گمنام سفر۔محمد اعزاز /پہلی قسط

‎اپنے دوست کا میسج پڑھتے ہی عبداللہ نے کھڑکی کے پردے ہٹائے اور باہر کی جانب نظریں  مرکوز کردیں ، اُسے پہلے ہی ایکڑینڑن کی شامیں بہت خوبصورت لگتی تھیں، صاف ستھرا شہر کم آبادی، خاموشی، سکون اور یہ بارہ مہینے کا ٹھنڈا موسم اور شہر کی سب سے انوکھی بات یہ تھی  کہ اِس کا حسن آدھی رات کو مزید بڑھ جاتا ہے، لیکن آج زمین اور آسمان کی اتنی صفائی کا کمال تھا یا ناجانے کیا کہ چاند پورے جُوبن پہ تھا، اُس کی انڈونیشیا کی دوست نے اُسے ٹھیک کہا تھا ۔۔باہر دیکھو آج چاند غصب ڈھا رہا ہے ۔

کچھ دیر کھڑکی سے دیکھنے کے بعد اُسے ویسا ہی چاند لگا جیسا ہوا کرتا ہے شاید اُس کو بہت مدتوں بعد چاند کو ایسے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اِس لیے وہ بہت پُرکشش تھا، اُس نے ٹھنڈ کی پَروا کیے بغیر کھڑکی کا لَاک کھول دیا  اور اچانک ٹھنڈی ہوا کے پے در پے حملوں نے اُس کی ناک کو برف  کی مانند ٹھنڈا یخ  کردیا تھا، وہ اس کی پرواہ کیے بغیر چاند کا مزید مشاہدہ کرنے لگا، پھر اسے اندازہ ہوا کہ بہت زیادہ صفائی بِلاشبہ  چاند کے حُسن کو بڑھا رہی ہے۔

‎عبداللہ کھڑکی کو بند کرتے ہوئے کرسی کیجانب بڑھا   ،لیکن ذہن ابِھی بھی چاند کے حُسن میں اُلجھا ہوا تھا، اسی  لیے کرسی پر بیٹھتے ہی خود سے بڑبڑانے لگا کہ ۔۔پُرانے وقتوں میں لوگ چاند کی کتنی قدر کرتے ہوں گے جب یہ چاند   رات کی روشی کا واحد  ذریعہ تھا، جب یہ بہت سے بچوں کا چندا ماما تھا، جب یہ بہت سارے لوگوں کا راز داں تھا، سوچتے سوچتے ہی اُس نے اپنے آگے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے، کیا آج چاندا ماما سچ میں ہم سے بہت دور ہوگئے؟ یا پھر ہم آج بڑے ہوگئے ہیں ؟، کیا انسان نے آج راز دار کسی اور کو بنالیا یا چاند کے اور بہت سے دوست بن گئے؟، کیا چاند کی روشنی مَاند پڑ گئی یا انسان  نے بہت سے مصنوعی چاند دریافت کر لیے؟ ۔۔

عجیب و غریب سوچوں اور  سوالات سے تنگ آکر عبداللہ نے ساتھ میز پر پڑے موبائل فون کو اُٹھایا اور اَن لاک کیا، سکرین کے چمکتے ہی سامنے نمودار ہونے والی تاریخ نے اُسے ایک لمحے کے لیے سَاکت کردیا اور پھر اُس نےسوچ کے سمندر میں ایسا غوطہ کھایا کہ وہ ایک لمحے کو سانس لینا بھول گیا۔۔

7 اکتوبر 2017۔۔ تاریخ پڑھتے ہی اُس نے ویسے ہی فون کو لَاک کیا اور دوبارہ میز پر رکھ دیا ۔۔اپنی کرسی کو لیٹنے کے انداز میں کرتے ہی، اپنی ٹانگیں سیدھی کیں اور سامنے بیڈ پر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔ آنکھوں کا بَند ہونا تھا کہ یادوں کی ایسی ٹھنڈی آندھی چلی ،کہ   زندگی کے سخت اور تَھکا دینے والے سفر کو بھی کچھ دیر کو ہی سہی لیکن ستانے کا موقع مِل گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‎عبداللہ تمہارا فون کافی دیر سے بج رہا ہے، عبداللہ اُٹھ جاؤں دوپہر کا ایک بج چکا ہے، اور دیکھو کام والی آنٹی نے آج جلدی جانا ہے اب اُٹھو میں کمرہ صاف کروا دوں۔۔
‎ امی کے شور کے ساتھ ہی عبداللہ نے آنکھیں مَلتے فون کو دیکھا تو ‘نو کالر ای ڈی’ کالِنگ پڑھتے ہی اُس کے پورے جسم کو کرنٹ لگا اور اُس نے بیڈ سے چھلانگ لگادی اور بھاگ کر دوسرے کمرے میں گیا جہاں وہ آرام سے فون سُن سَکے۔۔
‎کالر۔۔۔ جی عبداللہ صاحب بات کر رہے ہیں ؟
‎عبداللہ۔۔ جی
‎کالر۔۔ میں برٹش قونصلیٹ سے بات کر رہا ہوں آپ کا پاسپورٹ آگیا ہے۔۔ آکر لے جائیے۔۔
‎عبداللہ کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اُس جگہ جَم گیا ہے، نہ  بول سکتا، نہ  ہل سکتا۔۔
‎کالر۔۔ جی آپ آرہے ہیں؟
‎عبداللہ نےفوراً  جواب دیا ۔۔جی بالکل۔۔
‎فون بند ہونے کی دیر تھی، پورے گھر میں عبداللہ کا شور تھا، وہ عبداللہ جس کی اُٹھنے کے بعد کی پہلی چائے مِس ہوجائے تو سارا دن سَر میں درد رہتا تھا، اِس کے حلق سے اِس وقت پانی بھی نہیں گزر رہا  تھا۔۔
‎امی میں جا رہا ہوں، بھاگنے کے انداز میں باہر آتے اُس نے اپنے ڈرئیوار کو بُلایا اور گاڑی نکالنے کو کہا، جیسے بس آج ہی کا دن ہے جس کا مدتوں سے انتظار تھا، گیراج میں پہنچتے ہی اُس کا کزن بلال اُس کے پیچھے تھا، ماما جان نے کہا ہے کہ میں آپ کےساتھ جاؤں۔۔
‎ہاں چلو چلو۔۔ دھکیلنے کے انداز میں عبداللہ نے اُس کو گاڑی میں بٹھایا اور ڈرائیور سے کہا ،برٹش قونصلیٹ چلو جلدی۔۔
‎ٹھیک ہے جی، عبداللہ صاحب ویزہ آگیا ہے۔ وہ ڈرائیور کے اِس سوال پر سخت غصے میں آگیا ۔۔اور دانت پستے ہوئے کہنے لگا۔۔ آپ گاڑی اگر تیز اور خاموش رہ کر چلائیں  تو مہربانی ہوگی۔۔ ڈرائیور کو اَندازہ ہوگیا کہ معاملا بہت گھمبیر ہے،
‎اُس کے بعد عبداللہ گھر سے قونصلیٹ تک یہی سوچتا رہا کہ کیا ہوگا، کیا میں اپنے خواب کو تعبیر دینے جا رہا ہوں ؟ نہیں اگر آج بھی کوئی مسئلہ ہوا؟ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ کیا میں ابو کو فون کروں اور اِس فون سے آگاہ کروں نہیں ؟۔۔بعد میں، اِس ٹائم کچھ نہیں ۔۔وہ سوچوں میں گھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔۔کہ گاڑی کو جھٹکے سے بریک لگی،دیکھا تو قونصلیٹ   کا صدر دروازہ اس کی نظروں کے بالکل سامنے تھا۔۔۔!

‎جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *