یادوں کے جھروکے سے ۔عصمت طاہرہ

 

ایک زمانے میں میں انٹیریو میں شیریڈن کالج میں انگلش گرامر سیکھنے جاتی تھی۔میرا ٹیچر ایک ایرانی تھا، اس کا نام مجھے بالکل یاد نہیں مگر پہلے دن کا تعارف بہت یاد ہے، وہ جب کلاس میں داخل ہوا تو اسکے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا۔اس پنجرے میں ایک پستہ قد سفید کتیا تھی۔ٹیچر نے اپنے تعارف کے بعد کتیا کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ جب یہ(کتیا) میری طرف محبت سے دیکھتی ہے تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ اسمیں میری ماں کی روح ہے، کیونکہ میں جب گھر سے نکلتاہوں میری ماں ایسے ہی مجھے محبت سے دیکھتیتھی۔۔۔ میں نے دیکھا ،یہ سن کر صرف مسلمان ممالک کے سٹوڈنٹ اپنی ہنسی روک رہے تھے۔ہوا یوں کے خلاف توقع میں نے پہلا سمسٹر اچھے طریقے سے پاس کر لیا اور اگلے سمسٹر کے لیئے ۱۲۰۰ ڈالر برسری منظور ہو گئی
میرے بچوں کو ایک بیماری ہے کہ جب بھی میں نظروں سے اوجھل ہوئی ان کو میری یاد بری طرح ستانے لگی۔ بیٹے کے بار بار اصرار پر مجھے پاکستان آنا پڑا۔ بیٹے کی طرف سے ٹی وی کے لیئے کام کرنے پر پابندی تھی اور گھر بیٹھے بیٹھے بوریت ہورہی تھی۔
ایک دن میں نے فوجی فاونڈیشن والوں کا ایک اشتہار پڑھاکہ وہ مائیکرو سافٹ ایکس پی اور adobe photoshop سکھا ریے ہیں۔۔۔ سو میں نے معقول فیس ادا کرکے دونوں کلاسوں میں داخلہ لے لیا۔۔ ٹائیپنگ میں نے مےوس بیکن انسٹال کر کے سیکھ لی،( ۵۰ روپے کی pirated copy سے)۔۔۔غالبا کوئ ریٹائرڈ میجر اس ادارے کےمنتظم تھے۔۔ سیڑھیاں چڑ ھنے کے بعد منتظم کے کمرے سے گزر کر کمپئوٹر روم میں جانا پڑتا تھا۔۔وقاص نامی نوجوان میرا ٹیچر تھا۔۔۔ اور تمام سٹوڈنٹ نوجوان تھے سوائے میرے۔ میں اپنی کلاس میں بلکل ٹھیک جا رھی تھی اور مجھے کوئ مشکل پیش نہیں ا رھی تھی۔۔۔۔۔ بس ایک دن میرا میٹر گھوم گیا اور جی چاھا کہ اس منتظم کو لمیاں پا کے اتنا ماروں اتنا ماروں کہ بس۔۔۔

میں جب بھی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتی انچارج صاحب مجھے کہتے ” بڑی بات ھے جی اس عمر میں ” واہ جی کمال ہمت ھے۔۔” اس سے ملتے جلتے جملے کہتے۔۔۔ یہ جملے سن کر مجھے لگا کہ میں بہت بوڑھی اور ناکارہ ھو گئی ھوں
ایکد ن میں کرسی کھینچ کر موصوف کے سامنے بیٹھ گئ اور میں نے کہا . بھائی صاحب تسی مینوں چک کے پوڑھیاں چڑاھندے او۔۔
موصوف بھونڈے انداز میں مزید میری ہمت کی داد دینے لگے

جناب میں نے فوجی فاونڈیشن سے مایئکروسافٹ ایکس پی اور انٹر میڈیٹ لیول کا فوٹو شاپ بھی کیا۔۔ اسکے بعد میں نے کینڈا میں کئی سال ملازمت کی۔۔میں جب بھی ٹیکس فائل کرتی تو مجھے یاد دھانی کرائی جاتی کہ میری منظور شدہ برسری ابھی بھی وجود رکھتیہھے۔ اس بات کو کئی برس بیت گئے،

میں آج بھی اپنے اندر کچھ نہ کچھ سیکھنے کی بھر پور ہمت رکھتی ہوں۔۔ مجھے کینڈا میں کبھی نہیں کہا گیا کہ تم اس عمر میں داخلے لیکر ہمارے پیسے ضائع کر رہی ہو۔۔ مگر مجھے فوجی فاونڈیشن کا وہ آدمی بہت یاد آتا ھے جو روزانہ مجھے احساس کمتری کا شکار کرتا اور احساس دلاتا کہ میں ناکارہ ہو چکی ہوں۔۔

کچھ عرصہ میں نے ریڈیینٹ وے اسکول میں بھی پڑھایا۔ وہاں ایک عظیم شاعر اور عظیم ڈرامہ نگار سرمد صہبائی  کی پہلی بیوی بھی پڑھاتی تھیں، جن کی وساطت سے میری سر مد صہبائی  سے پہلی ملاقات ہوئی۔ ایک روز سرمد صہبائی  مجھے ریڈیو پاکستان لاہور کے لاؤنج میں مل گئے۔ اس وقت میں بچوں کا پروگرام ختم کر کے سٹوڈیو سے باہر آ رہی تھی۔ سرمد صہبائی سے گفتگو کے درمیان انہوں نے مجھے ٹی وی کے لیے پپٹ سٹوریز لکھنے کی دعوت دی۔سر مد صہبائی اس زمانے میں ٹیلی ویژن لاہور میں سکرپٹ ایڈیٹر بھی تھے اور بچوں کے لیے پپٹ سٹوریز بھی پروڈیوس کرتے تھے۔ میری خوشی کی انتہا ہو گئی کہ ریڈیو پر معاوضہ دررناک تھا اور ٹی وی سے کچھ بہتر پیسے مل جاتے تھے، یوں میں ٹی وی کے لیے پپٹ سٹوریز لکھنے لگی۔

سرمد صہبائی  کے خوبصورت آفس میں جہا ں  پی ٹی وی کی گھٹیا چائے   پینے کو ملتی وہاں سرمد صہبائی  کے بڑھیا دوست کچھ کچھ میرے بھی دوست بن گئے۔۔۔۔۔فوزیہ رفیق میری جگری  دوست ہیں جن کا سرمد سے خوبصورت اور گہرا ناطہ تھا،میں جب بھی کینیڈا جاتی ہوں میرا پہلا پڑاؤ فوزیہ رفیق کے گھر پر ہی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر منظور اعجاز تو میری طرح گزارے والی شکل و صورت کے مالک تھے مگر ساتھ والا موٹا سا آدمی لاہور کا خوب صورت لڑکا تھا۔یوں تو سرمد بھی خوبصورت آدمی تھا مگر جاوید علی خاں ، ہمراز احسن یہ خوبصورتی میں سر فہرست تھے۔ میں نے ان کی خوبصورتی کا بے جھجھک اظہار اس لیے کیا ہے  کہ کیوں یہ حق صرف مردوں ہی کو ہے۔ یوں تو مجھے سارے ہی پرانے دوست بہت یاد آتے ہیں مگر جن کے ساتھ کوئی  واقعہ جڑا ہے ان کی یاد مجھے ہنسا دیتی ہے۔

ہوا یوں کہ مجھے حلقہ ارباب ذوق میں کہانی پڑھنا تھی۔ میں لیٹ بھی ہو رہی تھی اور میری جیب کی صورت حال بھی ناتواں سی تھی ،سرمد صہبائی  کے پاس ان دنوں ایک میری جیب کی طرح خستہ حال ہونڈا50 تھی۔ میں نے سرمد سے رائیڈ مانگی تو سر مد نے جاوید علی خاں کی طرف بائیک کی چابی بڑھاتے ہوے کہا ” یار میں مصروف ہوں تم عصمت کو پاک ٹی ہاؤس چھوڑ آو” میں اپنی کتابیں سینے کے ساتھ لگا کر جاوید علی خان کے پیچھے تھوڑا فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی۔میں فاصلہ ضرور رکھتی تھی   اور جونہی میں اسمبلی حال کے قریب پہنچی پتہ نہیں کیسے گر گئی۔ فاصلہ جو تھا۔۔۔ جاوید علی خاں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، کیونکہ ایک تو پٹھان تھا اور دوسرا لمبا تھا، کہتے ہیں طویل قامت لوگ۔۔۔۔۔۔ جب لو گوں نے مجھے سڑک سے اٹھایا تو میں خون سے لت پت تھی  اور میری سینے سے لگی کتابیں   سڑک پر بکھری تھیں۔۔۔

لوگ مجھے میرے کہنے پر ٹی وی اسٹیشن چھوڑ آئے، اور وہاں سے سرمد صہبائی ، عدیم ہاشمی اور فوزیہ رفیق مجھے گنگا رام لے آئے۔۔۔ ساری رات یہ لوگ میرے لیے ہسپتال میں بے آرام رہے۔میں دوہفتوں میں صحت مند اس لیے بھی ہوئی  کہ ریڈیو پر آنے والے معروف شعرا میری خبر گیری کے لیے آئے۔ جاوید علی خاں جب ہسپتال پہنچا تو اس نے سب کو بتایا کہ میں سارے راستے عصمت سے باتیں کرتا ہوا گیا اور سوچا کہ یہ جواب کیوں نہیں دے رہی اور جب میں نے پاک ٹی ہاؤس کے دروازے پر بائیک روکی تو عصمت پیچھے سیٹ پر نہیں تھی،میں تو حیرت زدہ تھا کہاں غائب ہو گئی۔ پٹھان تھا نا بیچارہ بہت عرصہ ہوا میں نے جاوید علی خاں کو نہیں دیکھا۔جاوید علی خاں تمہاری تصویر دیکھ کر میں بھی حیرت زدہ ہوں  کہ وقت نے تمہیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔!!

عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ معروف ٹی وی آرٹسٹ اور فنکارہ ہیں۔ آپ کی داستان پاکستان کی سماجی اور کئی بار تو سیاسی تاریخ کی سی ایمیت رکھتی ہے۔ مکالمہ عصمت جی کا ممنون ہے کہ انھوں نے مکالمہ کو اپنے خیالات چھاپنے کی اجازت دی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *