ پر آوازیں کستے اور میں جواب دیے بغیر نظریں جھکائے وہاں سے گزر جاتا۔اس نئے گھر میں بختو کے بھائی بھی اکثر مجھ سے الجھتے رہتے لیکن دادی میرے کھانے پینے کا خیال رکھتی وہ ایک نیک دل ہمدرد خاتون تھیں۔

میٹرک کا رزلٹ آیا تو میں دو سبجیکٹ میں فیل تھا۔ پڑھائی سے ویسے بھی میرا دل اچاٹ ہو چکا تھا۔مجھے سپلیمنٹری امتحانات میں داخلے کے لیے بھی کوئی داخلہ فیس نہیں دے رہا تھا ۔ ایک دادی ہی تھی جسے میرا خیال تھا۔ وہ روز مجھے دو چار روپے دے دیتی جنھیں لے کر میں گھر سے نکلتا تا کہ کوئی محنت مزدوری کا کام کر سکوں اور کچھ پیسے وغیرہ کما سکوں۔ مرتضیٰ  چورنگی سے لے کر چمڑا چورنگی تک میں پیدل گھومتا رہتا لیکن کوئی کام نہ ملتا ۔ دادی کو میں یہ کہہ دیتا کہ مجھے کام مل گیا ہے اور وہ مجھے روز اپنی طرف سے کرائے کی مد میں پیسے دیتی۔ جس سے میں ویڈیو گیم کھیل لیتا ۔اب مجھے مین پُڑی کھانے کا بھی چسکا پڑ چُکا تھا۔بس اب میری زندگی مین پُڑی ویڈیو گیم اور مزدوری کی تلاش میں دن بھر گھومنا ہی تھی۔ جب پہلی تاریخ آتی اور دادی مجھ سے تنخواہ کا پوچھتی تو میں دادی کو کہتا کہ کام نہیں ملا تھا۔ دادی کے ماتھے پر یہ سن کر کبھی شکن نہ پڑتی اور وہ ہنس کر کہہ دیتی کوئی بات نہیں تم کوشیش جاری رکھو۔ اور روزانہ مجھے پیسے دینا جاری رکھا۔

مرتضیٰ  چورنگی میں جس ویڈیو سینٹر پر میں گیم کھیلنے جاتا تھا اس کے مالک کا ایک بھائی رشید تھا جو انہی دنوں پاگل خانے سے ڈسچارج ہو کر آیا تھا۔ رشید بھائی بہت قابل شخصیت تھے اور کسی وقت میں ایم کیو ایم کے نہ صرف سرگرم رکن تھے بلکہ پارٹی میں ان کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ رشید بھائی کے پارٹی میں اثر و رسوخ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کے انھوں نے الطاف حسین سے دو بار پارٹی صدارت کا حلف لیا۔

جیسا کے سیاست میں ہوتا ہے کہ لوگ کسی کی ترقی برداشت نہیں کر سکتے ۔ جوں جوں انسان کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا ہے توں توں اس کے ظاہری اور چھپے اعداء و حاسدین کی تعداد بڑھتی رہتی ہے ۔ کچھ تو سامنے آ کر آپ کی مخالفت کرتے ہیں ایسے دشمنوں سے آپ خبردار ہوتے ہیں اور ایسے دشمنوں سے اتنا خطرہ نہیں ہوتالیکن خطرناک ترین دشمن تو وہ ہوتے ہیں جو دستوں کے روپ میں آپکے ساتھ رہ کر زیرِ زمیں چھپ چھپ کر آپ کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں ۔

رشید بھائی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ان کے دوست نما دشمنوں سے ان کی کامیابیاں دیکھی نہ جاتی تھیں ۔ وہ ہر وقت اس تاک  میں ہوتے کہ کیسے رشید بھائی کے پاؤں کے نیچے سے کامیابی کی سیڑھی کھینچ کر انھیں زمیں پر گرایا جائے۔ اور ایک دن انھیں موقع ہاتھ آ گیا۔ پارٹی کا اسلحہ اور ایمونیشن رشید بھائی کی ذمہ داری میں دیا گیا ۔ رشید بھائی کے چند حاسدین نے وہاں سے کلاشنکوف کی گولیاں چوری کر کے الزام رشید بھائی پہ دھر دیا کہ انھوں نے ایمونیشن غائب کر دیا ہے یا بیچ کھایا ہے۔ ایمونیشن کی جب پڑتال کی گئی  تو وہ کم تھا ۔ رشید بھائی کو وہ لوگ اٹھا کر لے گئے اور تفتیش کی آڑمیں ان پر تشدد کیا گیا جس سے ان کے  سر پر چوٹیں آئیں اور ان کے دماغ میں خلل واقع ہو گیا اور انھیں پاگل خانے داخل کر دیا گیا۔

جن دنوں ماں کی شادی ہوئی انہی دنوں رشید بھائی کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی اور انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ رشید بھائی اکثر ویڈیو گیم میں بیٹھے رہتے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ رشید بھائی وہاں آتے جاتے مجھ پراور میری شخصیت پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔ ایک دن انھوں نے مجھے بلا یا اور کہنے لگے کہ تم یہاں ویڈیو گیم میں آنے والے سب لڑکوں سے الگ ہو۔ پھر انھوں نے تفصیل سے مجھ سے میرے بارے میں پوچھا۔نہ جانے اللہ نے ان کے دل میں کیا ڈالی کہ انھوں نے مجھے دنیا میں جینے کا ڈھنگ سکھانے کی ٹھان لی ۔

رشید بھائی کی میرے ساتھ دوستی اور لگاؤ بڑھتا ہی گیا۔ وہ روزانہ مجھے سمجھاتے دنیا کی اونچ نیچ اتار چڑھاؤ لوگوں کے رویے اور لوگوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ کے طریقے بتاتے لیکن میرے اندر ڈر جھجک خوف احساسِ کمتری اور احساسِ محرومی کا ایک تناور درخت تھا ۔ ان کی باتیں تو مجھے بہت اچھی لگتیں لیکن میں ان پر عمل کرنے سے ڈرتا تھا۔ ایک روزخالہ بشیراں کا بیٹا کسی سلسلے میں ان سے ملنے آیا ۔ میں کھڑ ا ہو کر اس سے ملا اور نظریں جھکائے جھکائے اس سے بات کی جبکہ وہ مجھے ایسے مخاطب کرتا جیسے میں اس کا نوکر ہوں ۔ رشید بھائی نے یہ بات محسوس کر لی ۔ انھوں نے مجھے خوب ڈانٹا اور کہا کہ تم نظریں کیوں جھکا کے رکھتے ہو ایسے تو “لونڈے” کرتے ہیں تم کسی کے “کانے” ہو کیا۔ میں نے کہا رشید بھائی ایسی بات نہیں میں ہوں ہی ایسا۔ انھوں نے کہا تم ایسے تھے! اب نہیں رہو گے، کل یہ پھر آئے گا اور تم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملانا ہے اور کوئی بھائی وائی کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے اس کے نام سے بلاؤ۔

اور پھر دوسرے دن میں نے رشید بھائی کے کہے پر عمل کیا ۔ خالہ بشیراں کے بیٹے کے لیے یہ سانحہ  ایٹم بم تھا اور اس نے اس کا اظہار بھی کیا کہ فیصل آج تم مجھے اٹھ کر نہیں ملے؟ ۔ میرے جواب دینے سے پہلے ہی رشید بھائی نے اسے جواب دیا کہ تم یہاں منسٹر نہیں لگے ہوئے فیصل میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے اس سے دھیان سے بات کرنا ۔ اس دن مجھے ایک عجیب خوشی کا احساس ہوا مجھے اپنے وجود اور اپنے ہونے کا احساس ہوا۔ اس خوشی کو ان جذبات و احساسات کو میں لفظوں کا پیراہن پہنا ہی نہیں سکتا جیسے سحر میں اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں سورج کی کرنیں سورج کے آنے سے پہلے ہی اس کی آمد کا اعلان کرتی پھر رہی ہوتی ہیں اور اس کے آنے کی خوشی میں کلیاں کھل کر پھول بننے لگتی ہیں پرندے خوشی سے چہچہانے لگتے ہیں دنیا موت کی وادیوں سے نکل کر زندگی کی چہل پہل کی طرف رجوع کر رہی ہوتی ہے بس ایسے ہی اس دن میرے اندر بھی ایک سحر ہو چکی تھی ۔

گلیوں سے گزرتے میں سر جھکائے جھکائے گزر جاتا اگر کوئی لڑکی اپنے دروازے میں کھڑی ہوتی تو مجھے دیکھ کر زور سے دروازہ بند کر دیتی میں یہ سمجھتا کہ وہ مجھ سے نفرت میں ایسا کرتی ہیں ۔ اس بات کا تذکرہ میں نے رشید بھائی سے کیا تو انھوں نے کہا کہ تم پر کشش اور جاذبِ نظر ہو اصل میں لڑکیاں تمھارے انتظار میں دروازے تک آ جاتی ہیں اور جب تم سر جھکائے انھیں دیکھے بغیر وہاں سے گزر جاتے ہو وہ تمھاری توجہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنی خفت مٹانے کے لیے دروازے کو زور سے بند کرتی ہیں ۔ مجھے رشید بھائی کی اس بات پر یقین نہیں آ رہا تھا لیکن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو دروازہ اکثر زور سے بند ہوتا ہے آج میں نے وہاں سے نظریں جھکا کر نہیں گزرنا ۔ گھر واپسی پر سارے رستے میں اسی کشمکش میں مبتلا رہا، وہی سر جھکائے آتا رہا جب اس دروازے کے قریب پہنچا جو اکثر زور سے بند ہوتا تھا تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا مجھ میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ میں نظریں اٹھا کر اس طرف دیکھوں ۔ میں نے اپنی ساری قوتِ ارادی کو مجتمع کر کے یکبارگی جو ادھر دیکھا تو ایک لڑکی مجھ پر نظریں جمائے مجھے دیکھ رہی تھی ۔ میری ایک لمحے کو اس سے نظر جو ملی تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی  ۔ میرے دل کی دھڑکن تو بے قابو ہوئے جا رہی تھی یو ں لگتا تھا جیسے ابھی دل پسلیوں کے پنجرے سے آزاد ہو کر چھاتی کو چیرتے ہوئے باہر نکل آئے گا۔ میری نظر پھر جھک گئی اور جب میں دروازے کے قریب سے گزرا تو میری کان میں ایک ہلکی سی نشیلی سی نسوانی آئی “اجے”۔ آج دروازہ بھی بند نہیں ہوا تھا اور میرے جسم کی لوں لوں کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ مجھے پیچھے سے دیکھا جا رہا ہے ۔

دوسرے دن میں نے یہ سارا واقعہ رشیدبھائی کو سنایا تو بہت ہنسے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ لڑکیاں تمھیں اجے کہتی  ہیں ۔ رشید بھائی کی کافی لڑکیوں سے بھی دوستی تھی اور انھیں یہ بات ان کی کسی گرل فرینڈ نے بتائی تھی کہ فیصل کی شکل انڈین اداکار اجے دیوگن سے ملتی ہے اس لیے وہ اسے اجے کہتی ہیں ۔ رشید بھائی مجھے اپنے ساتھ بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی لے جاتے جہاں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ شراب و شباب کی بھی محفلیں ہوتیں لیکن وہ مجھے صرف دیکھنے کو کہتے ۔ میں ایسی محفل کا صرف تماشائی کی حد تک حصہ ہوتا۔رشید بھائی کا کہنا تھا کہ اس سے تمھیں دنیا کی سمجھ لگے گی اور تمھارے اندر خود اعتمادی پیدا ہو گی۔رشید بھائی نے ہی مجھے سپلیمنٹری امتحانات کے لیےداخلہ فیس بھی دی تھی ۔ ان کی نوازشات میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا ۔

مرتضیٰ  چورنگی میں میری ایک لڑکے کامران کے ساتھ بھی ہو گئی ۔ کامران کرکٹ کا بہت شوقین  تھا ۔ وہ  گلی  میں کرکٹ کھیل رہا تھا۔ مجھے تو کبھی کسی نے اپنے ساتھ کھلوایا نہیں تھا۔ اس دن لڑکوں کو کرکٹ کھیلتا دیکھ کر میرا بھی بہت جی چاہا کہ میں بھی  کرکٹ کھیلوں۔ میں کامران کے پاس چلا گیا اور اسے کہا کہ بھائی مجھے بھی آپ کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں ۔ کامران نے مجھے ویلکم کیا اور اپنے ساتھ کھیلنے کا موقع دیا ۔ یوں میری کامران کے ساتھ دوستی ہو گئی ۔ کامران بہت اچھا لڑکا تھا اس کے گھر کی دیوار بختو کے گھر کی دیوار کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اس طرح ہم پڑوسی بھی تھے اور اچھے دوست بھی بن گئے۔ کامران اکثر مجھے اپنے گھر بھی لے جایا کرتا تھا۔اور اس نے مجھے اپنی فیملی یعنی بہنوں اور ماں باپ سے بھی ملوایا تھا۔

میں اکثر چھوٹی خالہ کے گھر بھی چلا جاتا تھا ۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ایک علیحدہ گھر میں رہتی تھیں ۔ ایک دن میں ان کے گھر گیا تو وہاں ان کی نند عقیلہ بھی آئی ہوئی تھی جو میری ہم عمر تھی۔ اس   کی سانولی سلونی سی رنگت تھی سیاہ کالی زلفیں ،بڑی بڑی آنکھیں ، نکلتا ہوا قد، موٹے موٹے دلکش ہونٹ ، پر کشش جسامت اور چال ڈھال میں ناز و ادا ۔ لڑکی کیا تھی بس اک آفت تھی اوپر سے پٹر پٹر انگریزی بولتی ۔ کسی بھی لڑکے کا دل چرانے کے سارے ساماں موجود تھے اس میں۔ہم سب ٹی وی پر کوئی انڈین فلم دیکھ رہے تھے۔ سب کیا خالو تو ہسپتال میں ملازمت کرتے تھے وہ اپنی جاب پر ہی تھے میں عقیلہ اور خالہ ہی تھے گھر پر۔ خالہ کو پڑوسن کسی کام کے سلسلے میں بلا کر اپنے گھر لے گئیں۔ اب گھر میں صرف عقیلہ اور میں ہی تھے جو فلم دیکھ رہے تھے۔ اچانک عقیلہ کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اس نے اٹھ کر میرے ہونٹوں پر بوسہ دے دیا ۔عقیلہ کے اچانک اس اقدام سے میں ہکا بکا رہ گیا ۔میں کسی بھی قسم کا ردِ عمل نہ کر پایا تھا بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ سچ پوچھیں تو مجھے اس  کا  یہ اقدام اچھا بھی بہت لگا تھا۔ مجھے یوں گم صم ہکا بکا دیکھ کر اس نے پھر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیے ۔ اب میرے اوسان بحال ہو چکے تھے ۔ اور ہم اس وقت تک بوس و کنار کرتے رہے جب تک خالہ کے قدموں کی آواز نہ آ گئی ۔ خالہ کے قدموں کی آواز سن کر ہم علیحدہ ہو گئے اور پھر سے فلم دیکھنے لگ پڑے ۔ فلم کے دوران ہماری نظریں ایک دوسرے سے لڑتی رہیں۔ مجھے عقیلہ بہت خوبصورت دکھائی دینے لگی ۔ میں اپنے دل میں اس کے لیے محبت  محسوس کرنے لگا اور دل ہی دل میں مستقبل میں اس کے ساتھ شادی کے پروگرام ترتیب دینے لگا۔خالہ جب کچن میں چلی گئیں اور ہمیں پھر سے خلوت میسر آئی تو ہم نے اب ایک دوسرے سے قول و قرار کیے ایک دوسرے سے لفظی اظہارِ محبت کیا۔

مجھے عقیلہ کے ساتھ بوس و کنار سے ایک عجیب سا سرور ملا ۔ میرا ایسا کرنے کو بار بار دل کرتا۔ میں آئے دن خالہ کے گھر جانا شروع ہو گیا اس آس پر کہ شاید عقیلہ آئی ہو اور میری اس سے ملاقات ہو جائے۔ ایک دو بار وہ ملی بھی اور ہم نے موقع پا کر  کچھ باتیں کیں ۔  لیکن ہر بار پہلے سے زیادہ طلب و تڑپ بڑھتی جاتی ۔ پھر بختو نے گھر میں فون لگوا لیا۔ عقیلہ کے پڑوس میں اس کی تین سگی بہنیں سہیلیاں رہتی تھیں اور ان کا باپ پی ٹی سی ایل میں تھا جس وجہ سے ان کا ٹیلی فون کا بل نہیں آتا تھا۔ عقیلہ نے جب کبھی خالہ کے گھر آنا ہوتا تو وہ مجھے فون کر دیتی اور میں بھی کسی نہ کسی بہانے خالہ کے گھر پہنچ جاتا۔ لیکن اب عقیلہ مجھے ترسانا شروع ہو گئی  ۔ خالہ جہاں بھی جاتیں وہ ان کے ساتھ ہو لیتی اور مجھے دیکھ کر ہنستی ۔

رشید بھائی کے پاس ان کا ایک دوست عبدل آتا تھا جو کسی سکول میں ٹیچر تھا اور شام میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ میں عقیلہ کی انگریزی سے بہت متاثر تھا اس لیے میں نے سوچا کہ میں بھی انگریزی سیکھ کر عقیلہ کو سرپرائز دیتا ہوں۔ ایک دن میں شام میں عبدل بھائی کے پاس پہنچ گیا اور انھیں کہا کہ عبدل بھائی مجھے انگریز ی سیکھنی ہے۔انھوں نے مجھ سے میری تعلیم کے بارے میں پوچھا تو میں نے انھیں بتایا کہ میٹرک میں دو سبجیکٹ فیل ہو گئے تھے ایک میں نے پاس کر لیا تھا اور دوسرےکا آخری چانس تھا وہ بھی امتحان دیا ہوا ہے پاس ہو گیا ہو گا۔ انھوں نے کہا ہو گیا ہو گا کا کیا مطلب ہے تم چیک کر کے بتاؤ ۔ دوسرے دن میں سکول گیا تو مجھے پتہ چلا کہ میں آخری چانس میں فیل ہو گیا ہوں اور اب میں فل فیل تصور کیا جاؤں گا۔ میں نے جا کر عبدل بھائی کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو انھوں نے مجھے میٹرک کرنے کا مشورہ دیا۔ میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا میں تو صرف انگریز ی سیکھنا چاہتا تھا وہ بھی عقیلہ کو دکھانے کے لیے ۔ میں سمجھتا تھا جو انگریزی بول لیتا ہے لڑکیوں کی نظر میں وہ شہزادہ سیف الملوک بن جاتا ہے. لیکن عبدل بھائی بضد تھے کہ تم قابل ہو صرف تمھاری توجہ پڑھائی پر نہیں ہے میں تمھیں پڑھاؤں گا اور تم سے کوئی فیس بھی نہیں لوں گا ۔ بس تم میٹرک کرنے کی تیاری کرو۔ آخر مجھے ان کے آگے ہتھیار پھینکنے ہی پڑے اور پھر سے پڑھائی کرنے پر رضامند ہو گیا۔

عبدل بھائی نے مجھے نویں جماعت کی کتابیں لے دیں اور رشید بھائی نے مجھے ڈولنس کی فیکٹری میں پیکنگ کا کام دلوا دیا ۔جہان پیکنگ کا کام تھا وہاں بہت عجیب عجیب سے کیمیکل تھے جن کی بُو ہر وقت پریشان رکھتی۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا اپنے لیے کچھ کمانا اب میرے لیے اشد ضروری تھا اس لیے یہ نوکری میرے لیے کسی غنیمت سے کم نہ تھی ۔ مجھے کمپیوٹر کا بھی شوق تھا جب فیکٹری میں کام ملا تو شارٹ کمپیوٹر کورسز کروانے والے ایک سکول میں شام کی کلاس میں داخلہ لے لیا ۔میں صبح ناشتہ کر کے فیکٹری چلا جاتا دن بھر وہاں کام کرتا پھر شام کو مارشل آرٹس کی پریکٹس کرتا اس کے بعد کمپیوٹر کی کلاس لیتا اور پھر رات نو بجے عبدل بھائی کے پاس چلا جاتا ۔ عبدل بھائی مجھے رات گئے تک پڑھاتے رہتے ۔

جب فیکٹری میں کام کرتے مجھے مہینہ ہو گیا تو مجھے اپنی زندگی کی پہلی کمائی میری پہلی تنخواہ اٹھارہ سو روپے کی صورت میں ملی ۔ وہ اٹھارہ سو روپے میرے لیے کسی قارون کے خزانے سے کم نہ تھے۔ میں اس دن فیکٹری سے چھٹی کر کے سیدھا بازار گیا اور ایک انتہائی خوبصورت ساڑھی چھ سو روپے میں خریدی۔ میں اپنی پہلی تنخواہ کے ساتھ ماں کو یہ ساڑھی تحفے میں دینا چاہتا تھا ۔ اس دن میں نہ تو کمپیوٹر کلاس پہ گیا نہ ہی مارشل آرٹس کی پریکٹس کے لیے ۔ بس اس دن میں اپنی ماں کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرا سب سے پہلے سامنا دادی اور تاج الدین سے ہوا۔ دادی نے میرے ہاتھ میں ساڑھی دیکھی تو بہت خوش ہوئی اور مجھے تنخواہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہنے لگی کہ میرا بیٹا یہ ساڑھی میرے لیے لایا ہے ناں ۔ میں نے انتہائی بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ “نہیں یہ میں اپنی ماں کے لیے لایا ہوں” ۔ میرا جواب سن کر دادی کے چہرے پر جو رنج کے تاثرات تھے وہ میں آج تک نہیں بھولا۔ شاید میں نے دادی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ دادی ہی وہ واحد ہستی تھی جو میرا خیال رکھتی تھی حتیٰ کہ جب اس کے بیٹے مجھ سے الجھتے تھے تب بھی وہ میری طرف داری میں بولتی تھی ۔ مجھے کھانا دیتی تھی۔ مجھے روازنہ پیسے دیتی تھی اور میری امید کی کرن بجھنے نہیں دیتی تھی۔ اور ماں کا رویہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ میرے ساتھ کیسا تھا ۔ لیکن مجھے پھر بھی ماں ہی دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں دادی کو نظرانداز کرتے ہوئے سیدھا سیڑھیاں چڑھ کر ماں کے کمرے میں گیا اور ماں کو ساڑھی اور ساری کی ساری تنخواہ بہت محبت اور خلوص سے پیش کی ۔

جاری ہے۔۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *