کتھا چار جنموں کی،نیا روپ .ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔ قسط4

1945ء تک
نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا، ایک بار بابو جی کے ساتھ بے بے(دادی ماں) کو نوشہرہ لانے کے لیے، کیوں کہ اکیلی وہ بیمار پڑ گئی تھی اور دوسری بار پوری گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے کے لیے۔ میرے دل میں ارمان تو بہت تھے کہ میں اپنے پرانے دنوں کی یاد تازہ کروں گا، گلی ڈنڈا کھیلوں گا، پتنگ اڑاؤں گا، جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر مرغابیوں کو دیکھوں گا، اور ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاؤں گا، لیکن کیا ہو گیا تھا مجھے؟ میں ان میں سے کچھ بھی نہ کر سکا۔ ان تین چار برسوں میں شاید میں چالیس برس بڑا ہو گیا تھا۔ میں نے نوشہرہ اور راولپنڈی میں کئی نئے روگ پال لیے تھے۔ ایک تو ڈاک کی پرانی ٹکٹیں اور پرانے سکے جمع کرنے کا تھا، اور دوسرا اردو کے قسم قسم کے رسالے اور ناول پڑھنے کا۔ایم اسلم کے رومانی اور دیگر ناول نگاروں کے سماجی ناولوں سے لے کرتیرتھ رام فیروز پوری کے جاسوسی ناولوں تک،اور رسالوں میں ”لطف شباب“، ”مست قلندر“، مستانہ جوگی“ وغیرمیرے محبوب وقت کاٹنے کے ذریعے تھے۔میں خود بھی شعر کہنے لگا تھا، مختصرافسانے لکھنے لگا تھا اور کئی رسالوں میں میری نگارشات چھپنے لگی تھیں۔

میرے دوسرے پرانے دوست اسی طرح ہی گاؤں چھوڑ کر دور دراز کے شہروں میں منتقل ہو گئے تھے۔ اور مجھے اب گاؤں میں زیادہ دلچسپی اپنے آپ میں تھی۔ کئی بار بوڑھے فلسفیوں کی طرح گھنٹوں بیٹھ کر انسان کے وجود، جسم اور روح کے باہمی تعلق، پیدائش سے پہلے اور موت کے بعد کیا ہوتا ہے، آوا گون اور شہود الاصل کے ہندو فلسفے، اسلام کی وحدانیت او ر ایرانی تصوف اورہندو بھگتی تحریک میں موافقت کے پہلوؤں پر غور کرتا۔میرے بابو جی اکثر کہتے، یہ جتنی دیر پڑھتا ہے اس کے بعد اس سے دگنی دیر بیٹھ کر ’ذہنی جگالی‘ کرتا ہے۔ میرا ایک اور مرغوب ترین مشغلہ بے بے کے پاس بیٹھ کر اس سے اپنے بزرگوں، باپ، دادا، پردادا، اور ان کے باپ دادا، پردادا کے بارے میں، جتنا مجھے یاد تھا، پوچھنا اور پھر اپنی ڈائری میں اسے نوٹ کرنے کا تھا۔ یہ کام میں بہت دلچسپی اور سائنسی ڈھنگ سے کرتا تھا، یعنی چارٹ اور گراف بنا کر سلسلہ در سلسلہ شجرہ نسب بناتا تھا۔ مجھے کچھ باتوں کا علم چاچا بیلی سے بھی ہوا، جو مجھ سے اخبار پڑھوا کر سنتا تھا۔ یہ اخبار لاہور یا شاید راولپنڈی سے چھپتا تھا اور گاؤں پہنچتے پہنچتے اسے پندرہ دن لگ جاتے تھے۔
چاچا بیلی کی پنساری کی دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر اخبار میں سے دوسری جنگ عظیم کی خبریں آس پاس بیٹھے ہوئے سودا سلف خریدنے آئے ہوئے جاٹوں اور دیگر دکانداروں کو سناتا، تو سارے اس سے پوچھتے یہ فرانس کہاں ہے، نار منڈی میں کیا ناریوں کی منڈیاں لگتی ہیں، چرچل اور ہٹلر دو اچھے انسانوں کی طرح بیٹھ کر فیصلہ ہی کیوں نہیں کر لیتے۔جنگ کی آخر نوبت ہی کیوں آئے، جیسے گاؤں میں بھی چار بزرگ اکٹھے بیٹھ کر جھگڑوں کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جو سب کو قابل قبول ہوتا ہے۔ کیوں نہیں وہ مہاتما گاندھی سے کہتے کہ آ کر ہمارا آپس کا جھگڑا نپٹا دے۔۔۔

چاچا بیلی اپنے خاندان کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا، کیسے ہمارے ہی قبیلے کے پرکھوں میں ایک راجہ پورس ہوا کرتا تھا جس نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا تھا۔ چاچا بیلی نے ہی مجھے بتایا تھا کہ ان کے قبیلے کا نام ہندوؤں میں ”کھُکھرائن“ہے اور مسلمانوں میں ”کھوکھر“ ہے۔ پہلے سبھی ہندو تھے، جنہوں نے دین اسلام قبول کر لیا وہ تو کھوکھر ہی کہلاتے رہے لیکن ایک شاخ جس نے اسلام نہیں قبول کیا تھا، وہ کھُکھرائن کہلائی۔۔۔میں بیٹھ کر اپنی میٹرک کی تاریخ کی کتابوں کو پھر کھنگالتا۔ تومیرے پرکھوں میں ہی وہ بہادر راجہ پورس تھا جس نے سکندر کو للکارا تھا اور حالانکہ شکست کھائی تھی تو بھی جب زخمی حالت میں سکندر کے سامنے پا بجولاں اس کو پیش کیا گیا تھا، تو سکندرنے اس سے پوچھا تھا، ”بول راجہ، تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟“ مورخ لکھتے ہیں کہ ایک کٹے ہوئے ہاتھ اور پھوٹی ہوئی ایک آنکھ جو بہہ کر اس کے گال تک آ گئی تھی، اور لا تعداد زخموں کے باوجود اس نے سر اٹھا کر بلند آواز میں کہا تھا، ”وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے!“ کہاوت ہے کہ سکندر کو یہ جواب اور پورس کی بہادری اتنی پسند آئی تھی کہ اس نے دریائے سندھ کے جنوبی علاقے کو ایک بار پھر پورس کے حوالے کر دیا تھا۔ یونانی مورخ بوتنوسؔ لکھتا ہے، کہ اس بیچ میں سکندر کے فوجیوں نے دریائے سندھ سے آگے جانے سے انکار کر دیا تھا اور یہ بھی ایک وجہ پورس کو اس کا علاقہ لوٹانے کی تھی کہ وہ واپس بحیرہ عرب تک سندھ کے راستے نئی بنائی گئی کشتیوں میں سوار ہو کر جانے میں اس کی امداد کرے۔

مجھے گھر میں ہی پڑے  ہوئے  دادا جی کے وقت کے کچھ بہی کھاتے لال رنگ کے کپڑے میں مڑھے ہوئے مل گئے جن میں میرے دادا جی نے اپنے خاندان کی پوری تاریخ تا حال یعنی انیسویں صدی کے آخر تک لکھ رکھی تھی۔ ان بہی کھاتوں میں لکھا ہوا تھا کہ سکندر کے بیس ہزار فوجی تین سال تک یہ کشتیاں گھڑتے گھڑتے راجہ پورسؔ اور راجہ امبھیؔ کی سلطنتوں میں رہتے ہوئے کھوکھر قبیلے کی کئی عورتوں سے گھل مل گئے تھے اور ان میں سے نصف کی تعداد نے سکندر کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا کیونکہ اس بیچ میں وہ بچوں کے باپ بن چکے تھے اور روزانہ کی جنگ، خونریزی اور لوٹ مار سے تنگ آ کر اپنی زندگی ہندوستان میں ہی رہ کر کاٹنا چاہتے تھے۔ اس کے دادا جی نے لکھا تھا، ”کسے علم ہے، ہم کھوکھروں یا کھُکھرائینوں کی رگوں میں کتنا خون ان یونانی فوجیوں کا ہے۔“ ان بہی کھاتوں کے خزانے سے مجھے کئی اور باتوں کا پتہ چلا کہ سکھوں کے راج کے زمانے میں ہمارے ہی پرکھوں نے کابل تک فوج کشی کرتے ہوئے سکھوں کے فوجی دستے کی رسد کا انتظام اپنے ذمّے لیا تھا جس سے انہیں ”امیر رسد“ کا خطاب ملا تھا۔ میں بیٹھا بیٹھا اس قسم کی ذہنی جگالی کرتا رہتا۔ اور اپنے پرکھوں کے بارے میں سوچتا رہتا۔

پھر مجھے خیال آیا کہ میں گاؤں کے ایک اور بزرگ منشی تیرتھ رام سبھروال سے پوچھوں، جو خود نوّے برس کا تھا اور اپنے وقتوں میں تحصیلدار تلہ گنگ کا منشی مال رہ چکا تھا۔ تیرتھ رام نے مجھے کچھ اور واقفیت دی کہ کھُکھرائن قبیلے کی ہندو ذاتوں میں آنند، سیٹھی، ساہنی، سبھروال، چڈھا، کھنہ(اس نے صحیح تلفظ ”خناح“ بتایا جو کہ ایک یونانی لفظ ہے) پیش پیش تھیں، یہی ذاتیں مسلم کھوکھروں میں آج تک موجود ہیں۔ایک بہی میں کوٹ سارنگ کے آس پاس کے گاؤں اور ان میں بسے ہوئے قبیلوں کی تفصیل بھی دی گئی تھی۔ ملکوال گاؤں کے بارے میں لکھا تھا کہ وہاں بسنے والے سارے کھوکھر آنند تھے لیکن جب اورنگ زیب کے زمانے میں انہوں نے مجموعی طور پر اسلام قبول کیا تو انہیں جاگیر کے طور پر آس پاس کی زمین دی گئی اور انہوں نے خود کو ’ملک‘ کہلانا پسند کیا۔ تبھی کئی ہندو’آنند‘ بھی خود کو’ملک‘ لکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یہ14 ،15 برس کے بچے کے لیے ایک تازیانہ تھا کہ وہ خود سے پوچھے کہ وہ کون ہے؟ اس میں کتنا خون خالصتاً ہندوستانی ہے، کتنا یونانی ہے اور کتنا اُن پٹھان حملہ آوروں کا ہے، جو فوج کشی کرنے کے بعد پہلا کام عورتوں کی عزت لوٹنے کا کیاکرتے تھے۔ میں کئی سوال خود سے ہی کرتا رہتا اور ان کے جواب سوچتا رہتا۔ بقول میرے بابو جی یعنی والد صاحب ؔؔ،ست پال کا کام ذہنی جگالی‘ کا ہے“، یہ درست بھی تھا کہ میری ذہنی جگالی نے مجھے شاعری، مختصر افسانہ نگاری، ناولوں، رسالوں او ر متفرق کتابوں کے مطالعہ میں چار پانچ برسوں تک الجھائے رکھا۔

سیلف پورٹریٹ

پچاس سے ساٹھ تک؟ ذرا اس سے کم، زیادہ؟
نہیں، غلط ہے
کہ عمر تو داخلی تصّور ہے۔۔۔اور برسوں میں ناپنا تو
حساب دانی ہے۔۔اور وہ دیکھنے میں اب بھی
جوان لگتا ہے، صرف چالیس کا یا اس سے
ذرا زیادہ!

کبھی کبھی جب وہ اپنے چہرے کوآئینے کی
صبیح نظروں سے دیکھتا ہے
تو اس کو لگتا ہے، اس کی آنکھیں
تو اس کی ماں کی ہیں، ہاں، وہی ہیں
بڑی بڑی سی، سیاہ  حلقے سے، رت جگوں کی
تھکاوٹوں کے دبیز پردوں
کی دھند میں نیم وا خمیدہ نظر کی خفگی
جو ڈھلتی جاتی ہے گرم اشکوں
کی شفقتوں سے کھلے گلوں میں!

کشادہ، روشن جبیں اسے باپ سے ملی ہے
مدبّرانہ، تعقل و ہوش کی علامت
عمیق، دانشوری کی برّاق جھیل جیسی
سیاہ، کچھ کچھ سپید، روکھے
بریدہ بالوں کا ایک گچھا
جو سر جھٹکنے سے صاف، روشن جبیں کو اپنے
بکھرتے بادل کے ایک جھرمٹ سے ڈھانپ دیتا ہے…
تیز نظریں
دبیز شیشوں کو چیر کر جیسے پار ہوتی ہوئی نگاہیں

وہ اپنے چہرے کے خال و خد میں
ہزاروں چہروں کی بنتی مٹتی ہوئی شبیہوں کو دیکھتا ہے
وہ نقش جوبرسہا برس سے کہیں وراثت کی بوریوں میں بندھے ہوئے تھے
جو پشتہا پشت اس کا ورثہ رہے ہیں، اس کے
وجود میں جذب ہو گئے ہیں
وہ کچھ نیا ہے، تو کچھ پرانا!

پچاس سے ساٹھ؟ اور آگے؟
نہیں، غلط ہے، وہ دیکھنے میں
جوان لگتا ہے، صرف چالیس کا، یا اس سے
ذرا زیادہ!
(یہ نظم اپنی ساٹھویں سالگرہ پر چنڈی گڑھ میں خلق ہوئی اور فیکلٹی کی طرف سے میری ریٹائرمنٹ اور ”ششٹھی پورتی سماروہ“ (ساٹھ سال کی عمر پورا کر چکنے کی تقریب) میں پڑھی گئی)۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *