فرسٹ کزن۔محمد خان قلندر بابا

ہاں جی ! یہ نیم چڑھی سچی واردات ہے، جی ! ایسا ہوتا تو سب کے ساتھ ہے،لیکن کوئی  بتاتا نہیں ، تو لیجیئے ہم بتلائے دیتے ہیں ،کہ سب کے سارے کزن کتنے کمینے ہو سکتے ہیں، نہیں  ؟ نہ سہی، یہ کہانی پڑھ لؤ فیر دسناں !

فرسٹ کزن !

اکثر کمینے تو ہوتے ہی ہیں لیکن بعض ،بعض دفعہ حد درجےکا گھٹیا پن بھی دکھاتے ہیں،جیسے ہمارا خالہ زاد، چہرے بشرے سے ڈراؤنا دکھتا ہے لیکن نام بشیر،ہم آپس میں ہم جماعت اور گہرے دوست بھی ہیں لیکن اس کی طرف سے ہمیں کبھی کوئی  بشارت نصیب نہیں  ہو سکی،فوزی اس کی ماموں زاد تھی تو ہماری بھی تھی،اور ہمارے ساتھ اس کی انڈر سٹینڈنگ میٹرک سے تھی،ہم اسے نوٹس بنا کے دیتے، سبق یاد کراتے،گفٹس بھی دیتے تھے،بشیر تو بس اس کو چڑھاتا اور تنگ کرتا تھا،خاندان میں غیر اعلانیہ طور پریہ تاثر  چھایا ہوا تھا کہ فوزی کی جوڑی ہمارے ساتھ ہی سجتی ہے اور ہمیں یقین تھا کہ وہ بھی ہمیں اپنے سرتاج کی جگہ دیکھتی ہے، ویسے بھی بچپن میں اس کی گڑیا کی شادی ہمیشہ ہمارے گڈے سی ہوتی، بشیر کا کام یہ ہوتا کہ رخصتی کے وقت گڑیا اٹھا کے لے جاتا،ایف اے میں بشیر فیل ہوا تو خالو نے اسے اپنے ساتھ آڑھت پے بٹھا لیا اور ہم کالج میں ٹاپ کرنے کی سزا بھگتنے یونیورسٹی میں چلے گئے،جہاں سے ماسٹرز کرنے کے بعد ہمیں ایک بڑے ادارے میں جاب مل گئی،فوزی نے بی اے کر لیا، اور اس عرصے میں بشیر چوہدری بن گیا،ہم نے ادارے سے قرضہ لے کر نئی  کرولا خرید لی،بشیر اور دوسرے رشتہ داروں کو جلانے اور ان پر رعب ڈالنے کے لیے ہر ہفتے اس کار پر گاؤں جاتے،کوشش کے باوجود فوزی کو کار پر سیر کرانے کا موقع  نہیں  مل پایا تھا،تو ایک اتوار کو ہم یہ طے کر کے ماموں کے گھر گئے کہ آج ہر صورت چاہے ممانی کو بھی ساتھ لینا پڑے فوزی کو کار میں قریبی گاؤں کے مزار پر سلام کرانے لے جائیں گے،اور کوشش کریں گے کہ ہم خود اسے شادی بارے کوئی  اشارہ دیں، کیونکہ ہمارے والدین تو شاید ابھی ہم سب کو بچے سمجھتے تھے کہ کسی طرف سے اس معاملے میں ہل جُل نہیں  ہوئی  تھی،گاڑی کھڑی کر کے ہم جب ماموں کے گھر کے اندر داخل ہوۓ تو ہمارے سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑا، بشیر کی امی ماموں اور ممانی سے فوزی اور بشیر کی شادی کی تاریخ طے کرنے کی باتیں کر رہے تھے،فوزی بڑی سی چادر اوڑھ کے رسوئی  میں کچھ پکا رہی تھی،پہلے کی طرح رسوئی  میں جانے کی ہمت نہ ہوئی ،باہر ہی میز پر  پڑے جگ سے ہم نے پانی کا گلاس بھر کے پیا اور بہانے سے واپس آ گئے،ٹوٹے دل کے ساتھ اس بات پر شکر کیا کہ وہ کمینہ بشیر گھر پرنہیں  تھا ورنہ ہو سکتا تھا کہ مجھے منہ ضرور چڑھاتا جو اس کی گندی عادت تھی، شادی کی تاریخ طے ہوئی  تو اعلان کے لیے شام کو فنکشن ہونا تھا،لیکن ہم نے طے کر لیا کہ ہم نے کسی تقریب میں شرکت نہیں  کرنی،شام کو ہم گاؤں سے واپسی کی تیاری کر رہے تھے  کہ خالہ اور بشیر امی کو ملنے آۓ، کہ فنکشن کے بارے ان سے مزید مشورے لے سکیں،مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ہمیں بشیر سے بغل گیر ہونا پڑا، ظالم نے جپھی ایسے ڈالی جیسے میں فوزی ہوں، تقریبات کی تفصیل پر بات ہوتی رہی،بارات بارے جب بات آئی  تو یہ طے ہوا کہ جاتے ہوۓ تو بشیر دولہا بن کے گھوڑی پر جاۓ گا، لیکن رخصتی کے لیے ڈولی نہیں  استعمال ہو گی،اور ہماری ایک لمبی سانس نکل گئی،ہم تو سوچ رہے تھے کہ پھوپھی زاد ہونے کے ناطے ہمیں فوزی کی ڈولی کو کاندھے اٹھانا پڑتا ہم نے کہا نا کہ یہ کزن کمینے ہوتے ہیں، بشیر نے میری امی سے کہا، خالہ ڈولی کیا کرنی ہے، یہ بھائی  کی اتنی نئی  اور خوبصورت کار ہے ، بھائی  اسے پھولوں سے سجوا کے لاۓ گا، اور خود اپنی بہن کو اس میں بٹھا کے ہمارے صحن تک گاڑی چلا کے لاۓ گا،بڑے بھائی آج کل ڈولی اٹھانے کی جگہ کار ڈرائیو کرتے ہیں “ہے نا یہ کمینہ کزن،کہ میں اس شرف سے انکار بھی نہیں  کر سکتا تھا۔۔تو یہی ہوا، جب شادی ہوئی، اور دُلہن بشیر کے گھر ہماری کار میں اس کے ساتھ ان کی حویلی میں کار سے اتری تو بشیر نے کار سےاترتے ہوۓ انگڑائی لی، مجھے بغل گیر ہوتے کہا، شُکریہ سالا صاحب اور اس نے مجھے منہ  بھی چڑھایا،بتایا ہے نا کہ کزن کمینے ہوتے ہیں !!

فوزی نے بھی کزن بن کے یہ حرکت کی ، کوئی  حد ہوتی ہے یار،ایک شریف اور بھولے بھالے کزن کی بے عزتی کرنے کی، کمینے نہ ہوندے تے،

ولیمے کے دن جب امی حضور کے حکم کے تحت، فوزی کو پانچ ہزار جی پورے پانچ ہزار ، جب سونا نو سو روپے تولہ تھا، بطور سلامی ۔ خاندان کی جُملہ جری خواتین کے سامنے، پیش کیے تو وہ کرسی سے اُٹھ کھڑی ہوئی  سارے ہار سنگار سنبھالتے سر اتنا جھکایا کہ ہمارے سینے پر اس کا ماتھا چپک سا گیا، ہم نے سر پر حسد بھرا ہاتھ پھیرا تو اس نے جھرجھری لی، اور مُنہ اٹھا کے بہ آواز بلند کہا” تھینک یُو  بھائی    جان”،حالانکہ پہلے ہمیشہ وہ تھینک یُو کہہ کے ، تھوک نگلتی اور ساتھ، جان کہتی تھی، تھینک یُو ، اور جان کے درمیان ” بھائی” گھسیڑنا ہمیں بالکل اچھا نہیں  لگا تھا  لیکن کیا کرتے وہ کمینی بھی کزن تو ہے نا !

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فرسٹ کزن۔محمد خان قلندر بابا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *