کون تھا عیسیٰ؟۔۔۔۔(12)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خبر ہے کہ چین میں ایغور اور قازق مسلمان چینی باشندوں کو ان کے صدیوں پرانے گھروں سے اکھاڑ کر سینکڑوں میل دور تربیتی کیمپوں میں بھرتی کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں اسلامی روایات (نماز، روزہ، وغیرہ) کی پیروی نہیں کرنے دی  جاتی۔مساجد کو تالہ بند کر دیاگیا ہے ۔

امریکہ نے چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغور برادری کے افراد سے مبینہ بدسلوکی کے الزام میں 28 چینی اداروں کو ’بلیک لسٹ‘ کر دیا ہے۔یورپ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بیجنگ مسلمان “اویغور” اور “قازق” افراد کو حراستی کیمپوں میں قید کر رہا ہے۔ چین انھیں انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ’ہنرمندی کے تربیتی مراکز‘ کہتا ہے۔
ایک خبر کے مطابق اِن دنوں چونکہ کرسمس کی آمد آمد ہے تو یہ مسلمان قیدی لکڑی کے کام کی تربیت کے پروگرام میں عیسیٰ  کی چھوٹی چھوٹی شکلیں گھڑ رہے ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں یورپ، امریکہ اور دوسرے عیسائی ملکوں کو بر آمد کی جائیں گی اور وہاں ڈالر  سٹوروں پر ایک ایک دو دو ڈالر میں بکیں گی۔ ان کے بنانے میں کوئی لاگت نہیں آتی کہ ایغور ، قزاق اور دوسرے مسلمان ان نام نہاد “تربیتی مراکز” میں یہ کام صرف اپنے رہنے کی قیمت کے طور پر ادا کرتے ہیں۔

راقم الحروف نے یہ نظم ایک مسلم ایغور ، جسے نماز ، روزہ اور دیگر اسلامی روایات سے دور رکھ کر یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے ، کی زبان سے کہلوائی ہے، اور” نظم کہانی”کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔کیا ہمارے وطن عزیز کے رہنما چین کا دورہ کرتے ہوئے ان کیمپوں کی   طرف دیکھنے  کی تکلیف بھی گوارا فرمائیں گے؟

کون تھا عیسیٰ؟

مجھ کو تو کچھ علم نہیں ہے۔۔۔ کون تھا عیسیٰ؟
میں تو لکڑی کا اک ادنیٰ کاریگر ہوں
میرا قصور تو صرف یہی ہے ۔۔۔میں مسلم ہوں
میں قازق ہوں

میری ورکشاپ میں سارے
قازق ہیں یا دوسرے مسلم آیغور ہیں
چین کی ڈکٹیٹرشپ میں پِستے
اب تو ہمیں یہ بھول گیا ہے
مسجد ہے کیا چیز، اذانوں کی آوازیں کیا ہوتی ہیں
یا نماز کے کیا اصول ہیں
روزہ رکھنا ایک جرم ہے

اک چینی مسلم ہونے کے جرم میں، لوگو
میرا کام ہے مغرب کے ملکوں کی خاطر
کاٹ کاٹ کرلکڑی کی تصویریں گھڑنا

آج کل تو کرسمس کی آمدآمد ہے
ورکشاپ میں اپنے جیسے
دیگر کارکنوں کے ساتھ ہی
لکڑی کے تختوں کو کاٹ کے عیسیٰ کی شکلیں گھڑتا ہوں

کون تھا عیسیٰ؟ کون سے ملک کا باسی تھا وہ؟
کچھ تو علم ہے مجھ کو بچپن سے ہی ، لیکن
اب تو سب کچھ بھول گیا ہوں

تختہ بندی میں عیسیٰ کی
پتلی پتلی ٹانگیں
پاؤں میں کیلیں
گھُٹنے مُڑے تُڑے سے
بھوکا، پچکا پیٹ۔۔۔۔
ہر اک پسلی جیسے اُبھری اُبھری، سوکھی سوکھی
سولی کے دائیں بائیں دونوں تختوں پر
سیدھے ہاتھوں میں میخوں سے نیچے ٹپکے
سوکھے خون کے اک دو قطرے
جیسے خون کی گردش جسم میں رُک سی گئی ہو
جھکی ہوئی گردن آگے کو
چہرے کے دائیں بائیں اک نور کا ہالہ
اور سر پر؟ اک تاج، مگر تنکوں، کانٹوں کا

ماہر فن ہوں
جب بھی یہ تصویر بناتا ہوں تومجھ کو
ایسے لگتا ہے
ساخت مجسّم ہو اُٹھی ہے
عیسیٰ جیسے سچ مچ اپنے آخری دم تک آ پہنچا ہو

لیکن میں تو
خود سے یہ پوچھا کرتا ہوں
کیا میں خود بھی عیسی کی مانند نہیں ہوں؟
جس کو اس کے اپنےمذہب کی پاداش میں
ساری عمر قید میں رہ کر یہ بیگار کا کام ملا ہے؟

جانتا ہوں، یہ سب تصویریں، سارے کھلونے
باہر کے ملکوں کو بر آمد ہوتے ہیں
دو ڈالر کی قیمت کی پرچی چپکا کر
میں اس نئے بنے عیسیٰ کو
اک ڈھیری میں رکھ دیتا ہوں
نصف مکمل اک مورت دوجی ڈھیری میں
ایک نئے عیسیٰ کی شکل میں بننے کو تیار کھڑی ہے
میرا “کوٹا” ایک روز میں دس عیسیٰ ہیں

ساری دنیا میں مسلم آزاد ہیں ، لیکن
صرف چین میں کیوں غلام ہیں؟
کون یہ پوچھے ان سے بھائی؟

مسلم ملکوں کے حاکم تو
جب دورے پر آتے ہیں ، تو
ان کو یہ “تربیتی مرکز” کبھی نہیں دکھلایا جاتا

میں تو، لوگو، اک قیدی سے بھی بد تر ہوں
کھانا، جوتے، وردی، اور سلاخوں کے پیچھے اک بستر
کے بدلے میں مجھ کو یہ بیگار کا کام دیا جاتا ہے
قیدی ہوتا تو میں اپنی
بیس برس کی جیل کاٹ کرباہر جاتا
اب تو، لیکن، موت کا پروانہ ہی میری رہائی ہو گا

کہتے ہیں عیسیٰ تو خدا کا ہی بیٹا تھا
اور اس نے تو
اپنے آپ ہی
سولی پر چڑھنے کی کلفت کو بھی
یوں برداشت کیا تھا
ان لوگوں کی خاطر
جو تائب تھے اور بخشش کی خاطر اس پر
اپنی ارادت لے آئے تھے

کوئی مجھے بتلائے، کیا میں
عیسیٰ کے چوبی تصویریں گھڑتے گھڑتے
اس کو “عیسیٰ  علیہ اسلام” کا اعلیٰ رتبہ دیتے دیتے
لمبی قید میں جیتے مرتے
اپنے سب نا کردہ گناہوں سے چھٹکارہ پا سکتا ہوں؟

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کون تھا عیسیٰ؟۔۔۔۔(12)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

  1. معیشت، طاقت اور خوشنودی کی صلیبوں کی پوجا کرنے والے کبھی چین سے کچھ نہیں پوچھیں گے، مغرب کی پابندیاں بھی ’’جو غم ہوا اسے غمِ جاناں بنا دیا‘‘ والا کام کر کے دھوکہ دے رہے ہیں ورنہ بیچارے ایغور مسلمانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ آپ نے عیسیؑ کی مورتیں بنانے کو بڑی خوبصورتی سے اس نئی صلیب سے جوڑا ہے۔آداب اور بہت سلامتی

  2. Undoubtedly Dr Anand has magnificently described the plight of Uighur minority in China’s western region of Xinjiang. In a subsequent email he has lamented that Pakistan despite being a close friend of China never raised this issue before Chinese officials. The question is which other country has confronted China on the repression of Uighur Muslims. American negotiators are in and out of Beijing every week. Has President Trump ever asked China to stop violating the human rights of its minorities . Has any other Muslim country ever dared demand that this brutality should be stopped. Western media has condemned this atrocity as “” genocide”” but it never demanded that their governments should take actions against this “”genocide”” Why it is the sole responsibility of Pakistan to demand that Uighurs should not be brutalized. India wants Pakistan to destroy its relations with China because New Deli cant tolerate the Pak- Chinese geostrategic partnership in the region it wants to dominate..
    The economic heft of China would not let even a super power to come to the rescue of Chinese minorities. The entire world is playing the same hypocritical game in Kashmir. Here the brutal oppressor is India strengthened by its economic clout of a market of billion plus consumers. Dr Ananad , being a great poet has a responsibility to raise his voice in favor of eight million Kashmiris who have been incarcerated in their houses for over sixty days now.. .

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *