اماں کے تیس روپے۔ رابعہ احسن

آج تیسرا دن تها اس کے غبارے نہیں بکے تهے وہ سڑک پہ کهڑی کهڑی تهک گئی تو دوگلیاں چهوڑ کے لگے ہوئے ٹوٹے نلکے سے پیاس بجهانے کیلئے چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی ہوئی غباروں کا تهیلا گھسیٹنے لگی، تین دن سے غبارے نہیں بکے تهے اور دو دن سے گهر میں چولها بهی نہیں جلا تها۔ وہ راستے میں آنے والی کباڑیے کی دکان سے باہر لٹکے ہوئے گندے مندے تهیلوں میں ہاتھ مار کر روٹی کے چند ٹکڑے تلاش کر کے سب سے نظریں بچا کر بهاگ جاتی تهی۔ کالا سیاہ پهٹے ہوئے کپڑوں والاکباڑیا اپنی گندی زبان سے بهی زیادہ گندی گالیاں دیتا ہوا اس کے پیچھے بهاگتا اور کوئی پتهر اٹها کے زور سے اس کی طرف اچهال دیتا پر وہ ننهی ہانپتی کانپتی جان، اس کے پتهر سے تو بچ جاتی مگر اگلے دن راستے میں ابهرے ہوئے پتهر میں پهٹی ہوئی شلوار کا مٹی سے اٹا ہوا پائنچہ اڑا اور وہ منہ کے بل زمین پر گری ۔اس نے ڈر کے مارے فورا”پیچھےدیکها کباڑیا تو نہیں ہے پیچھے۔ زور کی سانس لیکر آرام سے سر زمین پہ رکھ دیا اور بے بسی سے بکهرے ہوئے غباروں کو دیکها۔ اٹهنے کی کوشش کی نقاہت سے ایک چکر سا آیا پر پهر ٹخنے پہ ٹهنڈا سیال مادہ رینگنے لگا تواس نے گالوں پہ مٹی میں ڈوبتے آنسووں سے بهرا ہوا چہرہ اٹها کے آسمان کی طرف دیکها۔

اسے یاد آیا اس دن اک گاڑی والے صاحب کا بچہ گرا تها اس کا خون تو صاف رنگ کا تها یہ اس کو اپنے خون کا رنگ اتنا گاڑها کیوں لگ رہاہے۔ اس ننهی جان نے پورا زور لگایا ، پہلے پائنچے پہ لگے تنکے اورمرغی کے پهنگ صاف کئے، پهر مٹی سے لتهڑے پائنچے سے خون صاف کیا وہ حیران تهی وہ گاڑی والے صاف ستهرے بچے کا خون تو رک نہیں رہا تها پهر اس کا خون کهرنڈ کی طرح کیوں جم رہا تها۔ پاس میں کهلا ہوا گٹر تها اس نے شکر کیا کہ روٹی کے ٹکڑے اور غبارے گٹر میں نہیں گر گئے ورنہ وہ کیسے نکالتی اس نے تجسس سے گٹر کے اندر جهانکا اک دم سے ڈر کے پیچهے ہٹ گئی ٹکڑوں پہ پلتی سہی مگر جان تو تهی
وہ پهر سے غبارےبیچنے کیلئے کهڑی ہوگئی کہ جهونپڑی والے ٹهیکیدار کا بڑی بڑی مونچهوں والا مکروہ چہرہ اس کے سامنے تها اس کو ٹهیکہ بهی دینا تها کچھ دن پہلے ماں کے پاوں پہ اینٹیں گرنے سے وہ چارپائی پر پڑ گئی اور کام پہ نہیں جا سکتی وہ پکی سڑک کے ساتھ بننے والی اونچی بلڈنگ میں مزدوری کررہی تهی بڑی مشکل سے ٹهیکیدار کی منتیں کر کر کے کام ملا تها ۔دیہاڑی میں سے تیس روپے روزانہ ٹهیکیدار کو بهی دینے تهے دیہاڑی جو اس نے دلائی اماں کو ان تیس روپوں سے بڑی امیدیں تهیں”اب سب سے جان پہچان کرلوں تو یہ والا ٹهیکہ مکے نا تو ٹهیکیدار کی سفار ش کے بغیر دیہاڑی مل جائے تو یہ تیس روپے تیرے جہیز کیلئے جوڑوں۔ بڑے پیسے ضائع ہورے” وہ جو دن بهر غبارے بیچتی تو خود کبهی کسی غبارے کو ہاتھ بهی نہیں لگاتی تهی۔ اماں نے کوڑے سے ٹاکیاںچن چن کے اس کیلئے کپڑے کی گڈی بنادی تهی وہ اسی سے کهیلتی رہتی ۔پر جب سے ماں کے پاوں پہ اینٹوں کا ڈهیر گر گیا اسے گهر آکے ماں کو روٹی کهلانی پڑتی وہ اٹھ نہیں سکتی تهی “میں تو تیرے داج کیلئے پیسے جوڑنے لگی تهی ادهر خود منجی سے جڑ گئی” سوکهی روٹی کو تیل لگا کے گرم کرتے ہوئے اس کی نظر سنہری رنگ کی چهوٹی سی چیونٹی پہ پڑی اس نے روٹی کو زور زور سے جهاڑا منجی پہ مارا تا کہ ساری چیونٹیاں جهڑ جائیں۔۔۔
“میں نے تو مام سے بول دیا ہے کہ میں صرف اسی برانڈ سے ایونٹ ڈیکوریٹ کراوں گی جس سے منسٹر اکمل خاں نے اپنی بیٹی کی شادی کا فنکشن ارینج کرایا ہے۔ یار سٹیٹس کی بات ہے پورے شہر میں اک نام ہے پہچان ہے ہماری، میں چاہتی ہوں لوگ اس شادی کو برسوں یاد کریں تمهارے اور میرے ڈریس کا کمبینیشن بالکل یونیک ہونا چاہئیے ،ایسا جیسے کوئی خواب میں چل رہا ہو۔ ولیمے کا ایونٹ ایسا ہونا چاہئیے کہ کسی کو احساس تک نہ ہو کہ یہ دیسی شادی ہے یا انگلش رایلٹی کا فنکشن” لندن کے ٹاپ بزنس مین کی بیٹی دومہینے بعد ہونے والی اپنی شادی کو لیکر فلی ایکسائیٹڈ تهی جبکہ دوسری طرف ہنوز خاموشی تهی کوئی ریسپانس نہیں تها۔سٹی کا نیا کمشنر زمان شاہ کهڑکی سے باہر سمندر کی ریت سے کهیلتی اس گندی مندی بچی کو دیکهنے میں اس قدر محو تها کہ دوسری طرف ہونے والے شہر کے اتنے بڑے ایونٹ کی پلاننگ سے اسے کوئی سروکار نہیں تها۔ ڈیوٹی پہ آتے ہی اسے صرف ایک بات کا احساس دن رات ستا رہا تها شہر کی حالت کو کیسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔
ماں کے پاوں میں پس پڑرہی تهی وہ سمجھ رہی تهی تهوڑے دنوں میں زخم ٹهیک ہوجائے گا مگر پاوں کے بعد ٹانگ بهی سوجهنا شروع ہوگئی ماں کی ہدایت پہ نوری نے کبهی ہلدی کبهی پهٹکڑی گرم کرکے تکیےکے غلاف میں لپیٹ کر سیک کیا، مگر فرق پڑنے کی بجائے ٹانگ سوجهتی جارہی تهی ماں درد سے کراہتی تو وہ ڈر کے رونے لگتی۔ ٹهیکیدار کے پاس جاکے پیسے مانگے تو اس نے گالیاں دے کر دفعہ ہوجانے کو کہا ساتھ والی مائی سے کبهی آئیوڈیکس لیکر تو کبهی ہلدی لیکر وہ ماں کو سیک کرتی تو ماں درد سے اور چیختی۔

وہ سمندر پہ پہنچی جلدی سے غبارے سائیڈ پہ رکهےآج پورے تیس روپے کے غبارے بک گئے اسے ماں کی تیس روپے والی بات یاد آگئی “اب اماں میرے لئے داج بنالے گی” یہ سوچ کر ہی وہ ریت پر چهلانگیں مارنے لگی جب پانی کی زوردار لہر آتی وہ ڈر کےپیچهے کو ہوجاتی اور جونہی پانی پیچهے کو ہٹتا تو بهاگ کے سیپیاں ڈهونڈنے لگتی آج تو اتنی ساری سیپیاں مل رہی تهیں، وہ ہنس رہی تهی سمندر پہ کوئی اپنا بریانی کا بهرا ہاٹ پاٹ بهول گیا ساتھ میں فروٹ کی ٹوکری بهی تهی۔ وہ بہت خوش ہوئی آج اتنی زیادہ چیزیں لیکے وہ گهر جاتے ہوئے کباڑیے کی دوکان پہ رکی اور ایک چهوٹا سا پتهر پهینک کے اسے منہ چڑا کے زور کی دوڑ لگادی وہ پیچھے سے پتهر مار مار کے اپنی گندی زبان سے بهی زیادہ گندی گالیاں بکتا رہا مگر آج وہ بہت خوش تهی کوئی اپنا کهانا سمندر پہ بهول گیا جو سارا اس کو مل گیا
زمان شاہ نے اسے پتهر پر سے ہاٹ پاٹ کو دیر تک دیکهنے کا مشاہدہ کیا، پهر دیکها اس نے ارد گرد دیکها کہ کوئی نہیں ہے تو ڈرتے ڈرتے آئی ہاٹ پاٹ کهولا اور بریانی کے چند نوالے جلدی جلدی ہاتھ بهر بهر کر منہ میں ڈالے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لےپهر وہ ٹوکری کے پاس گئی اور اتنے سارے پهل ایک ساتھ دیکھ کر اس کی میل سے اٹی ہوئی آنکهیں پهیل گئیں اس نے زور زور سے چهلانگیں لگائیں پهر کچھ دیر کهیلتی رہی اور تهوڑا تهوڑا کهاتی رہی۔ زمان شاہ خوش تها کہ اس نے اس ننهی سی پری کو تهوڑی سی چیزیں دے کر کتنا خوش کردیا ہے جو وہ چپکے سے وہاں رکھ آیا تها جہاں وہ روز اس ٹائم کهیلنے آتی تهی۔
وہ خوش خوش گهر کیلئے جارہی تهی بریانی اور پهلوں کا تهیلا بہت بهاری تها وہ تهوڑی تهوڑی دیر کو رکتی تهی اور سانس لیکر پهر چل پڑتی تهی مگر اس کے پیروں میں تو جیسے کسی نے بلیاں بانده دی تهیں اس کا بس نہیں چل رہا تها کہ کسی طرح اماں کو تیس روپے دے دے کہ وہ خوش ہوکے اس کا داج بنالے ۔۔اور وہ بس بریانی کهائے اورگڑیا سے کهیلے وہ بهاگی بهاگی جهونپڑی کی طرف جارہی تهی اس نے تیس روپے نکال کے مٹهی میں دبالئے میل سے لدا ہوا آدها پهٹا ہوا پردہ پیچهے کیا اماں سوئی ہوئی تهی پر وہ اس کے اٹهنے کا انتظار کیسے کرتی گلی کے باہر بیٹها کتا زور زور سے ہوک رہا تها اس نے تهوڑی سی بریانی نکال کے اس کے آگے ڈال دی کتنی دیر تک وہ کهیلتی رہی جب شام تک اماں نہ اٹهی تو وہ اماں کو آوازیں لگانے لگی”اماں چار ویلے ملنے لگے اب اٹھ جا” ماں نے جواب نہیں دیا وہ پهر کهیلنے لگ گئی پهر خیال آیا “اماں اج تیری اکھ ہی نہیں کهل رہی میں تیرےواسطے تیس روپے لیاندے اج تیکو اتنے دن سے ٹهیکیدار والے تیس روپے کی کنی فکر سی ناں ،لے اج میں لے آوندے تو اٹهن دا ناں ہی نئیں لے رہی”اس نے امرود نکال کے کهایا اس کو پتہ تها اماں نے صبح سے کچھ بهی نہیں کهایا ہوگا رات کباڑیے سے چرائے ہوئے آدهی آدهی روٹی کے دو ٹکڑے تهے کیڑیوں سے بهرے ہوئے جنهیں اچهی طرح جهاڑ کر اس نے تیل لگا کر اینٹوں کے چولهے پہ گرم کیا تها “بهکی ستی ریسیں” وہ چارپائی کے پاس گئی اندهیرا پهیل رہا تها جهونپڑی  میں لٹکا ہوا چهوٹا سا بلب بهی ٹمٹمانے لگ گیا ماں نے کوئی جواب نہیں دیا وہ ماں کو ہلانے لگ گئی ماں نہ ہلی اس نے زور زور سے ہلایا وہ پهر بهی ساکت پڑی رہی بلب کی بتی زور زور سے ہل رہی تهی اب وہ ڈر رہی تهی اس نے رونا شروع کردیا”اماں اٹھ ناں میکو ڈر لگ ریا”اسے ساتھ والی جهونپڑی والی مائی یاد آئی پهر اسے یاد آیا آج تو بازار والی سائیڈ پہ شادی ہے کسی کی، سب لوگ ادهر گئے ہوں گے برتن دهو دها کے بچا کچا کهانا کها بهی لیں گے لے بهی آئیں گے ساتھ۔
اسے خیال آیا کہ وہ ساری جهونپڑیوں میں اکیلی ہے اور ماں بهی نہیں اٹھ رہی اس نے ماں کی آنکهوں کی طرف دیکها وہ کهلی ہوئی تهیں پر ماں سورہی تهی چپ تهی جواب ہی نہیں دے رہی تهی وہ اونچی اونچی رونے لگی کسی جهونپڑی میں کوئی نہیں تها اسے نیند آرہی تهی وہ ماں کے ساتھ لگ کے منجی پر ہی سونے لگی پتہ نہیں کس لمحے اسے خیال آیا کہیں ماں مر تو نہیں گئی پهر لگا نہیں وہ کونسا زیادہ بیمار تهی ساتھ والی مائی کو مرنا چاہئیے وہ بڈهی بهی ہے اور ہر وقت بیمار بهی رہتی ہے۔ اس سوچ نے اسے تسلی دی۔ اس نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر اسے پیار کیا پچکارا “اماں اٹھ جا مجهے بہت ڈر لگ رہا  ہے۔ساتھ والے گهروں میں کوئی نہیں ہے تو بهی نہیں بولتی” گنتی کی چار جهونپڑیاں تهیں اور ان میں رہنے والوں کے دکھ سانجهے تهے۔

مگر سب بازار والی سائیڈ پہ وڈی کوٹهی میں شادی کهانے گئے تو رات ادهر ہی ٹهہر گئے وہ سوگئی صبح اذانوں کی آواز سے اٹهی۔ اٹھ کے ماں کو جگایا وہ پهر بهی نہیں اٹهی جهونپڑیوں میں جهانکا کوئی نہیں تها ۔ساتھ والی مائی سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی تو وہ اس کے پاس بهاگی “نانی ،اماں ستی نہیں اٹھ رہی کل شام توں میں اٹها رہی آں نہ بول دی بس اکهاں چا کهول سٹیاں نے پر اٹهدی نئیں میں انی ساری روٹی لیاندی اوہ وی نی کهادی”اس نے ساتھ والی مائی کو بتایا جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کی جهونپڑی کی طرف جارہی تهی روٹی کی بات سن کے رک گئی”تو روٹی کتهوں لیاندی آ تو تاں ویاہ تے وی نہ گئی”مائی ٹانگوں کی تکلیف کنٹرول کرتے ہوئے ہونٹ کهینچ کهینچ کر بولی”میں سمندر تے گئی ایساں ،اوتهے کوئی اپنی روٹی بهل گیا میں چهیتی چک لیاندی”دونوں آدهے ٹنگے ہوئے گندے سے پردے کو پیچهے ہٹاتی ہوئی جهونپڑی میں چلی گئیں مائی نے اماں کو آوازیں دیں ہلایا جلایا ہاتھ پہ ہاتھ لگا کے دیکها جب اس کی کهلی ہوئی آنکهوں کو دیکها تو اونچی اونچی رونے لگ گئی “اے نماننڑی تے مری پئی اے رات دی” نوراں جو ڈر رہی تهی مگر پر امید تهی کہ نہیں اس کا وہم ہوگا اماں کیوں مرے گی جبکہ مائی تو بڈهی بیمار ہوکے بهی زندہ ہے پر جب مائی نے بتایا تو وہ ماں سے لپٹ کے زور زور سے رونے لگی شام تک باقی جهگیوں والے آگئے مردوں نے جاکے مسجد والوں کو بتایا اور جلدی جلدی کفن اور نہانے کا بندوبست کیا اور دفنانے کیلئے چارہائی اٹها دی وہ روئی پاگلوں کی طرح روئی لاوارث لاش تهی جیسے تیسے کرکے دفنانی تهی وہ روتی رہی پیٹتی رہی ڈرتی رہی مائی اور جهونپڑی کی دوسری عورتیں اسے تسلی دیتی رہیں پراگلے دن مائی کو گاوں جانا پڑگیا اس کی نوں بیمار تهی بیٹے نے بندہ بهیج کے بلوالیا تها۔
رات کو اس کے پاس کوئی نہیں تها اس نے ماں کو بڑی آوازیں لگائیں پر مٹی کے نیچے جانے والے کب واپس آتے ہیں اپنی تکلیفیں ساتھ لے جاتے ہیں اور پیچهے والوں کو دن رات کی تکلیف میں ڈال جاتے ہیں وہ غبارے بیچنے چلی جاتی کبهی ادهر بیٹهتی کبهی ادهر۔ شام سے پہلے گهر آتی اور رات کو اماں کی چارپائی کے نیچے گهس کے روتی رہتی اور ڈرتی رہتی دوسرا دن تها ساتھ والی مائی کو گهر سے گئے ہوئے اور تیسرا دن تها ماں کو مرے ہوئے، آدهی رات کو جب گلیوں کے سارے کتے ہوکنے لگے تو ان کی جهونپڑیوں والا کتا اس کے پاس چارپائی کے نیچے آکے سوگیا وہ سوئی ہوئی تهی پر پاس کسی کے سانس لینے کی آواز نے اسے نیند میں ڈهارس دی اور وہ نہیں ڈری چند راتیں ایسا ہی ہوتا رہا اتنی چهوٹی سی بچی کو کسی وجود کی گرمائش چاہئیے تهی سانسوں کی آواز چاہئے تهی وہ نیند میں کتے پہ ہاتھ بهی رکھ دیتی تهی ماں کا کائی نعم البدل نہیں پر مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاسکتا جو منوں مٹی کے نیچے چلے جاتے اپنے پیچهے دهکے کهانے والوں کو مار تو نہیں سکتے ماں کے مرنے کے بعد اس کا دل نہیں لگتا تها کہیں بس پاس پاس غبارے بیچ آتی اور آکے ماں کے کپڑوں اس کی چیزوں سے لپٹ لپٹ کر روتی رہتی ۔شاہ زمان نے بالآخر اسے ڈهونڈ نکالا جب وہ اذانوں کے وقت خاموشی سے کتے کے گلے میں بازو ڈالے زمیں پر چارپائی کے نیچے چهپ کے سورہی تهی شاہ زمان کا دل چاہا زمین پهٹے اور وہ اس میں گر جائے وہ زمین پر ہی بیٹھ کر کتنی دیر اس ننهی جان کی جانوروں سے بهی بدتر حالت پہ روتا رہا پهر اس نے بڑے ہی آرام سے اسے زمین سے اٹهایا اپنی جیپ میں لٹادیا۔
“لاوارث اور گندے ہوں گے توکیا ہوا ہم انهیں صاف ستهرا رکهیں گے اچهی تعلیم دیں گے ویسے بهی اتنے بڑے گهر کا ہم دونوں کریں گے بهی کیا”وہ اپنی منگیتر کو سمجهارہا تها کہ شادی پہ فضول خرچی کی بجائے ہم اپنے گهر پہ لاوارث اور یتیم بچوں کیلئے آشیانہ بنائیں گے اور ان کی دیکھ بهال کریں گے منگیتر کے تو پیروں تلے سے اس بات پہ زمین ہی نکل گئی “اور ہمارا سٹیٹس”اس کے منہ سے بمشکل یہ ہی نکل پایا”بهاڑ میں گیا تمهارا سٹیٹس”اس نے ریسیور رکھ دیا وہ کتنے دنوں سے اسے سمجهارہا تها پهر منگنی کی انگوٹهی واپس آگئی شادی کی تیاریاں رک گئیں زمان شاہ نہیں رکا اور آج بیس سال بعد وہ سر فخر سے بلند کرکے سب کو اپنے آشیانے کے بچوں کے کارنامے سناتا نہیں تهکتا۔
“آپ نے خو تو شادی کی نہیں ساری عمر ،اب مجهے کیوں مجبور کررہے ہیں میں آپ کو چهوڑ کے کہیں نہیں جاوں گی “نوری روہانسی ہوگئی تهی ماں باپ کی شفقت کا وہ کون سا پہلو ہوگا جو اس شخص نے ان بچوں کی زندگی میں پورا نہ کیا ہو۔ جان دیتا تها ان لاوارثوں پہ اور وہ جو اب اس کے وارث بنے بیٹهے تهے اس پہ جان دیتے تهے۔ “شادی کرکے انسان بچے پیدا کرتا ہے اور مجهے تو تم سب مل ہی گئے تهے تو میں شادی کرکے کیا کرتا اور کون پالتی تم سب کو میرے ساتھ اپنی جوانی اپنے ارمان تیاگ کے” “تو آپ ہمیں کسی ہاسٹل میں بهی ڈال سکتے تهے “نوری منہ پهلا کے بولی ،زمان شاہ کا چہرہ زرد پڑگیا۔
اس نے ٹیبل سے سگار اٹهائے”جب کبهی تمهاری اولاد ہوگی ناں پهر تمهیں احساس ہوگا اولاد کا دکھ کیا ہوتا ہے”اس کی آواز رندھ گئی تهی وہ تیز تیز قدم اٹهاتا ہوا ٹی وی لاونج سے چلاگیا اور سب لوگ نوری کو کوسنے لگ گئے وہ بهی خود کو ساری رات کوستی رہی نہ وہ پیدا ہوتی نہ اس کی ماں مرتی نہ ہی زمان بابا اپنی محبت سے دستبردار ہوتے اور نہ یوں ساری عمر تنہائی میں گزارتے
اس کی ضد ہار گئی اور زمان بابا کی شفقت جیت گئی وہ عمر احمد سے شادی کیلئے راضی ہوگئی تهی جو ابهی مجسٹریٹ کا ایگزام پاس کرکے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پوسٹ پر لگا تها اور سی ایس ایس کی تیاری کر رہاتها ۔شادی سے ایک رات پہلے اس نے پرانا صندوق کهولا ماں کی چیزیں نکالیں اور ان سے لپٹ کے خوب روئی اس کو معلوم تها کہ کل افراتفری میں شاید وقت نہ ملے اور پهر ماں کے دوپٹے سے بندهے ہوئے تیس روپے بهی مل گئے وہ بہت روئی ان تیس روپوں کو ماں ترس ترس کے مر گئی کاش ٹهیکیدار نہ لیتا تو ماں کے پاس ہر روز تیس روپے ہوتے وہ دبے پاوں زمان بابا کے کمرے میں گئی اور ان کی سائیڈ ٹیبل میں پیپرز کے نیچے رکھ آئی۔
شادی ہوگئی اسے بهی مجسٹریٹ کی پوسٹ مل گئی دونوں سی ایس ایس کی تیاری ساتھ ساتھ کرتے رہے۔
اک رات زمان شاہ نے اپنے دراز سے کوئی ضروری کاغذ نکالے تو نیچے سے تیس روپے نکلے وہ فورا”سمجھ گیا یہ کون رکھ گیا وہ آرام دہ کرسی پر بیٹها کمرے کی چهت پہ آنکهیں مرکوز کئے بیٹها رہا اور سوچتا رہا کہ کسی کو تو آگے بڑهنا پڑتا ہے سماج کو بچانے کیلئے۔سماج کی ننهی کونپلوں کو سینت سینت کے رکها جاتا ہے ورنہ اگر یہی حالات کی چکیوں میں مسلی جائیں تو سماج کو کیسے بچایا جائے گا۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *